مغل ،ہندوستان میں کوئی علمی، سائنسی ، فلسفیانہ انقلاب برپا نہ کر سکے، اور حقیقت یہ ہے کہ وہ کسی ایسے مقصد کے بغیر ہندوستان آئے تھے، مگر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ انھوں نے ہندوستان میں تہذیب کی ایک نئی لہر کا آغاز نہیں کیا۔
انھوں نے مسلمانوں اور ہندوؤں کے موجودہ علوم کی اشاعت ، مع شروح ، ضرور جاری رکھی۔ تعلیمی مدارس قائم کیے، اور اوقاف کے ذریعے ،ان کی سر پرستی کی۔ تعلیمی طور پر ہندوستان کو پس ماندہ بہ ہر حال نہیں رکھا تھا۔
مغل تہذیب نے ہندوستانی تہذیب میں جدیدیت کی ایک خاص صورت ضرور متعارف کروائی۔
واضح رہے یہاں جدیدیت سے مراد، اٹھارھویں ، انیسویں صدی میں فرو غ پانےو الا مغربی فلسفہ ہے ، بہ بیسویں صدی کی جمالیاتی جدیدیت، بلکہ اس اصطلاح کے بنیادی ،لغوی معنی ہیں: اپنے زمانے کا ساتھ دینا، اور اسے آگے بڑھانا۔
مغلوں نے اس جدیدیت کا مرکز،شہر بنائے۔ آگرہ ، فتح پور سیکری ، لاہور اور سب سے بڑھ کر دہلی۔ اس لحاظ سے ان کی جدیدیت شہری اور اشرافی تھی، عوامی اور جمہوری نہیں تھی۔
ان کے تمام فنون : فن تعمیر سے خطاطی ومصوری ، شاعری و موسیقی کا مرکز یہی شہر تھے۔ دیہی ،قصباتی زندگی ، صدیوں سے جس ڈھب پر تھی، اسی پر برقرار رہی ۔
تاہم مغلوں کی جدیدیت کو عمارتوں کے پتھروں اور باغات کی روشوں نے نہیں، کاغذ نے بنایا۔ ہندوستان، کاغذ سے نا آشنا نہیں تھا۔ بدھ، جین مت کے راہب وقتافوقتاً کاغذ استعمال کیا کرتے تھے کہ ان میں بدھوں کا اکثر رابطہ چین سے رہا کرتا تھا۔ بعض مئورخین کا خیال ہے کہ چھٹی صدی عیسوی میں گلگت میں کاغذ بنایا جارہا تھا۔
تاہم عرفان حبیب کا مئوقف ہے کہ کاغذ، عرب مسلمانوں کے ذریعے سندھ پہنچا۔ سب جانتے ہیں کہ مسلم دنیا میں کاغذ، یورپ سے پہلے پہنچا تھا۔ مقام سمرقند بنا تھا۔ فارسی لفظ کاغذ، سمرقندی ماخذ رکھتا ہے۔
ایک حکایت یہ ہے کہ چینی قیدیوں نے وسط ایشیا کے مسلمانوں کو کاغذ بنانا سکھایا تھا۔ تاہم اسے تاریخی واقعے کے بجائے ، حکایت ہی کہا گیا ہے۔ تاریخ یہ ہے کہ آٹھویں صدی میں پہلے اموی ،پھر عباسی خلفا نے امور سلطنت چلانے کے لیے ، کھالوں (parchment) کے بجائے کاغذ استعمال کرنا شروع کردیا تھا۔
چناں چہ جہاں مسلمان گئے، کاغذ لے کر گئے۔ احکام ومقاصد بھی کاغذ ہی پر لے کر گئے۔ مغلوں کی مصوری ،خطاطی ،تراجم، روزنامچہ نویسی ، تاریخ نویسی ، اسناد کاغذ کے بغیر ممکن نہیں تھیں۔ کاغذ، تمام انتظامی ، علمی اورجمالیاتی سرگرمیوں میں مرکزی حیثیت رکھتا تھا۔کاغذکشمیر، سیالکوٹ، احمد آباد، دولت آباد،آگرہ ،لاہور میں بنایا جاتا تھا۔کاغذ کی فراوانی ہی کے سبب، مغل عہد میں کئی قسم کے کتب خانے تھے۔ مغل شہنشاہوں کے ذاتی کتب خانوں کے علاوہ ،امرا، شراف اور خانقاہوں میں کتب خانے ہوا کرتے تھے۔
اسی مقام پر مغلیہ تہذیب کی جدیدیت پسندی کو مشکل سوال کا بھی سامنا ہوتا ہے۔ کاغذ اور کتاب پر مبنی جدیدیت، ایک مقام پر رک کیوں گئی؟
یہ کسی بھی جدیدیت کے لیے،ایک کڑا سوال ہے۔ جدیدیت کی روح ، شخصی سطح پر ظاہر ہو ،یا سماجی وثقافتی منطقے میں، ایک گہرےاضطراب کی حامل ہوا کرتی ہے۔ مغل جدیدیت، اس اضطراب سے کیوں خالی تھی؟ کیوں اس نے کتاب سازی کو اس زمانے کی جدید صنعت ،یعنی چھاپے خانے سے ، وابستہ کیوں نہیں کیا؟
ایک انوکھا اتفاق یہ ہے کہ جس سال اکبر( ۱۵۵۶ء ) بادشاہ بنا، اسی سال پرتگالیوں نے گوا میں چھاپہ خانہ لگایا گیا تھا۔ گوا، دہلی کے جنوب میں محض انیس سو کلومیٹر دو ر تھا۔ یعنی دہلی اور کابل سے تھوڑا سا زیادہ فاصلہ تھا۔
تاہم اصل آئرنی یہ ہے کہ اکبر کے دربار میں اسی گوا کے یسوعی پادری ، اکثر موجود ہوا کرتے تھے، اور تجسس پسند اکبر کے علم میں،یہ نئی ٹیکنالوجی لاچکے تھے ۔لیکن اکبر ہی نہیں ،کسی مغل حکمران نے اس جانب قدم نہیں بڑھایا۔
اب ہم اس کے اسباب اور اثرات پر قیاس کرسکتے ہیں۔
بڑا سبب تو خطاطی کا فن تھا جس کا مقابلہ اس زمانے کا چھاپہ خانہ بالکل نہیں کرتا تھا۔ گوٹن برگ کا چھاپہ خانہ ، لاطینی حروف کے لیے بنا تھا، جو الگ الگ ہوا کرتے ہیں، جب کہ عربی ، فارسی اور اردو کے حروف باہم پیوست ہوتے ہیں،اس لیے ایک عملی مشکل بھی تھی ،جس کا حتمی حل ۱۸۲۰ کی دہائی میں لیتھو گرافی کی ایجا دنے نکالا۔
لیکن اس سے بھی بڑا سبب، خطاطی کی جمالیات کو سرفہرست رکھنا اور اس فن کو الہام سے جوڑنا تھا۔ آئین اکبری میں خط کو مشعل خدا کا نور کہا گہا ہے۔
یہ نور، ذاتی تجربہ ہے، چھاپے خانے کی عوامی واجتماعی اور مشینی یکسانیت میں ، یہ منتقل نہیں ہوسکتا۔ بہ ہر کیف، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مغل اشرافی جدیدیت، اپنی عمودی بلندی کو تو ضرور پہنچی ،مگر عوامی واجتماعی و جمہوری نہ بن سکی۔
اسے تاریخ کا المیہ اور تاریخ کا سبق ، دونوں کہے جاسکتے ہیں۔
(اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام مغلیہ عہد کی ادبی وثقافتی وراثت پر، ۳۱ جولائی کو، دیے گئے خطبے سے اقتباس)


