پاکستان کا نوجوان کس دن اٹھے گا؟-محمد امین اسد

پاکستان کا نوجوان کب اٹھے گا؟ یہ سوال آج کل بہت پوچھا جا رہا ہے، مگر شاید اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ اگر وہ اٹھے گا تو آخر کس مقصد کے لیے اٹھے گا؟ کیا وہ ایک حکمران کو ہٹا کر دوسرے کو لانے کے لیے نکلے گا؟ کیا وہ ایک سیاسی جماعت کی جگہ دوسری جماعت کو اقتدار دلانے کے لیے اپنی توانائیاں صرف کرے گا؟ یا وہ اس نظام کو بدلنے کے لیے آواز بلند کرے گا جو گزشتہ کئی دہائیوں سے ہر آنے والی حکومت کو ایک جیسے مسائل، ایک جیسی ناکامیوں اور ایک جیسے بحرانوں کے حوالے کرتا رہا ہے؟ قوموں کی تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ سڑکوں پر نکلنے والے ہجوم ہمیشہ تاریخ نہیں بدلتے۔ تاریخ صرف وہ قومیں بدلتی ہیں جو اپنے مسائل کی جڑ تک پہنچتی ہیں۔ جو افراد کے بجائے اصولوں کو اپنا مسئلہ بناتی ہیں، اور جو حکومتوں کے بجائے حکمرانی کے نظام کو موضوع بناتی ہیں۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ دراصل ایک مسلسل دائرے کی کہانی ہے۔ چہرے بدلتے رہے، نعرے بدلتے رہے، اتحاد بنتے اور ٹوٹتے رہے، امیدیں جنم لیتی رہیں اور مایوسیاں ان کا تعاقب کرتی رہیں، مگر عام آدمی کی زندگی میں بنیادی تبدیلی نہ آ سکی۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ اس ملک میں اہل لوگ پیدا نہیں ہوئے، بلکہ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہماری سیاست کا محور ہمیشہ شخصیات رہیں، اصول نہیں۔ ہر نئی تحریک نے ایک نیا چہرہ پیش کیا، لیکن اس سوال پر کبھی قومی اتفاق پیدا نہ ہو سکا کہ ریاست کس اصول پر چلے گی، اختیارات کی حد کہاں ختم ہوگی، قانون کی اصل بالادستی کس کی ہوگی اور عوامی اقتدار کا حقیقی سرچشمہ کون ہوگا۔ جب تک ان سوالات کے جواب مستقل بنیادوں پر طے نہیں ہوتے، ہر نئی حکومت پرانے نظام کے اندر رہ کر وہی فیصلے کرتی ہے جن پر کل وہ خود تنقید کر رہی ہوتی تھی۔

اگر پاکستان کا نوجوان کبھی ایک قومی تحریک برپا کرنا چاہے تو اس کا پہلا مطالبہ کسی حکومت کی تبدیلی نہیں بلکہ انتخابی عمل کی حرمت ہونی چاہیے۔ آزاد، شفاف اور غیر متنازع انتخابات صرف ایک آئینی تقاضا نہیں بلکہ ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کا بنیادی ستون ہیں۔ جس معاشرے میں عوام کو اپنے ووٹ پر اعتماد نہ رہے، وہاں ریاست کمزور ہوتی ہے، حکومتیں متنازع بنتی ہیں اور سیاست مستقل کشمکش میں مبتلا رہتی ہے۔ لیکن انتخابات بھی منزل نہیں، بلکہ سفر کا آغاز ہیں۔ اس کے بعد دوسرا اور اس سے بھی اہم مرحلہ شروع ہوتا ہے، اور وہ یہ کہ ریاست کا ہر ادارہ اپنے آئینی دائرۂ اختیار میں واپس چلا جائے۔ پارلیمان قانون بنائے، حکومت ان قوانین پر عمل درآمد کرے، عدلیہ انصاف مہیا کرے، انتظامیہ ریاستی امور چلائے، اور تمام ادارے ایک دوسرے کے اختیارات کا احترام کریں۔ یہی وہ اصول ہے جس نے دنیا کی مستحکم جمہوریتوں کو مضبوط بنایا ہے۔ اداروں کے درمیان توازن ہی دراصل ریاست کا استحکام ہوتا ہے۔

پاکستان کو شاید اس سے بھی بڑی اصلاح کی ضرورت ہے کہ پارلیمان کو دوبارہ پارلیمان بنایا جائے۔ ہمارے ہاں رکنِ اسمبلی کو قانون ساز سے زیادہ ترقیاتی فنڈز کا نگراں، تبادلوں کا سفارشی اور سرکاری منصوبوں کا منتظم بنا دیا گیا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سیاست اور انتظامیہ ایک دوسرے میں گڈمڈ ہو جاتی ہیں اور ادارے اپنی پیشہ ورانہ آزادی کھو دیتے ہیں۔ ایک مہذب ریاست میں سڑک، ہسپتال، سکول، آبپاشی، شہری منصوبہ بندی اور ترقیاتی منصوبے متعلقہ پیشہ ور ادارے بناتے ہیں۔ منتخب نمائندے یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ قومی وسائل کن ترجیحات پر خرچ ہوں، مگر وہ خود ان وسائل کے تقسیم کنندہ نہیں بنتے۔ اگر پاکستان اس ایک اصول کو بھی اپنا لے تو سیاست کی بڑی بیماریوں کا علاج شروع ہو سکتا ہے، کیونکہ پھر انتخابات کا مقصد ترقیاتی فنڈ حاصل کرنا نہیں بلکہ بہتر قانون سازی اور بہتر حکمرانی ہوگا۔

لیکن ریاست کی مضبوطی کا اصل امتحان اداروں کی عمارتوں میں نہیں بلکہ عام شہری کی زندگی میں نظر آتا ہے۔ ایک ایسا نوجوان جو اعلیٰ تعلیم کے باوجود بے روزگار ہو، جسے یقین نہ ہو کہ اس کی قابلیت ہی اس کی کامیابی کا معیار ہوگی، جو اپنے مستقبل کو اپنے وطن میں نہیں بلکہ کسی دوسرے ملک میں تلاش کرنے پر مجبور ہو، اس سے حب الوطنی کے جذباتی تقاضے تو کیے جا سکتے ہیں، مگر قومی تعمیر کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ اس لیے پاکستان کے نوجوان کی اصل جدوجہد روزگار، میرٹ، معیاری تعلیم، مؤثر صحت، شفاف احتساب، مقامی حکومتوں کے استحکام، مضبوط معیشت اور قانون کی یکساں حکمرانی کے لیے ہونی چاہیے۔ یہ مطالبات کسی جماعت کے نہیں بلکہ ہر پاکستانی کے مطالبات ہیں۔ اگر ریاست ہر بیس سال سے زیادہ عمر کے تعلیم یافتہ یا ہنرمند شہری کے لیے باعزت روزگار یا کاروبار کے مواقع پیدا کرنے کو اپنی اولین ترجیح بنا لے، اگر تعلیم اور بنیادی صحت کو واقعی عوامی حق سمجھ کر ان پر سرمایہ کاری کرے، اگر نوکری اور ترقی صرف قابلیت کی بنیاد پر ہو اور قانون طاقتور اور کمزور کے درمیان فرق نہ کرے، تو نوجوانوں کی توانائی احتجاج کے بجائے اختراع، تحقیق، صنعت، کاروبار اور قومی ترقی میں صرف ہوگی۔

شاید پاکستان کے نوجوان کو کسی انقلاب کی نہیں بلکہ ایک قومی معاہدے کی ضرورت ہے۔ ایک ایسا معاہدہ جس پر ہر سیاسی جماعت، ہر ریاستی ادارہ اور ہر منتخب حکومت متفق ہو کہ اقتدار کا راستہ صرف عوام کا ووٹ ہے، آئین سب سے بالاتر ہے، ادارے اپنی حدود میں رہیں گے، پارلیمان قانون سازی کا مرکز ہوگی، وسائل پیشہ ور ادارے خرچ کریں گے، میرٹ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، اور ریاست ہر شہری کو تعلیم، صحت، انصاف اور باعزت معاشی مواقع فراہم کرنے کی پابند ہوگی۔ اگر کبھی پاکستان کا نوجوان اس منشور پر متحد ہو گیا تو وہ کسی حکومت کے خلاف نہیں بلکہ پاکستان کے حق میں کھڑا ہوگا۔ وہ اقتدار کی تبدیلی کا نہیں بلکہ ریاست کی اصلاح کا علم بردار ہوگا، اور تاریخ گواہ ہے کہ قومیں اسی دن بالغ ہوتی ہیں جب وہ افراد کے سحر سے نکل کر اصولوں کی وفادار بن جاتی ہیں۔ شاید پاکستان کی حقیقی صبح بھی اسی دن طلوع ہوگی۔

اپنا تبصرہ لکھیں