فطرتاً ہر انسان اپنے بچوں سے بہت پیار کرتا ہے اور اپنی اولاد کو ہمیشہ سب سے منفرد اور اعلیٰ دیکھنا چاہتا ہے۔ اِس محبت کا پہلا اظہار نام رکھنے سے ہوتا ہے۔
چند ماہ قبل ایک رشتہ دار خاتون کی پہلی بیٹی پیدا ہوئی تو کہنے لگیں: ”کوئی اچھا سا نام تجویز کریں۔“ اُن کی خواہش پر دستیاب کُتب،انٹر نیٹ اور سوشل میڈیا چھان مارا اور لگ بھگ پانچ سو نام تجویز کیے۔ اِن ناموں کو منتخب کرنے میں بروج کے مطابق تاریخ پیدائش اور نام کے پہلے حروف کو بھی مدنظر رکھا گیا۔ تاہم اُنھیں کوئی نام پسند نہ آیا اور اُنھوں نے اپنی بیٹی کا پہلے سے سوچا ہوا ایک منفرد نام رکھ دیا۔ بقول احمد فراز:
ہم کو اچھا نہیں لگتا کوئی ہم نام ترا
کوئی تجھ سا ہو تو پھر نام بھی تجھ سا رکھے۔
نام رکھتے ہوئے لوگوں کہ خواہش ہوتی ہے کہ ایسا نام رکھا جائے جو کسی کا نہ ہو، خصوصاً رشتہ داروں میں تو بالکل بھی نہ ہو۔ اسی لیے منفرد نام تلاش کیے جاتے ہیں۔اب تو غیر معروف نام رکھنا اس قدر رواج پا چکا ہے کہ وہ الفاظ بھی بطور نام رکھے جا رہے ہیں جن کے معنوں، تلفظ اور لکھت میں ابہام پایا جاتا ہے۔ اِس کی بنیادی وجہ عربی، فارسی، ہندی اور دیگر مغربی ثقافتوں اور زبان و ادب کے اثرات ہیں۔ مختلف تہذیبوں کے زیر اثر، نام رکھنے میں بھی واضح طور پر تبدیلیاں نظر آ رہی ہیں۔ قریباً چار پانچ دہائیاں قبل رکھے جانے والے نام جیسے ؛ اللہ رکھا، بھاگ بھری، ست بھرائی،اللہ دتہ, فتح دین, گاما,اللہ رکھی,مائی جندو,مائی بھاگی، حاجانی، زر گل، مٹھل،مہر بانو، گل بانو اور خیر النساء وغیرہ اب ناپید ہوتے جارہے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اِس کی ایک بڑی وجہ ہمارے قلم کار بھی ہیں، جنھوں نے ہماری تہذیب و ثقافت سے جڑے ناموں کو مزاحیہ کردار بنا کر تضحیک کا نشانہ بنایا۔ افسانوں، کہانیوں، ناولوں اور ڈراموں میں یہ نام اُن کرداروں کے رکھے جاتے رہے ہیں جن کو جاہل، اجڈ اور گنوار بنا کر پیش کرنا ہوتا ہے اور اب رہی سہی کسر سوشل میڈیا نے پوری کردی ہے۔ یہ کہنا بجا ہو گا کہ مذکورہ بالا نام ہماری زبان و ثقافت کا حصہ ہیں۔ اِن ناموں کی اس طرح قدر نا شناسی کسی صورت بھی قابل قبول نہیں ہے۔
نام رکھنے میں ایک اور تبدیلی ناموں کے نمونوں اور نئے مرکبات میں بھی آئی ہے۔ پہلے مقدس ہستیوں کے نام پر نام رکھتے ہوئے اِس کے ساتھ عبد، کنیز یا غلام کا سابقہ لگایا جاتا تھا، جو اب کم کم نظر آتا ہے۔ دوسری اہم تبدیلی جو قابل توجہ ہے، وہ قرآنی الفاظ اور انتہائی مقدس تلمیحات کا بطور نام استعمال کرنا ہے۔ اس طرف بھی خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔
پاکستانی ثقافت مختلف زبانوں، تہذیبوں اور دیگر عوامل کو خود میں سمیٹ رہی ہے، اِسی لیے ناموں کو بھی جدت دینے میں کوئی قباحت نہیں۔ مگر ہمیں اپنی مٹی سے بھی جڑے رہنا ہے۔ اپنی زبان اور ثقافت کو کمتر سمجھ کر نظر انداز کرنا کسی صورت بھی قابل تحسین عمل نہیں قرار دیا جا سکتا۔
اگر خواتین کی بات کی جائے تو عموماً وہ شادی کے بعد اپنا نام شوہر کے نام سے جوڑ لیتی ہیں، جو بعد میں کئی مسائل کا باعث بنتا ہے۔ خاص طور پر ملازمت کرنے والی خواتین کے لیے مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔ اسی طرح وراثتی معاملات اور دیگر امور جن میں دستاویزات کی ضرورت پڑتی ہے، اُن میں بھی اُلجھنیں بڑھ جاتی ہیں۔
بلاشبہ اسلام ہمیں اپنے بچوں کے اچھے نام رکھنے کی ہدایت کرتا ہے۔ کیوں کہ نام محض شناخت ہی نہیں بلکہ اسِ کی معنویت شخصیت پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ لہٰذا مذکورہ گزارشات کو مدنظر رکھتے ہوئے اچھے، پاکیزہ اور باوقار نام رکھے جائیں۔


