یہ 2022 کے مئی کی بات ہے، گوجرانوالہ میں نوجوان محقق دانشور اور سیاح گوجرانوالہ کی بیٹی وردہ شہزادی نے #امرتاپریتم_بیٹھک ( لرنگ ہب) میں ایک نشست صحافی، مصنف دانشور محمد حسن معراج کے ساتھ رکھی، وہ بولے اور اپنے خوبصورت دھیمے انداز اور شیریں لہجے میں کیا خوب بولے۔ “ریل کی سیٹی “ پر بات ہوئی لیکن اسکے ساتھ سماجی اور معاشرتی کئی موضوعات پر یہ بیٹھک چلی۔
اس رات کتاب سے گوجرانوالہ پر لکھے دو باب پڑھے، “بمباں اور سدر لینڈ۔ امرتا اور امروز” یہ سحر انگیز تھے لیکن اس وقت بیڈ کے سائیڈ ٹیبل پر پڑی تین زیرمطالعہ کتابوں نے اس کا مطالعہ موخر کروا دیا۔
چند دن پہلے بھائی مہدی بخاری کی ایک تحریر میں حسن معراج کا تذکرہ ہوا تو “ریل کی سیٹی” کی باری بھی آ گئی۔ کتاب پڑھتے ہوئے بار بار احساس ہوا کہ اسے موخر رکھنا غلطی تھی۔
یہ کتاب کئی لحاظ سے منفرد ہے۔ بظاہر عنوان سے یہ کسی ریل پر کئے سفر کی روداد لگتی ہے لیکن یہ پنجاب میں ریل کی پٹری اور اسکے اردگرد گذرے وقت کی کہانی ہے۔ یہ لہندے پنجاب کی تاریخ ہے پٹری پر چلتی ریل کی سیٹی جہاں جہاں سنائی دی وہاں وہاں سے مصنف نے تاریخ، تہذیب، تقسیمِ ہند، ہجرت، لوک ثقافت اور گم نام کرداروں کی یادوں کی گٹھریاں باندھ لیں۔
ریل راولپنڈی سے چلتی ہے اور راجن پور تک جاتی ہے، کرتارپور راوی کنارے سے جھنگ اور فیصل آباد سے بہاولپور ہر کونے تک ریل کی پٹری پر سفر اپنے قاری کو حال دیکھاتے ہوئے ماضی میں اڑاۓ پھرتا ہے۔
اس کتاب کا اسلوب سادہ ہے لیکن مواد نہایت ادبی، جذباتی اور تحقیقی ہے۔ حسن معراج اختصار کا فن بدرجہ کمال رکھتے ہیں کہ کتابوں پر مشتمل داستان کو چند فقروں میں مفصل بیان کر دیتے ہیں اور جہاں خلاصہ اور تبصرہ درکار ہو وہ ایک فقرے میں ہی پراثر اور باوقار اظہار کرنے پر قادر ملتے ہیں۔
مہابلی اکبر اعظم اور نورالدین جہانگیر کی داستان بیان کرتے وہ جہانگیر کی زندگی پر تبصرہ کرتے ہیں ، “منس راج سے انارکلی اور نور جہان سے مان متی تک ،،، جہانگیر بس محبت ہی تلاش کرتا رہا”۔
ریل کی سیٹی یہاں صرف ایک شور یا مخصوص آواز نہیں بلکہ وقت حال کے ماضی بننے کا سندیسہ دیتی ہے، یہ سیٹی بچھڑتے ہوئے لوگوں اور مٹتی ہوئی تہذیب کی علامت بن جاتی ہے۔ مصنف اپنے قاری کو یہ باور کرواتا ہے کہ ریلوے صرف سفر کا ذریعہ نہیں بلکہ برصغیر کی اجتماعی یادداشت کا ایک اہم حصہ ہے، اور اس کی پٹریوں پر تاریخ، محبت، ہجرت اور ثقافت کی بے شمار داستانیں بکھری ہوئی ہیں۔
ریل کی سیٹی میں حسن معراج نے صرف ہجرت کی اندوہناک کہانیاں ہی نہیں لکھیں بلکہ سلامتی والے مذہب پر بننے والے ملک میں مذہبی مسلکی تعصب و تشدد کے سانحات پر نوحے بھی لکھے ہیں۔
بجا طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ لہندے پنجاب کا منفرد انسائیکلوپیڈیا ہے جو مختصر مگر جامع ہے۔
مصنف احمد خان کھرل کا قصہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں،
“دادا پھوگی بتاتا ہےکہ جس دن کھرل گرا، وہ محرم کا دسواں دن تھا۔ گولی لگتے ہی احمد خان سجدے میں گر گیا۔ کہانی، لفظوں کی سیڑھی پہ صدیوں کا زینہ چڑھتے ہوئے 1857 عیسوی سے 61 ہجری میں جارکتی ہے۔ آن کی آن میں نورے کی ڈل ، کربلا کا میدان بن جاتی ہے۔ فرق بس یہ ہے کہ اس بار ، حسین رضی اللہ کی جگہ ، احمد خان کا سر نیزے پہ دھرا ہے۔”
حسن اتفاق دیکھیے ! جب یہ سب میں پڑھ رہا تھا تو 1448 ہجری کا 10محرم تھا۔
حسن معراج داستان ہیررانجھا کے مختلف پہلووں کی وضاحت جس بلاغت سے کرتے ہیں وہ ملاحظہ فرمائیے ،
“کہنے کو تو یہ دنیا کی سب پریم کہانیوں کی طرح ہے مگر اس میں کچھ باتیں بہت خوبصورت ہیں۔ رانجھے اور مسجد کے ملاں کے درمیان بحث ، درحقیقت مذہب اور انسان کے درمیان مکالمہ ہے۔ دریا پار کرنے کیلئے لڈن ملاح کی باتیں دراصل دنیا اور دل کی کشمکش ہے۔ ہیر کی خوبصورتی کابیان، داستان گوئی کا فن ہے اور اسکے عشق میں بارہ سال تک بھینسیں چرانا نفی ذات کا مرحلہ۔ رانجھے کا جوگ اور بالناتھ کی باتیں ، تدبیر کے اشارے ہیں اور کھیڑوں کے گاوں میں سہتی سے نوک جھونک، تقدیر کی رمزیں۔ جس وقت عنایت حسین بھٹی، ہیر گاتے اس مقام پر پہنچتے ہیں جب ہیر پکار اٹھتی ہے کہ
رب جھوٹھ نہ کرے جے ہووے رانجھا
تاں میں چوڑ ہوئی، مینوں پٹیا سو
تو سننے والے کو ہیر، اپنے دروازے کی چوکھٹ سے سر پٹکتی صاف دیکھائی دیتی ہے۔ بیان کی خوبصورتی کو مہمیز کرنے والی ادائیگی، اتنی مکمل تصویر بناتی ہے کہ ماتھے کی شکنوں سے آنسووں کے بہاو تک، اور سر کی چوٹی سے پاوں کی ایڑھی تک، ہیر کا پچھتاوے میں ملبوس سراپا صاف دیکھائی دیتا ہے۔۔۔جی چاہے تو ہاتھ بڑھا کر چھو لیں۔ آخر میں دونوں کی موت دنیا کی بے ثباتی کا ایک اشارہ ہے۔ ہیر وارث شاہ ایک کہانی نہیں بلکہ ایک جہان حیرت ہے۔”
حسن معراج کا ہیر پر تبصرہ وہی سمجھ سکتا ہےجس نے ہیر وارث شاہ پڑھی ہے یا کم از کم سنی ہے، ہیر پڑھنا ایک فن ہوا کرتا تھا اور سننے والوں کیلئے زندگی کیلئے رہنمائی۔ جب میں لڑکپن میں تھا تو اپنے علاقے کے بہت سے بزرگوں سے سنا کہ وہ رات رات بھر ہمارے گھر لسوڑی کے نیچے میرے دادا جی سے ہیر سنا کرتے تھے، دادا جی وڈی ہیر سے اس طرح خوش الحانی سے پڑھتے کہ سننے والے محسوس کرتے جیسے سارا منظر انکی آنکھوں کے سامنے ہو۔
میں نے اپنے دادا کو نہیں دیکھا کیونکہ میرے دادا کا انتقال اس وقت ہوا جب میرے والد اپنے لڑکپن میں تھے۔ لیکن علاقہ بھر کے بزرگ انہیں ہیر پڑھنے پر یاد کرتے تھے۔
گوجرانوالہ کے بارے میں حسن معراج فرماتے ہیں !
“گوجرانوالہ ایک کہانی نہیں بلکہ ایک داستان سرائے ہے۔ چونکہ شہر انسانوں کا تعارف ہوا کرتے ہیں اور انسان شہروں کو شناخت عطا کرتے ہیں سو گوجرانوالہ کا دامن بھی ایسے بہت سے موتیوں سے خیرہ ہے۔”
وہ بتاتے ہیں کہ بارہ گاوں کا شہر خان پور سانسی تھا پھر گوجروں کی وجہ سے گوجرانوالہ بن گیا۔ مغلوں کی تاریخ شاہجہاں اور اورنگزیب عالمگیر میں اسکا زکر ہے، رنجیت سنگھ کے باپ دادا سے گوجرانوالہ کو نئی تاریخ ملی، اس کا موجودہ نقشہ ہری سنگھ نلوہ نے بنایا تھا۔
راجہ رنجیت سنگھ گوجرانولہ کی پہچان ہیں اور انکے تذکرہ کے بغیر پنجاب کی تاریخ نہیں لکھی جا سکتی۔ تقسیم تک گوجرانوالہ میں سکھوں کی بڑی تعداد آباد تھی، مسلمان آبادی بھلے زیادہ تھی لیکن کھیتی باڑی اور تعلیم میں سکھ بہت آگے تھے، یہ دیکھ لیں کہ تقسیم کے وقت گوجرانوالہ بار کے چالیس ممبر تھے ان میں سے تیس سکھ تھے۔
امرتا پریتم گوجرانوالہ میں ادبی شخصیات میں نمایاں ترین نام ہے انکی کہانی بھی اس کتاب کا حصہ ہے۔ جسٹس شیخ دین محمد، صوفی جمال، الطاف گوہر، اکرم ذکی، میرا جی، عبدالحمید عدم ، ن م راشد، ڈاکٹر فقیر محمد فقیر، ملکہ ترنم ثریا، موسیقار روشن، ڈونلڈ جیون مل، پرمیشور نارائن ہاکسر، سوامی رام تیرتھ، آیت اللہ عظمی، بشیر حسین نجفی اسی شہر کے باسی تھے ان کا تذکرہ موجود ہے، اب کی مشہور شخصیات میں دلدار پرویز بھٹی، سہیل احمد، ببوبرال، یونس بٹ، نمایاں زکر کئے گئے ہیں۔
یہ کتاب پڑھ کر دو احساسات بہت نمایاں ہوتے ہیں، اول ہمیں اپنے علاقے اسکی تہذیب و ثقافت اس کے لوگوں انکی کامیابیوں اور ہر شعبہ میں رہنماوں انکی جدوجہد پر فخر کرنا چاہیئے۔ ہماری دھرتی کے لوگ ہمارے ہیرو ہیں۔
دوسرا یہ کہ ریل شہروں قصبوں دیہاتوں اور ان میں بسنے والے لوگوں کو جوڑنے کا سب سے بہترین زریعہ ہے جو ہر موسم اور ہر وقت بہترین نتائج دیتا ہے۔
اگر وفاقی سطح پر اسکی بحالی اور مزید وسعت و ترقی مشکل ہے تو اسے صوبائی سطح پر ممکن بنایا جا سکتا ہے، پنجاب پورے ملک کی ساٹھ فیصد سے زیادہ آبادی والا صوبہ ہے اس میں ریل لائن کو مزید علاقوں اور دیہات تک رسائی دے کر اس ریل کی سیٹی کو زراعت اور صنعت کی ترقی کی سیٹی بنایا جا سکتا ہے


