اصطبل / افسانہ نگار: محمد فاروق نتکانی

شہر کی فصیلوں پر شام ہمیشہ دیر سے اترتی تھی۔ سورج جب اپنے آخری سنہری سکے میناروں کی جیب میں ڈال کر رخصت ہوتا تو محل کے گنبد کسی ایسے خواب کی طرح چمکتے تھے جسے دیکھنے والوں کو جاگنے کی اجازت نہ ہو۔ اس شہر میں روشنی بھی اجازت سے چلتی تھی، ہوا بھی پروانے کے ساتھ سانس لیتی تھی، اور لفظ بھی دربار کے دربان سے مہر لگوا کر زبان تک آتے تھے۔

لوگ کہتے تھے کہ اس شہر کی بنیاد پتھر پر نہیں، تعریف پر رکھی گئی تھی۔ جس دن تعریف رک جائے، شہر اپنی بنیاد سمیت زمین میں دھنس جائے گا۔

اسی شہر کے وسط میں ایک ایسا محل تھا جہاں دیواریں بھی شعر یاد کرتی تھیں۔ ستونوں پر قصیدے کندہ تھے۔ راہداریوں میں قافیے چلتے تھے۔ کھڑکیوں سے ردیفیں جھانکتی تھیں۔ یہاں ہر صبح ایک نیا استعارہ پیدا ہوتا اور ہر شام ایک نئی مبالغہ آرائی کا جنازہ نکلتا۔

محل کے سب سے بڑے کمرے کا نام “آئینہ خانہ” تھا، حالانکہ وہاں کوئی آئینہ نہ تھا۔ وہاں صرف وہ چہرے دکھائی دیتے تھے جو بادشاہ دیکھنا چاہتا تھا۔

اسی شہر میں ایک شخص رہتا تھا۔ اس کا نام کسی کو پوری طرح معلوم نہ تھا۔ لوگ اسے کبھی شاعر کہتے، کبھی دیوانہ، کبھی گستاخ، کبھی دانا۔ وہ خود اپنا نام بتانے سے گریز کرتا تھا۔

وہ کہا کرتا تھا:

“نام وہ زنجیر ہے جو آدمی کو اپنی ہی گردن سے باندھ دیتی ہے۔”

اس کی جیب میں ہمیشہ ایک خالی کاغذ رہتا۔ لوگ پوچھتے، اس پر کچھ کیوں نہیں لکھتے؟

وہ مسکرا کر جواب دیتا:

“جو کچھ لکھا جا سکتا ہے، وہ اکثر سچ نہیں ہوتا؛ اور جو سچ ہوتا ہے، اسے اکثر لکھنے کی اجازت نہیں ہوتی۔”

ایک دن شاہی منادی ہوئی۔

تمام شاعر، ادیب، واعظ، فلسفی اور قصیدہ گو دربار میں حاضر ہوں۔

کہا گیا کہ آج بادشاہ نے ایک ایسا قصیدہ لکھا ہے جس کے بعد شاعری کی تاریخ کو دوبارہ لکھنا پڑے گا۔

لوگ خوش تھے۔

کیونکہ تاریخ ہمیشہ فاتح کے قلم سے لکھی جاتی ہے، اور قلم ہمیشہ اس ہاتھ کا وفادار رہتا ہے جو اس کی روشنائی خریدتا ہے۔

دربار بھر گیا۔

شاعر قطاروں میں بیٹھے تھے۔

ہر شخص کے چہرے پر تعریف پہلے سے لکھی ہوئی تھی۔

بادشاہ نے قصیدہ پڑھنا شروع کیا۔

لفظ بہت تھے۔

آواز بلند تھی۔

تشبیہیں قیمتی تھیں۔

استعارے شاہی لباس پہنے ہوئے تھے۔

مگر معنی کہیں راستہ بھول گئے تھے۔

قصیدہ ختم ہوا۔

کمرے میں خاموشی اتری۔

خاموشی کے بعد تالیاں بجیں۔

پھر تعریفیں شروع ہوئیں۔

کسی نے کہا:

“زبان نے آج اپنے آپ کو پیچھے چھوڑ دیا۔”

دوسرے نے کہا:

“بلاغت نے آپ کے سامنے سجدہ کیا ہے۔”

تیسرے نے کہا:

“الفاظ آج آپ کے غلام بن گئے۔”

بادشاہ مسکراتا رہا۔

پھر اس نے اس شخص کی طرف دیکھا جس کی جیب میں ہمیشہ خالی کاغذ رہتا تھا۔

“تم کیا کہتے ہو؟”

اس نے دیر تک چھت کو دیکھا۔

پھر بولا:

“حضور! بلاغت تو اس راستے سے گزری ہی نہیں جہاں یہ قصیدہ کھڑا تھا۔”

دربار پر ایسی خاموشی اتری جیسے کسی نے وقت کی گردن دبا دی ہو۔

بادشاہ کے چہرے پر مسکراہٹ پتھر بن گئی۔

حکم صادر ہوا:

“اسے اصطبل میں ڈال دو۔”

شہر کے باہر ایک وسیع اصطبل تھا۔

وہاں صرف گدھے نہیں رہتے تھے۔

وہاں وہ تمام آوازیں بھی رہتی تھیں جنہیں دربار نے قبول نہ کیا تھا۔

وہاں وہ سوال بھی بند تھے جو کبھی پوچھے نہیں جا سکے۔

وہاں ادھورے خواب رسیوں سے بندھے جگالی کرتے تھے۔

وہاں سچ بھوسہ کھاتا تھا۔

اور جھوٹ ریشمی زین اوڑھے سویا رہتا تھا۔

جب شاعر کو وہاں لایا گیا تو ایک بوڑھے گدھے نے اسے غور سے دیکھا۔

پھر بولا:

“تم بھی سچ بول کر آئے ہو؟”

شاعر نے چونک کر پوچھا:

“تم بول سکتے ہو؟”

گدھا ہنس پڑا۔

“یہاں سب بول سکتے ہیں۔

صرف شہر میں جا کر ہماری زبان بند ہو جاتی ہے۔”

دن گزرتے گئے۔

شاعر نے دیکھا کہ ہر گدھے کی گردن میں ایک چھوٹی سی گھنٹی بندھی ہے۔

وہ جب بھی چلتے، گھنٹی بجتی۔

اس نے پوچھا:

“یہ کیوں؟”

بوڑھا گدھا بولا:

“تاکہ ہمیں اپنی آواز سنائی نہ دے۔”

راتوں کو اصطبل میں عجیب خواب اترتے۔

دیواروں سے پرندے نکلتے۔

پرندوں کے پروں پر الفاظ لکھے ہوتے۔

صبح ہونے سے پہلے سب الفاظ مٹی میں بدل جاتے۔

شاعر ہر رات ایک لفظ بچانے کی کوشش کرتا۔

ہر صبح اس کی ہتھیلی میں صرف گرد رہ جاتی۔

ایک رات اس نے دیکھا کہ ایک آئینہ اصطبل میں داخل ہوا۔

مگر اس آئینے میں کسی کا چہرہ نہیں دکھائی دیتا تھا۔

صرف نقابیں نظر آتی تھیں۔

بوڑھے گدھے نے کہا:

“یہ شہر کا سب سے سچا آئینہ ہے۔

یہ انسان کو نہیں، اس کا کردار دکھاتا ہے۔”

مہینہ ختم ہوا۔

شاعر کو رہا کر دیا گیا۔

وہ واپس شہر آیا۔

مگر اسے لگا کہ شہر بدل چکا ہے۔

پھر غور کیا۔

شہر تو وہی تھا۔

اصل میں اس کی آنکھیں بدل گئی تھیں۔

چند دن بعد دوبارہ دربار لگا۔

بادشاہ نے ایک نیا قصیدہ سنانا شروع کیا۔

پہلا شعر ہوا۔

دوسرا۔

تیسرا۔

شاعر خاموشی سے اٹھا۔

اپنی چادر سنبھالی۔

اور دروازے کی طرف چل دیا۔

“کہاں جا رہے ہو؟”

بادشاہ نے پوچھا۔

وہ رکا نہیں۔

بس اتنا کہا:

“اصطبل۔”

دربار قہقہوں سے بھر گیا۔

مگر کسی نے محسوس نہ کیا کہ اس کے بعد قہقہوں کی آواز گدھوں کے رینکنے جیسی ہو گئی تھی۔

وہ سیدھا اصطبل پہنچا۔

بوڑھا گدھا پہلے ہی دروازے پر کھڑا تھا۔

“تمہیں معلوم تھا کہ تم واپس آؤ گے؟”

شاعر نے پوچھا۔

گدھے نے سر ہلایا۔

“جو آدمی ایک بار سچ دیکھ لے، وہ جھوٹ کی محفل میں زیادہ دیر نہیں بیٹھ سکتا۔”

وقت گزرتا رہا۔

لوگ کہتے تھے کہ شہر میں گدھوں کی تعداد کم ہو رہی ہے۔

کسی نے حساب لگایا۔

گدھے واقعی کم تھے۔

مگر دربار میں قصیدہ گو بڑھتے جا رہے تھے۔

کسی نے اس راز پر غور نہ کیا۔

ایک دن شہر کے تمام آئینے غائب ہو گئے۔

لوگ پریشان ہوئے۔

چہرے دیکھے بغیر انہیں یقین نہیں آتا تھا کہ وہ زندہ ہیں۔

کئی برس بعد ایک بچے نے پوچھا:

“آئینہ کیا ہوتا ہے؟”

اس کے باپ نے جواب دیا:

“ایک ایسی چیز جسے بادشاہ پسند نہیں کرتا۔”

آہستہ آہستہ اصطبل شہر سے بڑا ہونے لگا۔

حالانکہ اس کی دیواریں وہی تھیں۔

اصل میں شہر سکڑ رہا تھا۔

کیونکہ جھوٹ ہمیشہ جگہ گھیرتا ہے اور سچ ہمیشہ وسعت پیدا کرتا ہے۔

بوڑھا گدھا مرنے لگا۔

اس نے شاعر کو بلایا۔

کہا:

“میری قبر پر کوئی کتبہ مت لگانا۔”

“کیوں؟”

“لوگ کہیں گے یہاں ایک گدھا دفن ہے۔

حالانکہ پوری زندگی میں نے انسان بننے کی کوشش کی تھی۔”

یہ کہہ کر اس نے آنکھیں بند کر لیں۔

پہلی بار اصطبل میں مکمل خاموشی اتری۔

شاعر نے اپنی جیب سے وہ خالی کاغذ نکالا۔

کئی برس گزر چکے تھے۔

اس پر اب بھی کچھ نہ لکھا تھا۔

اس نے قلم نکالا۔

پھر واپس رکھ دیا۔

آسمان کی طرف دیکھا اور دھیرے سے کہا:

“بعض افسانے لکھے نہیں جاتے، جئے جاتے ہیں۔”

ہوا چلی۔

خالی کاغذ اس کے ہاتھ سے اڑا۔

شہر کی طرف گیا۔

محل کے اوپر سے گزرا۔

دربار کے صحن میں اترا۔

سب لوگ اسے پڑھنے لگے۔

حالانکہ اس پر ایک لفظ بھی نہ تھا۔

اور حیرت یہ تھی کہ ہر شخص نے اس خالی صفحے میں اپنا اپنا قصیدہ پڑھ لیا۔

اسی لمحے شاعر مسکرایا۔

اسے معلوم ہو گیا کہ اصل اصطبل کسی عمارت کا نام نہیں۔

وہ ہر وہ ذہن ہے جہاں تعریف، حقیقت کو چرنے کے لیے بھوسہ سمجھتی ہے؛ جہاں سوال جرم، اور تملق فضیلت بن جاتا ہے؛ جہاں لفظ تاج پہن لیتے ہیں مگر معنی زنجیروں میں جکڑے رہتے ہیں۔

کہتے ہیں اس کے بعد بھی شہر آباد رہا، دربار بھی سجتے رہے، قصیدے بھی پڑھے جاتے رہے، اور ہر نئے قصیدے کے آغاز پر ایک خالی کرسی دروازے کے قریب رکھی جاتی تھی۔

لوگ کہتے تھے، اگر کہیں کوئی سچا آدمی باقی ہوا تو وہ آدھا قصیدہ سن کر ضرور اٹھے گا…

اور خاموشی سے اصطبل کی طرف چل دے گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں