بچپن کی سواری / محمد فاروق نتکانی

بڑی حسرت سے انساں بچپنے کو یاد کرتا ہے
یہ پھل پک کر دوبارہ چاہتا ہے خام ہو جائے

نشور واحدی کا یہ شعر انسانی عمر کے ایک ایسے راز سے پردہ اٹھاتا ہے جسے وقت کی گرد بھی نہیں چھپا سکتی۔ بچپن وہ بہار ہے جو درخت سے اتر جائے تو واپس نہیں آتی، مگر اس کی خوشبو عمر بھر انسان کے دل کے کسی گوشے میں بسی رہتی ہے۔ جوانی کی دوڑ، بڑھاپے کی تھکن اور زندگی کی مصروفیات کے درمیان کبھی کوئی معصوم ہنسی، کوئی ننھا ہاتھ، کوئی پرانی تصویر ہمیں واپس اسی گلی میں لے جاتی ہے جہاں ہم کبھی بے فکر پھرتے تھے۔

میں سوچتا ہوں کہ یقیناً میں نے بھی اپنے بچپن میں ایسی ہی کوئی شرارت کی ہو گی۔ یقیناً میرے والدین نے بھی کبھی نماز کے دوران مجھے اپنے کندھوں پر محسوس کیا ہو گا۔ وہ لمحے جن میں ایک بچہ اپنے باپ کو دنیا کا سب سے مضبوط سہارا سمجھ کر اس پر سوار ہو جاتا ہے، شاید بچے کے حافظے میں محفوظ نہیں رہتے، مگر ماں باپ کے دل کی کتاب میں ہمیشہ کے لیے لکھ دیے جاتے ہیں۔

یہی قدرت کا عجیب نظام ہے کہ جو منظر کبھی ہم نے اپنے والدین کے ساتھ گزارا ہوتا ہے، وہی ایک دن ہماری اپنی زندگی میں دوبارہ طلوع ہو جاتا ہے۔

میری تینوں بیٹیوں نے بھی اپنے بچپن میں کئی بار نماز کے دوران مجھے اپنی سواری بنایا۔ ان کے لیے شاید یہ محض ایک کھیل تھا، مگر میرے لیے یہ رحمت کا ایک لمحہ تھا۔ دو برس پہلے کی بات ہو گی میری سب سے چھوٹی بیٹی زہرا نے سجدے کی حالت میں میرے کندھوں کو اپنا جھولا بنا لیا۔ میرے لیے مشکل یہ نہیں تھی کہ سجدہ طویل ہو گیا، مشکل یہ تھی کہ اس ننھی مسافر کی سواری اچانک ختم نہ ہو جائے۔

میں جانتا تھا کہ ذرا سی حرکت اسے گرا سکتی ہے، اس لیے میں نے سجدہ طویل کر دیا۔ وقت کا احساس جاتا رہا۔ چند لمحوں کا یہ سفر شاید چند منٹوں تک پہنچ گیا۔ پھر ماں کی نظر پڑی، وہ سمجھی کہ عبادت میں ایک معصوم محبت شامل ہو گئی ہے، آگے بڑھی اور زہرا کو میرے کندھوں سے اتار لیا۔

مجھے معلوم ہے کہ ایک دن زہرا بڑی ہو جائے گی۔ اسے شاید یہ واقعہ یاد بھی نہ رہے۔ مگر باپ کے دل میں یہ منظر ہمیشہ زندہ رہے گا۔ اولاد کے بچپن کے یہ لمحے دراصل والدین کی زندگی کے وہ چراغ ہوتے ہیں جو وقت گزرنے کے بعد بھی روشنی دیتے رہتے ہیں۔

میں نے ایک روز اپنے والد صاحب سے پوچھا:
“ابا جی! کیا میں بھی آپ کو نماز پڑھتے دیکھ کر آپ پر سوار ہو جاتا تھا؟”

انہوں نے مسکرا کر جواب دیا:
“صرف تم ہی نہیں، تمہاری اولاد بھی اب مجھ پر سوار ہو جاتی ہے۔”

میں نے پھر پوچھا:
“ابا جی! آپ کی عمر ستر سال سے زیادہ ہے، کیا بچوں کا یوں آپ پر سوار ہو جانا بوجھ محسوس نہیں ہوتا؟”

انہوں نے کہا:
“نہیں، بالکل نہیں۔ بچوں کا بوجھ نہیں ہوتا، بچوں کی محبت ہوتی ہے۔ جس کندھے پر اولاد کا ہاتھ آ جائے، وہ کندھا تھکتا نہیں، مضبوط ہو جاتا ہے۔”

یہ جواب دراصل والدین کی محبت کی پوری داستان ہے۔ اولاد کا وزن جسم پر ہوتا ہے، مگر اس کی محبت روح کو ہلکا کر دیتی ہے۔

اسلامی تاریخ میں بھی ہمیں محبت کا یہی منظر نظر آتا ہے۔ صحیح بخاری میں آتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کی نواسی حضرت امامہ بنت زینب رضی اللہ عنہا نماز کے دوران آپ ﷺ کی گود میں آ گئیں۔ آپ ﷺ نے انہیں نماز کی حالت میں اٹھائے رکھا۔ قیام، رکوع اور تشہد اسی کیفیت میں ادا فرمائے اور جب سجدہ کیا تو انہیں زمین پر بٹھا دیا، پھر قیام فرمایا تو دوبارہ اٹھا لیا۔

یہ صرف ایک واقعہ نہیں، بلکہ قیامت تک آنے والے والدین کے لیے محبت، شفقت اور تربیت کا ایک روشن باب ہے۔

اسی طرح حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما کے بچپن کا واقعہ بھی دل کو چھو لیتا ہے۔ نماز کے دوران جب ایک ننھا وجود نانا جان ﷺ کی پشت مبارک پر سوار ہو گیا تو آپ ﷺ نے سجدہ طویل کر دیا۔ صحابہ کرامؓ نے سمجھا شاید کوئی غیر معمولی واقعہ پیش آیا ہے، مگر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بچے کو اس کی خواہش پوری کیے بغیر اتارنا مناسب نہ سمجھا۔

یہ وہ عظمت ہے جہاں عبادت اور محبت ایک دوسرے سے جدا نہیں رہتیں۔ جہاں سجدہ صرف زمین پر پیشانی رکھنے کا نام نہیں رہتا بلکہ رحمت کے سامنے جھک جانے کا نام بن جاتا ہے۔

آج کے دور میں ہم بڑی بڑی عمارتیں تعمیر کرتے ہیں، قیمتی سامان جمع کرتے ہیں، مگر گھر کی اصل رونق ان ننھے قدموں سے ہے جو آنگن میں دوڑتے ہیں، ان آوازوں سے ہے جو دیواروں کو زندگی بخشتی ہیں۔

عباس تابش نے کیا خوب کہا:

فقط مال و زر دیوار و در اچھا نہیں لگتا
جہاں بچے نہیں ہوتے وہ گھر اچھا نہیں لگتا

بچپن دراصل گھر کی روح ہے۔ اور والدین کے کندھے وہ پہلی دنیا ہیں جہاں ایک بچہ خود کو محفوظ ترین محسوس کرتا ہے۔ وقت گزر جاتا ہے، بچے بڑے ہو جاتے ہیں، کندھے جھک جاتے ہیں، مگر محبت کے یہ سفر کبھی ختم نہیں ہوتے۔

اپنا تبصرہ لکھیں