محسن نقوی نے آدھی بات کی تھی اصل بات یہ ہے کہ یہ سرے سے کوئی نظام ہے ہی نہیں جو Collapse کر گیا ہے بلکہ یہ تشدد انتشار، فساد فراڈ، نوسربازی گن گردی، غنڈہ گردی، پستول گردی، ڈنڈا گردی، انڈہ گردی، دھونس دھاندلی، عدالتی جانبداری، مینڈیٹ چوری اور فارم 47 کے بل بوتے پر اشرافیہ و بدمعاشیہ کا غیرآئینی غیرقانونی جبری و انتقامی قبضہ ہے جو تاحال جاری ہے
یا یوں سمجھ لیں کے ملٹری اسٹیبلشمنٹ کا PCO / LFO ٹائپ حکم نامہ/ ورک آرڈر / میتھڈ اسٹیٹمنٹ یا سلیبس ہے جس کے مطابق جعلی اسمبلیوں سمیت مختلف اداروں میں موجود اردلی پالشی منشی قسم کے منیجرز، سپروائزرز اور فورمین ملک / کمپنی چلانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں مگر سب کا فوکس کمپنی کی ترقی سے زیادہ اپنی تنخواہیں، تجوریاں، بونس، مراعات، اوور ٹائم اور اوپر کی کمائی ہے
قوم بھلے بھوک غربت مہنگائی قرض بدامنی بیروزگاری و دھشتگردی کے ہاتھوں مرتی رہے
امید تھی کہ DG بابو اپنی حالیہ پریس کانفرنس میں 78 سال سے سیاست میں مداخلت، جبری قبضے اور مینڈیٹ چھیننے پر قوم سے معافی مانگ کر #فری_فئیر_الیکشنز کی نوید سنائیں گے مگر DG نے ایک بار پھر رام کہانیاں تڑیاں دھمکیاں اور جھوٹ کا پلندہ پڑھ کر سنا دیا
اسکا سیدھا اور صاف مطلب یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کو بدامنی کرپشن مہنگائی افراتفری دھشتگردی، عدم استحکام اور معاشی تباہی کی سرے سے کوئی پروا ہی نہیں بس ہر قیمت پر دھشت، خوف، تشدد، مار دھاڑ دھونس دھاندلی لاٹھی گالی گولی اور قید و بند کا راستہ اختیار کرتے ہوئے جبری قبضہ برقرار رکھنا ہے
قوم یکطرفہ فرائض ادا کر رہی ہے ورنہ آئین قانون، دستور، بنیادی انسانی حقوق، لیول پلئنگ فیلڈ، عدل و انصاف، فریڈم آف سپیچ & فری فئیر الیکشنز جیسے حقوق کہاں ہیں؟؟؟ جو یہ حقوق سب کو یکساں حاصل ہیں
8 فروری 2024 کو ہونے والی آئین شکنی، دھینگا مشتی، گن گردی، بداخلاقی، میڈنٹ چوری اور گن پوائنٹ پر کرپٹ ٹولے نے پاکستانی معیشت کو گٹربرد کرنے کے علاوہ ملک کو منگتستان کنگلستان آغوانستان مقدمستان کھنڈرستان کباڑستان مسائیلستان و قبرستان بنا کر 78 سال پیچھے دھکیل دیا ہے


