زندہ دلان ِ شہرلاہور کی صبحیں عجیب ہوتی ہیں۔ سورج پوری آب و تاب سے نکل آتا ہے، مگر ہر دل میں روشنی نہیں اُترتی۔سابق وزیر اعظم کے نام پر قائم کردہ پارک کے درختوں پر پرندے چہچہاتے تھے، بچے قہقہے لگاتے تھے، بزرگ آہستہ آہستہ چہل قدمی کرتے تھے، اور انہی راستوں کے کنارے ایک خاموش آدمی اپنی چھوٹی سی دُنیا سجا کر بیٹھ جاتا تھا۔
اس کا نام صغیر مسیح تھا۔…………وہ پیدائشی نابینا تھا۔ دنیا کی رنگینیوں سے محروم، مگر زندگی کے رنگوں کو چھو کر پہچان لینے والا۔ اس کی آنکھیں بند تھیں، لیکن اُس کے کان لوگوں کے قدموں کی چاپ سے اُن کے مزاج پڑھ لیتے تھے۔ وہ آوازوں میں خوشی، تھکن، غرور اور محرومی کو الگ الگ پہچان سکتا تھا۔
اس کے سامنے ایک پرانی وزن کرنے والی مشین رکھی ہوتی۔ جو بھی اپنا وزن کرواتا، وہ اُمید بھری آواز میں کہتا، ”ربّ آپ کو خوش رکھے۔“
بیس روپے………… بس اتنے ہی اس کی محنت کی قیمت تھے۔شام ڈھلتی تو وہ پیسوں کوگن کر سوچتا کہ آج روٹی آئے گی یا صرف چائے پر ہی گذارہ ہوگا۔مگر اُس کے لیے زندگی کی مشکل صرف غربت نہیں تھی۔
اُس پارک کی کینٹین اور پارکنگ کا ٹھیکیدار ہر چند دن بعد آتا اور صغیر کے وہاں بیٹھنے کی قیمت مانگتا۔ وہ حیران ہوتا کہ زمین بھی کیا اَب کرائے پر ملنے لگی ہے؟ مگر وہ خاموش رہتا۔ اُس کے پاس خاموشی کے سوا کوئی اور چارہ نہ تھا۔
کبھی ٹھیکیدار کے کارندے زبردستی اُس کی جیب میں پڑے پیسے نکال لیتے۔ وہ اَحتجاج کرتا تو جواب میں ہنسی سنائی دیتی۔
”او اندھے! تم نے دیکھا ہی کیا ہے؟“صغیر دل ہی دل میں سوچتا اور زیرِ لب کہتا، ”دیکھ تو تم بھی نہیں رہے۔“
ایک دن اُس نے ہمت کی۔اور پارک کے ایک افسر سے شکایت کر دی۔ اُسے یقین تھا کہ قانون کمزور کا بھی سہارا بنتا ہوگا۔
شکایت نے اِنصاف کا دروازہ تو نہیں کھولا، بلکہ انتقام اور بدلہ کا دروازہ کھول دیا۔
چند ہی دن بعد اُس پر ایسا اِلزام لگا دیا گیا جسے سن کر بڑے بڑے لوگ لرز جاتے ہیں۔”توہینِ رسالت۔“
یہ دو لفظ اُس پر بجلی بن کر گرے۔وہ شخص جو اپنے ربّ سے ہر صبح رزق کی دُعا مانگتا تھا، جو دوسروں کے قدموں کی چاپ سے دُنیا پہچانتا تھا، اچانک نفرت اور الزام کے شور میں دھکیل دیا گیا۔
پولیس آئی۔اوراُس کے ہاتھوں میں ہتھکڑی ڈال کر لے گئی۔ صغیر نے صرف ایک سوال پوچھا۔”میں نے کیا کہا تھا؟“جواب میں خاموشی تھی۔
جیل کی کوٹھڑی اندھیری تھی، مگر اس کے لیے اندھیرا کوئی نئی چیز تھوڑی تھا۔ فرق صرف اِتنا تھا کہ پہلے اُس کی آنکھوں میں روشنی نہیں تھی، اب معاشرے کی آنکھوں میں بھی نہیں رہی تھی۔
دن ہفتوں میں، ہفتے مہینوں میں بدلتے گئے۔عدالت میں تاریخ پر تاریخ پڑتی رہی۔ہر پیشی پر کوئی نہ کوئی گواہ غائب ہوتا، کوئی بیان بدل دیتا، کوئی ثبوت سامنے نہ آتا۔ صغیر ہر بار یہی کہتا،”میں بے گناہ ہوں۔“
مگر بعض اوقات سچ کی آواز بہت دھیمی ہوتی ہے، اور اِلزام کا شور بہت اونچا۔پھر اس کی سُنی گئی ایک صبح …………عدالت میں غیر معمولی سکوت تھا۔
سیشن جج نے مقدمے کا ریکارڈ دیکھا، گواہوں کے بیانات پڑھے، ثبوتوں کا جائزہ لیا اور کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد فیصلہ سنایا۔”استغاثہ جرم ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ناکافی شواہد کی بنا پر ملزم صغیرمسیح کو بری کیا جاتا ہے۔“
یہ الفاظ سنتے ہی عدالت کے کمرے میں جیسے وقت رُک گیا۔صغیر کی آنکھوں سے تو آنسو نہیں بہہ سکتے تھے، مگر اس کی آواز لرز گئی۔
”شکر ہے، اے میرے خدا!“…………وہ جیل سے باہر تو آ گیا، مگر ایک سال اُس کی زندگی سے نکل چکا تھا۔ اس وقت کا ازالہ کوئی نہیں کرسکتا تھا۔
پارک شاید اب بھی ویسا ہی تھا۔ درخت اب بھی سایہ دیتے تھے۔پرندے اب بھی گاتے تھے۔لوگ اب بھی اپنا وزن کرواتے تھے۔مگر صغیر جان چکا تھا کہ انسان کا اَصل وزن مشین نہیں بتاتی۔اصل وزن اِنسان کے ضمیر کا ہوتا ہے۔
کبھی کبھی ایک جھوٹا اِلزام پورے معاشرے کو ہلکا کر دیتا ہے، اور ایک بے گناہ اِنسان اپنے صبر سے پوری اِنسانیت کا بوجھ اٹھا لیتا ہے۔
کہتے ہیں، نابینا صرف وہ نہیں ہوتا جس کی آنکھیں روشنی سے محروم ہوں۔اصل نابینا وہ ہے جو طاقت کے نشے میں انصاف کو نہ دیکھ سکے، …………جو ذاتی دشمنی کو سچ پر ترجیح دے، اور………… جو ایک بے بس انسان کی فریاد سننے کے بجائے اِلزام کی گونج پر یقین کر لے۔
صغیر مسیح کی کہانی شاید ایک فرد کی داستان ہو، مگر اس کے صفحات میں ایک پورے معاشرے کا چہرہ جھلکتا ہے۔
ایسا معاشرہ جہاں کبھی کبھی روشنی رکھنے والے بھی اَندھیرے میں بھٹک جاتے ہیں، اور ایک پیدائشی نابینا انسان سچائی کا راستہ سب سے زیادہ واضح دیکھ لیتا ہے۔…………کیونکہ آنکھوں کی بینائی سے زیادہ اہم دل کی بینائی ہوتی ہے، اور جب دل اَندھا ہو جائے تو پھر سورج بھی طلوع ہو کر اندھیرا ختم نہیں کر سکتا۔


