جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JKJAAC) اور تنازعہ اور بلاول بھٹو کا موقف/ اطہر شریف

آزاد کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور حکومت کے درمیان حالیہ تنازع بنیادی طور پر بجلی کے بھاری بلوں، آٹے پر سبسڈی، حکومتی اشرافیہ کی مراعات اور مہاجرین کے لیے مخصوص نشستوں کے خاتمے جیسے مطالبات پر مبنی ہے۔ یہ تحریک عوامی حقوق کی جنگ لڑنے کے دعوے کے ساتھ ابھری، لیکن بعد میں پرتشدد جھڑپوں اور ہلاکتوں کے باعث شدید بحران کا شکار ہو گئی۔تنازعے کے بنیادی عوامل:بجلی کے نرخ اور آٹا: عوام مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ آزاد کشمیر، جو خود بجلی پیدا کرتا ہے، وہاں کے مقامی لوگوں کو بجلی سستے داموں فراہم کی جائے اور آٹے پر سبسڈی دی جائے۔اشرافیہ کی مراعات کا خاتمہ: کمیٹی کا مؤقف ہے کہ وزراء اور بیوروکریٹس (افسران) کی غیر ضروری مراعات اور اخراجات ختم کر کے قومی خزانے کا بوجھ کم کیا جائے۔مہاجرین کی نشستیں: سب سے بڑا قانونی اور سیاسی تنازعہ ان 12 نشستوں کا ہے جو آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں مقبوضہ کشمیر سے ہجرت کر کے آنے والے مہاجرین کے لیے مخصوص ہیں۔ ایکشن کمیٹی کا مطالبہ تھا کہ ان نشستوں کو ختم کیا جائے۔عدالتی فیصلہ اور پابندی: آزاد کشمیر سپریم کورٹ نے جون 2026 میں فیصلہ دیا کہ مہاجرین کی نشستیں آئینی طور پر محفوظ ہیں اور انہیں ختم کرنے کے لیے آئینی ترمیم کی ضرورت ہے۔ اس فیصلے کے بعد حکومت نے ایکشن کمیٹی (JAAC) کو ‘کالعدم’ (پابندی شدہ) قرار دے دیا۔

29 ستمبر 2025
کو
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور حکومتی نمائندوں میں معاہدہ طے پا گیا کیا تھا جس کے بعد مظاہرین نے احتجاج ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اس کے اہم پوائنٹ مندرجہ ذیل تھے-بجلی کے نرخ میں کمی: عوامی مطالبے پر بجلی کے نرخوں میں نمایاں کمی کی گئی اور بجلی کی فراہمی پر سبسڈی (سستے نرخوں) کی بحالی کو یقینی بنایا گیا۔آٹا سستا کرنا: بنیادی اشیائے خورونوش، خاص طور پر آٹے پر سبسڈی بحال کی گئی تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔ٹیکسز اور محصولات کا خاتمہ: عوام پر عائد اضافی، غیر ضروری اور دوہرے ٹیکسز (جو پاکستان کے مقابلے میں زیادہ تھے) ختم یا کم کر دیے گئے۔مراعات اور پروٹوکول کا خاتمہ: حکومتی افسران، وزراء اور بیوروکریسی کی شاہانہ مراعات اور غیر قانونی الاؤنسز کو کم کرنے پر اتفاق کیا گیا۔امن و امان اور معاہدے پر عمل درآمد: احتجاج کے دوران ہونے والی کشیدگی کے خاتمے، مظاہرین کی رہائی اور معاہدے کی نگرانی کے لیے باقاعدہ کمیٹیاں تشکیل دی گئیں۔

جولائی 2025 کے بعد حکومتِ پاکستان، حکومتِ آزاد جموں و کشمیر (AJK) اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) کے درمیان کامیاب مذاکرات میں بجلی کے نرخوں اور آٹے پر سبسڈی کے معاشی مسائل تو طے پا گئے۔ تاہم، اصل اور بنیادی تنازعہ تاحال حل طلب رہا جس نے بعد میں شدید کشیدگی پیدا کی۔اس تنازعے کے بنیادی نکات درج ذیل ہیں:1. مہاجرین کی نشستوں کا تنازع:آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں پاکستان کے مختلف شہروں میں آباد کشمیری مہاجرین کے لیے 12 نشستیں مخصوص ہیں۔ عوامی ایکشن کمیٹی کا مؤقف ہے کہ یہ نشستیں غیر آئینی ہیں اور ان پر نظرِ ثانی ہونی چاہیے کیونکہ یہ نظام میں بگاڑ کا باعث بن رہی ہیں۔2. مراعات کا خاتمہ (Elite Privileges):عوامی ایکشن کمیٹی نے آزاد کشمیر کے وزراء، اراکینِ اسمبلی اور سرکاری افسران کی جانب سے حاصل کی جانے والی شاہانہ مراعات اور خطیر اخراجات کے خاتمے کا مطالبہ کیا تھا۔ یہ حکومت کے لیے ایک بہت بڑا اور مشکل آئینی چیلنج بن گیا

