وقت اور تبدیلی/ غنا اسد

م اکثر سنتے ہیں کہ “وقت ایک سا نہیں رہتا”۔ یہ محض ایک جملہ نہیں بلکہ زندگی کا ایک اٹل اصول ہے۔ نہ خوشی ہمیشہ رہتی ہے اور نہ ہی دکھ ہمیشہ انسان کا مقدر بنتا ہے۔ حالات بدلتے ہیں، موسم بدلتے ہیں اور انہی کے ساتھ انسان کی زندگی بھی نئے رنگ اختیار کرتی ہے۔

مشکل وقت جب انسان پر گزرتا ہے تو ہر لمحہ بوجھ محسوس ہوتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے یہ آزمائش کبھی ختم نہیں ہوگی۔ لیکن وقت خاموشی سے اپنا سفر جاری رکھتا ہے، اور ایک دن وہی وقت نئی امید، نئی روشنی اور نئی آس لے کر آتا ہے۔

پھر وہی لمحے، جو کبھی آنکھوں میں آنسو لے آتے تھے، انسان کی طاقت اور تجربے کی علامت بن جاتے ہیں۔ زخم بھرنے لگتے ہیں، دل سنبھلنے لگتا ہے، اور ماضی کی تلخیاں آہستہ آہستہ دھندلی پڑ جاتی ہیں۔ بالکل ایسے ہی جیسے شدید گرمی کے بعد ٹھنڈی چھاؤں سکون کا پیغام بن کر آتی ہے۔

شاید وقت کی سب سے بڑی خوبی یہی ہے کہ وہ کسی کیفیت کو ہمیشہ کے لیے قائم نہیں رہنے دیتا۔ اسی لیے مایوسی کے اندھیروں میں بھی امید کا چراغ روشن رکھنا چاہیے، کیونکہ ہر آنے والا دن اپنے ساتھ تبدیلی کا ایک نیا امکان ضرور لاتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں