خواتین باوقار اور حضرات خوش اطوار
اردو زبان میں آپ لفظ “سکالر” کا کیا ترجمہ کریں گے مجھے معلوم نہیں۔ لیکن میں اس کا ترجمہ “عالم” کروں تو ہمارے ڈاکٹر خالد سہیل صاحب ایک عالم ہی نہیں بلکہ بجا طور پر “ عالم باعمل” قرار پاتے ہیں۔ وہ اپنے مریضوں ہی کو غیر صحت مند عادات و افعال سے گریز کا مشورہ نہیں دیتے، خود بھی متعدد مضر طبع “اشیاء “ سے پرہیز پر کاربند ہیں۔ پہلے پہلے تو جھوٹ، بدلحاظی، غیبت، وعدہ شکنی، مطلب براری، تصنع اور مولویوں یعنی ہر خلاف مزاج عنصر سے سخت پرہیز پر کاربند تھے۔ مگر رفتہ رفتہ اصول میں نرمی متعارف ہوئی اور اب موخرالذکر “عناصر” کو بہر حال قبول و گوارا کرنے لگے ہیں۔اس کی ایک سامنے کی مثال تو آپ کے سامنے یہ بندہ حقیر و فقیر و پُر تقصیر وغیرہ ہے جس سے ڈاکٹر صاحب نے پورے آٹھ برس گریز و پرہیز کیا مگر پھر قوانین میں لچک اور نرمی کی بدولت حلقہ ارادت میں داخل ہونے کی اجازت دی اور تب سے مسلسل اپنی اس نرمی کا خمیازہ بھگت رہے ہیں اور میرے ہر مضمون میں طنز ومزاح کے دوستانہ تیر و نشتر اپنے پُرخلوص قہقہوں کی ڈھال پر سہتے آرہے ہیں۔
کوئی اور کہے تو کہے مگر مجال ہے میرے کسی حملے (معاف کیجیے گا ’’جوشِ خطابت‘‘میں نقطہ ادا ہونے سے رہ گیا) ہاں تو مجال ہے میرے کسی جملے پر ڈاکٹر صاحب کی روشن پیشانی پر ہلکا سا بھی بل پڑا ہو۔ان کی یہی خندہ پیشانی میرے قلم کی شگفتہ روانی کی ضامن ہے۔
شگفتہ گوئی کا تازہ ترین واقعہ ہمارے ماہانہ غیررسمی “دوفردی” ڈنر پر لیک اونٹاریو کے ساحل پر واقع ایک افغان ریستوران میں پیش آیا۔ جمعہ کی شام وہاں پہنچا تو دیکھا کہ ڈاکٹر صاحب وہی دوستانہ گرے ہیٹ پہنے ہوئے ہیں جو انھوں نے اپنی تخلیق کار اور فن کار دوست عظمیٰ عزیز صاحبہ کے ساتھ سیر کرتے ہوئے سیاحتی قصبہ نیاگرا آن دی لیک سے
جوڑے کی صورت خرید کیا تھا اور جس کا ایک
twin
انھوں نے گذشتہ موسم گرما میں مجھے اسی ریستوران میں تحفتاً دیاتھا
میں اس غیر رسمی تخلیق کار جوڑے کا شکر گزار ہوں کہ اپنی
اپنی رومانوی خلوت میں بھی وہ مجھ پابندِ رسوم و قیود کی یاد کو جگہ دیتے ہیں۔محفل میں میری اور میرے عزیز دوست جناب احمد رضوان کی بیگمات موجود نہ ہوتیں تو میں اس منفرد اور ذہین لکھاری سے اُن کے اس تاریخی جُملے کا مطلب ضرور پوچھتا۔ فرماتے ہیں:
’’جوڑوں کا درد کیا ہوتا ہے یہ تو ’جوڑے ہی جانتے ہیں‘۔
تو میں قصہ بیان کررہا تھا ریستوران کا۔۔۔تو اس بار (یہ بار وہ ہرگز نہیں جس کے ذکر سے میرے بعض احباب کی تشنگی اچانک بیدار ہونے لگتی ہے۔ یہ ‘ایک دفعہ’ والا “بار” ہے۔ اور ہاں، یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ یہ ’دفعہ‘ بھی وہ نہیں جو ’لاگو‘ہوجاتی ہے اور نہ ہی وہ دفعہ جس کے بعد ’دُور‘ آتا ہے۔۔۔کہ ڈاکٹر صاحب تو قُرب اور اپنائیت کے موسموں کے امین ہیں۔یہ دُوری اور فاصلوں کے قائل نہیں)۔
دیکھیے وہ، قصہ پھر رہے جاتا ہے۔۔۔آپ کہیں گے چلیے چھوڑئیے مگر نہیں صاحب، ہم بھی ڈاکٹر صاحب کی طرح بلا وجہ نہ دوست کو چھوڑتے ہیں اور نہ کسی جملے کو۔
ہاں تو ذکر ہورہا تھا افغان ریستوران کا
خواتین باوقار اور حضرات خوش اطوار
خُدا جھوٹ نہ بلوائے عمر رسیدگی کے باوصف کچھ کچھ تو مجھے بھی یاد ہے مگر ہمارے ڈاکٹر صاحب کو تو یقیناً اچھی طرح یاد ہوگی وہ دُخترِ خوش گِل جس نے بہ طور میزبان نہ صرف ہمارا استقبال کیا تھا بل کہ یکساں ہیٹ پہنے ہم دونوں کی ایک یادگار تصویر بھی اتاری تھی۔
تو اب کے ریستوران میں (ڈاکٹر صاحب کی اصطلاحی لغات کے مطابق) اس افغان دُختر خوش گِل نے خوش آمدید کہتے ہوئے اپنی کومل آواز میں میرے قریب قریب بے بال سَر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ڈاکٹر صاحب کو مخاطب کیا اور گلہ مندی کے سے انداز میں یہ نشان دہی کی کہ ان کے دوست یعنی میں نے ان کا عطا کردہ ہیٹ نہیں پہن رکھا۔ ڈاکٹر صاحب بھی اس کے ساتھ شریک شرارت ہو گئے اور یوں چند محبت و شفقت بھرے دل چسپ تخلیقی جملوں کا تبادلہ ہوا۔
(ستم یہ کہ میرے حصے میں اس بار بھی شفقت ہی آئی کیوں کہ محبت تو ساری کی ساری ڈاکٹر صاحب سمیٹ چکے تھے۔)
قصہ کوتاہ، مجھے یہ کہتے بنی کہ اگلی بار میں ایک نہیں دو ہیٹ پہن کر آؤں گا؛ ایک تحفے والا اور دوسرا جرمانے والا تاکہ آج کی کوتاہی کا ازالہ ہوسکے۔
اِس پر ریستوران کے ماحول کا زعفران زار بن جانا فطری امر تھا۔ اسی مسکراتی فضا میں ہم دونوں نے اپنی کچھ تازہ تخلیقات بھی سانجھی کیں اور ان پر گفت گو بھی کی۔
میں نے اپنے والد گرامی یزدانی جالندھری صاحب کی ترجمہ کردہ ٹالسٹائی کی کہانیوں پر مشتمل کتاب ڈاکٹر صاحب کی خدمت میں پیش کی اور انھوں نے اپنی مرتب کردہ نئی انگریزی کتاب
Creative Birth
کے درشن کروائے اور بتایا کہ میرے لیے کتاب ان کی سیکرٹری مارسلینا ڈاک کے ذریعہ بھجوا رہی ہیں۔
(جو بحمدللہ بہ حفاظت مجھ تک پہنچ چکی۔)
میں نے پُر معنی تخلیقی سرورق کی حامل اس ضخیم کتاب کو ایک نظر دیکھا تو بہ یک وقت حیرت و مسرت کی کیفیات سے دوچار ہو گیا۔ اس میں ساٹھ سے زیادہ تحریریں یک جا تھیں اور کمال حسن ترتیب کے ساتھ یک جا تھیں۔ ان تحریروں کے لکھاریوں میں ڈاکٹر صاحب کے چند ہم پیشہ افراد کے نام بھی دکھائی دیئے مگر اہم بات یہ تھی کہ مضمون نگاروں کی اکثریت ان خواتین و حضرات پر مشتمل تھی جو کبھی نہ کبھی ڈاکٹر صاحب کے کلینک “ کری ایٹو سائیکوتھیراپی” سے استفادہ کرچکے تھے۔ اپنی تحریروں میں انھوں نے اپنے مسائل، ڈاکٹر صاحب کی جانب سے مدد اور اپنی صحت یابی یعنی اپنی زندگی کی کہانیاں لکھی ہیں اور پوری دیانت داری اور دل سے لکھی ہیں۔ ایک تحریر تو میں نے اُسی وقت پڑھ لی جو امریکا میں مقیم اس سکائیکوتھیراپسٹ حائفہ صاحبہ نے لکھی تھی جو ایک دور میں خود بھی کری ایٹو سائیکو تھیراپی کلینک سے استفادہ کرچکی تھیں۔
اس تحریر کے خالص پن اور حسن تحریر نے مجھے بے حد متاثر کیا اور مجھے اندازہ ہوا کہ یہ کتاب کیسے کیسے تاب دار جواہر اپنے دامن اوراق میں سمیٹے ہوئے ہے۔
خواتین باوقار اور حضرات خوش اطوار
یہ کتاب ہم قارئین ادب کےلیے تو ایک ان مول تحفہ ہے ہی مگر اس میں شامل لکھاریوں کے لیے ایک نادر تجربہ بھی ہے۔اس میں اکثریت ان افراد کی ہے جنھوں نے پہلے کبھی نہیں لکھا اور اس تجربہ کے بعد ان میں سے کئی ایک مستقل لکھاری بننے کا عزم رکھتے ہیں۔ یہ کتاب جو ان سابقہ مریضوں کی جانب سے اپنے ہم-درد معالج کے لیے ان کی ریٹائرمنٹ کا تحفہ ہے درحقیقت ڈاکٹر صاحب کی طرف سے ان سب کے لیے ایک ایسا یادگار مثبت، تعمیری ، اعزازی اور مستقل تھیراپیوٹک سیشن ہے جو صفحات قرطاس پر منتقل ہوکر ان سب کو امر بھی کررہا ہے اور انھیں ان کی داخلی صلاحیتوں کا احساس بھی دلا رہا ہے اور دلاتا رہے گا۔
ڈاکٹر خالد سہیل صاحب انسان کی خفتہ صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کا ہنر بہ خوبی جانتے ہیں۔ ویسے تو کتنے ہی لکھنے والے ہیں جن کی تخلیقی ولادت ڈاکٹر صاحب ہی کے ہاتھوں ہوئی ہے مگر چند مجھ سے بھی ہیں جن کی پیدائش کے قصور وار تو یہ نہیں تاہم ان کی تخلیقی نگہداشت و نشو و نما کی ذمہ داری انھوں نے بہ رضا و رغبت اٹھا رکھی ہے اور اسے بہ طریق احسن نبھا بھی رہے ہیں۔
ڈاکٹر صاحب احباب کو مسلسل لکھنے کی اور شائع ہونے کی ترغیب ہی نہیں دیتے بل کہ ٹورانٹو میں سرگرم عمل تنظیم “فیملی آف دی ہارٹ” کے ادبی پلیٹ فارم سے انھیں تخلیقات پیش کرنے کے مواقع بھی فراہم کرتے ہیں جس کا ایک واضح ثبوت آج کی یہ کام یاب تقریب ہے جس میں مختلف پس منظر سے تعلق رکھنے والے اور مختلف زبانیں بولنے والے اہل دل شریک ہیں۔
“فیملی آف دی ہارٹ” میں ان کے مخلص دوست جناب پرویز صلاح الدین ،جناب رفیق سلطان،امیر حسین جعفری صاحب اور عظمیٰ عزیز صاحبہ عملی طور پر اُن کا ہاتھ بٹاتے ہیں۔یہ ہم سب شرکا کی خدمت و تواضع کے فرائض جس خاموشی سے ادا کرتے ہیں ، میرا جی چاہتا ہے کہ ہم تالی بجا کر پُرشور انداز میں ان کا شکریہ ادا کریں۔
تنظیم “فیملی آف دی ہارٹ” جو بجا طور پر اہل دل کا ایک خاندان یا پریوار ہے اس میں وقتا فوقتاً مجھے بھی شرکت کا اعزاز حاصل ہوتا ہے۔مانتا ہوں کہ میں اس کے اجتماعات میں متواتر نہیں آپاتا اس لیے شاید اہل دل کی اس فیملی کا ممبر تو تصور نہ ہوں مگر اس کا “ فیملی فرینڈ” کہلانے کا حق دار ضرور ہوں اور میں سمجھتا ہوں ہر صحت مند فیملی کے لیے کچھ اچھے فیملی فرینڈز بھی لازم ہیں۔نہیں کیا؟
خواتین باوقار اور حضرات خوش اطوار
’’کری ایٹو برتھ‘‘ کی اشاعت ڈاکٹر خالد سہیل صاحب کو اور ہم سب کو مبارک ہو۔
آپ سب کا دلی شکریہ!



محترم حامد یزدانی کی متین و فطین تحریریں نہ صرف دل کو گدگداتی ہیں بلکہ ان کے حملے معزرت جملے لبوں پر مسکان بکھیرتے ہیں ۔ ایک شگفتہ شگفتہ خراج تحسین کتاب اور صاحب کتاب کو جس نے زندگی سے جرعہ جرعہ ،،لمحہ لمحہ لطف لیا ہو۔
بہت نوازش، احمد رضوان صاحب۔
ممنون ہوں۔