مکالمہ” ابھی جاری ہے / علی عباس کاظمی

کسی ادارے کی عمر صرف کیلنڈر کے صفحات نہیں گنتی، وہ یہ بھی بتاتی ہے کہ اس نے کتنی آوازوں کو جگہ دی، کتنے اختلافات کو برداشت کیا اور کتنے ذہنوں کو ایک دوسرے کی بات سننے پر آمادہ کیا۔ دس برس کا سفر اسی لیے محض ایک عدد نہیں۔ یہ ایک ایسے عہد کی روداد ہے جس میں گفتگو کے ذرائع تو بے شمار ہوئے، مگر ایک دوسرے کو سننے کا حوصلہ کم ہوتا گیا۔ ایسے ماحول میں”مکالمہ” کا دس سال تک قائم رہنا اس بات کی علامت ہے کہ اختلاف کے شور میں بھی سنجیدہ گفتگو کی ضرورت ختم نہیں ہوئی۔ہم ایک ایسے زمانے میں جی رہے ہیں جہاں رائے دینا آسان اور رائے سننا مشکل ہو گیا ہے۔ سوشل میڈیا نے ہر شخص کو اظہار کا وسیلہ تو دے دیا، مگر برداشت، تحقیق اور دلیل کی تربیت نہیں دی۔ چند لفظوں میں کسی کو رد کر دینا، ایک جملے سے پوری شخصیت کا فیصلہ صادر کر دینا اور اختلاف کو دشمنی سمجھ لینا ہماری اجتماعی عادت بنتی جا رہی ہے۔ایسے دور میں جہاں اختلاف کو برداشت کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے، مختلف نقطۂ نظر کو جگہ دینا صرف اشاعت نہیں بلکہ اجتماعی فکر کو زندہ رکھنے کی ایک کوشش ہے۔

“مکالمہ” کی اصل اہمیت شاید اس پر شائع ہونے والی تحریروں کی تعداد میں نہیں، بلکہ اس رویے میں ہے جو اختلاف کو تصادم بننے سے روکتا ہے۔ اختلاف انسانی فکر کی فطری علامت ہے۔ اگر سب لوگ ایک ہی طرح سوچیں تو معاشرہ بظاہر پُرسکون ضرور دکھائی دے سکتا ہے، مگر فکری طور پر مفلوج ہو جاتا ہے۔ مسئلہ اختلاف نہیں، اختلاف کے ساتھ ہمارا رویہ ہے۔ ہم کب دلیل چھوڑ کر الزام پر اتر آتے ہیں؟ کب سوال کو گستاخی سمجھ لیتے ہیں؟ کب اپنی رائے کو حقیقت اور دوسرے کی رائے کو جہالت قرار دینے لگتے ہیں؟ یہی وہ مقام ہے جہاں “مکالمہ” کی ضرورت پیدا ہوتی ہے۔

ایک اچھا لکھاری صرف وہ نہیں جو خوب صورت جملے لکھ سکے۔ اصل قلم کار وہ ہے جو اپنے عہد کے سوالات کو پہچانے، ان کے پیچھے چھپے مسائل کو دیکھے اور قاری کو ایسی جگہ لا کھڑا کرے جہاں وہ اپنی قائم شدہ رائے پر بھی نظرثانی کرنے لگے۔ اس اعتبار سے ایسے پلیٹ فارم کی ذمہ داری صرف نئے لکھنے والوں کو موقع دینا نہیں بلکہ تحریر کے ذریعے معاشرے میں فکری ذمہ داری پیدا کرنا بھی ہے۔ ایک مضمون اگر قاری کو چند لمحوں کے لیے روک دے، اسے اپنے رویے پر غور کرنے پر مجبور کر دے یا کسی نظرانداز حقیقت کی طرف متوجہ کر دے تو وہ تحریر محض الفاظ نہیں رہتی، اثر بن جاتی ہے۔

“مکالمہ” کے سفر کا ایک قابلِ قدر پہلو یہ بھی ہے کہ یہاں قلم صرف معروف ناموں کی میراث نہیں رہتا۔ نئے لکھنے والے کے لیے سب سے مشکل مرحلہ یہ ہوتا ہے کہ کوئی اس کی بات سنے۔ جب کسی نوآموز قلم کار کو یہ احساس ہو کہ اس کے خیالات بھی اہمیت رکھتے ہیں تو اس کے اندر اظہار کا اعتماد پیدا ہوتا ہے۔ یہی اعتماد آگے چل کر ایک بہتر لکھاری، زیادہ ذمہ دار شہری اور زیادہ باشعور معاشرے کی بنیاد بن سکتا ہے۔ تاہم اس کے ساتھ یہ ذمہ داری بھی جڑی ہے کہ آزادیِ اظہار کو بے لگام اظہار نہ بننے دیا جائے۔

“مکالمہ” کی دس سالہ مسافت محض ایک ویب سائٹ کے سفر کی داستان نہیں بلکہ اردو زبان میں سنجیدہ اظہار، آزاد فکر اور باوقار اختلاف کی ایک خوب صورت روایت ہے۔ اس پلیٹ فارم نے ایسے وقت میں اپنی شناخت قائم کی جب اظہار کے ذرائع تو بہت تھے، مگر بامعنی گفتگو کے لیے جگہ محدود ہوتی جا رہی تھی۔ “مکالمہ” نے معروف قلم کاروں کے ساتھ نئے لکھنے والوں کو بھی اپنی بات کہنے کا موقع دیا اور مختلف خیالات، تجربات اور نقطۂ نظر کو ایک وسیع فکری دائرے میں جمع کیا۔ اس کی سب سے بڑی خوبی شاید یہی ہے کہ یہاں اختلاف کو دشمنی اور سوال کو گستاخی سمجھنے کے بجائے اسے فکری سفر کا حصہ تصور کیا گیا۔ گزشتہ دس برسوں میں “مکالمہ” نے نہ صرف تحریروں کو قارئین تک پہنچایا بلکہ بہت سے قلم کاروں کے اعتماد کو بھی جِلا بخشی۔ ایک لکھاری کے لیے اس سے بڑھ کر اعزاز کیا ہو سکتا ہے کہ اس کے الفاظ کسی ایسے پلیٹ فارم کا حصہ بنیں جو گفتگو کو زندہ رکھنے پر یقین رکھتا ہو۔

“مکالمہ” کے دس برس اُن سب لوگوں کی مشترکہ کامیابی ہے جنہوں نے اسے پڑھا، لکھا، سنوارا اور اپنی آوازوں سے آباد رکھا۔ دعا ہے کہ یہ پلیٹ فارم مستقبل میں بھی اختلافِ رائے کو احترام، اظہار کو ذمہ داری اور تحریر کو معاشرتی شعور سے جوڑتا رہے۔دس برس مکمل ہونا اس لیے بھی اہم ہے کہ ہر کامیاب سفر کو ایک مقام پر رک کر اپنے راستے کا جائزہ لینا چاہیے۔ گزشتہ برسوں میں دنیا بدل چکی ہے۔ خبر کی رفتار بدل گئی، قارئین کی توجہ کا دورانیہ کم ہوا، مطالعے کے ذرائع تبدیل ہوئے اور مصنوعی ذہانت سمیت نئی ٹیکنالوجی نے لکھنے اور پڑھنے کے تصور کو نئی شکل دی۔ آنے والے برسوں میں صرف زیادہ مواد پیدا کرنا کافی نہیں ہوگا۔۔۔ زیادہ معتبر، زیادہ بامعنی اور زیادہ فکری مواد پیدا کرنا اصل امتحان ہوگا۔ “مکالمہ” کو بھی یہ دیکھنا ہوگا کہ وہ بدلتی ہوئی ڈیجیٹل دنیا میں اپنی بنیادی شناخت برقرار رکھتے ہوئے نئے تقاضوں سے کیسے ہم آہنگ ہوتا ہے۔

یہاں قارئین کا کردار بھی کم اہم نہیں۔ ہم اکثر اداروں سے معیار کا مطالبہ کرتے ہیں مگر اپنی ذمہ داری بھول جاتے ہیں۔ ایک قاری صرف پڑھنے والا نہیں، وہ کسی پلیٹ فارم کی فکری سمت بنانے میں شریک ہوتا ہے۔ اس کی رائے، تنقید، حوصلہ افزائی اور اختلاف سب اہم ہیں۔ اگر ہم واقعی کسی ادبی یا صحافتی پلیٹ فارم کو بہتر دیکھنا چاہتے ہیں تو صرف تعریف کافی نہیں،دیانت دار تنقید بھی ضروری ہے۔ ایسی تنقید جو شخصیت کو نشانہ نہ بنائے بلکہ کام کو بہتر بنانے کی کوشش کرے، دراصل ادارے کے ساتھ خیرخواہی کی ایک صورت ہے۔

میرے لیے “مکالمہ” سے وابستگی کے گزشتہ دو برس بھی اسی وسیع تر سفر کا ایک مختصر مگر خوشگوار باب ہیں۔ اپنے کالمز اور مضامین کو ایک ایسے پلیٹ فارم پر قارئین تک پہنچتے دیکھنا جہاں نئے اور پرانے لکھنے والوں کے لیے جگہ موجود ہو، یقیناً حوصلہ افزا تجربہ ہے۔ مگر کسی بھی لکھاری کے لیے اصل خوشی صرف یہ نہیں کہ اس کی تحریر شائع ہوئی۔۔۔ اصل اطمینان اس وقت ہوتا ہے جب اس کے الفاظ کسی ذہن میں سوال پیدا کریں، کسی رویے پر غور کروائیں یا کسی خاموش مسئلے کو زبان دے دیں۔

دس برس مکمل ہونے پر “مکالمہ” کی پوری ٹیم، منتظمین، مدیران، لکھنے والوں اور قارئین کو دلی مبارکباد۔ دعا ہے کہ “مکالمہ” آنے والے برسوں میں صرف ایک ویب سائٹ نہ رہے بلکہ اختلاف کے مہذب کلچر، آزاد فکر اور ذمہ دار اظہار کی ایسی روایت بنے جس پر آنے والی نسلیں اعتماد کر سکیں۔دس سال کی مبارکباد یقیناً ضروری ہے، مگر اس سے بھی ضروری یہ ہے کہ اگلے برسوں کی سمت متعین کی جائے۔ کیا آنے والا “مکالمہ” زیادہ متنوع ہوگا؟ کیا نئی نسل کو محض قارئین کے بجائے سنجیدہ لکھنے والوں کے طور پر آگے لایا جائے گا؟ معاشرے میں تبدیلی ہمیشہ بڑے نعروں سے نہیں آتی۔۔۔ کبھی ایک سچی تحریر، ایک دیانت دار اختلاف اور ایک دوسرے کو سن لینے کا حوصلہ بھی تبدیلی کا آغاز بن جاتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں