تہران کا دروازہ اور اسلام آباد کی دستک / محمد فاروق نتکانی

سیاست کے بازار میں بعض اوقات توپیں خاموش ہوتی ہیں مگر سفارت کاری کے قدموں کی چاپ سنائی دیتی رہتی ہے۔ جنگ کے میدان میں جو بات بارود نہیں کہہ سکتا، کبھی ایک ٹیلی فون کہہ دیتا ہے، کبھی ایک ملاقات، اور کبھی ایک ایسے شخص کا تہران پہنچنا جس کے ہاتھ میں معاہدے سے زیادہ اعتماد کا کاغذ ہو۔ پاکستان کے آرمی چیف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کا ایک بار پھر تہران جانا اسی خاموش سفارت کاری کی ایک کڑی ہے۔

یہ اس سال ان کا ایران کا تیسرا سفر ہے۔ تین سفر محض سفری کیلنڈر کی تین تاریخیں نہیں؛ یہ اس امر کا اعلان بھی ہیں کہ اسلام آباد نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان بند دروازے کو ابھی مردہ دروازہ تسلیم نہیں کیا۔ دروازہ بند ہے، کنڈی چڑھی ہوئی ہے، مگر پاکستان اب بھی دستک دے رہا ہے۔

تہران نے اس دورے کا اعلان اسلام آباد سے پہلے کیا۔ سفارت کاری میں کبھی کبھی خاموشی بھی ایک بیان ہوتی ہے اور اعلان بھی۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ سفر اتنا معمولی تھا تو اس کی خبر پہلے تہران سے کیوں آئی؟ اور اگر غیر معمولی تھا تو اسلام آباد کی خاموشی کے پیچھے کون سا مصلحت نامہ رکھا ہے؟

ایرانی وزارتِ خارجہ اسے خطے میں امن و سلامتی کے استحکام کی کوشش قرار دے رہی ہے۔ عاصم منیر اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان چند ہی دنوں میں دو مرتبہ ٹیلی فونک رابطہ اس بات کی شہادت ہے کہ معاملہ محض خیرسگالی کا نہیں۔ جب ایک ہی موضوع پر بار بار فون ملایا جائے تو سمجھ لینا چاہیے کہ تاریخ ابھی فیصلہ لکھنے پر آمادہ نہیں ہوئی۔

پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمت کے لیے جو راستہ اختیار کیا تھا، وہ اب سنگلاخ ہو چکا ہے۔ اسلام آباد مفاہمتی عمل کے لیے مقررہ ساٹھ دن گزر گئے، مگر نتیجہ وہی نکلا جو ہماری سیاست میں اکثر نکلتا ہے: وقت گزر جاتا ہے، مسئلہ وہیں کھڑا رہتا ہے۔

تہران اپنی شرائط پر قائم ہے۔ واشنگٹن دباؤ بڑھانے پر مصر ہے۔ پابندیاں نئی فہرستوں کے ساتھ آ رہی ہیں، بحری ناکہ بندی اپنی جگہ موجود ہے، آبنائے ہرمز عالمی تجارت کے لیے ایک سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔ ایک طرف معاشی جنگ کا اعلان ہے، دوسری طرف عسکری دباؤ؛ اور درمیان میں پاکستان ہے، جس کے پاس نہ امریکہ کی معاشی طاقت ہے، نہ ایران کی جغرافیائی مزاحمت، مگر ایک چیز ضرور ہے: دونوں سے بات کرنے کی گنجائش۔

یہی گنجائش اسلام آباد کا اصل اثاثہ ہے۔

پاکستان کی مشکل یہ ہے کہ اسے ہر طرف سے دوستی بھی نبھانی ہے اور کسی طرف کا فریق بھی نہیں بننا۔ واشنگٹن ناراض نہ ہو، تہران بدگمان نہ ہو، خلیج کے دروازے بند نہ ہوں، توانائی کی فراہمی متاثر نہ ہو اور بیرونِ ملک پاکستانیوں کی ترسیلات بھی جنگ کی نذر نہ ہوں۔ سفارت کاری کبھی کبھی ایسی کشتی ہے جس میں ملاح کو چاروں سمتوں سے آنے والی لہروں کا حساب رکھنا پڑتا ہے۔

حوثیوں کا مسئلہ اس سفر کو مزید اہم بنا دیتا ہے۔ باب المندب میں پاکستانی ملاحوں کی ہلاکت نے معاملے کو اسلام آباد کے لیے محض عالمی سفارت کاری نہیں رہنے دیا۔ اب اس تنازع میں پاکستانی جان بھی شامل ہے۔ اور جب کسی ملک کا شہری جنگ کی خبر میں محض عدد بن جائے تو اس ملک کی سفارت کاری کو الفاظ سے آگے بڑھنا پڑتا ہے۔

عاصم منیر کی ایرانی عسکری قیادت سے ممکنہ ملاقاتیں بھی اسی تناظر میں اہم ہیں۔ تہران میں نئی عسکری تقرریوں کے بعد یہ رابطہ محض رسمی سلام دعا نہیں ہوگا۔ خطے میں میزائل، بحری راستے، سرحدیں، پراکسی گروہ اور دفاعی معاہدے ایک ہی شطرنج کے مہرے بن چکے ہیں۔ مکہ میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا دفاعی معاہدہ ایک طرف ہے اور تہران کے ساتھ پاکستان کے تاریخی تعلقات دوسری طرف۔ اسلام آباد کو دونوں حقیقتوں کو ایک ہی میز پر رکھنا ہے۔

اصل سوال پھر بھی وہی ہے کیا پاکستان امن مذاکرات کا تعطل ختم کرا سکتا ہے؟

جواب شاید ’’ہاں‘‘ اور ’’نہیں‘‘ کے درمیان کہیں ہے۔

پاکستان کے پاس اتنی طاقت نہیں کہ وہ امریکہ کو حکم دے، نہ اتنا اثر کہ ایران کو اپنی شرائط سے دستبردار کرا سکے۔ مگر سفارت کاری ہمیشہ طاقت کا دوسرا نام نہیں ہوتی؛ کبھی کبھی یہ اعتماد کا نام ہوتی ہے۔ اگر دونوں فریق پاکستان کو ایسا رابطہ کار سمجھتے ہیں جو ان کی بات دوسرے تک پہنچا سکتا ہے، تو اسلام آباد کے پاس وہ سرمایہ موجود ہے جسے میزائلوں سے نہیں خریدا جا سکتا۔

لیکن پاکستان کو اپنی حد بھی معلوم ہونی چاہیے۔ ثالثی اور ضمانت میں فرق ہوتا ہے، سہولت کاری اور فیصلہ مسلط کرنے میں فرق ہوتا ہے۔ اگر اسلام آباد اپنی حیثیت سے زیادہ دعویٰ کرے گا تو سفارتی سرمایہ بھی سیاسی نعرے میں تبدیل ہو جائے گا۔

عاصم منیر کا تہران سفر اسی لیے اہم ہے کہ یہ کسی معجزے کی ضمانت نہیں، بلکہ امکانات کے دروازے پر ایک اور دستک ہے۔ شاید امریکہ اور ایران فوری طور پر میز پر واپس نہ آئیں۔ شاید ساٹھ دن کا تعطل مزید ساٹھ دنوں میں بدل جائے۔ شاید پابندیاں مزید سخت ہوں اور بیانات مزید تلخ۔ مگر جب تک ایک فریق دوسرے سے بات کرنے کے لیے کسی تیسرے کے دروازے تک پہنچنے پر آمادہ ہے، جنگ کا آخری لفظ ابھی لکھا نہیں گیا۔

پاکستان کے لیے اصل کامیابی یہ نہیں کہ وہ واشنگٹن یا تہران میں سے کسی ایک کو شکست دے. اصل کامیابی یہ ہوگی کہ وہ دونوں کو یہ باور کرا دے کہ جنگ کا راستہ سب کے لیے مہنگا ہے اور مذاکرات کا دروازہ کسی کے لیے ذلت نہیں۔

تاریخ میں بڑے فیصلے ہمیشہ بڑے دارالحکومتوں میں نہیں ہوتے۔ کبھی ایک چھوٹا سا ملک دو بڑے دشمنوں کے درمیان اتنی سی جگہ بنا دیتا ہے جہاں ایک جملہ بولا جا سکے۔

اسلام آباد اس وقت اسی جگہ کی تلاش میں ہے۔

تہران کی طرف جانے والی یہ پرواز شاید امن نہ لے کر آئے، مگر اگر یہ مذاکرات کا راستہ دوبارہ کھولنے میں کامیاب ہوگئی تو اسے محض ایک دورہ نہیں، سفارت کاری کی وہ دستک سمجھا جائے گا جس نے بند دروازے کو یاد دلایا کہ باہر ابھی کوئی کھڑا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں