گزشتہ دنوں نامور عالمِ دین اور خطیب مولانا عارف شاہ کاظمی نے کراچی میں ایک مجلس سے خطاب کرتے ہوئے اسلامی تاریخ اور آج کے مسلمان حکمرانوں کا موازنہ کرتے ہوئے ایک نہایت اہم سوال اٹھایا۔ انہوں نے حضرت عمرؓ اور خالد بن ولیدؓ کی بہادری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آج فلسطین میں جاری انسانی المیے کے باوجود مسلم دنیا کے بیشتر حکمران امریکہ اور اسرائیل کے مقابلے میں وہ جرات مندانہ مؤقف اختیار نہیں کر سکے جس کی مثال اسلامی تاریخ میں ملتی ہے۔ بہت سے مسلم ممالک وسائل سے مالامال ہونے کے باوجود اپنی خارجہ پالیسی میں بڑی عالمی طاقتوں کے اثر و رسوخ سے مکمل طور پر آزاد دکھائی نہیں دیتے۔
اگر ایران کی بات کریں تو امام خمینی سے لے کر موجودہ ایرانی قیادت تک کی سیاسی فکر میں کربلا، مزاحمت اور استقامت کو بنیادی اہمیت حاصل رہی ہے۔ ایران کی سیاسی و مذہبی روایت میں یہ تصور نمایاں ہے کہ امام حسینؑ کی جدوجہد ظلم اور جبر کے مقابلے میں اصولی موقف اختیار کرنے کا درس دیتی ہے۔ واقعۂ کربلا نے مسلم تاریخ میں مزاحمت، قربانی اور اصول پسندی کی ایک ایسی مثال قائم کی جسے مختلف معاشروں نے اپنے اپنے فکری تناظر میں اپنایا۔
ایران نے طویل عرصے سے عالمی پابندیوں، سیاسی دباؤ اور معاشی مشکلات کا سامنا کیا ہے۔ اس کے باوجود اس نے اپنی صنعت، ٹیکنالوجی، دفاع، توانائی، زراعت اور تحقیق کے شعبوں میں مقامی صلاحیت پیدا کرنے کی کوشش کی۔ یہی خود انحصاری ایران کے حوالے سے ایک اہم موضوع ہے، جس پر ہمارے معاشرے میں بھی سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔
اب اگر ہم پاکستانی اہلِ تشیع کے حوالے سے بات کریں تو ہمارے مذہبی نعروں، مجالس اور نوحوں میں کربلا، امام حسینؑ، مزاحمت اور ایران کا ذکر نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ تعلق صرف جذباتی اور مذہبی وابستگی تک محدود ہے، یا اس کے ساتھ ایران کے تجربے، فکری رویے، علمی جدوجہد اور خود انحصاری سے بھی کچھ سیکھا جا رہا ہے؟
اس حوالے سے سکردو میں عاشورہ کے موقع پر زنجیر زنی اور خونی ماتم کے بارے میں علامہ شیخ محمد حسن جعفری کا بیان قابلِ غور ہے۔ ان کا مؤقف یہ تھا کہ اگر ایک مذہبی عمل کے بارے میں مرجعِ تقلید کی طرف سے واضح ممانعت موجود ہو تو اس پر نظرثانی ہونی چاہیے۔ یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: کیا مذہبی وابستگی صرف جذباتی اظہار کا نام ہے یا اس کے ساتھ فکری شعور، دینی رہنمائی اور معاشرتی ذمہ داری بھی ضروری ہے؟
یہ سوال صرف ایک مخصوص عمل تک محدود نہیں۔ اگر ہم امام حسینؑ کی تعلیمات کو مزاحمت، قربانی، انسانیت اور ظلم کے خلاف اصولی موقف کے طور پر دیکھتے ہیں تو پھر ان تعلیمات کا عملی اظہار معاشرے کے کمزور طبقات کی مدد، خون کے عطیے، تعلیم، تحقیق، خدمتِ خلق اور معاشرتی مسائل کے حل میں بھی نظر آنا چاہیے۔
کراچی سمیت مختلف شہروں میں محرم کے دوران بڑی تعداد میں مجالس اور مذہبی اجتماعات منعقد ہوتے ہیں۔ یہ مذہبی سرگرمیاں اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن ساتھ ہی یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہماری مذہبی قیادت اور عوام اپنے روزمرہ معاشرتی مسائل، شہری سہولیات، تعلیم، صحت، روزگار اور دیگر بنیادی مسائل پر بھی اسی شدت سے آواز اٹھاتے ہیں؟
اگر ہم کربلا کو اپنا فکری اور اخلاقی نمونہ سمجھتے ہیں تو پھر کربلا صرف نعروں، مجالس، نوحوں اور ظاہری رسوم تک محدود نہیں رہنی چاہیے۔ کربلا کا ایک بنیادی پیغام اصول، شعور، قربانی، ذمہ داری اور ظلم کے خلاف اخلاقی موقف بھی ہے۔ یہی وہ پہلو ہے جسے ہماری اجتماعی زندگی میں زیادہ نمایاں ہونے کی ضرورت ہے۔
دنیا کا دستور ہے کہ جب ہم کسی شخصیت یا فکر کو اپنا رول ماڈل بناتے ہیں تو فطری طور پر کوشش کرتے ہیں کہ اس کی کچھ خصوصیات اپنے اندر پیدا کریں، اس کے کردار کو سمجھیں اور اپنے معاشرے میں اس طرزِ فکر و عمل کی جھلک پیدا کریں۔ رول ماڈل کا تصور صرف جذبات سے وابستہ نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے فکری اور عملی پیروی بھی ضروری ہوتی ہے۔
اگر علمی میدان کا مختصر جائزہ لیں تو ہمارا معاشرہ علم اور تحقیق کے میدان میں بھی اپنے محبوب نمونوں سے کافی دور دکھائی دیتا ہے۔ مدارس اور دینی تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل افراد، حتیٰ کہ ایم فل اور دیگر اعلیٰ ڈگریاں رکھنے والے لوگ بھی بعض اوقات اپنے مخصوص فکری دائرے سے باہر نکل کر سوال، تحقیق، تنقید اور مختلف الخیال افراد کے ساتھ مکالمے کی صلاحیت پیدا نہیں کر پاتے۔
میں ذاتی طور پر کئی مرتبہ ایسے تجربے سے گزرا ہوں کہ جب کسی دینی تعلیم یافتہ شخص سے سیاسی، سماجی، معاشرتی یا حتیٰ کہ دینی معاملے میں اختلاف کیا جائے تو دلیل، تحقیق اور مکالمے کے بجائے فوری طور پر کسی آیت یا حدیث کا حوالہ دے کر اختلاف کرنے والے کو خاموش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اختلافِ رائے کو برداشت نہ کرنا علمی وسعت کی علامت نہیں بلکہ فکری محدودیت کا باعث بن سکتا ہے۔ دینی نصوص سے استدلال یقیناً اہم ہے، لیکن ان کے ساتھ تحقیق، سیاق و سباق، دلیل اور مکالمے کی ضرورت بھی اپنی جگہ موجود رہتی ہے۔
اب اگر ایران کی خود انحصاری اور تحقیقی صلاحیت کا جائزہ لیں تو یہ دونوں عناصر اس کے تجربے میں خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ طویل عرصے کی پابندیوں، عالمی دباؤ اور مشکلات کے باوجود ایران نے صنعت، ٹیکنالوجی، زراعت، توانائی، دفاع اور تحقیق کے مختلف شعبوں میں مقامی استعداد پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔
اس کے مقابلے میں اگر ہم گلگت بلتستان جیسے علاقوں کو دیکھیں تو ایک شخص ایم فل یا پی ایچ ڈی کرنے کے بعد بھی بعض اوقات اپنی علمی قابلیت کو معاشرتی اور تحقیقی کاموں میں استعمال کرنے کے بجائے محدود سیاسی یا ذاتی مفادات کے تابع ہو جاتا ہے۔ اگر اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص بھی اپنی علمی قابلیت کو استعمال کرنے کے بجائے طاقت کے مراکز کی خوشنودی کا محتاج ہو جائے تو ہمیں اپنے معاشرے کی فکری خود انحصاری پر ضرور سوال اٹھانا چاہیے۔
یہاں اصل مسئلہ کسی ایک ملک یا سیاسی نظام کی تقلید نہیں بلکہ اس کے تجربے سے سیکھنے کا ہے۔ ایران نے مشکلات کے باوجود اپنے مقامی وسائل اور انسانی صلاحیتوں کو استعمال کرنے کی کوشش کی۔ ہمیں بھی یہ سوچنا ہوگا کہ پاکستان، خصوصاً گلگت بلتستان، اپنے نوجوانوں کی تعلیم، تحقیق، صنعت، زراعت اور ٹیکنالوجی کی صلاحیت کو کس طرح بہتر انداز میں استعمال کر سکتا ہے۔
ایران کے ساتھ ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار اپنی جگہ ایک جذباتی تعلق کی علامت ہو سکتا ہے، لیکن اس سے زیادہ اہم یہ ہے کہ ہم اس تعلق کو عملی اور فکری سطح پر کس طرح تبدیل کرتے ہیں۔ اگر کسی معاشرے میں ایران کے لیے چندہ جمع کرنے کا جذبہ موجود ہے تو اسی جذبے کے ساتھ اپنے معاشرے کے غریب، یتیم، بیوہ اور ضرورت مند افراد کے لیے بھی وسائل مختص ہونے چاہئیں۔
خصوصاً ایسے معاشرے میں جہاں بہت سے خاندان غربت، بے روزگاری اور بنیادی ضروریات کی کمی کا سامنا کر رہے ہوں، وہاں مذہبی و سماجی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ مستحق افراد کی مدد کے لیے شفاف اور مؤثر نظام قائم کریں۔ مذہبی عطیات اور مالی وسائل کے استعمال میں شفافیت بھی اسی سلسلے کا ایک اہم تقاضا ہے۔
لہٰذا اصل سوال یہ نہیں کہ پاکستانی اہلِ تشیع ایران کے قریب ہیں یا دور۔ اصل سوال یہ ہے کہ یہ تعلق کس نوعیت کا ہے؟
روایتی اور جذباتی سطح پر ایران سے قربت کے مظاہر ضرور نظر آتے ہیں، لیکن حقیقی فکری تعلق اس وقت پیدا ہوگا جب ہم ایران کے تجربے سے یہ سیکھیں کہ پابندیوں اور مشکلات کے باوجود ایک معاشرہ اپنی علمی، معاشی، دفاعی، زرعی اور تکنیکی خود انحصاری کیسے پیدا کر سکتا ہے۔
اگر ہم صرف جذبات کو اپنائیں اور فکر، تحقیق، سوال، خود انحصاری، خدمتِ خلق اور مسلسل جدوجہد کو نظر انداز کر دیں تو پھر یہ فکری تعلق نہیں بلکہ محض جذباتی وابستگی رہ جائے گا۔
شاید ہمیں سب سے پہلے اسی فرق کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔


