اقتدار کا اصل مرکز کہاں ہے؟- محمد امین اسد

پاکستان کا بنیادی سیاسی مسئلہ یہ نہیں کہ یہاں اچھے حکمران کم آئے، انتخابات متنازع رہے یا حکومتیں اپنی مدت پوری نہ کر سکیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ریاست کا ظاہری آئینی ڈھانچہ اور حقیقی نظامِ اقتدار ایک دوسرے سے ہم آہنگ نہیں۔ آئین اقتدار کا سرچشمہ عوام کو قرار دیتا ہے، مگر قومی فیصلوں پر اثر انداز ہونے والی قوتیں ہمیشہ عوام کے سامنے جواب دہ نہیں رہیں۔ اسی تضاد نے ایک ایسا سیاسی نظام پیدا کیا ہے جس میں حکومتیں بدلتی ہیں، مگر حکمرانی کا بنیادی بندوبست برقرار رہتا ہے؛ بحران ختم نہیں ہوتے، صرف اپنی صورت اور زبان بدل لیتے ہیں۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ کو محض مارشل لاؤں، انتخابات، عدالتی فیصلوں اور حکومتوں کے عروج و زوال کی ترتیب کے طور پر پڑھنا کافی نہیں۔ واقعات ہمیں بتاتے ہیں کہ کیا ہوا، مگر یہ نہیں بتاتے کہ ایک جیسے واقعات بار بار کیوں پیش آتے ہیں۔ اس سوال کا جواب شخصیات کے کردار سے زیادہ اقتدار کی اس ساخت میں پوشیدہ ہے جس کے اندر فوجی اسٹیبلشمنٹ، سیاسی اشرافیہ اور عدلیہ نے مختلف ادوار میں باہمی تعاون، مفاہمت، تصادم اور مصلحت کے ذریعے اپنا اپنا کردار ادا کیا ہے۔

فوجی اسٹیبلشمنٹ نے تاریخی طور پر خود کو صرف ملکی دفاع کا ذمہ دار نہیں سمجھا، بلکہ ریاست کی سیاسی سمت، داخلی استحکام اور قومی ترجیحات کا نگران بھی تصور کیا۔ اس تصور نے کبھی براہِ راست فوجی حکومت، کبھی پسِ پردہ سیاسی اثر و رسوخ اور کبھی انتخابی و جماعتی بندوبست میں مداخلت کی صورت اختیار کی۔ ہر مداخلت کو بحران، بدعنوانی، قومی سلامتی یا سیاسی نااہلی کے جواز سے پیش کیا گیا، مگر اس کا مستقل نتیجہ یہی نکلا کہ سیاسی ادارے خود فیصلے کرنے، اپنی غلطیوں سے سیکھنے اور بتدریج مضبوط ہونے کا موقع نہ پا سکے۔

تاہم اس صورت حال کی پوری ذمہ داری صرف فوجی مداخلت پر عائد کرنا بھی تاریخی حقیقت کو سادہ بنا دینا ہے۔ سیاسی جماعتوں نے بھی جمہوریت کو ایک اصول اور اجتماعی نظام کے بجائے اکثر اقتدار تک رسائی کے ذریعے کے طور پر برتا۔ بیشتر جماعتیں داخلی انتخابات، فکری تربیت، قیادت کی آزادانہ تشکیل اور ادارہ جاتی فیصلہ سازی کے بجائے خاندان، شخصیت، مفاد اور سرپرستی کے گرد منظم رہیں۔ اقتدار سے باہر رہتے ہوئے انہوں نے غیر جمہوری مداخلت کی مخالفت کی، مگر اقتدار کے حصول یا مخالفین کو کمزور کرنے کے لیے کئی مرتبہ انہی طاقتوں سے تعاون بھی کیا۔ یوں ان کا بنیادی اعتراض نظام کی غیر جمہوری ساخت پر نہیں، بلکہ اکثر اس میں اپنے حصے کی کمی پر رہا۔

عدلیہ کا کردار بھی اس سیاسی بندوبست سے الگ نہیں رہا۔ آئینی ریاست میں عدالت کا بنیادی فرض طاقت کو قانون کے تابع رکھنا اور شہری آزادیوں کا تحفظ کرنا ہے، لیکن پاکستان کی تاریخ میں متعدد عدالتی فیصلوں نے غیر آئینی اقدامات کو نظریۂ ضرورت، ریاستی مصلحت یا زمینی حقائق کے نام پر قانونی جواز فراہم کیا۔ اس طرزِ عمل نے یہ اصول کمزور کیا کہ آئین طاقت سے بالاتر ہے۔ جب قانون طاقت کو محدود کرنے کے بجائے اس کے اقدامات کی توجیہ کرنے لگے تو آئینی حکومت اپنی روح کھو دیتی ہے، خواہ اس کی ظاہری عمارت بدستور قائم رہے۔

ان اداروں اور طبقات کے تعلق کو مستقل اتحاد سمجھنا درست نہیں۔ ان کے درمیان شدید اختلافات اور مفادات کا تصادم بھی ہوتا رہا ہے، مگر یہ کشمکش عموماً اقتدار کے اصول پر نہیں، اس کی تقسیم پر ہوتی ہے۔ سیاسی جماعتیں زیادہ اختیار چاہتی ہیں، اسٹیبلشمنٹ اپنا فیصلہ کن کردار برقرار رکھنا چاہتی ہے اور عدلیہ کبھی آئینی مزاحمت تو کبھی مصلحت آمیز توثیق کا راستہ اختیار کرتی ہے۔ اس باہمی کھینچا تانی کے باوجود ایک امر تقریباً مستقل رہتا ہے: عوام ووٹ تو دیتے ہیں، مگر ریاستی اختیار کے تمام بنیادی مراکز ان کے براہِ راست احتساب میں نہیں آتے۔

یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں جمہوریت اکثر اپنی صورت میں موجود اور اپنے جوہر میں محدود رہی ہے۔ انتخابات منعقد ہوتے ہیں، پارلیمان قائم ہوتی ہے، کابینہ فیصلے کرتی ہے اور عدالتیں سرگرم رہتی ہیں، مگر خارجہ پالیسی، قومی سلامتی، سیاسی تشکیل، احتساب اور بعض اہم معاشی ترجیحات پر غیر منتخب مراکز کا اثر نمایاں رہتا ہے۔ اسے محض جمہوری ناکامی کہنا درست نہیں، کیونکہ یہ بندوبست طاقت ور طبقات کے مفادات کے تحفظ میں خاصا مؤثر ثابت ہوا ہے۔ ناکامی دراصل عوامی حاکمیت، آئینی توازن اور ادارہ جاتی جواب دہی کی ہوئی ہے۔

اس غیر متوازن نظام کے نتائج صرف ایوانوں تک محدود نہیں رہتے۔ سیاسی غیر یقینی پالیسیوں کا تسلسل توڑتی ہے، کمزور حکومتیں مشکل اصلاحات سے گریز کرتی ہیں، ادارہ جاتی کشمکش انتظامی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے اور وسائل قومی ترجیحات کے بجائے طاقت کے مراکز کی ضرورتوں کے مطابق تقسیم ہونے لگتے ہیں۔ نتیجتاً معیشت غیر مستحکم، ترقی غیر مساوی، روزگار محدود اور عوام کا ریاست پر اعتماد کمزور ہوتا چلا جاتا ہے۔ یوں سیاسی بحران بالآخر عام آدمی کے لیے مہنگائی، بے روزگاری، ناانصافی اور عدم تحفظ کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔

پاکستانی سیاست میں نجات دہندہ کی تلاش بھی اسی مسئلے کی ایک علامت ہے۔ ہر چند سال بعد کسی ایک شخصیت سے یہ توقع باندھ لی جاتی ہے کہ وہ تنہا پورا نظام بدل دے گی۔ مگر تاریخ کا سبق یہ ہے کہ مضبوط افراد کمزور اداروں کا مستقل متبادل نہیں بن سکتے۔ کوئی رہنما وقتی امید، مقبول بیانیہ اور محدود اصلاحات تو دے سکتا ہے، لیکن جب تک اختیارات کی تقسیم واضح، قانون سب پر یکساں نافذ اور ادارے اپنی حدود کے پابند نہ ہوں، ہر مقبول رہنما آخرکار اسی نظام سے سمجھوتا کرتا، اس میں محدود ہو جاتا یا اس کے ہاتھوں بے دخل کر دیا جاتا ہے۔

اس بحران کا حل کسی ایک ادارے کی تحقیر، کسی ایک جماعت کی فتح یا کسی ایک شخصیت کے عروج میں نہیں۔ اصل ضرورت ایک ایسے آئینی توازن کی ہے جس میں فوج اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں تک محدود ہو، پارلیمان قومی پالیسی سازی کا حقیقی مرکز بنے، عدلیہ طاقت کے بجائے آئین کی محافظ ہو، سیاسی جماعتیں داخلی جمہوریت اپنائیں اور سول انتظامیہ سیاسی و ادارہ جاتی مداخلت سے آزاد ہو۔ جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا نام نہیں، بلکہ یہ اس حق کا نام ہے کہ عوام کے منتخب نمائندے فیصلے بھی کریں اور ان فیصلوں کے نتائج پر عوام کے سامنے جواب دہ بھی ہوں۔

پاکستان کا فیصلہ کن سوال اب یہ نہیں کہ اگلی حکومت کس جماعت کی ہوگی یا اگلا وزیرِاعظم کون ہوگا۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا آئندہ حکومت واقعی حکومت بھی کرے گی، یا صرف اس اقتدار کا ظاہری چہرہ ہوگی جس کے بنیادی فیصلے کہیں اور ہوتے ہیں؟ جب تک آئینی اختیار اور حقیقی طاقت ایک ہی مرکز میں جمع نہیں ہوتے، انتخابات تبدیلی کا تاثر تو پیدا کریں گے، تبدیلی خود پیدا نہیں کر سکیں گے۔ قومیں چہروں کی گردش سے نہیں، اقتدار کو قانون، اداروں کو حدود اور حکمرانوں کو جواب دہ بنانے سے بدلتی ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں