نانی بستی: ایک تنقیدی جائزہ / سعید الرحمن غرشین

نانی بستی کے مصنف کا اصل نام سید ولی اشرف اور قلمی نام اشرف صبوحی ہے۔ وہ ڈپٹی نذیر احمد کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ محکمہ ڈاک آل انڈیا ریڈیو، اور ریڈیو پاکستان سے بھی منسلک رہے۔ ملازمت سے سبک دوش ہونے کے بعد تاحیات ہمدرد دوا خانے میں مصروف عمل رہے، اور 1990 کو اس دار فانی سے ہمیشہ کے لیے کوچ کر گئے۔
اشرف صبوحی کا شمار اردو ادب کے بلند پایہ کہانی نویسوں میں ہوتا ہے۔ اردو کے علاوہ انگریزی زبان پر بھی قدرت رکھتے تھے۔ چند انگریزی کتابوں کا اردو ترجمہ کیا، جو بہت مقبول ہوئیں۔ ”دلی کی چند عجیب ہستیاں“، ”جھروکے“، ”غبار کارواں“، وغیرہ تصانیف بہ طور یاد گار چھوڑ دیں۔
نانی بستی اشرف صبوحی کا ایک شاہ کار افسانہ ہے۔ نانی بستی، شتابہ، بیٹا، بیٹی، اور بہو کہانی کے پرائمری، جب کہ خان صاحب اور رئیس ثانوی کردار ہیں۔ کہانی میں نانی بستی روایت پسند، جدید دنیا سے بے خبر اور مزاجاً وہمی خاتون ہے۔
نانی بستی کو ایک دفعہ ریل ”دھوئیں کی گاڑی“ کے سفر اور تین مقامات پر پچھل پائی ”دیو“ کا سامنا ہوتا ہے۔ جب وہ تاریک غسل خانے میں نہاتی ہے، تو پتیلے میں انھیں اپنی صورت نظر آتی ہے۔ وہ اپنے عکس کو پچھل پائی سمجھ کر ڈر جاتی ہے۔ بیٹی اور بہو انھیں سمجھاتی ہے کہ پتیلے میں تم نے خود اپنی شکل دیکھی ہے، پر وہ کہتی ہے: “تھو تھو پچھل پائی ہے۔”
نانی بستی روزانہ نئے نئے شگوفے چھوڑتی تھی۔ اس طرح کنبہ والے اور رشتہ دار سب اس کی کمزوری سے واقف ہو جاتے ہیں۔ ایک دن ظہر کے وقت گاٶں کی ایک شریر لڑکی ”شتابہ“ ہندو جوگی کے لباس میں ملبوس ہوکر نانی بستی کے سامنے آ کھڑی ہوتی ہے، جس سے اس کے اوسان خطا ہو جاتے ہیں۔ پھر شتابہ کے اس اقرار پر بھی انھیں یقین نہیں آتا ہے کہ: “وہ میں تھی نانی بستی۔”
ایک دفعہ نانی بستی، بیٹا، بیٹی، اور بہو شاہ عالم کے مزار پر حاضری دینے کے بعد قبرستان پر جاتے ہیں۔ وہاں نانی بستی کے برقعے میں کیکر کی ایک سوکھی ٹہنی الجھتی ہے۔ وہ سوکھی ہوئی ٹہنی کے زمین میں گھسیٹنے کی آواز کو ہوبہو پچھل پائی کے قدموں کی آواز سمجھ کر ڈر کے مارے زمین پر گر پڑتی ہے۔ بیٹی کیکر کی سوکھی ٹہنی دکھاتی ہے کہ اس چھوٹے صاحب نے تمھیں ڈرایا ہے، پر انھیں یقین نہیں آتاہے۔
ایک دفعہ وہ اپنی بہن انجم سے ملنے ریل (دھوئیں کی گاڑی) میں میرٹھ چلی جاتی ہے۔ وہ ریل کے سفر سے ناآشنا تھی۔ بے پردگی کے ڈر سے وہ بینچ پر بیٹھنے کے بجائے بینچ کے نیچے لیٹتی ہے۔ اس طرح میرٹھ تک اس کی مٹی خوب پلید ہوتی ہے۔
اگر اس افسانے کا گہرا فلسفیانہ اور فکری جائزہ لیا جائے تو نانی بستی سے مراد ”قدیم بستی“ یا ”قدیم زمانے کے لوگ“ ہوتے ہیں۔ قدیم زمانے کے لوگ قدامت پرستی، مافوق الفطرت عناصر، توہمات، ترک دنیا، آندھی عقیدت اور فرسوده رسم و روایات پر عقائد رکھتے تھے۔ صنعتی انقلاب، سائنسی ایجادات اور جدید تعلیم کے حصول سے متنفر تھے۔ عقل و شعور کی حیثیت ثانوی تھی۔ حقیقت کی تلاش کے بجائے من گھڑت باتوں پر یقین رکھتے تھے۔ تاہم انھوں نے ہمہ وقت آبشاروں کے جھرنے، ہوا کی شہنائی، پانی کی شرشر، ٹہنی کے ٹوٹنے کی آواز، جنگلی جانوروں کی پھس پھسی، تختے سے گلاس کا گرنا وغیرہ وقوعات کو پچھل پائی سمجھ کر نہ صرف ڈرپوک زندگی گزاری، بل کہ جہالت اور پس ماندگی کی علامت بھی ٹھہرے۔ رفتہ رفتہ وہ اپنی فرسودہ روایات اور تصورات کو نسل در نسل آگے منتقل کرتے رہے۔
کہانی میں شتابہ، بہو، بیٹا اور بیٹی سے مراد ہماری ”نئی نسل“ ہے، جو نانی بستی کو روز مرہ میں سائنس، تعلیم، مذہب اور ادب کی ضرورت اور آفادیت بتاتی ہے، لیکن وہ اپنے بنائے ہوئے اصول اور غلط عقیدوں پر چلنے کی ضد کرتی ہے اور اپنے بچوں کو بھی اس گھورکھ دندے روایات پر زندگی گزارنے کی ترغیب دیتی ہے۔ جب ہماری نئی نسل جدید زمانے کے ساتھ چل کر زندگی جینا چاہتی ہے، تو مذہبی تصادم پیدا ہوتاہے۔ زندگی آگے بڑھنے کے بجائے ٹکراٶ کا شکار ہوتی ہے۔ اس طرح ہمارے بچوں کی زندگی دو دھاروں میں تقسیم ہوتی ہے، جو ایک بہت بڑا المیہ ہے۔ اس المیہ کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینکنا مصنف کا فکری محور ہے۔
آج بھی ہمارے معاشرے میں نانی بستی مختلف لباس میں وجود رکھتی ہے۔ ہر وہ شخص، جو روایت پسند ہو، افواہوں پر اعتقاد رکھتا ہو، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے ناواقف ہو، سائنسی ایجادات سے متنفر ہو، جدید تعلیم کا مخالف ہو، نانی بستی کہلانے کا مستحق ہے۔
کہانیاں تہذیبوں کی سیاسی، سماجی، معاشی اور مذہبی اقدار کو محفوظ رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، جس کا تذکرہ تاریخی کتابوں میں بہت کم ملتا ہے۔ مصنف دلی کے رہنے والے تھے۔ انھوں نے دلی کو خوب دیکھا اور سمجھا ہے۔ سواریوں کا گھنٹوں قبل اسٹیشن پر پہنچ جانا، لوگوں کا ہجوم، سواریوں کا ٹکٹ لینے کے لیے بولائے بولائے پھرنا، گھنٹی بجنے پر مسافروں کا ریل کی طرف دوڑنا، دوران سفر پردے کا خاص اہتمام، درباروں اور مزارات پر حاضری دینے کے ایسے کامیاب خاکے کھینچے ہیں کہ قاری کی آنکھوں میں اس دور کی ایک جیتی جاگتی تصویر پھر جاتی ہے۔
اشرف صبوحی طنز و مزاح کے بادشاہ تھے۔ دراصل نانی بستی پھوہڑ، سادہ مزاج اور بد صورت خاتون تھی۔ لیکن مصنف طنز و مزاح کی تیز دھار سے کیا وار کرتا ہے: ” ایسی جنت کی حوروں کو مات کرنے والی بیویاں اب کہاں؟ کیا نورانی شکل تھی اور کیسی بھولی بھالی باتیں سٹر بللٌی ستری بہتری نہیں کہ اوٹ پٹانگ بولیں یا چوہے کو بلی اور بلی کو چوہا بنائیں۔ سگھڑاپا ان کا کسی میں ہو تو لے۔ کھانے پکانے میں ایسا سلیقہ کہ باورچی اور رکابدار مات“۔
اسی طرح مصنف نے چھوٹے چھوٹے فقرات اور مہند الفاظ جیسے: جنتر، سائی، موئی، مچان، جتے، جھلے، اچھک، چھوکری، ناٹھی، نند اور دلی کے چٹخارے دار محاوات؛ جیسے: مٹی پلید ہونا، دم بھرنا، دم سادھے پڑے رہنا، کانٹے کو دوڑنا وغیرہ کو بروئے کار لاتے ہوئے کہانی کے اسلوب کو فصیح اور جان دار بنا دیا ہے۔
حاصل کلام یہ ہے کہ کہانی ”نانی بستی“ بہت دل چسپ، سبق آموز اور اپنے دور کا آئینہ دار افسانہ ہے۔ میرے مطابق، نانی بستی ایک علامت اور یہ ایک علامتی کہانی ہے۔ کہانی کے زریعے مصنف ہمیں اندھی تقلید، تنگ نظری، روایت پرستی، قدامت پرستی، وہم پرستی، اور فرسودہ رسم و روایات سے نکلنے اور روشن خیالی، خود اعتمادی، خود مختاری اور جدید زمانے کے ساتھ چلنے کا درس دیتا ہے۔ جس طرح ہمارے سماج میں نانی بستی مختلف روپ میں سانس لے رہی ہے۔ اسی طرح اگر عالمی سطح پر دیکھا جائے تو یورپی اقوام کے تناظر میں پاکستان آج بھی ایک نانی بستی ہے۔ بد قسمتی سے، راقم الحروف بھی نانی بستی کا ایک مستقل باشندہ ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں