انتظامی کرائسز کا شکار پنجاب چیف سیکرٹری کی تبدیلی کا منتظر/ملک سلمان

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے بیوروکریسی کی ٹرانسفر پوسٹنگ میں سیاسی مداخلت کا خاتمہ کرتے ہوئے چیف سیکرٹری اور آئی جی پنجاب کو مکمل اختیارات دے کر تاریخی کارنامہ تو کر دیا لیکن مذکورہ صوبائی سربراہان نے”میرٹ“ کا وہ قتل عام کیا جس کی نظیر تاریخ میں کہیں نہیں ملتی۔ سنئیر اور قابل افسران کھڈے لائن جبکہ جونئیر اور من پسند افسران پر عہدوں کے ایسی نوازشات ہوئی کہ ہر کوئی حیران و پریشان ہوگیا۔بہت سارے کرپٹ بزداری افسران اہم عہدوں پر لگا دیے گئے ہیں ثبوت کے طور پر پی ٹی آئی دور حکومت کی پوسٹنگ نکال کر موازنہ کرلیں، پی ٹی آئی دور میں ”اہم پوزیشن“ انجوائے کرنے اور کرپشن کے ریکارڈ توڑنے والے موجودہ حکومت میں پہلے سے بھی اچھی سیٹ پر ہیں۔
چیف سیکرٹری پنجاب زاہد زمان کے دور میں چند ”بلیو آئیڈ“ ایک سے بڑھ کر ایک اہم سیٹ پر نوازے جاتے ہیں تو دیگر ایک ہی سیٹ پر کھڈے لائن ہیں تو کچھ ناکردہ گناہوں کی سزا پر او ایس ڈی”گل سڑ“ رہے ہیں۔
پک اینڈ چوز کی وجہ سے پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس اور پی ایم ایس سمیت کوئی بھی مطمئن نہیں ہے سوائے ان کے جن کو آؤٹ آف دی وے جا کر نواز ا گیا۔
چیف سیکرٹری نے ایک طرف ڈپٹی کمشنرز کیلئے خود ساختہ میرٹ اور بیرئیر لگادیے ہیں جبکہ سجی دکھا کر کھبی مارنا کے مترادف گریڈ بیس لیول کی اربوں کھربوں روپے والی
CEO IDAP, CEO PECTAA، پراجیکٹ ڈائریکٹر ورلڈ بینک سمیت اہم سیٹوں اور اٹھارٹیز پر 42,43,44کامن کے کنسیپٹ کلئیر بچوں کو لگادیا ہے۔ اسی طرح چند گریڈ 19 والوں کو گریڈ 21 کی سیٹوں پر آل ان آل بنا دیا گیا۔ کرپٹ افسران نے ستھرا پنجاب، پیرا، سیاحت اور بیوٹیفیکیشن جیسے فلیگ شپ پروگرامات کو مال لوٹنے کا زریعہ بنایا ہوا ہے۔
چیف سیکرٹری کی انتظامی کمزوری ہے کہ انٹی کرپشن میں اسی فیصد سے زائد کیسز کا تعلق ریونیو سے ہوتا ہے لیکن اہم ترین محکمے کو پولیس کے حوالے کیا ہوا ہے۔ اس سے بڑھ کر مضحکہ خیز بات کیا ہوگی کہ پرنسپل سیکرٹری ٹو سی ایم ساجد ڈال کے بھائی سمیت دیگر ڈی ایس پیز کو ڈویژنل ڈائریکٹر انٹی کرپشن لگایا گیا ہے، احتساب کا دعوی اور تمام امیدیں یہیں ختم ہوجاتی ہیں جب گریڈ بیس تک کے افسران کے احتساب کی ذمہ داری گریڈ 17کے ڈی ایس پی کو دے دی جائے۔
ایک ڈی ایس پی اپنے سنئیر ایس پی، ایس ایس پی یا ڈی آئی جی کا احتساب تو درکنار گردن جھکائے بن ان کی طرف دیکھ بھی نہیں سکتے کیونکہ انہی سنئیر سے اس نے اپنی اے سی آر لکھوانی ہے۔
پنجاب کی انتظامی تاریخ کا پہلا موقع ہے کہ جونئیر ترین ڈی پی او لگائے گئے ہیں۔ 44اور 43کامن کے ایس پیز کو ڈی پی او لگانا انتہائی غیر دانشمندانہ فیصلہ ہے۔
