بھرتہری قدیم ہندوستان کے ایک عظیم فلسفی، ماہر لسانیات اور شاعر گزرے ہیں۔ ان کا شاہکار واک پد /واکیہ پدیہ(1)-احمد نعمان

Vakyapadiya محض لسانیات ، گرامراور صرف و نحو کی کتاب ہی نہیں بلکہ زبان، معنی ، شعور اور وجود کے باہمی تعلق پر گہرا فلسفیانہ کارنامہ ہے۔ محققین اسے دنیا کی پہلی منظم لسانیات کی کتابوں میں شمار کرتے ہیں۔ بھرت ہری کا فلسفہ ادراک دلچسپ ہے، ان کا ماننا ہے کہ حتمی حقیقت کا اظہار الفاظ کے ذریعہ ہوتا ہے، زبان اور ادراک آپس میں پیوست ہیں، اور روحانی بالیدگی کے لیے زبان بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔

نظریہ سفوٹ (اردو میں پھوٹ جانا) کے مطاق بولنے والے کے شعور سے پیدا ہونے والا جملہ الفاظ کی مادی آوازوں (دھونی dhavani ) سے ظاہر ہوتا ہے مگر یہ سننے والے کے ذہن میں پرتیبھا یا وجدان کے ذریعہ منکشف ہوتا ہے۔ معنی الگ الگ الفاظ اور آوازوں کے جوڑ سے پیدا نہیں ہوتا، بلکہ معنی ایک وحدت کی صورت میں شعور میں اچانک منکشف ہوتا ہے۔ مثال یوں کہ اگر میں کہوں زید نے بکر کو تھپڑ مارا تو یہاں زید سے کچھ سمجھ نہیں آیا، نہ بکر سے اور نہ تھپڑ سے، آوازیں، کان میں ایک ایک کر کے پہنچیں مگر مفہوم جملہ ختم ہونے پر واضح ہوتا ہے۔

انفرادی اورمتنوع الفاظ جن کے الگ الگ معنی ہیں وہ تمام ایک جملے میں مل کر ایک نئے اور کلی معنی کی تشکیل کرتے ہیں۔ جملے کا مفہوم حرف بحرف نہیں سمجھا جاتا بلکہ اس کا ادراک جملہ مکمل ہونے کے بعد ہوتا ہے۔ الفاظ معنی میں تبدیل ہوتے ہیں اسلیے لفظ اور معنی کے مابین تعلق ایک میکانکی ‘generator – generated’ نہیں ہے؛ بلکہ دال اور مدلول ‘Signifier-signified’ کا رشتہ ہے۔
بھرتہری تفہیم کی تین سطحیں بیان کرتے ہیں۔
۱-ناقابل تقسیم جملہ ( واک/واکیہ) ، زبان کی بنیادی اکائی الفاظ نہیں بلکہ جملہ ہے۔ کسی جملے کو الفاظ میں توڑنا مصنوعی عمل ہے۔
۲-کلی مفہوم/ واک سفوٹ: معنی ، الفاظ جوڑ کر نہیں بنایا جاتا بلکہ پورے جملے کا مفہوم ، سننے والے کے دماغ میں وحدت کے طورپر ابھرتا ہے۔
۳- سیاق و سباق context-based semantic – الفاظ کی جملہ سے باہر کوئی آزاد حیثیت نہیں ہوتی اور کسی لفظ کے حقیقی معنی سیاق و سباق کے بغیر نہیں سمجھے جا سکتے۔
لسانیات کے طلبہ تفصیلات ہری کے کام میں دیکھ سکتے ہیں، یہاں نکتہ یہ ہے کہ معنوی سطح جملہ ہے نہ کہ الفاظ اور یہی معنویت حقیقت کی اصل سطح ہے۔

بھرتہری کے ہاں شبد برہمن کا نظریہ ملتا ہے۔ جو کہ زبان اور وجود being کا رشتہ ہے۔ یاد رہے کہ قدیم فلسفہ بشمول مذاہب میں کلام اورجدید ‘متن’ text میں تفریق ہے۔ کلام ایک زندہ وحدت ہے اور اس کے اجزا الفاظ، حروف، آوازیں الگ الگ ٹکڑے نہیں بلکہ ایک کلیت ہیں۔ معنی اس کلیت سے ‘پھوٹتا’ ہے نہ کہ الفاظ مجتمع ہونے سے۔
بھرتہری کے ہاں زبان اور کلمہ محض انسانی آلات/انسٹرومنٹ ہی نہیں بلکہ حقیقت (برہمن) کی بنیادی ساخت سے پیوست ہیں۔ برہمہ کنڈ میں بری لکھتے ہیں کہ کائنات برہما سے ظہورپذیر ہوئی ہے وہ برہما جس کا نہ کوئی آغاز ہے نہ انجام، جو ہر شئی پر محیط ہے۔ برہمہ کا مظہر/تجلی زمانی اور مکانی ضرور ہے مگر برہمہ خود سب سے ماورا ہے۔ دنیا برہمہ سے پیدا ضرورہوئی مگر اس نے ‘تخلیق’ نہیں کی بلکہ کائنات برہمہ کا ظہور manifestation ہے اور برہمہ کا جوہر essence کلام ہے۔ یہاں بھرتہری عظیم یونانی فلسفی ہیراکلائٹس کے لوگوس سے مطابقت رکھتے ہیں، یا انجیل یوحنا میں جیسا ہے ‘ آغاز میں صرف کلام تھا’۔
یہی نکتہ ابن عربی کے ہاں ملتا ہے؛ ‘ العالمُ كلماتُ الله’ یعنی عالم خدا کے کلمات کا ظہور ہے۔
بھرتہری کہتے ہیں کہ برہما واحد ہے مگر اپنی بے پناہ شکتیوں کے باعث کثرت میں نمودار ہوتا ہے۔ اقبال یاد آتا ہے؛
کثرت میں ہو گیا ہے وحدت کا راز مخفی / جگنو میں جو چمک ہے، وہ پھول میں مہک ہے

اقبال بھرتہری سے اتنے متاثر تھے کہ پھول کی پتی والا انہی کا منظوم ترجمہ ” مردِ ناداں پر کلامِ نرم و نازک بے اثر” اپنے پہلے شاعری مجموعہ کا انتسابی شعر رکھا، یہی نہیں دانتے کی ڈیوائن کامیڈی سے متاثر جاوید نامہ میں اقبال جہاں روحانی معراج کا سفر بیان کرتے ہیں وہاں ہندوستان سے نہ تو سفوٹ کے اصل خالق پانینی کو جگہ دی، نہ ہی کالی داس یا شنکر اچاریہ کو بلکہ بھرتہری کو فلک بلند میں جلوہ گر دکھاتے ہیں۔
اگلی باریہی دو باتیں جدید لسانیات کی روشنی میں دیکھتے ہیں؛
جاری ہے

اپنا تبصرہ لکھیں