لندن کے رنگارنگ تفریحی مقامات اپنی جگہ مگر ہمیں وہاں سب سے زیادہ دو بابوں کی قبروں پر حاضری دینے کا شوق تھا۔ ویسے تو یہ دونوں بابے ایک دوسرے سے خاصے مختلف ہیں لیکن ان میں کئی چیزیں مشترک بھی ہیں۔ دونوں 1880 کی دہائی میں فوت ہوئے، دونوں کی گھنی گھنیری داڑھیاں تھیں اور دونوں سے آدھی دنیا شدید محبت اور آدھی شدید نفرت کرتی ہے۔
یہ باتیں تو کتابوں میں لکھی ہیں لیکن ان کی قبروں پر جا کر معلوم ہوا کہ ان میں ایک اور وجۂ اشتراک بھی ہے، لیکن اس سے پہلے تھوڑی سی تمہید۔
ان میں سے ایک تو ہیں چارلز ڈارون۔ کہیں پڑھ رکھا تھا کہ ان کی قبر ویسٹ منسٹر ایبی کے شاہی چرچ کے اندر واقع ہے۔ اتفاق دیکھیے کہ جب ہم وہاں پہنچے تو پتہ چلا کہ آج اتوار ہے اور چرچ سیاحوں کے لیے بند ہے۔ لیکن دسمبر کے اس دن دھندلی پھوار سے بچنے کی کوشش کرتے ہوئے سینکڑوں برس قدیم چرچ کے سامنے کھڑے ہو کر دیکھا کہ لوگ پھر بھی قطار بند اندر جا رہے ہیں۔ معلوم ہوا کہ یہ عبادت گزار ہیں اور اتوار کی سروس میں حصہ لینے پہنچے ہیں۔
ظاہر ہے کہ کسی کے ماتھے پر تو نہیں لکھا ہوتا، اس لیے ہم نے کیمرا بیگ میں ڈالا اور عبادت گزاروں کی قطار کی ڈور پکڑ کر چرچ کے اندر پہنچ گئے۔
چرچ کیا ہے، برطانوی قوم اور تاریخ کی کھلی کتاب ہے۔ پچھلے پانچ سو برس سے ہر بادشاہ، ہر ملکہ کی تاجپوشی یہیں ہوئی بلکہ موت کے بعد بھی انھوں نے چرچ کا دامن نہیں چھوڑا، چنانچہ ان میں سے اکثر اسی کے احاطے کے اندر دفن ہیں۔ اس سے بھی آگے بڑھ کر سائنس، فلسفہ، ادب اور دوسرے شعبوں سے تعلق رکھنے والی درجنوں مشہور شخصیات چرچ کے فرش تلے مدفون ہیں۔ چند نام سنیے اور سر دھنیے اور بتائیے کہ دنیا کے کسی اور کونے میں اتنی مختصر جگہ میں اس قدر انسانی دانش کا اجتماع مل سکتا ہے:
عظیم ماہرِ طبعیات سر آئزک نیوٹن، بابائے انگریزی شاعری جیفری چاسر، شیکسپیئر کو ٹکر دینے والا ڈراما نگار بین جانسن، ایٹم کی ساخت معلوم کرنے والا ردرفورڈ، الیکٹران دریافت کرنے والا جے جے ٹامسن، عظیم ناول نگار چارلز ڈکنز، ٹامس ہارڈی اور رڈیارڈ کپلنگ، ملک الشعرا لارڈ ٹینی سن، جان ڈرائیڈن اور سپینسر، لارڈ میکالے، اور درجنوں دوسرے مشاہیر۔
اس کہکشاں کی چکاچوند میں مجھے اپنے مطلوب چارلز ڈارون کی قبر کہیں نہیں مل رہی تھی۔ میں دراصل ابھری ہوئی سنگِ مرمر کی بنی ہوئی قبر کی تلاش میں تھا، لیکن آخر تین چار چکر لگانے کے بعد فرش پر سنگ مرمر کا کتبہ نظر آ گیا جس کے اوپر لوگ چل پھر رہے تھے۔ اس پر سیاہ سادہ الفاظ میں صرف اتنا کھدا تھا:
CHARLES ROBERT DARWIN BORN 12 FEBRUARY 1809. DIED 19 APRIL 1882.
ڈارون کے نظریۂ ارتقا کی سب سے زیادہ مخالفت اینگلیکن چرچ نے کی تھی اور انھیں اپنے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا تھا۔ بلکہ انگریزوں کی دیکھا دیکھی اسی زمانے میں ہندوستان میں بیٹھے بیٹھے جنابِ اکبر الہ آبادی نے بھی پےبہ پے اشعار میں ڈارون پر تیر پھینکے تھے:
نئی تعلیم کو کیا واسطہ ہے آدمیت سے
جناب ڈارون کو حضرت آدم سے کیا نسبت
کہا منصور نے خدا ہوں میں
ڈارون بولا بوزنہ ہوں میں
تو پھر ڈارون کو برطانیہ کے سب سے ممتاز چرچ میں کیوں دفن کیا گیا؟
دراصل ڈارون کو ویسٹ منسٹر میں دفن کروانے میں بااثر سائنس دان ٹامس ہکسلی نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ اس نے اس سلسے میں ایک پیٹیشن شروع کی جس پر بہت سی مقتدر شخصیات، سیاست دانوں اور ارکانِ پارلیمان نے بھی دستخط کیے اور ویسے بھی ڈارون کی موت تک نظریۂ ارتقا دنیا بھر میں پھیل کر اس قدر راسخ ہو چکا تھا کہ انگریز اس پر فخر کرنے لگے تھے۔ چنانچہ پادریوں کو طوعاً و کرہاً یہ کڑوا گھونٹ پینا ہی پڑا۔
یہ تو احوال ہوا ایک بابے کا۔ اب دوسرے یعنی کارل مارکس کی سنیے۔ حضرتِ گوگل نے بتا دیا کہ موصوف لندن کے شمالی حصے میں ہائی گیٹ قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔ وہاں جانے کے لیے زیرِ زمین ریل کی نادرن لائن لے کر ہم آرچ وے سٹیشن پر ابھرے اور موبائل فون کے نقشے کی انگلی تھام کر چلتے گئے۔ یہاں ایک ہلکا سا سانحہ یہ ہوا کہ سٹیشن سے باہر نکلتے ہی لندن کی ٹھنڈی ہوا کے ایک بھیگے جھکولے نے چھتری کے انجر پنجر یوں الٹا کر رکھ دیے کہ اس سے آگے ہمیں اس چھتری کو میر صاحب کی دستار کی طرح دونوں ہاتھوں سے تھام کر سفر کرنا پڑا۔
موبائل فون اور اس کے اندر نقشہ دکھانے والی ایپ دونوں ہی سرمایہ داری نظام کے پروردہ تھے اس لیے انھوں نے مارکس کی قبر کی بجائے ہمیں ایک ایسی جگہ جا کر لا کھڑا کیا جہاں آگے بارہ فٹ اونچی دیوار تھی اور بس۔
ادھر ادھر دیکھا تو ایک مکان کے باہر ایک ویل چیئر بردار شخص نظر آیا۔ اس سے پوچھا تو انگریزوں کی حسِ مزاح کا قائل ہونا ہی پڑا۔ موصوف نے بالکل سپاٹ انداز میں اطلاع دی اگر آپ کے پاس سیڑھی ہے تو اس دیوار کے اوپر سے ہو کر جا سکتے ہیں ورنہ دوسری طرف پارک ہے، اس کے اندر سے گھوم کر چلے جائیے۔
ہم اتفاق سے بارہ فٹ اونچی سیڑھی ساتھ لانا بھول گئے تھے، اس لیے ہم تیز تر ہوتی بارش میں گھوم کر بے وفا چھتری پر نیم تکیہ کرتے پارک کے اندر داخل ہوئے اور کم از کم ایک میل کا چکر کاٹنے کے بعد ہائی گیٹ قبرستان کے صدر دروازے پر پہنچ گئے۔
یہاں ایک ادھیڑ عمر انگریز نے مسکرا کر استقبال کیا اور مطلع کیا کہ اندر جانے کے لیے چار پاؤنڈ کا ٹکٹ خریدنا ہو گا۔ بحث کی گنجائش نہیں تھی، ویسے بھی بارش میں شدت آتی جا رہی تھی اور ہماری چھتری کی حالت کسی مفلس کی قبا سے بھی بدتر تھی، اس لیے ٹکٹ کٹا کر قبرستان میں داخل ہو گئے اور کئی لہردار فٹ پاتھوں اور صدیوں پرانے گمبھیر درختوں کے نیچے سے ہوتے ہوئے منزل پر جا پہنچے۔
ڈارون کے برعکس مارکس کی قبر خاصی بڑی ہے، بلکہ اسے مقبرہ کہنے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں۔ یہاں ایک اونچے کتبے پر مارکس کا مجسمہ بھی نصب ہے۔ لوحِ مزار پر مارکس کا آفاقی فقرہ کندہ ہے:
WORKERS OF ALL LANDS UNITE
کئی ملکوں سے کامریڈ آئے ہوئے تھے اور اپنے رہنما کے مقبرے کے آگے کھڑے ہو کر تصویریں کھنچوا رہے تھے۔ ہم نے بھی ایک خاتون کو کیمرہ تھما کر ان سے تصویر کھنچوانے کی کوشش کی، مگر المیہ یہ گزرا کہ جونہی ہم دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتے، وہ کیمرہ نیچے کر لیتی کہ شاید یہ عبادت کر رہا ہے اور اس میں مخل ہونا بےادبی ہو گی۔ ایسا تین چار دفعہ ہوا، ناچار پولینڈ کے ایک نوجوان کو کیمرا تھما کر اور سمجھا بجھا کر اس سے دعا مانگتے ہوئے دو تین تصویریں بنوا ہی لیں۔
اس سے قبل ہم نے کوشش کی تھی کہ ڈارون کے کتبے پر بھی تصویر کھنچوا لیں مگر قریب ہی ایک بورڈ پر واضح الفاظ میں ’فوٹو گرافی منع ہے‘ درج تھا، اس لیے کیمرہ بیگ سے نکالنے کی ہمت نہیں ہوئی۔ البتہ مارکس کی قبر پر ایسی کوئی قدغن نہیں تھی۔
ہائی گیٹ قبرستان سے واپسی کے سفر میں یہ سوال گردش کرتا رہا کہ کارل مارکس کی قبر پر ٹکٹ کا کیا مطلب ہے۔ کیا وہ ساری زندگی اسی سرمایہ داری نظام کو زمیں بوس کرنے کی کوششوں میں نہیں لگے رہے؟ اگر کارل مارکس کو یہ بات اپنی زندگی میں معلوم ہوتی کہ مرنے کے بعد یہ نظام ان کی قبر سے بھی پیسے کمانے کی کوشش کرے گا تو ان کا کیا ردِ عمل ہوتا؟
پھر اچانک خیال آیا کہ ڈارون کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوا ہے۔ کیا ڈارون کو یہ بات پسند آتی کہ ان کی قبر پر عقیدت کا اظہار کرنے کے لیے آنے والوں کو چرچ کی گھنٹیوں اور پادریوں کی مناجاتوں سے گزر کر وہاں آنا پڑتا ہے؟ بلکہ ہمیں تو فل چرچ سروس میں حصہ لینا پڑا تھا جس میں تین پادریوں (جن میں ایک خاتون بھی شامل تھیں) کے خطبے سننا شامل تھے۔ البتہ یہ تجربہ ہمارے لیے منفرد تھا اس لیے زیادہ کوفت نہیں ہوئی، اور ویسے بھی وہ خطبات ہمارے مولویوں کی گھن گھرج سے بالکل مختلف معصومانہ موضوعات پر مبنی تھے، جیسے ٹریفک کے قوانین کی پابندی اور دوسروں کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آنے کی تلقین وغیرہ۔ ہماری مسجد کا مولوی سنے تو ہنس ہنس کر دہرا ہو جائے۔
ڈارون کی سوانح سے پتہ چلتا ہے کہ نظریۂ ارتقا وضع کرنے کے بعد گرجا سے فاصلہ رکھا تھا۔ ڈارون کی اہلیہ کٹر مذہبی خاتون تھیں کہ ان کے ڈر سے ڈارون نے ایک مدت تک اپنا نظریہ شائع نہیں کروایا۔ کتابوں میں لکھا ہے کہ اتوار کی اتوار ڈارون اپنے بیوی بچوں کو چرچ کی طرف لے جاتے۔ خانوادہ چرچ کے اندر داخل ہو جاتا اور ڈارون چہل قدمی جاری رکھتے۔
انھی امور پر غور و فکر کرتے کرتے محسوس ہوا کہ چھتری پر بارش کے قطروں کی تھاپ سنائی نہیں دے رہی۔ اوپر دیکھا تو لندن کا موسم زمانے کی ہوا کی طرح بدل چکا تھا اور سہ پہر کا نحیف سورج مٹیالے بادلوں کی پرتیں چیر کر مسکرانے کی کوشش کر رہا تھا۔
ہم نے شکستہ چھتری کی پسلیاں سمیٹ کر اسے کوڑے دان میں پھینکا اور اپنے ٹھکانے کی طرف روانہ ہو گئے۔
(کارل مارکس کی 135ویں برسی کے موقعے پر 2018 میں بی بی سی کے لیے لکھی گئی تحریر)