سانحہ ماڈل ٹاؤن سے لیکر جتنے بھی بڑے سانحات ہوئے انکی ”جے آئی ٹی” رپورٹ اٹھا کر دیکھ لیں ہر جگہ ناکامی کی ایک ہی وجہ ملے گی کہ جونئیر آفیسر ہونے کی وجہ سے مس ہینڈلنگ اور فیصلہ سازی کی کمی۔
محکمہ صحت سمیت لگ بھگ درجن محکموں کے سیکرٹری گریڈ انیس کے جونئیر افسران ہیں۔ اسی طرح سی ای او، ڈی جی اور ایم ڈی لیول کی اہم سیٹوں پر بھی گریڈ بیس کی بجائے گریڈ انیس اور حتیٰ کہ گریڈ اٹھارہ کے افسران تعینات ہیں۔ گریڈ 18سے گریڈ21تک کے 58افسران او ایس ڈی ہیں جبکہ لاڈلوں کو ڈبل اور اضافی چارج دیے ہوئے ہیں۔
کسی نے کبھی سنا کہ آرمی میں گریڈ سترہ کے کپتان کو گریڈ انیس کے لیفٹنٹ کرنل کی جگہ یونٹ کمانڈ پر لگا دیا گیا؟ گریڈ اٹھارہ کے میجر کو گریڈ بیس کے برگیڈئیر کی جگہ برگیڈ کمانڈر تعینات کردیا؟ سننا تو درکنار آرمی میں ایسی بیہودگی اور لاقانونیت کا سوچا بھی نہیں جا سکتا۔ میرٹ اور احتساب یہی وجہ ہے کہ ہماری فوج دنیا کی نمبر ون آرمی ہے اور بیوروکریسی دنیا کے 200 ممالک میں آخری نمبروں پر۔
نگران حکومت سے شروع ہونے والے گینگ آف سیون” کے بیوروکریٹک مارشل نے جہاں حکومت سے عوام کا اعتماد خراب کیا وہیں سینکڑوں افسران بھی شدید تحفظات کا شکار ہیں۔ ”گینگ آف سیون” کا کمال ہے کہ وہ افسران جو اخلاقی اور مالی لحاظ سے بدنام زمانہ کرپٹ ترین ہیں، بزدار اور پرویز الٰہی دور کے بڑے بینیفشریز تھے انکو اہم ترین سیٹوں پر لگایا ہوا ہے۔
دسمبر 2022سے سیکرٹری فنانس کی سیٹ پر آل ان آل مجاہد شیر دل پنجاب کی ٹرانسفر پوسٹنگ کا اہم ترین ستون ہیں۔ زبان زد عام ہی نہیں گزشتہ 42ماہ کی ٹرانسفر پوسٹنگ دیکھ لیں اہم ترین سیٹوں پر آنے اور جانے کیلئے فنانس ڈیپارٹمنٹ اور سیکرٹری فنانس ”راستہ“ ہیں۔
خاص طور پر IDAPاور بیرونی فنڈنگ والی تمام پوسٹوں کا آڈٹ کروایا جائے کیونکہ زبان زد عام ہے کہ وہاں حصے بانٹے جاتے ہیں۔
ہر وقت key Posting والے احساس برتری کی وجہ سے اور OSD رہنے والے احساس کمتری میں مبتلا ہو کر دونوں نفسیاتی مسائل کا شکار ہو رہے ہیں۔
موجودہ چیف سیکرٹری کے دور میں سوائے نگران وزیراعلیٰ کے لاڈلوں اور کارخاص کے پنجاب کے پی ایم ایس افسران کا اچھی پوسٹنگ حاصل کرنا مشن امپاسبل بنا دیا گیا۔ پنجاب کی صوبائی سیکرٹریز کی 42 سیٹوں میں سے 6/7سیکرٹریز کی سیٹیں بامشکل پی ایم ایس افسران کو دی گئی ہیں۔ پنجاب کی 10 میں سے صرف 2 ڈویژن میں صوبائی سروس کے افسران کمشنر لگائے گئے ہیں جبکہ 41 میں سے صرف 9 اضلاع میں صوبائی سروس کے ڈپٹی کمشنر ہیں۔ اسی طرح ڈی جی،ایم ڈی سے لیکر تمام اہم سیٹوں پر بھی پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے جونئیر ترین افسران براجمان ہیں۔
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے گزارش ہے کہ جس صوبے کی آپ وزیراعلیٰ ہیں اسی کے صوبائی افسران بے یارومددگار دہائیاں دے رہے اور کوئی پرسان حال نہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں