لفظوں سے پرے (خط)-علی عبداللہ

میرے عزیز،

آج اے حمید کا افسانہ “منزل منزل” پڑھتے ہوئے میں کافی دیر تک ایک اقتباس پر ٹھہرا رہا- بعض تحریریں پڑھی نہیں جاتیں، بس آدمی کے اندر کہیں اتر جاتی ہیں اور پھر خاموشی سے اپنا کام کرتی رہتی ہیں۔ یہ اقتباس بھی کچھ ایسا ہی تھا۔

موم بتی کی دھیمی روشنی میں دو انسان بیٹھے باتیں کر رہے ہیں۔ باہر کی دنیا جیسے کچھ دیر کے لیے اپنی رفتار بھول گئی ہو اور کمرے کے اندر صرف دو آوازیں رہ گئی ہوں۔ ان آوازوں میں کوئی غیر معمولی بات نہیں، مگر شاید انسانی قربت کی اصل خوبصورتی بھی یہی ہے کہ وہ غیر معمولی ہونے کا دعویٰ نہیں کرتی۔ مجھے ہمیشہ حیرت رہی ہے کہ دو انسان ایک دوسرے کے قریب آخر آتے کیسے ہیں؟ کیا صرف گفتگو انہیں قریب لاتی ہے یا ان کی مشترکہ پسند، مشترکہ یادیں یا ایک جیسے خواب؟ مگر مجھے محسوس ہوتا ہے کہ یہ سب قربت کا باعث نہیں ہیں- قربت کی ابتدا اس لمحے ہوتی ہے جب انسان دوسرے کے سامنے اپنے آپ کو ثابت کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ جب گفتگو میں لفظ کم اور خاموشی زیادہ بولنے لگتی ہے۔ جب سامنے بیٹھا ہوا شخص محض ایک شخص نہیں رہتا بلکہ ایک ایسی جگہ بن جاتا ہے جہاں آدمی اپنے اندر کی وہ بات بھی رکھ سکتا ہے جسے وہ خود سے کہنے سے گھبراتا رہا ہو۔

اسی لیے اے حمید نے دو آوازوں کو دو دریاؤں سے تشبیہ دی ہے۔ دو دریا اپنی الگ شناخت رکھتے ہوئے بھی ایک دوسرے میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محبت بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ اس میں دو انسان ایک نہیں ہوتے، مگر ان کے درمیان ایک ایسی روانی پیدا ہو جاتی ہے جس میں دونوں اپنی اپنی سمت سے آتے ہوئے ایک مشترک کیفیت میں داخل ہو جاتے ہیں۔ اور پھر شگوفوں کی وہ مثال…ایک ہی شاخ پر کھلے ہوئے دو پھول۔

یہ تشبیہ بظاہر بہت سادہ نظر آتی ہے، مگر اس میں انسانی رشتوں کا ایک گہرا راز چھپا ہوا ہے۔ ہم جن لوگوں سے محبت کرتے ہیں، ان کے ساتھ ہمارا تعلق ہمیشہ کسی بڑے واقعے سے نہیں بنتا۔ کبھی ایک نظر، ایک جملہ، ایک بے سبب مسکراہٹ یا کسی معمولی سی بات کے دوران پیدا ہونے والی خاموشی دل میں ایسی جگہ بنا لیتی ہے جسے بعد میں الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ محبت کی اصل طاقت بھی یہی ہے کہ وہ بڑے دعووں سے نہیں، چھوٹی چھوٹی چیزوں سے اپنا گھر بناتی ہے۔ایک آواز۔۔۔ایک لہجہ۔۔۔کسی کے بولتے ہوئے اچانک رک جانے کا انداز۔۔۔کسی بات پر بے اختیار مسکرا دینا۔ اور کبھی صرف یہ احساس کہ سامنے بیٹھا ہوا شخص تمہاری بات سمجھ رہا ہے، حالاں کہ تم نے اپنی بات پوری طرح کہی بھی نہیں۔ یہاں آ کر ادب، زندگی کے بہت قریب ہو جاتا ہے۔

افسانے کے اس منظر میں مجھے سب سے زیادہ خوبصورت چیز موم بتی کی روشنی نہیں لگی، بلکہ وہ کیفیت لگتی ہے جس میں دو انسان ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھے ہوئے اپنی اپنی تنہائی سے کچھ دیر کے لیے باہر آ جاتے ہیں۔ ہم سب اپنی اپنی دنیا میں تنہا ہیں۔ ہمارے اندر کچھ ایسے کمرے ہیں جن کے دروازے ہم ہر شخص کے لیے نہیں کھولتے۔ مگر کبھی کوئی ایسا شخص مل جاتا ہے جس کے سامنے وہ دروازہ خودبخود کھل جاتا ہے۔ نہ کوئی سوال ہوتا ہے، نہ اصرار، نہ وضاحت؛ بس ایک بھروسہ ہوتا ہے۔ یہی بھروسہ محبت کی سب سے خاموش شکل ہے۔

ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ محبت کسی کو حاصل کرنے کا نام ہے- حالاں کہ محبت کسی کو سمجھنے کی مسلسل کوشش کا نام ہے۔ کسی انسان کو اس کی خوبصورتی میں قبول کرنا آسان ہے، مگر اس کی الجھنوں، خاموشیوں، کمزوریوں اور ان باتوں کے ساتھ قبول کرنا جو وہ خود اپنے بارے میں پسند نہیں کرتا، یہ محبت کا مشکل مرحلہ ہے۔ اسی لیے مجھے لگتا ہے کہ حقیقی قربت میں گفتگو ہمیشہ ضروری نہیں رہتی۔ کبھی دو لوگ خاموش بیٹھے رہتے ہیں اور پھر بھی ایک دوسرے سے بہت کچھ کہہ رہے ہوتے ہیں۔ کبھی کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے الفاظ صرف ان باتوں کے لیے ہیں جنہیں زبان ادا کر سکتی ہے؛ محبت ان باتوں کی زبان ہے جنہیں زبان ادا نہیں کر سکتی۔

یہی وجہ ہے کہ کچھ لمحے گزر جانے کے بعد بھی ہمارے اندر باقی رہتے ہیں۔ وقت انہیں اپنے ساتھ لے جانے کے بجائے ہمارے اندر کہیں محفوظ کر دیتا ہے۔ برسوں بعد کوئی خوشبو، کوئی دھن، کسی کتاب کا ایک جملہ یا موم بتی کی مدھم روشنی اچانک اس محفوظ دنیا کا دروازہ کھول دیتی ہے، اور ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ انسان صرف اپنے حال میں نہیں جیتا؛ وہ اپنی یادوں، اپنے احساسات اور ان لوگوں کے ساتھ بھی جیتا ہے جنہوں نے کبھی اس کے اندر کوئی چراغ روشن کیا تھا- انسان بھی برا عجیب ہے- وہ اپنی پوری زندگی میں ایسے ہی چند موسم تلاش کرتا رہتا ہے؛ کبھی کسی شخص میں، کبھی کسی شہر میں، کبھی کسی کتاب میں اور کبھی کسی ایک جملے میں۔

اب تم سے اور کیا کہوں اور کیا نہ کہوں۔۔۔؟ زندگی کے بڑے راز بڑے واقعات میں نہیں چھپے ہوتے۔ وہ اکثر ایسے ہی معمولی لمحوں میں سانس لے رہے ہوتے ہیں جنہیں ہم گزرتے ہوئے لمحے سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔
اور ہاں آخر میں بس یہی کہوں گا کہ زندگی کی خوبصورتی یہ ہے کہ اس کے معنی ہمیشہ شور میں نہیں ملتے۔ کبھی کبھی وہ ایک دھیمی آواز، ایک ٹھہری ہوئی نظر اور کسی کے ساتھ خاموش بیٹھے رہنے میں پوری طرح ظاہر ہو جاتے ہیں۔

تمہارا اپنا۔۔۔
عبداللہ

اپنا تبصرہ لکھیں