خط: کتابوں کے بعد انسان کیا محفوظ رکھے گا؟-علی عبداللہ

میرے عزیز،

ایک تکلیف دہ خبر نظروں سے گزری ہے کہ مصنوعی ذہانت کی تربیت کے لیے ہزاروں کتابیں حاصل کی گئیں، ان کے صفحات کو الگ کر کے مشین سے نقل کیا گیا، اور پھر اصل جلدوں کو ضائع کر دیا گیا ہے۔ اس خبر کی تمام تفصیلات شاید ابھی تحقیق کی محتاج ہوں، لیکن اس نے ایک ایسا سوال ضرور جگا دیا ہے جس کا تعلق کسی ایک ادارے یا ایک کمپنی سے نہیں، ہماری پوری تہذیب سے ہے۔

کتاب آخر ہم نے کیوں لکھی تھی؟ صرف اس لیے کہ اس کے الفاظ آئندہ نسلوں تک پہنچ جائیں، یا اس لیے بھی کہ ایک انسان اپنے عہد کی خوشبو، اپنے زمانے کی گواہی اور اپنی فکر کی پوری امانت دوسرے انسان کے حوالے کر سکے؟ کتاب صرف متن نہیں ہوتی۔ بعض اوقات وہ خود ایک تاریخی واقعہ بھی ہوتی ہے۔

اسی لیے کسی پرانی کتاب کے زرد صفحات، اس کی جلد، طباعت، کاغذ کی ساخت، حاشیے پر لکھی ہوئی چند بے نام سطریں، کسی عالم کی اصلاح، کسی طالب علم کی نشان دہی، یا کسی پرانے کتب خانے کی مہر محض اضافی چیزیں نہیں ہوتیں۔ یہ سب اس کتاب کی زندگی کا حصہ ہوتے ہیں۔ اگر ہم الفاظ محفوظ کر لیں مگر یہ سب کھو دیں، تو حقیقت میں ہم نے کیا بچایا؟ شاید صرف متن؛ کتاب نہیں۔

یہ بات عام کتابوں سے بڑھ کر نایاب نسخوں کے بارے میں اور زیادہ اہم ہو جاتی ہے۔ اگر کسی کتاب کی چند ہی نقول باقی ہوں، یا وہ کسی بھولی ہوئی علمی روایت کی آخری مادی شہادت ہو، تو اس کی حیثیت صرف ایک مطبوعہ متن کی نہیں رہتی۔ وہ خود تاریخ کا ایک زندہ ورق بن جاتی ہے۔ یقیناً یہ ضروری ہے کہ جذبات سے پہلے تحقیق کی جائے۔ ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ کن کتابوں کو استعمال کیا گیا، ان کی کتنی نقول موجود تھیں، اصل نسخوں کے ساتھ کیا سلوک ہوا، اور کیا واقعی ان میں نایاب یا تاریخی کتابیں شامل تھیں۔ بغیر تحقیق کے کوئی فیصلہ علمی دیانت کے خلاف ہوگا۔

لیکن تحقیق کے بعد بھی ایک سوال باقی رہتا ہے، اور وہ محض قانونی نہیں بلکہ اخلاقی ہے۔ اگر علم کو محفوظ کرنے کے لیے علم کے اصل برتن ہی کو توڑ دیا جائے، تو ہم نے آخر کیا محفوظ کیا؟ مصنوعی ذہانت صدیوں کی انسانی تحریروں سے سیکھ رہی ہے۔ یہ غیر معمولی پیش رفت ہے، اور اس پر حیرت بھی ہوتی ہے۔ مگر ترقی کی اصل پہچان رفتار نہیں، ذمہ داری ہوتی ہے۔ اگر ایک کتاب کو نقصان پہنچائے بغیر اس کا متن محفوظ کیا جا سکتا ہو، تو پھر اصل نسخے کو قربان کرنا کس ضرورت کا نام ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ بعد میں کبھی مفادات کی خاطر ان کتب میں تحریف کر دی جائے اور آنے والا عہد اس تحریف کو ہی اصل سمجھ بیٹھے- اس پر لازمی غور کرنا-

یہاں ایک اور فرق سمجھنا بھی ضروری ہے۔ قانون اور اخلاق ہمیشہ ایک چیز نہیں ہوتے۔ ممکن ہے کسی کتاب کی ملکیت ہمیں اسے تلف کرنے کا قانونی اختیار دے دے، مگر کیا یہی اختیار اخلاقی جواز بھی بن جاتا ہے؟ کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو کسی فرد کی ملکیت ضرور ہوتی ہیں، لیکن تہذیب کی امانت بھی رہتی ہیں۔ نایاب کتابیں انہی میں شمار ہوتی ہیں۔

میں مصنوعی ذہانت کے بالکل خلاف نہیں ہوں۔ لیکن میری یہ تشویش مشین پر نہیں، انسان کے رویے پر ہے۔ آنے والے برسوں میں شاید یہی مشینیں ہمارے علمی ورثے کو محفوظ رکھنے کا سب سے بڑا ذریعہ بنیں۔ مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ کتب خانے، جامعات، ریاستیں اور ٹیک کمپنیاں مل کر ایسے اصول وضع کریں جن میں متن بھی محفوظ رہے اور اصل نسخہ بھی۔ سہولت اور حفاظت کو ایک دوسرے کا مخالف نہیں، ساتھی ہونا چاہیے۔

میں یہ منظر اپنے ذہن میں دیکھتا ہوں کہ برسوں بعد کوئی نوجوان کسی عجائب گھر میں کھڑا ایک خالی شیشے کا صندوق دیکھ رہا ہے۔ اس کے نیچے ایک تختی لگی ہے، “اس کتاب کا اصل نسخہ کبھی یہاں محفوظ تھا؛ اب صرف اس کی ڈیجیٹل نقل باقی ہے۔” شاید وہ متن پڑھ لے، اس سے علم بھی حاصل کر لے، مگر وہ اس کاغذ پر وقت کی انگلیوں کے نشانات نہیں دیکھ سکے گا۔ وہ اس جلد کی خاموشی کو نہیں سن سکے گا جسے عہد رفتہ نے چھوا تھا۔ کچھ چیزیں نقل ہو جاتی ہیں، کچھ صرف باقی رہتی ہیں۔

مجھے نہیں معلوم کہ اس سوال کا جواب ہماری نسل کیا دے گی۔ البتہ اتنا ضرور جانتا ہوں کہ ہمیں ابھی سے یہ طے کرنا ہوگا کہ کیا چیز صرف ڈیٹا ہے، اور کیا چیز ورثہ- کیونکہ علم صرف ذہنوں میں نہیں رہتا؛ وہ کبھی کبھی کاغذ کی تہوں میں بھی سانس لیتا ہے، اور اپنے حاشیوں میں آنے والی نسلوں کے لیے خاموش گفتگو چھوڑ جاتا ہے۔

بس مجھے ڈر ہے جس دن ہم یہ فرق بھول گئے، اس دن ہم کتابیں تو محفوظ رکھیں گے، مگر تہذیبی یادداشت کھو بیٹھیں گے۔

تمہارا اپنا۔۔۔

عبداللہ

اپنا تبصرہ لکھیں