دھواں بازی(افسانہ)- حامد یزدانی

جیسے ہی سبز اور سفید رنگ کی دو منزلہ سرکاری ’گو‘ ٹرین برلنگٹن کے ایلڈر شاٹ اسٹیشن سے ٹورانٹو کے لیے روانہ ہوئی، ڈیوڈ اور ملک اپنی اپنی سیٹ پر جا بیٹھے۔ وہ دونوں ہیملٹن کی میک ماسٹر یونیورسٹی میں پڑھتے تھے اور ان کی عمریں بیس بائیس برس سے زیادہ نہ رہی ہوں گی۔
ایلڈر شاٹ ریلوے اسٹیشن جغرافیائی اور سرکاری طور پر تو شہر برلنگٹن کا حصہ ہے، مگر ہیملٹن کے نواحی قصبے واٹر ڈاؤن سے قربت کے باعث اکثر لوگ اسے واٹر ڈاؤن ہی سے منسوب کر دیتے ہیں۔ میک ماسٹر یونیورسٹی سے قریب ترین ’گو‘ ٹرین اسٹیشن شاید جان اسٹریٹ والا ہے جو شہر کے ڈاؤن ٹاؤن میں واقع ہے — اور وہیں قریب سے ’گو‘ بس بھی مل جاتی ہے — مگر ڈیوڈ اور ملک نے ٹورانٹو جانے کے لیے جان بوجھ کر طویل راستہ اختیار کیا تھا۔ ایک تو انھیں پہنچنے کی کوئی جلدی نہ تھی، دوسرے وہ حسبِ عادت چھٹی کے دن کی آوارہ گردی سے لطف اٹھانا چاہتے تھے۔
درجۂ حرارت اس وقت کم تو نہ تھا، مگر مطلع بھی صاف نہیں تھا۔ دن ویسا روشن اور شفاف نہیں تھا جیسا عام طور سے ہوا کرتا ہے۔ فضا میں دھوئیں اور دھند نے مل کر ایک مہین سی سرمئی چادر تان رکھی تھی۔
یونیورسٹی سے وہ پیدل ہی ویسٹ ڈیل ولیج پہنچے تھے، جہاں اپنی پسند کے ایک ایرانی ریستوران میں انھوں نے لنچ کیا۔ ریستوران کے ساتھ ہی دو مصروف کیفیز میں سے انھوں نے ہمیشہ کی طرح مقامی کیفے کو مشروبات کے لیے منتخب کیا۔ حالاں کہ دوسرا کیفے — جو ایک ملٹی نیشنل کمپنی کی ملکیت تھا — مقامی کیفے سے کہیں زیادہ مشہور تھا، اور دنیا کے بیشتر بڑے شہروں میں اس کی فرنچائزڈ شاخوں پر لوگوں کا ہجوم رہتا ہے۔ مگر وہ دونوں چھوٹے اور مقامی کاروباروں کی حوصلہ افزائی ضروری سمجھتے تھے۔
ملک نے کیفے سے درمیانے سائز کی ٹھنڈی فرنچ ونیلا لی، جب کہ ڈیوڈ نے بڑے سائز کی وہ آرگینک ڈی کیف کافی خریدی جس کی فروخت سے حاصل شدہ آمدنی میں کاشت کاروں کو برابر کا حصہ دیا جاتا ہے۔ یہ کمپنیاں ’کارپوریشن‘ کے بجائے ’کوآپریشن‘ کی بنیاد پر کاروبار کرتی ہیں۔
مشروبات سے لطف اندوز ہوتے ہوئے وہ کیفے سے نکلے اور پیدل ہی جیکسن سکوائر پہنچ گئے، جہاں سے انھیں برلنگٹن اور واٹر ڈاؤن کے لیے بس مل گئی۔ دونوں نے اپنی جیبوں سے کارڈ نکال کر خاتون ڈرائیور کے پاس نصب اسکرین پر ٹیپ کیا، جس پر ڈرائیور نے پیشہ ورانہ مسکراہٹ کے ساتھ ’تھینک یو‘ کہا اور بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
بس میں حسبِ توقع زیادہ سواریاں نہ تھیں۔ دھوپ کا چشمہ پہنے ڈرائیور نے شیشے میں سے ایک نظر اندرونی صورتِ حال پر ڈالی، پھر ڈیش بورڈ پر ایک بٹن دبا کر دونوں خودکار دروازے بند کیے اور باہر کی ٹریفک دیکھتے ہوئے بس کو مرکزی سڑک پر ڈال دیا۔ بس فن کاروں کی سڑک — جیمس اسٹریٹ — سے ہوتی ہوئی کینن اور وہاں سے یارک اسٹریٹ کی جانب رواں ہو گئی۔
ہیملٹن شہر اپنے تاریخی دھات کے کارخانوں اور گودی کے علاوہ اپنی یک طرفہ ٹریفک کے لیے بھی مشہور ہے۔ اس کی ہر دوسری سڑک ون وے ہے۔ بس یارک اسٹریٹ پر دوڑ رہی تھی اور وہ دونوں بھی اکثر دیگر سواریوں کی طرح اپنے اپنے فونز پر نظریں جمائے بیٹھے تھے۔ کبھی کبھار ایک آدھ لمحے کو سر اٹھا کر دائیں بائیں دیکھ لیتے۔
دائیں جانب سفید براق تاریخی محل ’ڈنڈرن کیسل‘ اور بائیں طرف گلابی پھولوں میں گھرا شہر کا قدیم اور وسیع قبرستان پیچھے کی طرف بھاگ رہا تھا۔ پھر بس نے اونٹاریو جھیل کی گودی کا پل پار کیا، اور دونوں جانب رائل بوٹینیکل گارڈنز کے منفرد پودوں اور رنگا رنگ پھولوں سے لدے باغات ان کی نظروں کے سامنے آ گئے — مگر سموگ نے اردگرد کے مناظر کو دھندلا کر رکھا تھا۔
دیکھتے ہی دیکھتے یارک اسٹریٹ پلینز روڈ میں بدل گئی، اور لا سیل پارک والی سڑک سے بائیں مڑتے ہوئے وہ ایلڈر شاٹ ٹرین اسٹیشن پہنچ گئے۔
ٹرین کا انتظار انھیں زیادہ دیر نہ کرنا پڑا۔ ٹرین پہنچی تو وہ ٹہلتے ہوئے سوچے سمجھے بغیر اس کے پانچویں ڈبے میں سوار ہو گئے، حالاں کہ اگلے چار اور پچھلے پانچ ڈبوں میں بھی خال خال ہی کوئی سواری تھی۔ ڈبے کی نچلی منزل پر طائرانہ نگاہ ڈالتے ہوئے وہ اوپر کی منزل کی سیڑھیوں کی طرف بڑھے۔
بالائی منزل پر ان کے علاوہ چار مسافر بیٹھے تھے: ایک مرد اور عورت دائیں جانب ساتھ ساتھ، جب کہ ایک ادھیڑ عمر مرد اور ایک لڑکی ایک دوسرے سے دور واقع سیٹوں پر۔ ڈیوڈ اور ملک نے دائیں جانب کی سیٹیں چنیں اور بیٹھتے ہی پھر سے اپنے اپنے فون کی طرف متوجہ ہو گئے۔
عام طور سے وہ سفر کرتے ہوئے باہر کے مناظر سے لطف اندوز ہوتے تھے، مگر آج باہر دیکھتے بھی تو کیا؟ ٹرین چلنے پر پیچھے کو بھاگتے سرسبز درختوں اور رنگا رنگ خود رو جھاڑیوں کے دل کش مناظر — جو ہمیشہ کھڑکی سے باہر دعوتِ نظارہ دیتے تھے — آج دھوئیں اور کہرے میں چھپے ہوئے تھے۔
دھند ڈیوڈ کو خاص پسند نہ تھی، مگر ملک کو اچھی لگتی تھی۔ دھند میں چھپتے ابھرتے مناظر اس کے اندر عجب جوش پیدا کر دیتے تھے — جیسے بچے کسی جادوگر کے کمالات پر حیرت زدہ ہوتے ہیں۔ مگر یہ وہ دھند نہ تھی، یہ وہ کہرا نہ تھا؛ سیاہ دھوئیں کی آمیزش نے اسے سُرمئی بنا دیا تھا۔ میلی دھند کا پھیلاؤ تھا چار سُو۔
یونیورسٹی اور ویسٹ ڈیل ولیج میں انھیں یہ کیفیت اتنی محسوس نہ ہوئی تھی، مگر جیسے جیسے ٹرین ٹورانٹو کی طرف بڑھ رہی تھی، فضا کی کثافت بھی بڑھتی جا رہی تھی۔ وہ اب تک خاموش بیٹھے تھے۔ سیل فونز سے مکالمہ جاری تھا۔
ٹرین اوک وِل اسٹیشن سے آگے بڑھی تو ملک نے اپنا فون بند کر دیا اور قدرے تشویش اور اداسی کے ساتھ کھڑکی سے باہر دیکھنے لگا۔
’’ڈیوڈ یار، دیکھ رہے ہو نا تم؟ دور بھڑکتی جنگلوں کی آگ کے دھوئیں کے اثرات یہاں تک پہنچ گئے ہیں۔ ہماری فضا بھی مکدر ہو کر رہ گئی ہے۔ میرا تو اس آلودگی کو دیکھ دیکھ کر ہی دم گھٹتا ہے۔ اس میں سانس لینا کتنا بُرا ہو گا!‘‘
پاکستان سے ماحولیاتی سائنس پڑھنے آئے ملک نے باہر کی آلودہ فضا کی طرف دیکھتے ہوئے صاف ستھری انگریزی میں کہا۔ پاکستان میں ماحولیات کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال کا اسے پورا ادراک تھا، اسی لیے اس نے اعلیٰ تعلیم کے لیے یہی مضمون منتخب کیا تھا۔ اس کے ملک میں سیلاب اور زلزلے کی تباہ کاریوں میں اضافے کے خدشات مسلسل بڑھ رہے تھے، اور وہ ماحولیاتی تبدیلیوں ہی کو ان سانحات کا ذمہ دار سمجھتا تھا — اور ان کے سدِ باب کے لیے کچھ کرنا چاہتا تھا۔
اس کی بات سن کر ٹورانٹو میں پلے بڑھے ڈیوڈ نے بس اپنا سر اثبات میں ہلا دیا۔ ڈیوڈ پیدائشی ’ٹورانٹونئین‘ تھا۔ اپنے شہر کو ٹورنٹو یا ٹورانٹو کے بجائے ’ٹورانو‘ کہتا تھا، اور بات بات میں انگریزی کا ’لائیک، لائیک‘ استعمال کرنا اور کبھی کبھار ’ایف‘ لفظ کو ایک ہی جملے میں دو بار شامل کر دینا اسے معیوب نہ لگتا تھا۔
چند لمحے خاموش رہنے کے بعد اس نے ملک کی تائید میں کہا: ’’یقین نہیں آتا کہ ہمارے منظر دیکھتے ہی دیکھتے کیسے دھندلا گئے ہیں۔ یہ گدلی دھند، یہ دھواں — ہماری صحت کے لیے قطعی اچھا نہیں۔ یہ تو موت ہے… سراسر موت۔ میری آنکھیں تو باہر دیکھنے ہی سے جلنے لگتی ہیں۔ اب کیا بتاؤں تمہیں!‘‘
ملک نے اس کی بات خاموشی سے سنی اور اپنی نشست کی پشت سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔
’’مانا کہ میں ماہرِ ماحولیات نہیں، بس ایک اسٹوڈنٹ ہوں اس مضمون کا، مگر یہ بات خوب جانتا ہوں کہ جنگلوں میں آگ کا بھڑک اٹھنا کوئی نئی یا انہونی بات نہیں۔ گرمیوں میں ایسا ہو ہی جاتا ہے — مگر امریکا کی ریاستوں میں یا پھر ہمارے صوبوں برٹش کولمبیا اور البرٹا میں، اور وہ بھی محدود پیمانے پر۔ مگر اس بار تو حد ہو گئی۔ اب اس کے اثرات براہِ راست ہمارے صوبے تک پہنچ گئے ہیں اور ہماری زندگیاں بھی اجیرن بنا رہے ہیں۔‘‘ ملک نے ٹھہرے ٹھہرے، تشویش بھرے لہجے میں کہا۔
’’کیا کہتے ہو؟ کتنے شہروں کی فضا ہے آگ اور دھوئیں کی لپیٹ میں؟ کچھ اندازہ؟‘‘ ڈیوڈ نے پوچھا۔
جواب دینے سے پہلے ملک نے جلدی سے اپنے فون کی اسکرین پر انگلیاں گھمائیں، اعداد و شمار گوگل کیے، اور بولا: ’’تو ہمارے گوگل صاحب بھی ٹھیک ٹھیک تعداد نہیں بتا پا رہے۔ فرماتے ہیں کہ کینیڈا کے متعدد شہر اس وقت فضائی آلودگی کی زد میں ہیں — اور فضائی آلودگی کی ایسی گمبھیر صورت پہلے کبھی پیدا نہیں ہوئی۔ تشویش ناک سطح پر ہے آلودگی کا پیمانہ ان دنوں۔ ہمارے شہر ٹورانٹو — بلکہ یوں کہو تمہارے شہر ’ٹورانو‘ — سمیت کینیڈا کے کئی اور شہروں کو اس وقت دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں شمار کیا جا رہا ہے۔‘‘ ملک نے کسی ریڈیو نیوز کاسٹر کی نقل اتارتے ہوئے کہا۔
یہ سن کر ڈیوڈ کسی گہری سوچ میں ڈوب گیا۔ پھر آہستہ سے بولا: ’’یہ دھواں… لگتا ہے اس بار ہماری کینیڈا ڈے کی تقریبات کے جوش و خروش کو بھی لے بیٹھے گا۔ ایسے میں جھیل کے کنارے آتش بازی دیکھنے جانا صحت کے لیے مضر ہو سکتا ہے۔ اس آفت سے چھٹکارا پانے کو کچھ نہ کچھ کرنا پڑے گا۔‘‘
’’میں نے کہا نا کہ جنگلات میں آگ کا بھڑک اٹھنا کوئی نئی بات نہیں۔ شدید موسم کے تناظر میں اسے قدرتی امر بھی کہا جا سکتا ہے، مگر ہمارے صنعتی کچرے اور کوئلے کے وسیع پیمانے پر استعمال نے صورتِ حال زیادہ ہی خراب کر دی ہے۔ اب یہ سب مل کر حملہ آور ہوئے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلیاں اور انسان کی غیر ذمہ دارانہ حرکتیں ہی ذمہ دار ہیں اس خرابی کی۔ میں تو یہی کہوں گا۔‘‘ ملک نے دو ٹوک انداز میں کہا۔
’’اُدھر دیکھو ذرا کھڑکی سے باہر — کھیت میں اُس احمق شخص کو۔ وہ کر کیا رہا ہے؟ خشک گھاس کو جلا رہا ہے؟ ہے نا!‘‘ ڈیوڈ نے کھیت کی طرف اشارہ کیا۔
’’ہاں، وہ مچھروں کو بھگانے کے لیے دھواں—‘‘
’’مچھروں کو بھگانے کے لیے یا ہوا کو اور بھی آلودہ بنانے کے لیے؟‘‘ ڈیوڈ نے اس کی بات کاٹ دی۔
ڈیوڈ کے فوری ردِ عمل پر پہلے تو ملک مسکرا دیا، مگر پھر کچھ سوچ کر سنجیدہ ہو گیا۔ اس کے ذہن کے پردے پر پاکستانی اور بھارتی پنجاب میں تیزی سے پھیلتی فضائی آلودگی کے مناظر ابھرنے لگے۔ دو پڑوسی ملک — جن میں انسانوں اور تجارتی سامان کے آنے جانے پر تو پابندیاں لگتی رہتی ہیں، مگر آلودہ ہوا کو یہاں سے وہاں سفر کی پوری آزادی ہے۔ لاہور ہو یا دہلی، امرتسر ہو یا گوجرانوالہ — سبھی کا آسمان اپنی شفاف نیلاہٹ کھو چکا ہے، اور صورتِ حال بدلنے کی کوئی…
’’تم کس سوچ میں ڈوب گئے؟‘‘ ڈیوڈ کی آواز نے ملک کی سوچ کا تانا بانا بکھیر دیا۔
’’میں اپنے خطے کی سیر کو چلا گیا تھا۔ وہاں بھی بڑھتی ہوئی ٹریفک، بے سمت صنعت کاری اور کھیتوں میں آتش زنی نے ہوا کو مسموم بنا رکھا ہے۔ حالاں کہ کھیتوں اور فصلوں کے لیے محدود پیمانے پر آگ لگانا — یعنی کنٹرولڈ فائرز — ضروری بھی ہوتا ہے، مگر اس کی حد بندی بھی لازم ہے۔ خیر، جانے دو، یہ اتنی سیدھی بات نہیں۔ ہاں، میں یہ ضرور کہوں گا کہ یہ اکا دکا انسان کے کسی انفرادی اقدام کا نتیجہ نہیں۔ یہ بڑے پیمانے پر انڈسٹریل ویسٹ کے سبب ہے۔ صنعتی آلودگی ہی اس فضائی آفت کی ذمہ دار ہے۔ غیر ذمہ دار صنعت کاری…!‘‘ ملک نے اس بار گویا پورا لیکچر دے ڈالا۔
’’تمہاری بات میں وزن ہے، لیکن ہم اپنی روزمرہ کی زندگی اور معمولات میں تبدیلی لا کر بھی فضائی آلودگی میں کمی لا سکتے ہیں۔ اب دیکھو — آس پاس بھی کہیں جانا ہو تو ہم کار استعمال کرتے ہیں، حتیٰ کہ سامنے کے اسٹور سے گھر کا سودا لانے کے لیے پیدل نہیں جاتے۔ کار چلے گی تو دھواں بھی خارج ہو گا، اور دھواں خارج ہو گا تو آلودگی بھی ہو گی۔ ہمارے اکثر ٹرک تو اب تک ڈیزل استعمال کر رہے ہیں۔ تم جانتے ہی ہو ڈیزل سے خارج ہونے والی زہریلی گیس کے اثرات… تو صرف بڑی صنعتیں ہی نہیں — ہم سب ذمہ دار ہیں اس صورتِ حال کے لیے۔‘‘ ڈیوڈ نے وضاحت کی۔
’’دیکھو ڈیوڈ پیارے… ہر کوئی گروسری پیدل نہیں کر سکتا۔ ہر شہر میں محفوظ فٹ پاتھ نہیں ہوتے، پھر اسٹورز بھی گھروں سے دور واقع ہو سکتے ہیں۔ بسوں پر سفر ہر کسی کے لیے آسان نہیں ہوتا، اور پھر کام دھندا اگر گھر سے فاصلے پر ہے تو وہاں کار کے بغیر جائیں گے کیسے؟ اور کام نہیں کریں گے تو گزارا کیسے ہو گا؟ مجھے تو لگتا ہے کہ سارا نظام ہی سوچ سمجھ کر بنایا گیا ہے — محض کارپوریشنوں اور بڑے اداروں کے منافع کو سامنے رکھتے ہوئے… نہ کہ عام فرد کی سہولت اور ماحول کی بہتری کو۔‘‘ ملک نے اپنے ہاتھ میں تھاما فون الٹ پلٹ کرتے ہوئے کہا — اور بظاہر ڈیوڈ بھی اس سے متفق دکھائی دے رہا تھا۔
ان دو دوستوں کی گفتگو سے بے نیاز GO ٹرین مختلف اسٹاپوں، سڑکوں اور قصبوں سے گزرتی ہوئی ٹورانٹو کی طرف رواں دواں تھی، اور اس کی پٹڑی کے آس پاس ہی سڑکوں پر ٹریفک کا ہجوم صاف دکھائی دے رہا تھا۔ گاڑیوں میں ایندھن جلنے سے پیدا ہونے والا دھواں پہلے سے مکدر فضا کو اور بھی خراب کر رہا تھا۔ ڈیوڈ اور ملک بھی ٹرین کی کھڑکی سے باہر جھانکتے ہوئے یہ سب دیکھ رہے تھے۔
’’میرا خیال ہے کہ… الیکٹرک کاریں ہی اس مسئلے کا بہترین حل ہیں۔ نہ پیٹرول جلے گا اور نہ ہوا آلودہ ہو گی۔ میں تو اب اسی نتیجے پر پہنچا ہوں سوچ سوچ کر۔‘‘ ڈیوڈ نے اظہارِ رائے کیا۔
ملک نے اس کی بات سن لی، مگر جواب دینے کے بجائے اسے چیونگم کا ایک ٹکڑا پیش کیا، جسے ڈیوڈ نے شکریہ کہہ کر قبول کر لیا۔ شاید ملک چیونگم کے ذریعے ماحول پر چھائی اس فکرمندی کو کچھ کم کرنا چاہتا تھا جو ان کی گفتگو کے نتیجے میں گہری ہوتی جا رہی تھی۔
ڈیوڈ نے چیونگم منہ میں رکھا تو ملک گویا ہوا: ’’اس سے بھی فرق تو ضرور پڑے گا، مگر یہ واحد حل نہیں۔ اس مسئلے کے مستقل حل کے لیے ہمیں چومکھی جنگ لڑنا ہو گی۔ اپنی انفرادی عادتیں بھی بدلنا ہوں گی اور اجتماعی کوششوں کو بھی تیز کرنا ہو گا۔ صرف برقی گاڑیاں عام ہو جانے سے یہ مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ ہمیں کوئلے کا استعمال کم کرنا ہو گا، صنعتی اور کیمیاوی کچرے کو کم سے کم کرنا ہو گا، توانائی کے متبادل ذرائع اور وسائل تلاش کرنا ہوں گے۔‘‘ ملک کہتا چلا گیا۔
’’تم نے وہ خبر تو دیکھی ہے نا کہ کیوبک میں مونٹمورنسی فالز سے بے سینٹ پال تک ہائیڈروجن سے چلنے والی ٹرین کا کامیاب تجربہ ہوا ہے؟ یہ صاف ٹیکنالوجی کی جانب ایک اور قدم ہے۔ نہیں کیا؟‘‘ ڈیوڈ نے قدرے جوش سے کہا۔
’’ہاں، بالکل ہے… لیکن اس کے لیے ہمیں یورپ کا شکر گزار ہونا چاہیے، کیوں کہ یہ منصوبہ بنیادی طور پر فرانس نے تیار کیا تھا — اور ایسی ٹرینیں جرمنی اور یورپ کے دوسرے کئی ممالک میں پہلے ہی چل رہی ہیں۔‘‘ ملک نے تبصرہ کیا۔
’’گویا ماحولیاتی سوچ میں ہم یورپ سے کافی پیچھے ہیں!‘‘ ڈیوڈ نے تاسف سے کہا۔
’’یا یورپ ہم سے آگے ہے!‘‘ ملک نے مسکراتے ہوئے کہا۔ ’’ویسے مجھے تمہاری ’ماحولیاتی سوچ‘ بڑی اچھی لگی۔‘‘ وہ شاید اس سے یہ توقع نہیں کر رہا تھا۔
اتنے میں ٹرین اگلے اسٹیشن پر رکنے لگی۔
باہر ایک دل چسپ منظر دکھائی دیا۔ سڑک کے کنارے ٹریفک کے ہجوم سے لاتعلق ایک بوڑھا شخص اپنے دونوں بازو فضا میں بلند کیے کھڑا تھا۔ اس نے ہاتھوں میں موٹے گتے کا ایک چوکور تختہ اٹھا رکھا تھا، جس پر سبز مارکر سے جلی حروف میں لکھا تھا:
’’ہم مل جل کر اس دھواں بھری فضا کو صاف کر سکتے ہیں۔‘‘
یہ دیکھ کر ملک سے رہا نہ گیا اور بول پڑا:
’’ڈیوڈ، مانا کہ ہمارے پاس ہر سوال کا جواب نہیں ہے، مگر دیکھو — ہمارے درمیان ایسے لوگ موجود ہیں جو اپنی سی کوشش پر یقین رکھتے ہیں۔ وہ اپنے حصے کا کام کرنے پر کمر بستہ ہیں۔ اس اکیلے شخص کا عزم تو دیکھو ذرا! کیا بات ہے۔ اس کا یہ اقدام ہمیں باتوں سے آگے بڑھ کر کچھ عملی قدم اٹھانے کی ترغیب دے رہا ہے۔ مجھے تو یہی محسوس ہوتا ہے۔ ہر کوئی اپنے طور پر کچھ نہ کچھ کرے تبھی اچھے نتائج نکلیں گے۔ وہ کہتے ہیں نا — قطرہ قطرہ مل کر ہی دریا بنتا ہے… بالکل اسی طرح۔‘‘
یہ سن کر ڈیوڈ مسکرایا۔ اس کی آنکھوں میں بھی امید کی کرن روشن تھی۔
’’ہاں، پیارے دوست۔ بدترین حالات میں بھی ہمارے عملی قدم ہی فیصلہ کُن ثابت ہوتے ہیں۔ تم ٹھیک کہتے ہو۔ ہم سوچ سمجھ کر فیصلے کر کے، اور دوسروں کو بھی اس جانب راغب کر کے، ماحول کو بہتر بنانے میں اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں۔‘‘
’’ہمارے دین میں تو صفائی کو نصف ایمان کہا گیا ہے۔‘‘ ملک کے منہ سے بے ساختہ یہ جملہ نکلا، جس پر ڈیوڈ نے فوراً کہا: ’’تم تو جانتے ہی ہو ملک کہ میں مذہبی آدمی نہیں ہوں۔ میں بس انسان دوست ہوں — اور انسان دوست ہونے کے ناتے تمہاری رائے کا احترام کرتا ہوں۔‘‘
’’ہم اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتے کہ اسلام سراسر انسانیت پسند مذہب ہے۔‘‘ ملک نے زور دے کر کہا۔
’’مجھے یاد ہے ہم اس موضوع پر پہلے بھی بات کر چکے ہیں، اور مجھے پھر سے بات کرنے پر بھی اعتراض نہیں — مگر اس وقت موڈ نہیں۔ ہاں، میں یہ ضرور کہوں گا کہ ہمارے یہاں کے قدیمی باشندے، ہماری فرسٹ نیشنز کے لوگ، انسان، کائنات اور ماحولیات کو جس یکجائی سے دیکھتے ہیں وہ بھی توجہ کے لائق ہے۔ مجھے ان کی طرزِ فکر بہت پسند ہے۔ ان کا بظاہر کوئی باقاعدہ الہامی مذہب نہیں، مگر وہ کائنات کے تمام عناصر میں ہم آہنگی ہی کو بقا کی ضمانت سمجھتے ہیں۔ انھوں نے مظاہرِ فطرت سے ایسے ہی رشتہ جوڑ رکھا ہے جیسے ہم خون کے رشتوں میں قائم کرتے ہیں۔ یہ چاند، سورج، بادل، پیڑ، پانی، ہوا، پرندے — سب کو وہ اپنے سگے رشتہ دار سمجھتے ہیں۔ ہے نا دل چسپ بات؟‘‘ اس بار ڈیوڈ پھر جوش میں آ گیا۔
’’میں تو کسی کے عقائد کے خلاف کچھ نہیں کہہ رہا… میں تو بس اپنا احساس بیان کر رہا تھا۔ تمہاری دل آزاری مجھے بھی مقصود نہ تھی۔‘‘ ملک نے ہاتھ میں تھاما چیونگم کا پیکٹ جیب میں رکھتے ہوئے آہستگی سے کہا۔
’’میں نے بُرا نہیں مانا تمہاری بات کا۔ بس وضاحت ضروری سمجھی۔‘‘ ڈیوڈ نے بھی سکون سے کہا۔
اسی وقت ٹرین کے ٹورانٹو کے یونین اسٹیشن پر پہنچنے کا اعلان ہونے لگا۔
ٹرین سے اترتے ہی ڈیوڈ نے گویا اعلانیہ انداز میں کہا: ’’تو طے ہوا کہ ہم اپنی ہوا کو، اپنی فضا کو صاف رکھنے کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گے۔ اپنے معمولات میں تبدیلی لائیں گے، اپنے کاربن فُٹ پرنٹ کم سے کم کریں گے، اور فضا کو صاف رکھنے کی کوششوں کی حمایت کریں گے۔‘‘
’’بہت خوب۔ یہ تو گویا ’ٹورانٹو اعلامیہ‘ جاری کر دیا تم نے۔ ویسے بات ٹھیک ہے میرے دوست — جو بھی ہمارے بس میں ہے، ہم ضرور کریں گے اس تشویش ناک صورتِ حال سے نکلنے کے لیے، اور تازہ ہوا میں سانس لینے کے لیے۔ سب کچھ کریں گے… مگر فی الحال مجھے اس تناؤ کے احساس سے نکلنا ہے جو ہماری باتوں اور حالات نے میرے اندر پیدا کر دیا ہے۔‘‘
یہ کہتے ہوئے ملک نے جلدی سے جیب سے ایک سگریٹ نکالا اور ننھے سے نیلے لائٹر سے اسے سلگانے لگا۔ جب بھی پریشان ہوتا، وہ ایسا ہی کرتا تھا۔
ملک نے سگریٹ کا ایک لمبا کش لیا اور اسٹیشن کے بیرونی گیٹ کی طرف بڑھنے لگا۔ ڈیوڈ اس کی طرف دیکھ کر بڑے معنی خیز انداز میں مسکرا رہا تھا۔
’’… تو کیا کہو گے تم اس دھوئیں کے بارے میں — جو ڈیزل سے بھی مضر ہے — جو باہر کی فضا کو بھی مکدر کر رہا ہے اور اندر کی فضا کو بھی؟ اس کے بارے میں کیا کہو گے؟‘‘
ملک سمجھ گیا کہ ڈیوڈ کا اشارہ اس کے سگریٹ کے دھوئیں کی طرف ہے، مگر وہ انجان بن کر بولا: ’’بھئی واہ… تمہارا جملہ اچھا ہے۔ اگر میں لکھاری ہوتا تو ضرور کسی افسانے میں استعمال کرتا۔ تمہاری زبان کی داد دینا پڑے گی مجھے۔ اصل آلودگی واقعی اندر کی ہوتی ہے — سوچ کی آلودگی! کاش ہم اسے بھی صاف کرنے کا سوچیں کبھی۔ میں تو کہتا ہوں کہ اچھا سوچنے لگیں تو اچھا ہی ہونے لگتا ہے…‘‘
’’تم شاید از رہِ تفنن کہہ رہے ہو یہ، مگر میں نے حال ہی میں چینی لکھاری چین چوفین کی کہانی پڑھی تھی — دی سموگ سوسائٹی — اس میں یہی کہتا ہے وہ لکھاری۔ وقت ملے تو ضرور پڑھنا۔ تمہیں اچھی لگے گی۔‘‘ ڈیوڈ نے قدرے جوش سے کہا۔
’’یقیناً اچھی لگے گی — مگر سرِ دست تو مجھے بھوک لگ رہی ہے، یار۔‘‘ ملک نے ادھر اُدھر نظر دوڑاتے ہوئے کہا۔
’’اس کے لیے جیرارڈ اسٹریٹ جانا پڑے گا۔ تم اپنی یہ ’دھواں بازی‘ بند کرو تو سٹریٹ کار پکڑیں ہم۔‘‘ ڈیوڈ نے شریر آنکھوں سے ملک کے سگریٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
’’دھواں بازی…! یہ بھی خوب کہی تم نے۔ واہ، واہ، واہ۔‘‘ ملک نے قہقہہ لگایا۔
اور پھر دھوئیں کے ساتھ ایک مشترکہ دوستانہ قہقہہ بھی فضا میں بلند ہوا۔ اُدھر ان دونوں کی دوستانہ نوک جھونک سے بے نیاز ’گو‘ ٹرین سیٹی بجا کر یونین اسٹیشن سے واپس واٹر ڈاؤن کی جانب اپنے سفر کا اعلان کر رہی تھی۔

اپنا تبصرہ لکھیں