آج کا دور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ موبائل فون، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے انسانی زندگی کے بے شمار شعبوں میں آسانیاں پیدا کی ہیں، لیکن ہر نعمت کی طرح ان کا غلط اور غیر متوازن استعمال بھی سنگین نتائج پیدا کرتا ہے۔ سب سے زیادہ تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ اس کے مضر اثرات بچوں اور نوعمروں پر تیزی سے ظاہر ہو رہے ہیں۔ وہ عمر جو جسمانی نشوونما، ذہنی ارتقا، تخلیقی صلاحیتوں، سماجی روابط اور کردار سازی کے لیے سب سے زیادہ اہم ہوتی ہے، آج اس کا بڑا حصہ موبائل اسکرین کے سامنے گزر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے ماہرینِ نفسیات، ماہرینِ اعصاب، ماہرینِ تعلیم اور صحت کے ادارے والدین کو مسلسل متنبہ کر رہے ہیں کہ بچوں کو غیر ضروری موبائل اور سوشل میڈیا کے استعمال سے بچانا اب صرف ایک تربیتی مسئلہ نہیں بلکہ ایک صحتِ عامہ کا مسئلہ بن چکا ہے۔
ماہرینِ اعصاب کے مطابق مسلسل موبائل فون اور سوشل میڈیا کے استعمال سے بچے کے دماغ میں ایسی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں جو اسے ہر وقت نئی تحریک (Stimulation) اور فوری خوشی (Instant Gratification) کی تلاش میں مبتلا رکھتی ہیں۔ ہر نوٹیفکیشن، ویڈیو، تصویر یا “لائک” دماغ میں ڈوپامین (Dopamine) نامی کیمیائی مادہ خارج کرتا ہے، جو وقتی خوشی اور تسکین کا احساس پیدا کرتا ہے۔ جب یہ عمل بار بار دہرایا جاتا ہے تو دماغ اس فوری لذت کا عادی ہو جاتا ہے اور پھر وہ مسلسل اسی قسم کی محرکات کا مطالبہ کرتا رہتا ہے۔ نتیجتاً کتاب پڑھنا، سبق یاد کرنا، گفتگو کرنا، کھیلنا یا خاندان کے ساتھ وقت گزارنا اسے غیر دلچسپ محسوس ہونے لگتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں، حقیقی زندگی اس کے لیے پھیکی اور بے رنگ بنتی چلی جاتی ہے۔
جدید سائنسی تحقیقات یہ بھی واضح کرتی ہیں کہ ضرورت سے زیادہ اسکرین ٹائم بچوں کی توجہ مرکوز رکھنے کی صلاحیت (Attention Span) کو نمایاں طور پر کم کر دیتا ہے۔ دماغ تیز رفتار تصاویر، مختصر ویڈیوز اور مسلسل بدلتے ہوئے مواد کا عادی بن جاتا ہے، جس کی وجہ سے بچے کے لیے چند منٹ تک بھی کسی ایک سبق، کتاب یا تعمیری سرگرمی پر توجہ برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے اساتذہ آج شکایت کرتے ہیں کہ بچوں میں یکسوئی، برداشت اور مسلسل سیکھنے کی صلاحیت پہلے کے مقابلے میں کم ہوتی جا رہی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ موبائل اور سوشل میڈیا بچوں کی جذباتی صحت (Emotional Regulation) پر بھی گہرے منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔ ایسے بچے معمولی بات پر غصہ، بے چینی، چڑچڑاپن اور مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ جب موبائل ان سے لے لیا جائے تو وہ شدید اضطراب، بے سکونی یا غصے کا اظہار کرتے ہیں، جو اس بات کی علامت ہے کہ ان کا ذہن ڈیجیٹل محرکات کا عادی بن چکا ہے۔
سوشل میڈیا کے حوالے سے متعدد تحقیقی مطالعات نے مزید تشویش ناک نتائج پیش کیے ہیں۔ 2019ء میں شائع ہونے والی ایک اہم تحقیق کے مطابق جو بچے اور نوعمر روزانہ تین گھنٹے یا اس سے زیادہ وقت سوشل میڈیا پر گزارتے ہیں، ان میں ڈپریشن کی شدید علامات ظاہر ہونے کا خطرہ ان بچوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہوتا ہے جو تین گھنٹے سے کم وقت استعمال کرتے ہیں۔ اسی طرح مختلف مطالعات یہ بھی ظاہر کرتی ہیں کہ سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال بے چینی (Anxiety)، احساسِ محرومی، خود اعتمادی میں کمی، تنہائی، نیند کی خرابی اور ذہنی دباؤ میں اضافے سے مضبوط تعلق رکھتا ہے۔
اسی تناظر میں Pew Research Center کی ایک معروف رپورٹ کے مطابق تقریباً 45 فیصد امریکی نوعمر افراد نے بتایا کہ وہ “تقریباً ہر وقت” آن لائن رہتے ہیں۔ مختلف تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ایسے نوجوانوں میں نفسیاتی دباؤ، ذہنی بے چینی اور جذباتی مسائل کی شرح زیادہ ہوتی ہے۔ اگرچہ ہر بچے پر اس کے اثرات یکساں نہیں ہوتے، لیکن مجموعی شواہد اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ غیر محدود اور غیر نگرانی شدہ سوشل میڈیا استعمال بچوں کی ذہنی صحت کے لیے ایک اہم خطرہ بن سکتا ہے۔
سوشل میڈیا کا ایک اور نقصان مسلسل موازنہ (Social Comparison) ہے۔ بچے دوسروں کی خوبصورت تصاویر، مہنگی اشیا، کامیابیوں اور مصنوعی خوشیوں کو دیکھ کر اپنی زندگی کو کمتر سمجھنے لگتے ہیں۔ حالانکہ سوشل میڈیا پر دکھائی جانے والی زندگی اکثر حقیقت کا مکمل عکس نہیں ہوتی۔ یہی احساسِ کمتری رفتہ رفتہ ڈپریشن، مایوسی اور خود اعتمادی کی کمی میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
جسمانی صحت بھی اس ڈیجیٹل طرزِ زندگی سے محفوظ نہیں رہتی۔ موبائل کے طویل استعمال سے جسمانی سرگرمی کم ہو جاتی ہے، جس کے نتیجے میں موٹاپا، کمزور بینائی، گردن اور کمر کا درد، نیند میں خلل اور مجموعی جسمانی نشوونما متاثر ہو سکتی ہے۔ اس کے برعکس کھلی فضا میں کھیلنے، دوڑنے، سائیکل چلانے اور دوستوں کے ساتھ براہِ راست میل جول رکھنے سے نہ صرف جسم مضبوط ہوتا ہے بلکہ دماغ بھی زیادہ متوازن انداز میں نشوونما پاتا ہے۔
والدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ موبائل کو بچوں کی مصروفیت کا مستقل ذریعہ بنانے کے بجائے اس کے استعمال کے واضح اصول مقرر کریں۔ گھر میں اسکرین ٹائم محدود کیا جائے، کھانے کے دوران اور سونے سے پہلے موبائل کا استعمال بند رکھا جائے، بچوں کو کھیل، مطالعہ، تخلیقی سرگرمیوں، خاندان کے ساتھ گفتگو اور قدرتی ماحول میں وقت گزارنے کی ترغیب دی جائے۔ اس سے ان کی ذہنی، جسمانی اور سماجی نشوونما زیادہ متوازن انداز میں ہوگی۔
آخر میں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ مسئلہ ٹیکنالوجی نہیں بلکہ اس کا بے اعتدال اور غیر ذمہ دارانہ استعمال ہے۔ موبائل فون اور سوشل میڈیا اگر مناسب نگرانی، محدود وقت اور تعمیری مقاصد کے لیے استعمال ہوں تو مفید ثابت ہو سکتے ہیں، لیکن اگر یہی آلات بچوں کی زندگی کا مرکز بن جائیں تو وہ ان کی توجہ، جذبات، شخصیت، ذہنی صحت اور مستقبل سب کو متاثر کر سکتے ہیں۔ اس لیے والدین، اساتذہ اور معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ بچوں کو دوبارہ حقیقی زندگی، کھیل کے میدان، کتابوں، فطرت اور انسانی تعلقات کی طرف واپس لایا جائے۔ بچوں کو صرف ایک اسکرین نہیں، بلکہ ایک متوازن، صحت مند اور خوشگوار بچپن درکار ہے، اور وہ اس کے حقیقی حق دار ہیں۔
محمد امین اسد


