ہر نئے مالی سال کے آغاز پر حکومتیں عزم، اصلاحات اور احتساب کے اعلانات کرتی ہیں۔ اس بار بھی وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس، عوامی شکایات کے فوری ازالے، ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل، وزراء کے ضلعی دوروں، افسران کی جوابدہی اور میرٹ و شفافیت پر مبنی فیصلوں کی ہدایات جاری کی ہیں۔ ان میں سے کسی بھی نکتے سے اختلاف ممکن نہیں، کیونکہ ہر باشعور شہری بھی یہی چاہتا ہے کہ ریاست دیانت داری، قانون اور عوامی خدمت کے اصولوں پر استوار ہو۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے مسائل کا سبب ہدایات کا فقدان ہے، یا ان اصولوں پر خود حکومت کے عمل نہ کرنے کا مسئلہ؟
پاکستان خصوصاً خیبرپختونخوا کا المیہ یہ نہیں کہ یہاں اچھی پالیسیاں نہیں بنتیں، بلکہ یہ ہے کہ ہمارے اداروں کو کبھی اتنا مستحکم ہونے ہی نہیں دیا جاتا کہ وہ کسی پالیسی کو تسلسل کے ساتھ نافذ کر سکیں۔ ایک طرف میرٹ، شفافیت اور مشاورت کی بات کی جاتی ہے، دوسری طرف تقرریاں اور تبادلے اس انداز سے کیے جاتے ہیں کہ متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹری، ڈائریکٹر جنرل اور پیشہ ور سربراہ بھی اکثر آخری لمحے میں اپنے ہی ادارے کے فیصلوں سے آگاہ ہوتے ہیں۔ اگر فیصلوں میں ادارہ جاتی مشاورت موجود نہیں تو پھر ماتحت افسران سے مشاورت کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟
صوبے میں شاید ہی کوئی ضلع ایسا ہو جہاں ضلعی انتظامیہ کو سکون سے کام کرنے دیا جاتا ہو۔ ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر، ضلعی سربراہان اور مختلف محکموں کے افسران چند ماہ بھی مکمل نہیں کر پاتے کہ ان کے تبادلے کی خبریں آ جاتی ہیں۔ انتظامیہ کا بنیادی اصول تسلسل ہے، کیونکہ ایک افسر علاقے کے مسائل، سماجی ساخت، مقامی ضروریات اور جاری منصوبوں کو سمجھنے میں وقت صرف کرتا ہے۔ جب وہ کام کے قابل ہوتا ہے تو اسے ہٹا دیا جاتا ہے، اور نیا افسر دوبارہ وہی سفر شروع کرتا ہے۔ اس مسلسل عدم استحکام نے نہ صرف ترقیاتی منصوبوں کو متاثر کیا ہے بلکہ اداروں کی یادداشت، تجربہ اور پیشہ ورانہ صلاحیت کو بھی کمزور کر دیا ہے۔ اسی لیے ہمارے منصوبے مکمل ہونے کے بجائے بار بار نئے سرے سے شروع ہوتے ہیں۔
اس سے بھی زیادہ تشویش ناک حقیقت یہ ہے کہ اکثر تبادلوں کی بنیاد کارکردگی نہیں بلکہ سیاسی خواہشات ہوتی ہیں۔ اگر کوئی ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر یا کسی محکمے کا سربراہ کسی بااثر ایم پی اے یا حکومتی شخصیت کے غیر قانونی حکم، ناجائز سفارش یا ذاتی مفاد پر مبنی مطالبے کو ماننے سے انکار کر دے تو اس کے تبادلے کی تلوار اس کے سر پر لٹکنے لگتی ہے۔ ایسے ماحول میں قانون کی حکمرانی کیسے قائم ہوگی؟ ریاست کی وفاداری آئین سے ہونی چاہیے، شخصیات سے نہیں۔ جب ایک افسر کو یہ یقین نہ ہو کہ قانون پر قائم رہنے کی صورت میں حکومت اس کے ساتھ کھڑی ہوگی تو پھر اس سے دیانت داری کی توقع محض ایک اخلاقی وعظ رہ جاتی ہے۔
کرپشن کے خاتمے کی بات بھی اسی وقت قابلِ اعتبار ہوگی جب اس کا آغاز ترقیاتی فنڈز، سرکاری خریداری اور ٹھیکوں کے نظام سے ہوگا۔ یہ تاثر صرف عوام میں نہیں بلکہ سرکاری حلقوں میں بھی پایا جاتا ہے کہ اہم منصوبوں کے ٹھیکے اکثر انہی افراد یا کمپنیوں کو ملتے ہیں جو سیاسی طور پر بااثر ہوں یا حکمران جماعت سے قربت رکھتے ہوں۔ اگر ٹینڈر کا عمل واقعی شفاف ہے تو پھر اس کی مکمل معلومات، مسابقتی عمل، تشخیصی معیار اور فیصلوں کی وجوہات عوام کے سامنے کیوں نہیں لائی جاتیں؟ احتساب کی سب سے بڑی آزمائش وہاں ہوتی ہے جہاں اختیار اور وسائل جمع ہوں، نہ کہ صرف نچلے درجے کے اہلکاروں کے خلاف کارروائی میں۔
وزیراعلیٰ نے وزراء کو اضلاع کے دوروں کی ہدایت دی ہے، مگر دنیا کے کامیاب انتظامی نظام ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ وزیر کا اصل کردار پالیسی بنانا، ترجیحات طے کرنا اور نگرانی کرنا ہے، نہ کہ روزمرہ انتظامیہ کا متبادل بن جانا۔ جب ہر فیصلہ سیاسی دفتر سے ہوگا تو انتظامی سیکرٹری، کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور محکمہ جاتی سربراہ محض رسمی حیثیت اختیار کر جائیں گے۔ اس سے وقتی طور پر شاید حکومت زیادہ متحرک دکھائی دے، لیکن طویل مدت میں ادارے کمزور ہوتے ہیں اور شخصیات مضبوط۔
ریاستیں اس وقت مضبوط نہیں ہوتیں جب ہر مسئلے کا حل وزیراعلیٰ، وزیر یا کسی ایک دفتر میں تلاش کیا جائے، بلکہ اس وقت مضبوط ہوتی ہیں جب ایک معمولی شہری بھی جانتا ہو کہ قانون، طریقۂ کار اور ادارہ کسی شخصیت سے زیادہ طاقتور ہیں۔ اگر ہر شکایت وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں جائے، ہر فیصلہ سیاسی سطح پر ہو اور ہر تبادلہ سیاسی سفارش سے وابستہ ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اداروں پر اعتماد ختم ہو چکا ہے۔ یہ کسی بھی جمہوری نظام کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔
اگر خیبرپختونخوا واقعی ایک مثالی انتظامی نظام قائم کرنا چاہتا ہے تو اسے سب سے پہلے تبادلوں کی سیاست ختم کرنی ہوگی، افسران کو معقول مدتِ تعیناتی دینی ہوگی، سیاسی مداخلت کو قانون کی حدود میں محدود کرنا ہوگا، تقرریوں میں متعلقہ اداروں کی پیشہ ورانہ رائے کو لازم بنانا ہوگا، سرکاری ٹھیکوں کے نظام کو مکمل شفاف اور قابلِ جانچ بنانا ہوگا، اور احتساب کو صرف بیوروکریسی تک محدود رکھنے کے بجائے وزراء، اراکینِ اسمبلی اور حکومت کے ہر بااختیار فرد تک یکساں طور پر نافذ کرنا ہوگا۔
ریاستیں نعروں، اجلاسوں اور ہدایات سے نہیں چلتیں۔ وہ انصاف، اداروں کے استحکام، قانون کی بالادستی اور پالیسی کے تسلسل سے چلتی ہیں۔ جب تک ہم افراد کو نظام پر اور سیاسی مصلحت کو ادارہ جاتی اصولوں پر ترجیح دیتے رہیں گے، تب تک ہر نئے مالی سال کے آغاز پر وہی اعلانات دہرائے جائیں گے، مگر عوام کے مسائل اور ریاست کی کمزوریاں اپنی جگہ برقرار رہیں گی۔


