عصری معاشی ناہموای اور نفسیاتی بحرانوں کا نوحہ: ’شوگر ڈیڈی‘
معاصر اردو فکشن کے وسیع کینوس پر جب بھی تہذیبی تصادم، باطنی خوف اور معاشرتی فرسودگی کا ذکر ہوگا، خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے نامور افسانہ نگار، محقق اور استاد ڈاکٹر سید زبیر شاہ کا نام منفرد اور نمایاں ہو کر سامنے آئے گا۔ انہوں نے اپنے تخلیقی سفر میں ہمیشہ انسانی روح کے ان دیکھے وسوسوں، معاشرتی جبر اور پختون معاشرے کی بدلتی ہوئی ریت و روایت کی جاندار عکاسی کی ہے۔ اب ان کا نیا افسانوی مجموعہ ’شوگر ڈیڈی‘ منظرِ عام پر آ کر عصری حسیت، مادی ہوس اور طبقاتی خلیج کے تار و پود بکھیرتا دکھائی دیتا ہے۔ یہ مجموعہ دراصل اس معاشی ناہمواری اور مادہ پرستانہ دوڑ کا ایک سچا اور بے باک نوحہ ہے جس میں ہماری جدید نسل سانس لینے کی تگ و دو میں ہانپ رہی ہے۔
ڈاکٹر سید زبیر شاہ کا یہ مجموعہ فکری اور اسلوبیاتی سطح پر ایک اہم پیش رفت ہے۔ کتاب کا چونکا دینے والا عنوان ’شوگر ڈیڈی‘ بذاتِ خود ایک گہرے اور سلگتے ہوئے سماجی المیے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ زبیر شاہ نے اس مرکزی کہانی اور مجموعے کے دیگر افسانوں میں اس مادہ پرستانہ اور صارفانہ ثقافت کو بے نقاب کیا ہے جس نے انسانی جذبوں اور پاکیزہ رشتوں کی معصومیت کو خرید و فروخت کی منڈی میں لا کھڑا کیا ہے۔ ’شوگر ڈیڈی‘ کا تصور محض ایک جنسی یا جذباتی استحصالی رویہ نہیں، بلکہ یہ اس ہولناک طبقاتی تقسیم کا شاخسانہ ہے جہاں نوجوان نسل اپنے حسین خوابوں کی فوری تعبیر، تعیشاتِ زندگی اور مادی آسودگی کے حصول کے لیے بوڑھے، متمول اور اثر و رسوخ رکھنے والے کرداروں کے سامنے اپنا وقار داؤ پر لگانے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ افسانہ نگار نے نہایت جرات اور چابکدستی سے اس نفسیاتی دلدل کی منظرکشی کی ہے جس میں ایک بار قدم پھسل جائے تو واپسی کا کوئی راستہ نہیں بچتا۔
زبیر شاہ کی کہانیاں محض سطحی مشاہدات کا مجموعہ نہیں ہیں، بلکہ وہ ایک گہرے نفسیاتی نباض کی طرح معاشرے کی رگ رگ سے واقف ہیں۔ ان کے افسانوں کے کردار محض فرضی یا گوشت پوست کے بے جان ڈھانچے نہیں ہیں، بلکہ وہ اپنے اپنے باطن کے نہاں خانوں میں جاری جنگ لڑتے ہوئے سہمے ہوئے وجود ہیں۔ پشاور اور اس کے مضافات کے تعلیمی، تہذیبی اور روایتی ماحول سے گہرا تعلق رکھنے کے باعث مصنف کا سماجی مشاہدہ بے حد وسیع اور عمیق ہے۔ انہوں نے نہایت قریبی زاویے سے دیکھا ہے کہ کس طرح ڈیجیٹل دور کے سراب، سوشل میڈیا کی چکا چوند اور معاشی تنگی نے متوسط اور غریب طبقے کی دیرینہ اخلاقی قدروں کو اندر سے کھوکھلا کر دیا ہے۔ ان کے افسانوں میں جہاں ایک طرف روایتی اقدار اور جدید مغربی طرزِ زندگی کا تصادم نظر آتا ہے، وہیں ٹیکنالوجی کے بے ہنگم پھیلاؤ سے جنم لینے والی بیگانگی، گھٹن اور تنہائی کا کرب بھی جا بجا بکھرا ہوا ملتا ہے۔
مصنف کے کردار بھیڑ میں کھڑے ہو کر بھی شدید تنہائی کا شکار نظر آتے ہیں۔ ان کے اندر کا شور باہر کی دنیا کی ہماہمی سے زیادہ ہولناک اور اذیت ناک ہے، جو قاری کو اپنی مصلحت پسندی کا لبادہ اتار کر خود اپنے گریبان میں جھانکنے پر مجبور کرتا ہے۔ وہ بڑی خوبصورتی سے انسانی نفسیات کی ان تہوں کو الٹتے پلٹتے ہیں جنہیں عام طور پر ہم مصلحتوں کی چادر تلے چھپا دیتے ہیں۔
اس مجموعے کی زبان و بیان کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ زبیر شاہ کے ہاں الفاظ کا انتخاب اور جملوں کی ساخت ایک خاص ادبی در و بست اور فلسفیانہ رچاؤ کی حامل ہے۔ وہ سستی جذباتیت کی رو میں بہنے کے بجائے ایک کھردرے اور حقیقت پسند مصور کی طرح سماجی ناسوروں اور انسانی کمزوریوں کو اپنے الفاظ کے کینوس پر سجا دیتے ہیں۔ ان کا اسلوب کسی مبہم یا پیچیدہ علامتی بھول بھلیوں کا شکار ہو کر قاری کو الجھاتا نہیں، بلکہ وہ علامتوں کو ابلاغ کا موثر ترین ذریعہ بناتے ہیں۔ ان کی تحریریں قاری کی فکری صلاحیتوں کو بیدار کرتی ہیں اور انہیں محض وقتی تفریح فراہم کرنے کے بجائے دیر تک سوچنے پر مجبور کرتی ہیں۔ پختون کلچر کے روایتی جبر، خاندان کے اندرونی تضادات، انتقام کی آگ اور بدلتی ہوئی شہری زندگی کے نو بہ نو روپ ان کے قلم کی گرفت میں آ کر فکشن کے لافانی نمونے بن گئے ہیں۔
زبیر شاہ کی ان کہانیوں میں ہم عصر زندگی کی تلخ سچائیاں اس طرح گندھی ہوئی ہیں کہ پڑھنے والا خود کو انہی کہانیوں کا ایک حصہ محسوس کرنے لگتا ہے۔ وہ ایک مصلح کا روپ دھارے بغیر انتہائی غیر محسوس طریقے سے معاشرتی تضادات کی نشاندہی کرتے چلے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی کہانیاں دل پر گہرا اثر چھوڑتی ہیں اور دماغ میں سوالات کا ایک نیا طوفان کھڑا کر دیتی ہیں۔
’شوگر ڈیڈی‘ بلاشبہ اردو افسانے کے جمود کو توڑنے والی ایک اہم اور تاریخی کڑی ہے۔ یہ مجموعہ اس حقیقت کا بین ثبوت ہے کہ خیبر پختونخوا کی دھرتی میں نہ صرف پشتو بلکہ اردو فکشن کی جڑیں بھی بے حد گہری، مضبوط اور تخلیقی توانائی سے مالامال ہیں۔ ڈاکٹر سید زبیر شاہ کا یہ تازہ ترین تخلیقی تحفہ نہ صرف لائقِ تحسین ہے بلکہ ادبی حلقوں میں ایک طویل عرصے تک بحث و مباحثے کا مرکز بنا رہے گا۔ مادہ پرستی کے اس تاریک اور مہیب دور میں، جہاں مخلصانہ جذبے نایاب ہو چکے ہیں، یہ کتاب ایک ایسا آئینہ خانہ ہے جہاں ہمارے عہد کے معاشرتی زوال کا چہرہ بالکل صاف اور واضح دکھائی دیتا ہے۔ ہر وہ قاری جو معاصر زندگی کے نفسیاتی اور سماجی مسائل سے دلچسپی رکھتا ہے، اس کے لیے اس مجموعے کا مطالعہ ناگزیر ہے۔


