میرے دوست!
رات اپنے پورے جوبن کے ساتھ اتری ہوئی ہے۔ آسمان پر بادل ہیں، کبھی ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں، کبھی یوں گرجتے ہیں جیسے صدیوں کی خاموشی اچانک آواز بن گئی ہو۔ بارش مسلسل برس رہی ہے۔ اور میں مکمل تاریکی میں برآمدے میں بیٹھا ہوں تاکہ اندھیرا اپنی اصل صورت میں میرے پاس بیٹھ سکے۔
اچانک بجلی چمکتی ہے تو ایک لمحے کے لیے سامنے کا صحن، درخت، بھیگی ہوئی دیواریں اور دور تک پھیلا آسمان صاف دکھائی دینے لگتا ہے۔ پھر وہی اندھیرا سب کچھ اپنی آغوش میں لے لیتا ہے۔ کیسی عجیب بات ہے کہ روشنی ہمیشہ مختصر ہوتی ہے اور اندھیرا نسبتاً طویل۔ شاید اسی لیے زندگی بھی ہمیں پوری حقیقت ایک ہی لمحے میں نہیں دکھاتی؛ وہ کبھی کسی چمکتی ہوئی بجلی کی طرح ایک منظر دکھا دیتی ہے، پھر ہمیں دوبارہ اپنے اندر اترنے کے لیے تنہا چھوڑ دیتی ہے۔ انہی مختصر لمحوں میں میں اپنے گرد و پیش کو بھی دیکھ لیتا ہوں اور اپنے وجود کو بھی- ایسی راتوں میں انسان باہر کم اور اپنے اندر زیادہ دیکھنے لگتا ہے۔
مجھے حیرت ہوتی ہے کہ دن بھر جن خیالات کو فرصت نہیں ملتی، وہ رات کی خاموشی میں کہاں سے نکل آتے ہیں؟ کیا وہ سارا دن ہمارے اندر ہی کہیں بیٹھے رہتے ہیں؟ یا رات کا سکوت ان کے لیے دروازے کھول دیتا ہے؟ پھر یادیں آہستہ آہستہ میرے قریب آ بیٹھتی ہیں۔ کوئی دستک نہیں دیتیں، کوئی اجازت نہیں مانگتیں۔ جیسے اس گھر میں ان کا بھی اتنا ہی حق ہو جتنا میرا۔ کچھ چہرے یاد آتے ہیں، جن کے ساتھ وقت نے انصاف نہیں کیا۔ کچھ آوازیں، جو اب صرف حافظے میں رہ گئی ہیں۔ کچھ راستے، جن پر دوبارہ چلنا ممکن نہیں۔ کچھ لمحے ایسے بھی ہیں جن کی اہمیت اس وقت سمجھ ہی نہیں آئی تھی، مگر آج محسوس ہوتا ہے کہ شاید پوری زندگی انہی چند لمحوں کے گرد گھومتی رہی۔
میں اکثر سوچتا ہوں، کیا یادیں واقعی ماضی کی ہوتی ہیں؟ یا وہ حال میں زندہ رہ کر ہمیں خاموشی سے بدلتی رہتی ہیں؟ مگر اسی دوران زندگی اپنی موجودگی بھی یاد دلا دیتی ہے۔ کل کے اخراجات…ادھورے کام… کچھ ذمہ داریاں…کچھ خواب جنہیں ابھی حقیقت بننا ہے…بارش کی آواز چند لمحوں کے لیے پس منظر میں چلی جاتی ہے اور حساب کتاب کی ایک خشک دنیا سامنے آ کھڑی ہوتی ہے۔ مجھے احساس ہو رہا ہے کہ انسان کے اندر دو زندگیاں ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔ ایک وہ جس میں وہ جیتا ہے، اور دوسری وہ جس کے لیے وہ مسلسل جدوجہد کرتا رہتا ہے۔ اکثر یہ دونوں ایک دوسرے سے ملتی ہی نہیں۔
پھر اچانک میرا ذہن میری اپنی طرف مڑ جاتا ہے۔ میں خود کو ایک اجنبی کی طرح دیکھنے لگتا ہوں۔ آخر میں کون ہوں؟ وہ شخص جسے دنیا جانتی ہے؟ یا وہ جسے صرف میں جانتا ہوں؟ یا پھر وہ بھی نہیں…ہم اپنی شخصیت کا کتنا حصہ خود تخلیق کرتے ہیں، اور کتنا حصہ دوسروں کی توقعات سے بن جاتا ہے؟ کیا انسان کبھی اپنی اصل صورت تک پہنچ بھی پاتا ہے، یا ساری زندگی صرف اپنے مختلف تعارف بدلتا رہتا ہے؟
ان سوالوں کے درمیان ایک عجیب خاموشی جنم لیتی ہے۔ میں انہیں حل کرنے کی کوشش نہیں کرتا۔ اور پھر… ہر بار کی طرح ایک چہرہ ان تمام خیالات کے درمیان آ کھڑا ہوتا ہے۔ نہ میں اسے بلاتا ہوں، نہ وہ آنے کی اجازت لیتا ہے۔ بس آ جاتا ہے۔ میں نے زندگی میں بہت سی چیزوں کو سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ کبھی کتابوں کے درمیان بیٹھ کر انسان کو پڑھا، کبھی انسانوں کے درمیان رہ کر کتابوں کو۔ کبھی وقت کو اپنا استاد بنایا، کبھی ناکامیوں کو۔ بعض سبق دوسروں کی کہانیوں سے ملے، بعض اپنی غلطیوں نے سکھائے، اور کچھ اس خاموشی نے، جو انسان کو اس وقت نصیب ہوتی ہے جب اس کے پاس اپنے سوا کوئی نہ ہو۔
لیکن ایک حقیقت ایسی ہے جس کے سامنے میری ساری سمجھ، سارا مطالعہ اور سارا تجربہ خاموش کھڑا دکھائی دیتا ہے۔ وہ محبت ہے۔ میں نے اسے لفظوں میں باندھنے کی کوشش کی، مگر وہ ہر تعریف سے بڑی نکلی۔ میں نے اسے عقل کے ترازو پر تولنا چاہا، مگر وہ ہر منطق سے ہلکی بھی تھی اور ہر دلیل سے زیادہ وزنی بھی۔ میں نے اسے سمجھنے کے لیے اپنے آپ سے بے شمار سوال کیے، مگر ہر سوال کے بعد محسوس ہوا کہ شاید محبت کا تعلق جوابوں سے نہیں، کیفیات سے ہے۔
عجیب کیفیت ہے…اس ایک شخص کے بارے میں سوچتے ہوئے مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے میرے اندر دو آدمی ساتھ ساتھ زندہ ہوں۔ ایک وہ جو دنیا کے سامنے خود کو مضبوط، متوازن اور بااختیار ثابت کرنے میں لگا رہتا ہے، اور دوسرا وہ جو صرف ایک خیال کے سامنے اپنی تمام قوت کھو دیتا ہے- کبھی یوں لگتا ہے کہ میں اپنی زندگی کے فیصلے خود کرتا ہوں، اور پھر اچانک اس کی ایک یاد، ایک آواز، ایک مسکراہٹ یا محض اس کے نام کا خیال آ کر میرے سارے اختیار کو خاموش کر دیتا ہے۔
ہم ہزاروں لوگوں سے ملتے ہیں، سینکڑوں چہروں کو دیکھتے ہیں، لاتعداد آوازیں سنتے ہیں، مگر ان سب کے درمیان صرف ایک شخص ایسا کیوں ہوتا ہے جو ہماری یادوں میں گھر بنا لیتا ہے؟ آخر دل کی زمین کس اصول پر اپنا مکین چنتی ہے؟ کیا اس انتخاب کے پیچھے کوئی منطق ہوتی ہے، یا یہ بھی ان اسرار میں سے ایک ہے جنہیں جاننے سے زیادہ قبول کرنا ضروری ہوتا ہے؟
پھر ایک اور خیال آتا ہے…کیا محبت واقعی کسی دوسرے انسان تک پہنچنے کا نام ہے؟ یا یہ اپنے ہی وجود کے اس گوشے تک پہنچنے کا سفر ہے جہاں ہم پہلے کبھی گئے ہی نہیں تھے؟ کیا محبوب ہمیں بدلتا ہے، یا صرف ہمارے اندر چھپی ہوئی وہ شخصیت سامنے لے آتا ہے جس سے ہم برسوں بے خبر رہتے ہیں؟ میں اس کا کوئی جواب نہیں جانتا۔
میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ اس سے پہلے میں اپنے آپ کو جتنا جانتا تھا، اس کے بعد شاید اتنا کبھی نہیں جان سکا۔ اس کی محبت نے مجھے صرف اس کے قریب نہیں کیا، بلکہ میرے اپنے وجود کے ایسے دریچے بھی کھول دیے جن پر شاید برسوں سے خاموشی کی گرد جمی ہوئی تھی۔ شاید محبت کا سب سے بڑا معجزہ یہی ہے کہ وہ ہمیں کسی اور کا نہیں، پہلے اپنا تعارف کراتی ہے۔
بارش اب بھی ویسے ہی برس رہی ہے۔ بادل اب بھی گرج رہے ہیں۔ بجلی اب بھی کبھی کبھی تاریکی کو چند لمحوں کے لیے شکست دے دیتی ہے۔ لیکن مجھے محسوس ہوتا ہے کہ اصل موسم باہر نہیں، میرے اندر برپا ہے۔
شاید ہر انسان کے اندر ایک ایسا برآمدہ ہوتا ہے جہاں وہ زندگی بھر اکیلا بیٹھا رہتا ہے۔ باہر لوگ آتے جاتے رہتے ہیں، موسم بدلتے رہتے ہیں، عمریں گزرتی رہتی ہیں، مگر اس اندرونی برآمدے میں کبھی یادیں آ بیٹھتی ہیں، کبھی سوال، کبھی امید، کبھی خوف، اور کبھی کسی ایک چہرے کی خاموش موجودگی۔ اگر کبھی تمہیں بھی ایسی کوئی رات نصیب ہو، تو اسے صرف بارش کی رات سمجھ کر مت گزار دینا۔
ممکن ہے اس رات آسمان سے زیادہ تمہارا اپنا باطن روشن ہو رہا ہو۔
تمہارا اپنا۔۔۔
عبداللہ