بلاول بھٹو کو ایکشن کمیٹی نے خط لکھ جس میں ان سے اہم کردار اس تنازع میں ادا کرنے کی استدعا کی گئی
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو جوابی خط لکھ دیا، جس میں انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں جانوں کا ضیاع قومی سانحہ ہے، ہر کشمیری کی جان قیمتی ہے۔

اپنے خط میں بلاول بھٹو نے کہا کہ پُرامن شہریوں کو دہشتگرد یا غیر ملکی ایجنٹ قرار نہیں دینا چاہیے، سیاسی، معاشی اور آئینی حقوق کیلئے پرامن احتجاج عوام کا حق ہے، مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والوں کے خلاف الزامات کی غیر جانبدار تحقیقات ہوں، موجودہ محاذ آرائی طاقت یا اشتعال انگیز الزامات سے حل نہیں ہوسکتی۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ تحریری معاہدوں کو عملدرآمد کے تنازع کی نذر نہیں ہونا چاہیے، حالیہ واقعات پر متضاد مؤقف، الزامات سے نہیں حقائق سے فیصلہ ہو، سچائی اور مفاہمتی کمیشن کے قیام کی تجویز پیش کرتا ہوں، کمیشن تمام فریقوں کے مؤقف، شکایات اور حقائق کا جائزہ لے، کمیشن سیاسی، قانونی اور انتظامی معاملات پر سفارشات مرتب کرے۔

پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ اسلام آباد میں بیٹھا کوئی شخص کشمیری شناخت کا فیصلہ نہیں کر سکتا، آزاد کشمیر کے عوام کی عزت اور شناخت حکومت کی مرہونِ منت نہیں۔
بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اپنی تحریک کو پُرامن رکھے، فوری مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ضروری ہے، یہ اپیل ہتھیار ڈالنے کیلئے نہیں، انسانی جانیں بچانے کے لیے ہے، پاکستان اور کشمیر کا تعلق وقار، حقوق اور باہمی احترام پر ہونا چاہیے، مزید خونریزی روکنا اور اعتماد بحال کرنا اولین قومی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہا کہ کمیشن کے قیام پر اتفاق ہو تو لانگ مارچ اور دھرنے معطل کیے جائیں، حکام بھی کمیشن کے نتائج تک مزید اقدامات سے گریز کریں، پیپلز پارٹی کشمیر بحران کے حل میں اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے، حکومتِ پاکستان، حکومتِ آزاد کشمیر اور مظاہرین تجویز پر اتفاق کریں۔
بلاول بھٹو کا واضع موقف

بلاول بھٹو کا مؤقفپاکستان پیپلز پارٹی (PPP) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس تنازعے کے پرامن حل اور عوامی حقوق کے تحفظ پر زور دیا ہے۔ ان کے مؤقف کی نمایاں تفصیلات یہ ہیں:مذاکرات پر زور: بلاول بھٹو نے کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کو خط لکھ کر واضح کیا کہ موجودہ بحران کا حل طاقت کا استعمال نہیں بلکہ مذاکرات اور اعتماد سازی ہے۔ٹروتھ اینڈ ریکنسیلیشن کمیشن (Truth and Reconciliation Commission): انہوں نے فریقین کی رضامندی سے ایک ایسا کمیشن بنانے کی تجویز دی جو پچھلے مہینوں میں ہونے والے پرتشدد واقعات اور جانی نقصان کی شفاف تحقیقات کر سکے۔پرامن احتجاج کا حق: ان کا ماننا ہے کہ کشمیری عوام کو اپنے سیاسی، معاشی اور آئینی حقوق کے لیے پرامن احتجاج کا پورا آئینی حق حاصل ہے۔مخالفتِ تشدد: بلاول نے بندوق کے زور پر آئینی تبدیلیوں اور پرتشدد احتجاج کی کھل کر مخالفت کی۔ انہوں نے زور دیا کہ وہ آزاد کشمیر میں بانی ایم کیو ایم جیسی سیاست برداشت نہیں کریں گے۔
انہوں نے فریقین کی رضامندی سے ایک ایسا کمیشن بنانے کی تجویز دی جو پچھلے مہینوں میں ہونے والے پرتشدد واقعات اور جانی نقصان کی شفاف تحقیقات کر سکے۔پرامن احتجاج کا حق: ان کا ماننا ہے کہ کشمیری عوام کو اپنے سیاسی، معاشی اور آئینی حقوق کے لیے پرامن احتجاج کا پورا آئینی حق حاصل ہے۔مخالفتِ تشدد: بلاول نے بندوق کے زور پر آئینی تبدیلیوں اور پرتشدد احتجاج کی کھل کر مخالفت کی۔ انہوں نے زور دیا کہ وہ آزاد کشمیر میں بانی ایم کیو ایم جیسی سیاست برداشت نہیں کریں گے-آج 16 جون 2026 کو حکومت اور کالعدم ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات کامیاب ہو گئے۔
کالعدم ایکشن کمیٹی نے مظفر آباد کی جانب مارچ 21 جولائی تک موخر کر دیا۔
رہنما کالعدم ایکشن کمیٹی کا کہنا ہے کہ مطالبات تسلیم نہ کئے تو 22 جولائی کو مارچ کا آغاز ہو گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں