یو- کے پلٹ عمیر اور ڈاکٹر کریمہ کی شادی/ محمد کوکب جمیل ہاشمی

ہمارے سعادت مند بھتیجے عمیر کی شادی سے پہلے ہمارے گھر میں بھی شادی کی بھر پور تیاری
دیدنی تھی۔ بیگم نے سدرہ بیٹی کو ہدائت کی کہ شادی میں پہننے کے لئے ا پنے پپا کا کریم کلر کا نیا سوٹ اچھی طرح استری کر کے ہینگر پہ ٹنگا دینا۔ ہمیں کریم کلر اتنا پسند ہے کہ ہماری کپڑوں کی الماری میں کریم کلر کے سوٹوں کی تعداد سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ ہماری بیگم صاحبہ کو بھی کریم کلر ایسا پسند آیا کہ کریم کلر کا سوٹ پہننا ان کی کمزوری بن گیا۔ یہاں تک کہ انہیں فیس بیوٹی کریم سے کوئی دلچسپی نہ رہی۔ کیوںکہ اب اس کے بغیر ہی وہ چن ورگی لگنے لگی تھیں۔ عید ہو یا شادی کی کوئی تقریب، ہمیں یاد نہیں کہ ہم نے کبھی آن کوکریم لگاتے دیکھا ہو، مگر ہمیں چوالیس سال پہلے کی شادی کی کریم کلر والی شیروانی ضرور یاد رہتی ہے جو ہم نے کراچی کی کریم آباد چورنگی پہ موجود ٹیلر سے سلوائی تھی۔
ہمیں بچپن میں بیکری آئٹمز میں کریم رولز سب سے زیادہ پسند تھے۔ پسندیدگی کا یہ شوق اب بھی قائم و دائم ہے۔ اسی لئے ہمیں کریم سلاد، کریم کیک اور کریم چکن کے علاؤہ کسی کھانے میں مزہ نہیں آتا۔ حالانکہ اللہ بخشے ہماری والدہ اوراللہ رکھے ہماری اہلیہ کے ہاتھ میں ذائقوں کا ایسا جہان آباد رہا ہے۔ اگر یہ کہا جاۓ کہ وہ لذیذ کھانوں کے اس معاشرے میں بیورو کریٹس کی طرح سوسائٹی کی کریم کی حیثیت رکھتی ہیں، مبالغہ نہ ہو گا۔

رب کریم کا شکر ہے کہ عمیر کی بارات کا پر بہاردن آن پہنچا، مگر ہماری اور عمیر کی گاڑی مہمانوں کی آمد وفت میں مصروف تھی, ہم نے سوچا گاڑی میسر نہ ہوئی تو کوئی بات نہیں، اوبر یا کریم کر کے بارات میں شریک ہو جائیں گے۔ یہاں بھی قسمت کو کچھ اورمنظور تھا۔ اتفاق یہ ہوا کہ ہم بارات سے دو روز پہلے طبیعت خراب ہونے پر ہسپتال میں داخل کر دئے گۓ۔ ۔دوسرا اتفاق یہ ہوا کہ ہمارا پرائیویٹ روم بھی ہسپتال کے کریم بلاک میں واقع تھا۔
عمیر کے امتحانوں، نوکری کے حصول اور کامیابیوں کے لئے سب گھر والے عمیر کے لئے دعائیں کرتے رہے ہیں۔ عمیر کے والدین کی دعائیں کریم رنگ لے آئیں اور عمیر کے گھر ڈاکٹر کریمہ دلہن بن کر آ گئیں ۔ اب جبکہ انکے لئے دعائیں کرنے والی ڈاکٹر کریمہ انکے گھر آچکی ہیں اس لئے ان سے ہم نے گزارش کی کہ وہ صبح شام اپنے لئے اور عمیر کے لئے آئت کریمہ کا ورد کرتی رہا کریں، تاکہ اللہ کریم ان دونوں کو گھر کے کریمانہ بزرگوں کی شفقت کے ساتھ خوش و خرم، صحتمند اور کامیاب و کامران رکھیں۔
ہم نے آخر میں دعا کےلئے ہاتھ اٹھاۓ اور کہنے لگے کہ اے اللہ عمیر، یعنی U اور کریمہ یعنی K کی یونائٹڈ کنگڈم سدا شاد و آباد رہے۔ آمین۔

اپنا تبصرہ لکھیں