تذکرہِ خانوادہء “سرابِ لاحاصل” – دبستانِ عدم آباد/مقدمہ احوالِ مقتلِ دانش / تحریر : مقصود جعفری

*تذکرہِ خانوادہء “سرابِ لاحاصل” – دبستانِ عدم آباد*
مقدمہ احوالِ مقتلِ دانش
[ *تحریر : مقصود جعفری* ] اربابِ فکر کی سیہ بختی اور تاریخِ شعور کی سنگ دلی ملاحظہ ہو کہ *”خانوادہء کج بحثانِ لایعنی”* کے ذکر سے ہمارے دانشوروں کے صفحے کورے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب دنیا منطق کی زنجیروں میں جکڑی جا رہی تھی، تو یہی وہ مجانین تھے جنہوں نے بے وقوفی کے چراغ روشن کیے۔بہرحال، مشیتِ غیب یہی تھی کہ یہ عقلِ کل اپنے ان باؤلے مفکرین کی شخصیت اور ان کے لاحاصل کارناموں سے اس قحط الرجال دنیا کو آگاہ کرے۔ ذیل میں ہمارے خاندان کے ان فلاسفروں اور منطقیوں کی فہرست ہے جن کے نظریات نے آج تک کسی کا بھلا نہیں ہونے دیا۔خدا اس ذہنی خلفشار کو تاقیامت برقرار رکھے۔ آمین۔ایک مختصر شجرہ احباب کے حضور پیش ہے۔
*خبطی عدم آبادی* – پردادا کے والد (بانیِ دبستانِ سراب)
*بیگم مغالطہ بی بی* – پردادا کی والدہ
*وہم عظیم آبادی* – پردادا
*دادی قیاس آرائی* – پردادی
*تشکیک عدم آبادی* – دادا (جنہیں خود اپنے ہونے پر شک تھا)
*بیگم دلیلِ لایعنی* – دادی
*وسوسہ عظیم آبادی* – والد
*بیگم منطقِ بے بنیاد* – والدہ
*احمق عدم آبادی* – خادمِ خاص
*خبطِ لا علاج بانو* – مددگارِ خاص
*ابہام عدم آبادی* – چچا
*بیگم لفاظی بانو* – چچی
*ہذیان عظیم آبادی* – سسر
*بیگم خام خیالی* – ساس
*عقلِ کُل عدم آبادی – ناچیز*
*بیگم تاویلِ غلط* – بیوی
*فلسفہ عدم آبادی* – بیٹا
*بیگم موشگافی بی بی* – بہو
*میاں ڈیجیٹل سراب* – پوتا

*فکری باقیات : قسط اول*

اربابِ کور بینی کے لیے یہ بات سوہانِ روح ہوگی کہ ہمارے اس خانوادے نے نہ صرف اپنی ذات سے دنیا کو منور (یا اندھیر) کیا، بلکہ ایسی تصانیف چھوڑیں جنہیں پڑھنے کے بعد بڑے بڑے جغادری مفکرین نے اپنی ڈگریاں جلا ڈالیں اور ہمالیہ کی غاروں میں جا کر خاموشی اختیار کر لی۔ ان فکری شاہکاروں کا تذکرہ اس لیے ضروری ہے تاکہ آنے والی نسلیں جان سکیں کہ کچھ نہ جاننابھی کتنا بڑا فن ہے۔ذیل میں اس دبستان کے چند مایہ ناز فکری اثاثوں کا تذکرہ پیشِ خدمت ہے۔
۱۔ *”رسالہء لایعنیت”* – مصنف: خبطی عدم آبادی۔۔۔یہ وہ پہلی کتاب تھی جو مکمل طور پر سفید سیاہی سے کالے کاغذ پر لکھی گئی تھی۔ اس کا مرکزی خیال یہ تھا کہ جو نظر آتا ہے وہ ہے نہیں، اور جو ہے وہ نظر آنے کے قابل نہیں۔ اسے پڑھنے کے لیے آنکھوں کی نہیں، بصارت کے ضیاع کی ضرورت تھی۔
۲۔ *”کلیاتِ وہم”* – مصنفہ: بیگم مغالطہ بی بی۔۔۔اس ضخیم کتاب میں ان تمام باتوں کی فہرست دی گئی تھی جو کبھی وقوع پذیر نہیں ہوئیں۔ یہ دنیا کی پہلی ایسی کتاب تھی جس کے سرورق پر لکھا تھا۔اس کتاب کے مندرجات پر یقین کرنے والا خود ایک مغالطہ ہے۔
۳۔ *”منطقِ گریز”* – مصنف: وسوسہ عظیم آبادی۔۔۔اس کتاب میں یہ ثابت کیا گیا تھا کہ دو اور دو چار صرف تب ہوتے ہیں جب انسان کے پاس کرنے کو اور کوئی کام نہ ہو۔ انہوں نے ثابت کیا کہ حقیقت دراصل وہ گلی ہے جس کا کوئی دوسرا سرا نہیں ہوتا۔
۴۔ *”دستورِ خود فریبی”* – مصنف: عقلِ کُل عدم آبادی (ناچیز)۔۔۔یہ میری وہ شاہکار تصنیف ہے جس کا مطالعہ کرتے ہی قاری کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ خود اپنا پیچھا کر رہا ہے اور آخر میں اسے پتہ چلتا ہے کہ جس کا پیچھا کیا جا رہا تھا، وہ تو کبھی گھر سے نکلا ہی نہیں تھا۔

یہ تمام تصانیف دراصل اس خالی لائبریری کا حصہ ہیں جو وقت کے اس پار واقع ہے۔ جس وقت آپ اسے پڑھیں گے تو، عین اسی لمحے اس شجرے کا ہر نام آپ کے حافظے سے مٹتا چلا جائےگا۔ آپ کو یاد تو رہے گا کہ آپ نے کچھ پڑھا تھا، مگر کیا پڑھا تھا؟ یہ راز اسی *عدم* کے پاس ہے جب تاریخ کا آخری صفحہ پلٹا جائے گا، تو معلوم ہوگا کہ *وسوسہ عظیم آبادی* نے دراصل اس شجرے کو کبھی لکھا ہی نہیں تھا، بلکہ یہ تو وہ خراٹے تھے جو کائنات اپنی لمبی نیند کے دوران لے رہی تھی۔جب اس شجرہء لایعنی کے آخری چراغ، یعنی *میاں ڈیجیٹل سراب* نے دم توڑا، تو معلوم ہوا کہ یہ سارا تذکرہ کسی کاغذ پر نہیں بلکہ ایک پیاسے کی آنکھ میں چمکتے ہوئے صحرا کے ریتلے ذروں پر لکھا گیا تھا۔ خاندانی قبرستان میں جب *عقلِ کُل* کی قبر کشائی کی گئی تو وہاں کسی ڈھانچے کے بجائے صرف ایک پرانا، زنگ آلود آئینہ برآمد ہوا، جس پر گرد کی اتنی تہیں تھیں کہ اپنا عکس دیکھنا بھی محال تھا۔ تب آسمان سے ایک ایسی صدا آئی جس نے وقت کے پہیے کو ساکت کر دیا۔تم محض وہ کردار تھے جو کسی نے لکھے ہی نہیں، تم محض وہ لفظ تھے جو کبھی بولے ہی نہیں گئے۔
جس کائنات کو ہم نے دلیلوں سے فتح کرنا چاہا تھا، وہ دراصل ایک خالی کمرے میں پڑی ہوئی وہ کتاب تھی جس کے تمام صفحات سفید تھے اور ہم عمر بھر اس میں اپنے نام کے ہتھیار اور منطقیں تلاش کرتے رہے۔ آخر میں صرف ایک خاموشی بچی، اور وہ خاموشی بھی اتنی گہری تھی کہ خود اپنا بوجھ نہ سہار سکی اور ایک زوردار دھماکے کے ساتھ عدم کے سمندر میں غرق ہو گئی۔ اب وہاں نہ شجرہ ہے، نہ کوئی مقتولِ دانش، اور نہ ہی کوئی تذکرہ نگار—صرف ایک نہ ختم ہونے والاصفر ہے جو خود اپنے گرد رقص کر رہا ہے۔
*سلسلہ تمام شد (مگر کیا واقعی؟)*

بشکریہ خنجر عظیم آبادی

اپنا تبصرہ لکھیں