اردو شعری اصناف میں دائمی بادشاہی غزل کی ہے اور شاید اس کی بادشاہی کو زوال بھی نہیں۔اس کی کئی وجوہات ہونگی مگر سب سے پہلی یہ رائے کہ نظم سننے والی چیز نہیں پڑھنے والی ہے۔یوں تو یہ خود نظم اور نظم نگار کو بہت بڑا ٹریبیوٹ ہے مگر ایک بے بنیاد جواز ہے۔ تاہم نظم نگار اسی ادبی معاشرت کا حصہ ہے تو اسے اپنا قاری انہی قارئین سے پیدا کرنا ہے جو غزل سننے کے شائق بھی ہیں اور داد بے داد سے بھی نوازتے ہیں۔نظم نگار کیسے اس معاشرے سے کنارہ کر لے اور ایک طرف ہو جائے۔اگر وہ اس طرزِ عمل کا اظہار کرے گا تو غزل اورغزل گو کے لیے میدان بالکل خالی ہو گا۔غزل تو یہی چاہے گی کہ گلیاں ہو جان سنجیاں وچ مرزا یار پھرے۔یہ باتیں میں کسی غزل دشمنی میں نہیں کہہ رہا بلکہ اسے دلِ دردمند کی آواز پر محمول کیا جائے۔یہ بھی نہیں کہ غزل گو کسی کمی کے باعث نظم کی طرف نہیں آ رہا بلکہ ادبی معاشرت کا میلان ہی دوسری طرف ہے۔آج کل جتنی شاعری کی کتب شائع ہو رہی ہیں ان میں ننانوے فیصد غزل اور منہ کا ذائقہ بدلنے کے لیے کہیں ایک آدھ نظم کی کتاب کی اشاعت کی خبر آتی ہے۔نظم نگاروں کی کم تعداد بھی اسی خاص نکتہِ نظر کی وجہ سے ہے۔ دوست احباب کمال مہربانی سے اپنی کتب ارسال کرتے ہیں اور ہم نیک نیتی سے اس پر حسبِ توفیق لکھنے کی کوشش بھی کرتے ہیں ان میں ساری کی ساری کتب غزلوں کی ہی ہوتی ہیں۔دوئم اگر آپ نظم نگاروں کی فہرست بنانا چاہیں تو ضلع کو تو چھوڑیں صوبوں کو سامنے رکھیں تو پنجاب کے علاوہ کہیں کہیں کوئی نظم کا بندہ نظر آئے گا۔جب پنجاب پر نظر ڈالیں تو آپ کو اس صوبے کے زیادہ اضلاع نظم نگاروں سے خالی ہی نظر آئیں گے۔آزمائش شرط ہے۔رحیم یار خان سے اٹک تک بیشک دیکھ لیجیے۔اب جو جانے پہچانے اور مانے ہوئے تخلیق کاروں کی کتب موصول ہوئی ہیں وہ سب غزل کی شاعری پر مشتمل ہیں۔ہم نے سلیم شہزاد، ناہید قمر اور سلطان ناصر کی نظموں کی کتب الگ رکھی ہیں تا کہ ان پر کسی اور وقت پر لکھا جائے۔
ہم نے موصولہ کتب میں سے چار نمائندہ شاعروں کا انتخاب کیا ہے۔یہ چاروں شاعر انتہائی پڑھے لکھے اور دانشور قسم کے تخلیق کار ہیں۔ان میں ایک شاعرہ صائمہ آفتاب ہے۔ویسے جب شاعرں کی بات کی جائے تو شاعرات کو الگ زمرے میں رکھنا نامناسںب سا ہے۔جب شاعروں کی بات کی جائے تو سمجھا جانا چاہیے کہ ان میں عورت مرد سب شامل ہیں۔صائمہ آفتاب کا پہلا مجموعہ عمر بھر کی بات اپنے اندر بہت سارے اشعار ایسے ہی سنبھالے ہوئے ہے جیسے اس نے تعلق، رشتے، روایات اور ذمہ داری کو سنبھالا ہے۔یہ غزل اپنی روایات اور وراثت سنبھالنے کی غزل ہے۔یہاں چیزوں کو درست جگہ پر رکھنے کی تمنا ہے اور ان کی حفاظت کا قرینہ ہے۔
نبھانا ہے بہر صورت یہ کاروبارِ دنیا/ کہ عشق و عاشقی کا
سلسلہ کافی نہیں ہے/ہیں ایک در کے سو نیت خراب مت کیجے
/نظر نہ ڈالیے نیت خراب مت کیجے/ سنہری نیند ہلکا زیر و بم آہستہ آہستہ/درودِ تاج کا سینے پہ دم آہستہ آہستہ
/یہ آبِ تند رو پر جھولتے پل کی مسافت/ کنارے پر کھڑے لوگوں کو اندازہ نہیں ہے/ میں اپنے بھائیوں کو زندگی کے گر سکھاتی ہوں/مرے ابو یہ کہتے تھے کہ میں سردار عورت ہوں
شاہد ماکلی اپنے الگ اسلوب والا شاعر ہے اس پر اس کا بیدل کا ذوق مستزاد جس نے اس کی فکر کو وسعت اور گہرائی دی ہے۔روایت میں ایسا گندھا شعر کم کم دستیاب ہے۔یہ حیرت خانہِ فکر ہے اور اسی کی یہاں حکمرانی ہے۔دوسرا اس کی غزل پڑھ کر آپ کو انتخاب کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ کون سا شعر کوٹ کیا جائے اور کون سا نہیں۔تجاذب کا ہر شعر ایک انتخاب ہے
دنیا پھرے نہ غیب کے باغوں کی سیر کی/ ہم نے تری ثنا تجھے دیکھے بغیر کی/ جہاز اک دن سمے کے دوسرے ساحل سے پہنچیں گے/ہمارے حال تک کچھ لوگ مستقبل سے پہنچیں گے/ جب حالتِ یکساں میں پڑی ہوتی تھی دنیا/ دل حالتِ یکساں میں پڑا ہوتا نہیں تھا/ ترے زرد خطے میں خاک اڑانے سے وقت ملتا اگر کبھی/ تو /میں زندگی ترے سبز پوش علاقہ جات میں گھومتا/ خط قلم شمع ہیں ماضی کے فسانے تینوں/یا کتابوں میں ہیں یا میرے سرہانے تینوں/ ابد کے طشت میں کچھ پھول کچھ ستارے لیے/ یہ میں ہوں دور سے آیا ہوا تمہارے لیے
محمود ناصر ملک کسی الگ حکایت کا راوی ہے اس کی کہانی بھی نئی ہے اور اس کے سنانے کا انداز بھی نیا۔یہ کوئی دریافت کا عمل ہے جس میں وہ قاری کو شریک کرتا ہے۔ان دیکھے رستے اور ان دیکھے خوبصورت لوگ مقامات کے معانی تبدیل کر دیتے ہیں یہی سب کچھ بادل جھکتے پانی پر میں موجود ہے۔یہ شاعری بارش کا تازہ تر چھینٹا ہے جو پہلے کہیں نہیں برسا ہے۔یہ شام ازل رنگ انہی چڑیوں کے لئے تھی/ یہ خوابِ ابد تاب انہی شاخوں کی لئے تھا/ اکیلا دیکھ کر مجھ کو وہ چڑیاں روٹھ جائیں گی/ ہماری شام کا آنگن جنہیں آباد کرنا تھا/ وہ گہری چاپ کہ اپنی طرف بلاتی ہے/ وہ ایک پھول مرے راستوں میں کھلتا ہے/ کس زمیں کی خوشبو ہے باغیوں کے سینے میں/کون سے جزیرے ہیں پانیوں میں روشن ہیں/ مری آنکھوں نے دیکھی تھیں جہانِ خواب کی گلیاں/ بدن میرے مرے اندر کہاں کی خاک اڑتی ہے۔
یہ چڑیوں کی چہکار بھری غزل ہے۔
” حالانکہ“ رستم نامی کا تازہ مجموعہِ غزل ہے۔یہ مشاہدات اور تجربات کی شاعری ہے۔اس میں زندگی کے ان مشاہدوں اور تجربات کا اظہار ہے جو شاعر نے خود بھوگے ہیں۔یہاں مانگے تانگے کا تجزیہ نہیں اس کا ذکر ہے جو براہِ راست شاعر کی آنکھ نے دیکھا اور معاشرے نے سہا ہے۔یہاں ان رویوں کے خلاف صدائے احتجاج ہے جس نے عام آدمی کی زندگی کو مشکل بنایا ہوا ہے۔شاعر نے یہاں کوئی نصیحت نہیں اپنا راست تجربہ شئیر کیا ہے۔
ہم جو دیکھیں گے تعصب کی نظر سے نامی/ پاک دامن بھی گنہگار نظر آئیں گے/ شہر سے لوٹ کر نہیں آتے/ جو مضافات سے گئے تو گئے/شاعروں میں بھی اگر غور کیا جائے تو/ آدمی کام کے دو چار نظر آئیں گے/ اسے دارالخلافہ بولتے ہیں/ جہاں انساں ہو کم افسر زیادہ/ ایک دم ختم ہو نہیں سکتی / یہ کئی سال کی خرابی ہے۔ ان چاروں شعرا میں دو یعنی محمود ناصر ملک اور صائمہ آفتاب کے مجموعوں میں نظمیں بھی شامل ہیں اس کا مطلب ہے کہ وہ کسی شعری عجز کا شکار نہیں ہیں۔ انہیں نظم کے رجحانات کا بھی بخوبی علم ہے اور وہ نظم کہنے پر قادر بھی ہیں مگر ان کا میلان غزل کی جانب زیادہ ہے۔ہمارے کہنے پر تو نظم کی طرف شاید نہ آئیں مگر انہیں نظم خود ایک دن ضرور ادھر لائے گی۔ ایسے خلاق شاعر نظم کہنے کے امکانات کے باوجود نظم سے کسی حد تک گریزاں ہیں تو مان لینا چاہیے کہ ادبی سٹاک ایکسچینج میں غزل ہی بکتی ہے۔


