ہم چیزیں کیوں بھول جاتے ہیں؟ کیا یہ محض اتفاق ہے یا ہمارے لاشعور کا کوئی گہرا کھیل؟-ندا اسحاق

کیا آپ کے ساتھ کبھی ایسا ہوا ہے کہ آپ اپنی وائف یا گرل فرینڈ کا برتھ ڈے بھول گئے ہوں؟ اینیورسری کی ڈیٹ ذہن سے نکل گئی ہو؟ کسی دوست سے کیا ہوا وعدہ بھول گئے ہوں یا گھر اور گاڑی کی چابیاں رکھ کر تلاش کرتے پھر رہے ہوں؟
جب ایسا ہوتا ہے تو اکثر ہمیں کافی کچھ سننا پڑتا ہے اور ہم معافیاں مانگتے پھرتے ہیں کہ “معاف کرنا، ذہن سے بالکل نکل گیا تھا!”
اگر نیورو سائنس (Neuroscience) کے نقطہ نظر سے دیکھیں تو اسے Memory Lapses یا کوگنیٹو لوڈ (Cognitive Load) کہا جاتا ہے کہ دماغ پر کام کا بوجھ زیادہ تھا اس لیے انسان بھول گیا۔ لیکن سائیکو انالیسز (Psychoanalysis) اور سگمنڈ فرائیڈ (Sigmund Freud) کی تھوری کی روشنی میں، انسان روزمرہ کی زندگی میں کچھ بھی یوں ہی نہیں بھولتا!
فرائیڈ نے اپنی مشہور کتاب “The Psychopathology of Everyday Life” (جسے ان دنوں میں بھی پڑھ رہی ہوں) میں روزمرہ کی اس فراموشی کو Parapraxis یا Freudian Slip کا نام دیا ہے۔ (نوٹ: یہاں ہم ڈیمینشیا جیسی کسی بڑی ذہنی بیماری کی بات نہیں کر رہے، بلکہ روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی باتوں کو بھولنے پر بات کر رہے ہیں)۔
💡 شعور (Conscious) اور لاشعور (Unconscious) کی جنگ
فرائیڈ اس بات کو نہیں مانتے تھے کہ آپ کسی کا نام، برتھ ڈے یا کوئی کام یوں ہی بھول جاتے ہیں۔ ہمارے ذہن کا صرف 5% حصہ شعور (Conscious) پر مبنی ہوتا ہے، جبکہ 95% حصہ لاشعور (Unconscious) ہے جو اصل میں ہماری زندگی چلا رہا ہے۔
جب ہمارے شعور اور لاشعور کے درمیان کوئی تنازع (Psychic Conflict) پیدا ہوتا ہے، تو ہمارا لاشعور اپنے پینترے بدلتا ہے۔ اگر آپ کسی کا کام شعوری طور پر نہیں کرنا چاہتے لیکن مروت میں یا ناں نہ کہہ پانے کی عادت کی وجہ سے “ہاں” کہہ دیتے ہیں، تو آپ کا لاشعور فراموشی (Forgetfulness) کا سہارا لے کر اپنی خواہش پوری کروا لیتا ہے۔
1️⃣ فرائیڈ کی اپنی مثال:
فرائیڈ نے اپنی کتاب میں ایک دلچسپ واقعہ تحریر کیا کہ ایک نوجوان مصنف نے انہیں اپنی لکھی ہوئی کتاب پڑھ کر ریویو دینے کو کہا۔ فرائیڈ بار بار وہ کتاب پڑھنا بھول جاتے۔ جب انہوں نے اپنا خود کا نفسیاتی تجزیہ (Self-Analysis) کیا تو پتہ چلا کہ وہ اندرونی طور پر وہ کتاب پڑھنا ہی نہیں چاہتے تھے! جیسے ہی انہوں نے اس لڑکے کو صاف اور واضح الفاظ میں انکار کیا، ان کا وہ ذہنی الجھاؤ ختم ہو گیا۔
2️⃣ لوگوں کو “ناں” (No) نہ کہہ پانے کی عادت:
ہم میں سے زیادہ تر لوگ دوسروں کو خوش کرنے کے چکر میں ہر بات پر “ہاں” کہہ دیتے ہیں۔ میری ایک ایکسٹینڈڈ فیملی میں بھی ایسے صاحب ہیں جو کسی کو انکار نہیں کر پاتے اور اسی چکر میں کام نہ کر کے اپنا امیج خراب کر چکے ہیں۔ صاف اور دو ٹوک “انکار” کرنا لوگوں کو وقتی طور پر برا تو لگ سکتا ہے، لیکن یہ آپ کی اپنی ذہنی صحت اور سکون کے لیے بہت ضروری ہے۔
🧩 توہم پرستی (Superstition) اور نظربد کی اصل حقیقت
فرائیڈ کے مطابق جب لوگ اپنے لاشعوری تنازعات اور الجھنوں کو سمجھ نہیں پاتے، تو وہ توہم پرستی کا سہارا لیتے ہیں۔
میرا اپنا ذاتی اور نفسیاتی تجربہ:
میں خود بھی اپنی کلہمزینس (Clumsiness) اور چیزیں خراب کرنے کی وجہ سے کافی مشہور رہی ہوں۔ بچپن میں میری والدہ کے برتاؤ اور جملوں کی وجہ سے میرے لاشعور میں یہ بات بیٹھ گئی تھی کہ میں ایک “غیر ذمہ دار اور چیزیں خراب کرنے والی” خاتون ہوں۔
حال ہی میں جب میرے ہسبنڈ نے میری تعریف کی کہ “تم تو کافی ذمہ دار ہو گئی ہو، اتنے ٹائم سے لیپ ٹاپ بالکل صحیح چلا رہی ہو”، تو ان کا یہ جملہ میرے لاشعور میں موجود پرانی شناخت (Identity) کے ساتھ ٹکرا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اگلے ہی دن میرا لیپ ٹاپ ہینگ ہو گیا۔
جب میں نے گہرائی سے تجزیہ کیا تو پتہ چلا کہ کمپیوٹر صبح سے مجھے ایرر (Error) کے اشارے دے رہا تھا جنہیں میں لاشعوری طور پر اگنور (Ignore) کرتی رہی تا کہ میرا وہ پرانا پیٹرن دوبارہ سچ ثابت ہو جائے کہ میں غیر ذمہ دار ہوں!
میرے نزدیک نظربد یا جادو وہی ہے جو آپ کے لاشعور (Unconscious) میں چھپا ہے۔ جیسے ہی آپ اسے دیکھ کر اپنے شعور (Conscious) میں لے آتے ہیں، وہ نظربد اور خوف ختم ہو جاتا ہے۔
🌿 آپ کا ذہن: ایک خوبصورت نعمت یا درد کا ذریعہ؟
انسان کا جسم تو زمین سے بندھا ہے لیکن انسان کا ذہن کائنات کی وسعتوں میں بھی پرواز کر سکتا ہے۔
اگر آپ کا ذہن Healthy / Functional ہے تو یہ آپ کو بہترین تخلیقی صلاحیت (Creativity)، پرسکون سوچ اور تصویر سازی کا طریقہ دیتا ہے۔
لیکن اگر ذہن کسی ماضی کے صدمے (Trauma) سے گزرا ہو تو یہی ذہن آپ کو اوور تھنکنگ (Overthinking)، پشیمانی، لیمرینس (Limerence)، اور وہم کی صورت میں شدید تکلیف دیتا ہے۔
اس لیے اپنے لاشعور کو سمجھیں، اپنی سچی خواہشات کا سامنا کریں اور جہاں ضرورت ہو وہاں “نہ” کہنا سیکھیں!
کیا آپ کے ساتھ بھی کبھی ایسا ہوا ہے کہ آپ لاشعوری طور پر کوئی کام بھول گئے ہوں یا کسی کو انکار نہ کر پائے ہوں؟ کمنٹس میں اپنا تجربہ ضرور شیئر کریں۔

اپنا تبصرہ لکھیں