بے نام شیشی (خط)۔علی عبداللہ

میرے عزیز،

اگر کبھی، کسی صبح تمہیں اپنی ہی زندگی اجنبی لگنے لگے، اگر ماں کی آواز، آبائی گھر کی مہک، یا محبوب کی ہنسی تمہارے حافظے کے کناروں سے پھسلنے لگے، تو یہ خط دوبارہ پڑھنا۔ شاید اس وقت تم میری بات ٹھیک سمجھ سکو۔

میں آج تمہیں کوئی نصیحت نہیں لکھ رہا، نہ کسی فلسفی کا قول نقل کر رہا ہوں۔ میں صرف ایک ایسے عطّار کا قصہ سنانے لگا ہوں- یہ قصہ مجھے ایک بوڑھے مسافر نے سنایا تھا اور جاتے جاتے اس نے یہ بھی کہا تھا کہ، “احتیاط کرنا… بعض خوشبوئیں سونگھنے کے بعد آدمی پہلے جیسا نہیں رہتا۔” میں اس کی بات پر ہنس دیا تھا، آج سوچتا ہوں شاید وہ مذاق نہیں کر رہا تھا۔

کہتے ہیں، ایک شہر تھا جس نے اپنی تاریخ نہیں، اپنی یادداشت کھو دی تھی۔ عمارتیں سلامت تھیں، بازار آباد تھے، عدالتیں قائم تھیں، مگر لوگ ایک دوسرے کو پہچاننا بھول چکے تھے۔ گواہ اپنے بیان بھول جاتے، عاشق اپنے وعدے، مجرم اپنے جرائم، اور کبھی کبھی تو لوگ اپنے ہی چہروں سے اجنبیت محسوس کرنے لگتے تھے-

اسی شہر میں ایک عطّار رہتا تھا۔۔ذ لوگ سمجھتے تھے کہ وہ گلاب، عنبر، صندل اور عود سے عطر بناتا ہے، مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ عجیب تھی۔ اس کی دکان کے پیچھے ایک ایسا کمرہ تھا جہاں چند شیشیاں برسوں سے موجود تھیں، لیکن وہ کبھی فروخت نہیں کی گئی تھیں- جب بھی کوئی شخص اپنی زندگی کا اہم لمحہ بھول جاتا، وہ عطّار کے پاس آتا۔ کوئی اپنی ماں کی دعا یاد کرنا چاہتا، کوئی اپنے بچپن کی گلیوں کی مٹی، کوئی کسی عزیز کی آواز، کوئی اپنے بچھڑے ہوئے محبوب کا لمس- عطّار خاموشی سے ایک شیشی کھولتا، اور صرف ایک سانس اس شخص کو برسوں پیچھے لے جاتی۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ وہ خوشبو نئی یاد پیدا نہیں کرتی تھی؛ وہ صرف اس یاد کو جگاتی تھی جو پہلے ہی انسان کے شعور میں موجود تھی مگر وقت کی گرد تلے دب چکی تھی۔

انہی شیشیوں میں ایک ایسی بھی تھی جس پر کوئی نام نہ تھا۔ اس کے ساتھ صرف ایک مختصر جملہ لکھا تھا، “اسے صرف اُس وقت کھولنا، جب سچ برداشت سے باہر ہو جائے۔” عطّار نے برسوں تک اس بوتل کو بند رکھا- تم جانتے ہو کہ ہر انسان کچھ سچائیوں سے بھاگتا بھی ہے۔ ہمیں دوسروں کی حقیقتیں تو دکھائی دیتی ہیں، مگر اپنی ذات کے تاریک گوشوں میں جھانکنے کی ہمت کم ہی لوگوں میں ہوتی ہے۔

ایک شام ایک اجنبی اس عطّار کے پاس آیا۔ اس نے خوشبو نہیں مانگی بلکہ اس بے نام شیشی کی طرف اشارہ کرکے صرف اتنا کہا، “یہ خوشبو مت بیچنا…” عطّار حیران رہ گیا- کیونکہ وہ شیشی اس نے کبھی کسی کو دکھائی ہی نہ تھی۔ جب اس نے پوچھا کہ تم اسے کیسے جانتے ہو، تو اجنبی نے جواب دیا، “میں اسے نہیں جانتا… مگر یہ خوشبو مجھے جانتی ہے۔”

اسی رات عطّار نے پہلی بار وہ شیشی اپنے ہاتھ میں لے کر کھولی۔ جیسے ہی ڈھکن ہٹا، خوشبو کا ایک خاموش جھونکا کمرے میں پھیل گیا، اور وقت کی بند کھڑکیاں جیسے ایک ایک کر کے کھلنے لگیں۔ اسے اپنی ماں کی پیشانی پر دیا گیا آخری بوسہ یاد آیا، بچپن کی بارشوں میں مٹی کی مہک، محبوب کا پہلا دیدار، اس کی آواز میں چھپی لرزش، ایک ادھورا وعدہ، پہلی ناکامی کی اذیت، اور آخر میں وہ ایک فیصلہ… جس نے اس کی پوری زندگی کا رخ بدل دیا تھا۔ اسے یوں محسوس ہوا جیسے یہ خوشبو صرف یادیں نہیں جگا رہی، بلکہ ان لمحوں کو دوبارہ زندہ کر رہی ہو جنہیں وقت نے دفن تو کر دیا تھا، مگر مٹایا کبھی نہیں تھا۔ وہ اُس دن کے بعد کبھی پہلے جیسا نہ رہا۔ کئی سال گزر گئے۔ عطّار پھر کبھی دکھائی بھی نہ دیا۔ مگر شہر میں یہ روایت زندہ ہے کہ جب کوئی انسان اپنی اصل پہچان کھو بیٹھے، تو وہ اُس پرانی دکان کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے۔ کہتے ہیں، وہاں آج بھی ایک شیشی اس کے نام کی رکھی ہوتی ہے…جس پر کوئی عنوان نہیں ہوتا۔

جب یہ قصہ ختم ہوا تو میں دیر تک خاموش بیٹھا رہا۔ میں اس عطّار کے وجود پر یقین نہیں رکھتا، لیکن اس کی شیشیوں پر ضرور یقین رکھتا ہوں۔ کہتے ہیں خوشبو دماغ کے ان حصوں کو بیدار کرتی ہے جہاں یادیں اور جذبات محفوظ ہوتے ہیں۔ مگر ادب اس سے ایک قدم آگے جا کر کہتا ہے کہ انسان صرف اپنے حافظے سے نہیں، احساسات سے بھی یاد رکھتا ہے۔ اسی لیے بعض سچائیاں دلیل سے نہیں، صرف ایک مہک سے واپس آ جاتی ہیں۔

اب کبھی کبھی میں سوچتا ہوں شاید ہر انسان کے اندر ایک بند شیشی رکھی ہوئی ہے جسے وہ پوری زندگی کھولنے سے ڈرتا رہتا ہے۔ کیونکہ اسے خوف ہوتا ہے کہ اگر وہ ایک بار کھل گئی تو اسے دنیا نہیں، خود اپنا آپ نئے سرے سے پہچاننا پڑے گا۔

اس لیے اگر کبھی تمہیں ایسی کوئی بے نام شیشی مل جائے تو اسے فوراً مت کھولنا- ممکن ہے اس کے اندر کوئی خوشبو نہ ہو- ممکن ہے… وہاں صرف تم خود موجود ہو۔

تمہارا مخلص۔۔۔
عبداللہ

اپنا تبصرہ لکھیں