نو آبادیاتی بیانیے سے آزادی/سائرہ رباب

پچھلے کئی دنوں سے میں دیکھ رہی ہوں کہ چاہے کشمیر کا احتجاج ہو، گلگت کی ہنگامی صورتحال یا ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ کی گرفتاری ، ان کی تصویروں اور حمایت میں سوشل میڈیا بھرا ہوا ہے, اور ان پوسٹس میں ایک بڑی تعداد عام پنجابی لوگوں کی بھی ہے جو ماہرنگ بلوچ، کشمیری قیادت اور دوسرے مظلوم لوگوں کے حق میں آواز اٹھا رہے ہیں۔

یہاں شاید ماہرنگ بلوچ صاحبہ اور دوسرے مزاحمتی رہنماؤں کو بھی ایک لمحہ رک کر سوچنے کی ضرورت ہے کہ پنجاب کو نفرت کے بیانیے میں ایک دشمن قوم کے طور پر پیش کرنا آخر کس کے مفاد میں جاتا ہے؟ کیونکہ یہ جنگ دراصل عوام کی عوام سے نہیں، بلکہ اشرافیہ اور طاقت کے ان ڈھانچوں کی ہے جو ہر خطے کے عام لوگوں کی آواز کو کچلتے ہیں اور پھر ایک دوسرے سے کاٹ کر رکھنا چاہتے ہیں۔
ہاں، ہر جگہ کی طرح پنجاب میں بھی کچھ اسٹیبلشمنٹ سپانسرڈ قوم پرست موجود ہیں جو نوآبادیاتی divide and rule والے بیانیے کے محافظ بنے ہوئے ہیں۔ لیکن ان کو پورے پنجاب یا عام عوام پر مسلط کر دینا حقیقت کو بہت سادہ بنا دینا ہے۔
ہم نے ایک کے بعد ایک مختلف علاقوں کے لوگوں اور رہنماؤں کو جبر کا نشانہ بنتے دیکھا۔ کبھی عمران خان اور ان کی جماعت کے کارکن، کبھی کشمیری عوامی رہنما شوکت نواز میر، کبھی ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ، کبھی سمی دین بلوچ کے گھر چھاپے، کبھی منظور پشتین، کبھی افضل خاموش جیسے بزرگ مزدور رہنما۔
یعنی جب بات عوام، حقوق یا مزاحمت کی آتی ہے تو گولی، جیل، غداری اور خاموشی کا سامنا سب کو تقریباً ایک ہی انداز میں کرنا پڑتا ہے۔
یہ وہی طاقت ہے جو مقامی، وفاقی اور بین الاقوامی مفادات کے ایک جال کی صورت میں کام کرتی ہے۔ عوام کی آواز اٹھے تو بندوق کی آواز بن جاتی ہے۔
اسی لیے میرا خیال ہے کہ جب مزاحمت کی تحریکیں “عوام بمقابلہ طاقت” کے بجائے “قوم بمقابلہ قوم” بن جاتی ہیں تو وہ آہستہ آہستہ خود بھی اشرافیائی قوم پرستی کے دائرے میں چلی جاتی ہیں۔ برطانوی نوآبادیاتی نظام نے اس خطے کی لچکدار (flexible) اور ملی جلی شناختوں کو سخت خانوں میں بند کیا، پھر انہی خانوں کے ذریعے نفرت، تقسیم اور حکمرانی کا کھیل کھیلا۔ افسوس کہ آنے والی نسلوں کی سوچ بھی اکثر انہی فریم ورکس میں قید ہو گئی۔
ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ صاحبہ یقیناً سچ اور ظلم کے خلاف آواز اٹھا رہی ہیں اور بلوچ عوام کے دکھ، محرومی اور جبر کی نمائندگی کرتی ہیں۔ لیکن جب گفتگو میں پورے “پنجاب” کو ایک یکساں طاقت یا دشمن شناخت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے تو اس سے وہ لاکھوں عام لوگ خود بخود خارج ہو جاتے ہیں جو حقیقت میں انصاف، سچ اور مظلوم عوام کی جدوجہد میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔
اور اس کا فائدہ آخرکار انہی اشرافیائی اور نوآبادیاتی طاقتوں کو پہنچتا ہے جو ہمیشہ سے عوام کو قومیتوں، زبانوں اور شناختوں کے چھوٹے چھوٹے خانوں میں بانٹ کر کمزور کرتی آئی ہیں۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ تحریکیں خود کو زیادہ inclusive بنائیں۔ بلوچ، پشتون، کشمیری، پنجابی، سندھی, گلگت بلتستانی ہر اس انسان کو جگہ دی جائے جو جبر، استحصال اور طاقت کے غیر منصفانہ نظام کے خلاف کھڑا ہے۔ کیونکہ اتنے بڑے اور منظم طاقت کے گٹھ جوڑ کو چھوٹے چھوٹے دائروں میں بٹ کر شکست نہیں دی جا سکتی۔
اگر واقعی عوامی آزادی، انصاف اور باعزت مستقبل کی بات کرنی ہے تو ہمیں ان نوآبادیاتی ذہنی سانچوں سے باہر نکلنا ہوگا۔ مختلف عوامی رہنماؤں کو ایک وسیع تر عوامی اتحاد کی طرف بڑھنا ہوگا، جہاں شناختیں دیوار نہیں بلکہ ایک دوسرے کو سمجھنے کا ذریعہ بنیں۔ کیونکہ حقیقی تبدیلی تبھی آتی ہے جب مظلوم ایک دوسرے کو حریف نہیں بلکہ ساتھی سمجھنا شروع کر دیں۔
امید یہی ہے کہ یہ وقت ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ بنے ۔۔ جہاں چھوٹے چھوٹے خانوں میں قید ہو کر اپنی توانائیاں ضائع کرنے کے بجائے، تمام محکوم عوام مل کر اس طاقتور گٹھ جوڑ کا مقابلہ کریں جو سب پر یکساں جبر مسلط کیے ہوئے ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں