راشد نذیر ۔ سماجی خدمت کا زریں باب/ انٹرویو: اظہر سجاد

راشد نذیر کھوڑ کمپنی کی معروف سماجی و کاروباری شخصیت ہیں، جنہوں نے خدمتِ خلق کو اپنی زندگی کا نصب العین بنایا۔ آپ ۱۰ اپریل ۱۹۸۰ء کو محمد نذیر کے گھر پیدا ہوئے۔ آپ کا تعلق تلہ گنگ کے نواحی قصبے ٹہی سے ہے، جبکہ ابتدائی تعلیم پی او ایل ماڈل سکول کھوڑ کمپنی سے حاصل کی۔ آپ نواحی گاؤں احمدال کے پہلے حافظِ قرآن، حافظ اعتبار خان کے نواسے ہیں۔
راشد نذیر نے عوامی خدمت کا سفر تقریباً پندرہ برس قبل شروع کیا، جو آج ایک وسیع فلاحی تحریک کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ اِس عرصے میں راشد نذیر اپنی مدد آپ اور اہلِ خیر کے تعاون سے کثیر مالیت کے رفاہی منصوبے مکمل کر چکے ہیں۔ مستحق خاندانوں کی کفالت، صاف پانی کی فراہمی، تعلیم و صحت کی معاونت، شجرکاری، قدرتی آفات میں امداد اور دیگر بے شمار عوامی فلاحی اقدامات ان کی شناخت بن چکے ہیں۔
راشد نذیر ایسی شخصیت ہیں جِس نے خدمتِ خلق کو اپنی زندگی کا اوّلین مقصد بنایا ہوا ہے۔ وہ نہ صرف ایک عملی انسان ہیں بلکہ ان کا فلاحی جذبہ مضبوط ایمانی عقیدے اور توکل پر مبنی ہے۔ سادگی، اخلاص اور مسلسل خدمت نے راشد نذیر کو علاقے کی ایک بااعتماد اور ہر دل عزیز شخصیت کے طور پر متعارف کرایا ہے۔ اِس انٹرویو میں اُن کی زندگی، جدوجہد اور خدمتِ انسانیت کے سفر کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کی گئی ہے ۔
سوال: اپنے بچپن اور خاندانی ماحول کے بارے میں بتائیے۔ خدمتِ خلق کا جذبہ کہاں سے ملا؟ آپ کے گھر والوں نے آپ کی سماجی سرگرمیوں میں کس حد تک ساتھ دیا؟
جواب: میرا تعلق ایک مذہبی گھرانے سے ہے ۔ بچپن سے ہی گھر میں بڑوں کو ہمیشہ ضرورت مندوں کی مدد کرتے دیکھا۔ ہم چھوٹے بچوں کے ہاتھوں سے بھی کچھ نہ کچھ خیر کا کام ضرور کروایا جاتا تھا اور ترغیب دی جاتی تھی کہ جو دوسروں کے کام آتا ہے اللہ اس کے کام کرتا ہے۔
سوال: آپ کھوڑ کمپنی کی ایک معروف اور کامیاب کاروباری شخصیت بھی ہیں۔ کاروبار اور سماجی خدمت میں توازن کیسے قائم رکھتے ہیں؟
جواب: گھر کا نظام چلانے کے لیے کاروبار کرنا میری ذمہ داری ہے اور خدمت خلق میرا شوق میرا ایمان ہے کہ اگر انسان کی نیت صاف ہو تو اللہ رب العزت برکت عطا فرماتے ہیں۔ کاروبار میں کچھ حِصہ مخلوقِ خدا کے لیے وقف کر رکھا ہے، لہٰذا اللہ رب العزت میرے کاروبار کی حفاظت فرما رہا ہے اور برکت بھی عطا کر رہا ہے۔
سوال: آپ کی زندگی کا وہ لمحہ کون سا تھا جس نے آپ کو خدمتِ خلق کے راستے پر گامزن کیا؟
جواب: جب میں میٹرک میں تھا تو راولپنڈی میں طوفانی بارشوں کی وجہ سے ایک مکان کی چھت گر گئی۔ ہم نے زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا اور ایک بچے کو اپنا خون بھی عطیہ کیا۔ بچے کے والدین کے چہرے پر اطمینان دیکھ کر اور اُن کے منہ سے نکلنے والی دعاؤں سے مجھے ناقابلِ بیان روحانی سکون ملا ۔ یہی وہ لمحات تھے جنھوں نے مجھے خدمتِ خلق کے راستے پر گامزن کیا۔
سوال: آپ کے نزدیک انسان کی اصل دولت کیا ہے؟ کیا کبھی خدمتِ خلق کی وجہ سے ذاتی نقصان بھی اٹھانا پڑا؟
جواب: میرے نزدیک انسان کی اصل دولت بن مانگی مخلص دعائیں اور بے لوث عزت ہے جو انسان کو مخلوق خدا کی خدمت سے ملتی ہیں۔ رہی بات نقصان کی تو وہ ہمارا مقدر ہوتا ہے۔میرا ایمان ہے کہ اللہ رب العزت بلا وجہ ہمارا نقصان نہیں ہونے دیتا۔ جو چلا گیا وہ ہمارے مقدر میں نہیں یا اس میں اللہ کی کوئی حکمت چھپی ہوتی ہے۔ سوال: آپ کتنے عرصےسے رمضان میں راشن تقسیم کر رہے ہیں ۔اِس حوالے سے کوئی ایسا واقعہ جو آج بھی آپ کو یاد ہو؟
جواب: الحمدللہ پچھلے بارہ سال سے ماہانہ اور رمضان میں بھی راشن کی تقسیم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایک دفعہ ایک مستحق باپردہ خاتون نے اپنا راشن وصول کرتے ہوئے پُرنم آنکھوں سے دعا دیتے ہوئے کہا: بیٹا ! اللہ تمہاری زندگی میں برکت عطا فرمائے ۔ ہمارے گھر میں گزشتہ پانچ دنوں سے سوکھی روٹی قہوے میں بھگو کے کھائی جا رہی ہے۔ اس خاتون کی وہ دعا عموماً میں اپنے کانوں میں محسوس کرتا ہوں۔
سوال: آپ پاکستان کے دور دراز علاقوں میں بھی سیلاب زدگان اور زلزلہ متاثرین کی مدد وہاں جا کر کرتے رہے ہیں۔ اِس دوران کون سا منظر آپ کے دل پر ہمیشہ کے لیے نقش ہو گیا؟
جواب: ۲۰۰۵ ء کے زلزلے کے فوراً بعد ہم امدادی سامان لے کر تباہ حال علاقے بالاکوٹ اور پِھر بونیر کے دشوار گزار پہاڑی علاقے میں پہنچے۔ وہاں ایک شخص نے پُرنم آنکھوں سے ہم سے معذرت کی اور کہا کہ: “ آپ اتنی دور سے ہماری مدد کو پہنچے ہیں اور میں آپ کو ایک پیالی چائے بھی نہیں پلا سکتا، کیوں کہ میرا گھر صفحہ ہستی سے مٹ چکا ہے۔” اُس شخص کا یہ جملہ مجھے اندر سے چھلنی کر گیا۔
سوال: آپ نے اپنے علاقے میں مختلف سماجی بہبود کے کام کیے، جن میں پانی کے کنوئیں، گلیاں اور سڑکیں پختہ کروانا اور بارشوں سے متاثرہ مکانات کی مرمت اور بے گھر
افراد کو گھر فراہم کرنا جیسے فلاحی کام شامل ہیں۔ مختصراً اُن کے بارے میں آگاہ کیجیے۔
جواب: الحمدللہ! ۲۰۱۲ء سے لے کر اب تک سیاست ، برادری اور تعصب سے بالاتر ہو کر اور محض اللہ کی رضا کی خاطر اپنی مدد آپ کے تحت علاقہ بھر میں مختلف فلاحی کام مکمل کیے جن میں، ماہانہ بنیاد پر مستحق گھرانوں کو راشن کی فراہمی، چھوٹے کاروبار کے لیے۲۵ ہزار روپے قرضِ حسنہ ، اپنے علاقے کے ۱۲ مقامات پر پینے کے صاف پانی کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے نلکا سکیم، ہر سال علاقہ بھر میں شجرکاری مہم ، کھوڑ کمپنی کے تمام داخلی و خارجی راستوں کی کنکریٹ سے پختگی، عیدِ قربان کے بعد ماحول کو صاف ستھرا رکھنے کے لیے آلائِشوں کی تدفین، سالانہ صفائی مہم ، علاقہ بھر کے گورنمنٹ سکولوں میں مستحق بچوں اور بچیوں کے لیے یونیفارم، جوتے اور کاپیوں کا تحفہ ، قرآن ِپاک کے ضعیف نسخوں اور پاک اوراق کے لیے کمرے کی تعمیر، مختلف اوقات میں زلزلہ زدگان اور سیلاب زدہ علاقوں میں راشن کی فراہمی، ہر سال رمضان المبارک میں حکومتی نرخ سے کم قیمت پر سبزی، فروٹ اور پرچون اشیاء کی فروخت کے لیے سستے بازار کا اہتمام ، قدرتی آفات سے متاثرہ علاقوں میں بیوہ خواتین کے لیے اپنا چھت سکیم، آبادی میں پانی کی سٹوریج کے لیے ۱۴۰۰ بیرل کے واٹر ٹینک کی تعمیر،فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد ، تھیلیسیمیا سے متاثرہ بچوں کے لیے فری بلڈ ڈونیشن کیمپ کا انعقاد ، ہر سال یوم آزادی کے موقع پر رنگا رنگ تقریبات کا انعقاد اور تمام مسالک کے علمائے کرام ،سیاسی اور سماجی شخصیات کے ہاتھوں پرچم کشائی کی تقریب، کھوڑ کمپنی میں اپنی مدد آپ کے تحت واٹر سپلائی سکیم کے تکمیل، ہر سال رمضان سے قبل کھوڑ کے گرد و نواح کے پندرہ دیہات کے ۵۰۰ مستحق گھرانوں کو راشن کی فراہمی، عوام کی آسانی کے لیے اجتماعی قربانی کی ترتیب اور آگ سے متاثرہ خانہ بدوش گھرانوں کو تمام ضروریات زندگی کے برتن، راشن اور عارضی چھتوں کی فراہمی شامل ہیں۔
سوال: کھوڑ کمپنی واٹر سپلائی جیسےاہم منصوبے کی طرف خصوصی توجہ کیوں دی؟
جواب: مقامی طور پر مختلف گلی محلوں میں جب اپنی ماؤں اور بہنوں کو پانی بھر کے گھر جاتے ہوئے دیکھتا تو دل سے ایک ہی دعا نکلتی کہ خالق کائنات اگر توفیق دے تو اپنی آبادی کے اِس بنیادی مسئلے کو حل کرنے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کروں ۔
سوال: اپنی مدد آپ کے تحت گلیوں کی تعمیر کا خیال کیسے آیا؟
جواب: جب اپنی خستہ حال گلیوں اور داخلی و خارجی رستوں کو دیکھتا تو اِس سوچ میں مبتلا ہو جاتا تھا کہ یہ ملک میرا ہے جس نے مجھے پوری دنیا میں پہچان دی ۔ جیسے میں اپنے گھر کی تعمیر اس کی خوبصورتی اور حفاظت اپنی ذمہ سمجھتا ہوں تو کیوں نہ میں اللہ کی ذات پر توکل کرتے ہوئے اپنی مدد آپ کے تحت اپنے علاقے کے لوگوں کی تکلیف دور کرنے کے لیے راستوں کو پختہ کروں اور حکومت کا ہاتھ بنوں۔
سوال: لوگوں کو قرضِ حسنہ دیتے وقت آپ کن اصولوں کو سامنے رکھتے ہیں؟
جواب: یہ قرضہ صرف چھوٹے کاروبار اور ہنر مند افراد کو اور خصوصاً جن گھرانوں کو ماہانہ راشن فراہم کیا جاتا ہے اُن کو دیا جاتا ہے تاکہ وہ بیوہ خواتین باعزت رزق کما سکیں۔ اِس کے علاوہ ، حجام، سبزی فروٹ فروخت کرنے والے، بیوٹی پارلر یا پھیری کا کام کر نے والے افراد کو دو گواہان کی موجودگی میں ۲۵ ہزار روپے کا قرضہ آسان اقساط پر دیا جاتا ہے۔
سوال: جب وسائل کم ہوں اور ضرورت مند زیادہ، تو فیصلہ کیسے کرتے ہیں؟
جواب: ہم ہمیشہ ایسے گھرانوں کا انتخاب کرتے ہیں جن کا سربراہ وفات پاچکا ہو، یا مستقل معذوری میں مبتلا ہو، بچے چھوٹے ہوں یا پڑھ رہے ہوں اور پینشن یا کرایا کی مد میں کوئی آمدنی نہ ہو، کثیر تعداد میں مال مویشی یا زرعی زمین بھی موجود نہ ہو تو اِس صورت میں ایسے گھرانوں کے لیے راشن کی فراہمی کی ترتیب بنائی جاتی ہے۔ الحمدللہ ! آج تک خالق کائنات نے کبھی مایوس نہیں ہونے دیا ، کیوں کہ اُس کا وعدہ ہے کہ ہم جیسا اُس سے گمان کریں گے وہ ویسا ہی فیصلہ فرمائے گا۔
سوال: آپ اپنے ذاتی کردار اور عبادات کو اپنی سماجی سرگرمیوں سے کس طرح جوڑتے ہیں؟
جواب: میرے نزدیک عبادت صرف نماز، روزہ اور زکوٰۃ ہی نہیں بلکہ مخلوقِ خدا کی خدمت لوگوں کی راحت رسانی کا سبب بننا اور آنے والی نسلوں کی بہتری کی فکر کرنا بھی ایک عظیم عبادت ہے۔
سوال: آپ کی زندگی کا سب سے مشکل فلاحی مشن کون سا رہا؟
جواب: میری زندگی کا سب سے مشکل فلاحی مشن تونسہ شریف اور کوہ ِسلیمان کے سیلاب زدگان تک راشن کی اِمداد پہنچانا تھا ۔ وہاں کوئی مواصلاتی نظام تھا نہ ہی کوئی سڑک یا راستہ اپنی اصل حالت میں موجود تھا ۔ مگر اللہ کی ذات پر توکل اور رب ِکائنات کے خصوصی فضل و کرم سے ہم اِمداد اپنے بھائیوں تک پہنچانے میں کامیاب ہو گئے۔
سوال: کبھی ایسا ہوا کہ کسی ضرورت مند کی دعا نے آپ کی زندگی بدل دی ہو؟
جواب: بالاکوٹ میں زلزلہ زدگان میں راشن اور نقدی تقسیم کرتے وقت ایک بزرگ نے روتے ہوئے کہا: “ کہ وہ اپنے ہاتھوں سے خود صدقہ اور زکوٰۃ دیا کرتا تھا، مگر آج حالات نے ہاتھ پھیلانے پر مجبور کر دیا۔ اللہ پاک آپ حضرات کو ہمیشہ دینے والوں میں رکھے۔” الحمدللہ! میں یہ محسوس کرتا ہوں تب سے لے کر آج تک اللہ رب العزت میرے ہاتھوں خیر تقسیم فرما رہے ہیں۔ انسانیت کی خدمت ایک عظیم عبادت ہے۔ بس اللہ رب العزت مرتے دم تک مجھے قبول فرمائے۔
سوال: آپ کے خیال میں آج ہمارے معاشرے کی سب سے بڑی سماجی ضرورت کیا ہے؟
جواب: میرے نزدیک معاشرے کی سب سے بڑی سماجی ضرورت تعلیم کے ساتھ ساتھ اخلاقی تربیت اور ہنر سے آراستہ کرنا ہے، کیوں کہ صرف راشن دینے سے غربت ختم نہیں ہوتی۔ ہم نے اپنے نوجوانوں کو ہنر مند بنا کر معاشرے کا سہارا بنانا ہے۔
سوال: نوجوان نسل کو خدمتِ خلق کی طرف کیسے راغب کیا جا سکتا ہے؟
جواب: نوجوانوں کو خدمت کے میدان میں لانے کے لیے بھرپور حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے۔ سکولوں، کالجوں اور مدارس کو بھرپور ترغیب دینی چاہیے۔ جہاں بھی فلاحی کام ہو رہا ہو ، پیار و محبت سے نوجوانوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہیے۔ جس حد تک ہو ان سے مشاورت کی جائے اور اگر ممکن ہو تو اُن کے مشورے پر عمل بھی کیا جائے ۔ یہ عمل حوصلہ افزائی کا سبب بنتا ہے۔
سوال: کیا فلاحی کاموں میں شہرت نقصان دہ بھی ہو سکتی ہے؟
جواب: جی بالکل! کیوں کہ عملوں کا دارومدار نیت پر ہوتا ہے۔ اگر ہماری نیت میں دنیا کی شہرت یا واہ واہ ہوئی تو آخرت میں کوئی اَجر نہ ہوگا ۔ لہٰذا ہمیں ہر اچھے کام سے پہلے اپنی نیت کو خالصتا اللہ کی رضا کے لیے مخصوص کرنا چاہیے۔
سوال: کاروبار نے آپ کو خدمتِ خلق کے لیے کیا سبق دیا؟
جواب: الحمدللہ! میرے کاروبار نے مجھے لوگوں کو نفع پہنچانے میں بہت مدد کی۔نبی کریم (ﷺ) کی سُنت کے مطابق ہم مستقل طور پر آٹے پر نفع نہیں لیتے۔ استعمال شدہ اشیاء بھی دس دن تک واپس لے لیتے ہیں۔ جائز منافع لے کر تمام اشیاء حکومتی نرخ نامے کے مطابق فروخت کر کے سفید پوش لوگوں کے لیے آسانی پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اِسی طرح نفع کا کچھ حصہ مخلوقِ خدا کی فلاح کے لیے مختص کرتے ہیں۔ سب سے بڑھ کر صرف پاکستانی مصنوعات فروخت کر کے ملکی مصنوعات کو فروغ دینا ہماری اوّلین ترجیح ہے۔
سوال: اگر آپ کے پاس بے پناہ وسائل ہوں تو سب سے پہلے کون سا منصوبہ شروع کریں گے؟
جواب: اگر میرے پاس وسائل ہوں تو انشاءاللہ مفت علاج معالجہ اور تعلیم میری اوّلین ترجیح ہو گی۔ اِس کےساتھ ساتھ نوجوان نسل کے لیے ہنر سیکھنے کے مفت مواقع
فراہم کروں گا۔
سوال: آپ کی زندگی کی سب سے بڑی کامیابی کیا ہے؛ کاروبار یا لوگوں کی دعائیں اور آپ کون سی دعا ہمیشہ مانگتے ہیں؟
جواب: رزق جو اللہ رب العزت نے مقدر میں لکھا ہے وہ مل کر رہے گا۔ میرے نزدیک سب سے انمول چیز پُرخلوص دلوں سے نکلی ہوئی دعائیں ہیں۔ میں ہمیشہ ایمان کی حالت میں موت طلب کرتا ہوں اور یہ دعا کرتا ہوں کہ آخری دم تک اللہ رب العزت انسانیت کے نفع کے لیے مجھ جیسے حقیر انسان کو توفیق عطا فرمائے۔
سوال: آپ کیا چاہتے ہیں کہ لوگ آپ کو کس حیثیت سے یاد رکھیں؛ تاجر، سماجی کارکن یا ایک اچھا انسان؟
جواب: میں چاہتا ہوں لوگ مجھے ایک اچھا انسان ہونے کے ناطے ہمیشہ یاد رکھیں۔ میرے نزدیک ایک انسان کی مثال اُس گھنے درخت کی مانند ہے جو خود تپتی دھوپ میں گرمی دھول اور لُو کو برداشت کرتا ہے، لیکن اگر اُس کے سائے میں کوئی جاندار آ جائے تو ٹھنڈی سانس لیتا ہے۔ لہٰذا ایک مکمل انسان کو اپنے اِرد گرد کے ماحول اور اُس کی صحبت میں آنے والے ہر ذی روح کی راحت کا سامان بنتا چاہیے۔
سوال: آپ کی زندگی کا کوئی ایسا واقعہ جس نے آپ کو رُلا دیا، لیکن ساتھ ہی حوصلہ بھی دیا؟
جواب: بچپن میں جب میری والدہ کا انتقال ہوا تو میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔ اِیسا محسوس ہوا جیسے امّی کے ساتھ میری روح بھی جسم سے نکل گئی ہو ۔ مگر جب سرکارِ دو عالم حضرت محمد (ﷺ) کا خیال دل میں آیا کہ آپ (ﷺ) کی والدہ ماجدہ بھی آپ (ﷺ) کے بچپن میں رحلت فرما گئیں اور والد بھی پہلے ہی وفات پا چکے تھے، تو ہم کیا چیز ہیں۔ اُس وقت بے ساختہ دل سے ایک دعا نکلی : “ اے محمد (ﷺ)کے اللہ! مجھے کبھی تنہا نہ چھوڑنا ۔” بس! یہ کہنا تھا کہ دل کو تسلی مل گئی۔
سوال: اگر آج کے نوجوانوں کو صرف ایک نصیحت کرنی ہو تو وہ کیا ہوگی؟
جواب: میری نوجوانوں کو ایک ہی نصیحت ہے کہ اپنا وقت ضائع نہ کریں۔ میرے نزدیک زندگی کی مثال برف کی مانند ہے جسے بروقت کسی برتن میں ڈال دیا جائے تو بہت سے لوگوں کے لیے نفع بخش ثابت ہوگی، ورنہ قطرہ قطرہ زمین پر گرنے سے کیچڑ کی صورت میں لوگوں کے لیے تکلیف کا باعث بنے گی۔
سوال: آپ کے نزدیک معاشرے کی تعمیر حکومت زیادہ کرتی ہے یا عوام؟
جواب: میرے خیال میں معاشرے کی تعمیر ہمیشہ عوام ہی کر سکتی ہے ۔ حکومت جیسی بھی پالیسیاں بنا لے جب تک عوام اپنے ملک کی بہتری اور ترقی کے لیے مل جل کر باہمی اتفاق سے اپنا کردار ادا نہ کریں ، حکومت کی تمام تر کوششیں رائیگاں جاتی ہیں۔
سوال: آخر میں ہمارے قارئین کے لیے اپنا پیغام اور اپنی زندگی کا وہ اصول بتائیے جس نے آپ کو کبھی مایوس نہیں ہونے دیا۔
جواب: اللہ کی ذات پر توکل اور انسانیت کے نفع کے لیے کیے گئے ہر کام میں اللہ کی مدد ہمیشہ شاملِ حال رہتی ہے۔ اللہ رب العزت کا یہ وعدہ ہے جیسا ہم گمان اُس کی ذات سے کریں گے ویسے ہی آسمان سے فیصلے آئیں گے۔ لہٰذا ، ہمیں مسلک ، برادری یا سیاست سے بالاتر رہ کر اللہ کی رضا کے لیے انسانیت کی خدمت کے جذبے سے اپنی آنے والی نسلوں کی آسانی کی فکر کو لے کر اپنے آپ کو پیش کرنا ہے۔ اللہ رب العزت ہمیں اخلاص کی دولت سے مالا مال فرمائے اور ہر قسم کی شر اور فتنے سے محفوظ فرماتے ہوئے ہم سب کا خاتمہ ایمان کی حالت میں فرمائے (آمین)۔

اپنا تبصرہ لکھیں