جذبۂ جشن، پاؤں کے راستے / محمد فاروق نتکانی

بھئی، مانتے ہیں کہ آپ کے اندر جشن منانے کا جذبہ بے انتہا ہے؛ اتنا بے انتہا کہ دل میں سماتا نہیں، سو پاؤں کے راستے باہر نکل آتا ہے۔ مگر خدا کے واسطے، اس قومی جذبے کو ذرا مہذب راستہ بھی دکھا دیجیے۔

جشن منانا یقیناً ہمارا حق ہے، مگر یہ حق کسی دوسرے کی جان، گاڑی، دکان، شیشہ، موٹر سائیکل یا عزتِ نفس پر استعمال کرنے کا لائسنس نہیں۔

تنگ سڑک ہو، بازار میں ہجوم ہو، موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں کا اژدہام ہو، بچے، بوڑھے اور خواتین راستے میں چل رہے ہوں ایسے میں اگر آپ کا جذبۂ آزادی اچانک پاؤں میں منتقل ہو کر ایکسیلیٹر، ہارن اور ون ویلنگ کی صورت اختیار کر لے تو اسے جشن کہنا کچھ ایسا ہی ہے جیسے کسی کی چھت گرا کر کہنا کہ ہم نے تعمیر کا تہوار منایا ہے۔

حضور! جذبہ ضرور نکالیے، مگر خالی جگہوں پر۔ شہر کی سڑکیں آپ کے جذبات کی ریسنگ ٹریک نہیں ہیں۔ دوسروں کی جان و مال کو روند کر منایا جانے والا جشن، جشن کم اور اجتماعی امتحان زیادہ ہوتا ہے۔

ذرا یہ بھی یاد رکھیے کہ آزادی کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کو دوسروں کی آزادیِ آمدورفت، سلامتی اور سکون سلب کرنے کی آزادی بھی مل گئی ہے۔

سو جشن منائیے، جھنڈے لہرائیے، نعرے لگائیے، خوشی کیجیے مگر اپنے جذبے کو اتنا بھی بے لگام نہ ہونے دیجیے کہ قانون پیچھے رہ جائے، عقل گھر رہ جائے اور ایمبولینس آپ کے جشن کے درمیان راستہ تلاش کرتی پھرے۔

آخر وطن ہمیں جشن منانے کے لیے ملا ہے، ایک دوسرے کو روندنے کے لیے نہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں