چودھویں کا چاند اپنی پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا۔ بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے باوجود اندھیرے اجالے باہم بغل گیر ہو رہے تھے۔ کہیں ہلکی سی ملگجی روشنی تاریکی کے مقابل خم ٹھوک کر سامنے کھڑی اندھیرے کی سیاہ پوشاک پہ اجلی سپیدی کی چنری اوڑاھا رہی تھی۔ گھر میں جلتی موم بتی کا وجود پگھلتے پگھلتے راہ عدم کوچ کرنے کو تھا۔ ” ابو لائٹ کب آئے گی؟” سہیل نے ڈر کے لہجے میں آہستگی سے پوچھا۔ ” آجائے گی ابھی”۔ میں نے پیارے بیٹے سہیل کو چمکارتے ہوۓ کہا۔ ” مگر ابو ! آج رات تو ذیادہ دیر ہو گئی ہے۔ پتہ نہیں کیوں”؟ سہیل کی آواز میں خوف کی تلخی گھلی ہوئی تھی۔” بیٹے تمہیں اندھیرے میں ڈر لگ رہا ہے کیا “؟ میں نے اسے تھپکتے ہوئے، سو جانے کو کہا۔ ” ابو میں نے لائٹ انے پر اسکول کےامتحان کی جو تھوڑی سی تیاری رہ گئی تھی، وہ اج رات کرنا تھی، میں نے پوری تیاری نہ کی تو میں امتحان کیسے دونگا؟”. میں نے سہیل کی آواز میں درد محسوس کیا تو میرا پورا جسم کانپ اٹھا۔ وہ میرا لاڈلا بیٹا تھا، وہ لائق اور پڑھائی میں بہت تیز تھا۔ اسی وجہ سے اس کی ٹیچر اس سے بہت پیار کرتی تھی۔ اس کی عادت سب بچوں سے مختلف تھی، سہیل کی ماں بھی اس پہ کسی مبارک محفل میں چھڑکے جانے والے عرق گلاب کی طرح اپنی جان چھڑکتی تھی۔ سہیل لائٹ آنے کا انتظار کرتے کرتے تھک ہار کرسوگیا۔ رات کے تاریک سائے اور گہرے ہو گئے۔ اچانک بادل گرجے اور موسلا دھار بارش برسنے لگی۔ مگر طوفان باد و باراں نے لائٹ آنے کی امید پہ پانی پھیر دیا۔ سو لائٹ نہیں آئی۔ میں گھر سے باہر نکلا تاکہ محلے والوں سے بھی جان سکوں کہ اخر لائٹ رات گئے تک کیوں نہیں آ سکی۔ میں نے گلی کے نکڑ پر کھمبے پر لگی لمبی سیڑھی کھڑی دیکھی تو سمجھ گیا کہ بجلی کا کوئی مسئلہ ہے۔ معلوم کرنے پر پتا چلا کہ ثرانسفارمر خراب ہو گیا ہے۔ محلے کے دیگر لوگ بھی جولائی کے مرطوب موسم میں پسینے سے شرابور کپڑوں اور چہرے سے ثپکتے پسینے کے قطروں کو ہاتھ کے پنکھے جھل کر خشک کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے بجلی کمپنی کے اسٹاف سے جھگڑ رہے تھے۔ کچھ دیر بعد صبح کے تارے سورج کی روشنی کی ردا کے پیچھے چھپ گئے، مگر لائٹ ابھی تک نہیں آئی۔
میں نےسائیکل پکڑی اور الیکٹرک کمپنی کے کمپلینٹ آفس رپورٹ کرنے چلا گیا۔ وہاں پتہ چلا کہ بجلی جلد ثھیک نہیں ہو سکتی۔ کیوں کہ ٹرانسفارمر خراب ہوگیا ہے۔ “تو مہربانی کرکے اسے جلد ٹھیک کردیں، بہت مسئلہ ہو رہا ہے”. میں نے عرض کیا۔ ” وہ ٹھیک نہیں ہو سکتا۔۔۔ تبدیل کرنا پڑے گا”. جواب ملا۔ “تو تبدیل کر دو”۔ میں نے پریشانی کا ذکر کرتے ہو ۓ کہا۔ “جناب بہت دنوں تک انتظار کرنا پڑے گا۔ پہلے سے کئی علاقوں سے درخواستیں آئی ہوئی ہیں۔ اس کی سپلائی انے میں وقت لگے گا”. میں مایوس ہو کر گھر لوٹ آیا۔ سہیل اسکول جانے کو تیار تھا۔ میں نے اسے سائیکل پہ بٹھایا اور اسکول چھوڑ آیا۔ ںجلی نے آنا تھا نہ آئی۔
میں دفتر جا نےکو لیٹ ہو رھا تھا، ناشتے کا انتظار کئے ںغیر دفتر چلا گیا۔ افسر کے کمرے میں جا کر سلام کیا۔ مگر سلام کا جواب دئے بغیر وہ دیر سے دفتر انے پر برہم ہو نے لگا۔ وہ میرا کوئی عذر سننے کو تیار نہ تھا۔ ویسے بھی مجھ جیسے کم درجے کے ملازم پر غصہ اتارنے کے لئے سب کی طرف سے نائب قاصد ہی کو موزوں سمجھا جاتا ہے۔ اسے کوئی سمجھتا ہی کچھ نہیں۔ افسر تو افسر کلرک بھی نفرت سے پیش آ کر مجھ پرحکم چلاتے تھے۔ میں ان سوچوں میں گم تھا کہ میرے سیکشن میں فون کی گھنٹی بجی۔ فون پر میرا افسر دوبارہ چڑھائی کرتے ہوئے بولا۔ ۔”جلدی سے چائے بنا کر لاؤ۔ ایک تو دیر سے آفس ائے ہو اوپر سے چائے بھی ابھی تک نہیں دی”۔ میں نے حکم کی بجا آوری کی ۔ مگر میں سوچتا رہا کہ میں تو ناشتہ کئے بغیر ہی آفس چلا آیا ہوں، لیکن میری مشکلات سے کسی کو کیا غرض تھی۔ میں آفس سے گھر لوٹا۔ مگر لائٹ ابھی بھی نہیں آئی تھی۔
“سہیل کہاں ہے”؟ میں نے سہیل کی ماں سے پوچھا۔ “آپ، اب دو بجے پوچھ رہے ہیں۔ اس نے اج امتحان دے کر بارہ بجے گھر آنا تھا”.
میں نے اس کے چہرے کی طرف دیکھا تو وہ سخت پریشان تھی، اس کی آنکھوں میں انسو بھرے ہوئے تھے۔ اسے دیکھ کر میرا دل بھی بھر آیا۔ میں فورا اسکول کی طرف دوڑا۔ اسکول کے گارڈ سے میں نے سہیل کے بارے میں پوچھا تو معلوم ہوا کہ وہ اپنے کلاس روم میں بیٹھا زار و قطار رو رہا ہے۔ میں بھاگتے ہوئے سہیل کی طرف لپکا۔ وہ سسکیوں اور ہچکیوں سے روتے روتے بے حال ہو چکا تھا۔ “بیٹے کیا ہوا، کیوں رو رھے ہو؟” میں نے پوچھا۔ وہ حلق میں اٹکتے الفاظ میں کہنے لگا ” ابو میرا پرچہ اچھا نہیں ہوا۔ پانچ میں سے چا، چا، چار۔ سہ، سہ ۔۔۔ سوال کتاب کے اس حصے میں سے آئے جس کی ت ت ت تیاری، میں کل رات نہیں کر سکا تھا” “اوہ۔!” میں یہ جان کر خود بھی پرہشان ہوگیا۔ “یا اللہ سہیل کو صبر دے”۔ اس دعا کے ساتھ میں سہیل کو گھر لے آیا۔ لائٹ کا ابھی بھی کوئی اتا پتا نہیں تھا۔
گھر پہنچ کر سہیل اپنی ماں سے لپٹ کر پھوٹ کر رونے لگا۔ “ارے دیکھو! سہیل کو تیز بخار ہو رہا ہے”. سہیل کی ماں کی آواز بھرا گئی۔ سہیل نے گھر آنے کے بعد سےکچھ نہیں کھایا تھا۔ شام ڈھل کر اداس لمحوں کو پیچھے چھوڑ جانے کی تیاری میں تھی۔ سہیل کا بخار بڑھتے اندھیروں کی طرح بڑھتا جا رہا تھا۔ میں سہیل کو لے کر سرکاری ہسپتال کی ایمرجنسی میں پہنچا۔ وہاں پہلے سے کافی رش تھا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے ساری دنیا ہسپتال میں سمٹ آئی ہو۔ہائے ہائے کرتےاور کراہتے مریضوں کی آوازیں دل چیر رہی تھیں۔ میں نے دیکھا سہیل کی حالت بگڑنے لگی۔ وہ شدت بخارسے نیم بے ہوشی کے عالم میں اسٹریچر پر پڑا تھا۔ ڈاکٹر نے سہیل کا چیک اپ کیا۔ نرس نے ڈاکٹر کے نسخے کے مطابق ڈرپ لگانے میں دیر کر دی۔ وہ دوسرے مریضوں کو بھی اٹینڈ کر رہی تھی۔ وہ کینولا لگانے کے لئے سہیل کی نبض ڈھونڈنے لگی، لیکن بہت دیر ہوچکی تھی۔ سہیل کی نبضیں ڈوب رہی تھیں اور پھر اس کی آنکھیں بند ہوتی چلی گئیں۔ سہیل زندگی کی بازی ہار چکا تھا۔ رات کی گھنے اندھیروں میں وہ سہیل کے بے حرکت وجود کو لیکر اشکبار آنکھوں کا بوجھ اثھاۓ اسے گھر واپس لے آیا۔ گھر میں اندھیروں کا ڈیرہ تھا اور لائٹ ابھی تک نہیں آئی تھی۔ اور پھر، افسوس کے تاریک لمحے میری اور سہیل کی ماں کی رگوں میں بغیر کینولا کے قطرہ قطرہ اترتے چلے گئے۔


