گھر میں داخل ہوں تو آج کل ایک منظر بہت عام دکھائی دیتا ہے۔ صحن میں، صوفے پر، کبھی دسترخوان کے ایک کنارے پر، بچے کے ہاتھ میں موبائل ہے۔ سر جھکا ہوا ہے، آنکھیں سکرین پر جمی ہوئی ہیں اور انگلیاں مسلسل چل رہی ہیں۔ گھر میں لوگ موجود ہیں، آوازیں بھی آ رہی ہیں، مگر بچہ جیسے کسی دوسری دنیا میں بیٹھا ہوا ہے۔
یہ منظر صرف بچوں کا نہیں، ہماری ترجیحات کا بھی ہے۔
موبائل ہم نے بچے کے ہاتھ میں دیا ہے۔ کبھی اس وقت جب وہ رو رہا تھا، کبھی اس وقت جب وہ ضد کر رہا تھا اور کبھی صرف اس لیے کہ ہمیں چند لمحوں کی فرصت چاہیے تھی۔ بچہ خاموش ہوا، ہم نے سکون کا سانس لیا اور ہمیں لگا کہ مسئلہ حل ہوگیا۔
شاید یہیں ہم سے پہلی غلطی ہوئی۔
ہم نے بچے کو خاموش کرنے کے لیے موبائل دیا، لیکن آہستہ آہستہ موبائل بچے کی خاموشی کا نہیں، ہماری مصروفیت کا سہارا بن گیا۔ بچہ کھانا نہیں کھا رہا، موبائل دے دو۔ بچہ ضد کر رہا ہے، موبائل دے دو۔ سفر میں بور ہو رہا ہے، موبائل دے دو۔ گھر میں مہمان آئے ہیں اور بچہ شور کر رہا ہے، موبائل دے دو۔
یوں ایک ایسا آلہ جو ہماری ضرورت کے لیے بنایا گیا تھا، ہمارے بچوں کی عادت بن گیا۔
بچپن صرف کھیلنے اور بڑے ہونے کا زمانہ نہیں ہوتا۔ یہی وہ عمر ہے جب بچہ اپنے گھر سے بولنا سیکھتا ہے، لوگوں کے چہروں کو پڑھتا ہے، سوال کرتا ہے، جواب سنتا ہے، چیزوں کو چھو کر سمجھتا ہے اور اپنے اردگرد کی دنیا سے تعلق بناتا ہے۔ اسے کبھی کھلونوں سے کھیلنے دیجیے، کبھی بے مقصد ادھر ادھر گھومنے دیجیے، کبھی سوال کرنے دیجیے اور کبھی صرف اس کی بات سن لیجیے۔ یہ سب بظاہر معمولی چیزیں ہیں، مگر بچے کی شخصیت انہی معمولی تجربات سے بنتی ہے۔
مسئلہ یہ نہیں کہ بچہ موبائل دیکھتا ہے۔
مسئلہ یہ ہے کہ اس کے پاس موبائل کے علاوہ کیا ہے؟
اگر بچے کے پاس کھیلنے کے لیے وقت نہیں، بات کرنے کے لیے کوئی نہیں، سوال سننے والا کوئی نہیں، کتاب پڑھنے کی عادت نہیں اور گھر میں ہر خاموشی کو سکرین سے بھر دیا گیا ہے تو پھر موبائل صرف ایک آلہ نہیں رہتا، وہ بچے کی پوری دنیا کا حصہ بننے لگتا ہے۔
ہم اکثر شکایت کرتے ہیں کہ بچے جلدی اکتا جاتے ہیں۔ چند منٹ کسی کام میں دل نہیں لگاتے۔ کتاب کھولتے ہی بور ہونے لگتے ہیں۔ بات کرتے ہوئے ادھر ادھر دیکھتے ہیں۔ لیکن کبھی ہم نے یہ بھی سوچا ہے کہ انہیں ہر وقت فوری تفریح کا عادی کس نے بنایا؟
موبائل پر چند سیکنڈ بعد نیا منظر سامنے آتا ہے۔ ایک ویڈیو ختم ہوئی تو دوسری تیار ہے۔ ایک تصویر دیکھی تو اگلی سامنے آگئی۔ بچے کو انتظار نہیں کرنا پڑتا، تلاش نہیں کرنی پڑتی، کسی چیز کے لیے کوشش نہیں کرنی پڑتی۔ شاید اسی لیے زندگی کی وہ چیزیں جن میں وقت، محنت اور صبر درکار ہوتا ہے، اسے زیادہ مشکل محسوس ہونے لگتی ہیں۔
یہاں بات صرف پڑھائی کی نہیں ہے۔ بات بچے کے مزاج کی بھی ہے۔
بچپن میں بور ہونا بھی ضروری ہے۔ ہر وقت مصروف رہنا ضروری نہیں۔ کبھی بچے کو خاموش بیٹھنے دیجیے۔ کبھی اسے اپنی مرضی سے کھیلنے دیجیے۔ کبھی اسے کوئی ایسی چیز کرنے دیجیے جس کا کوئی خاص مقصد نہ ہو۔ اسی خالی وقت میں اس کا تخیل کام کرتا ہے۔ وہ اپنی دنیا بناتا ہے، سوال سوچتا ہے اور اپنے آپ کو مصروف رکھنا سیکھتا ہے۔
ہم نے اس خالی جگہ کو بھی موبائل سے بھر دیا ہے۔
پھر ایک اور عجیب صورت حال پیدا ہوئی ہے۔ ہم بچوں کو موبائل سے دور رہنے کی نصیحت کرتے ہیں، مگر خود کھانے کی میز پر موبائل رکھتے ہیں۔ بچے کو کہتے ہیں کہ موبائل نیچے رکھو، اور خود ہر چند منٹ بعد اپنی سکرین دیکھ لیتے ہیں۔
بچہ ہماری بات کم اور ہمارا عمل زیادہ دیکھتا ہے۔
اس لیے اگر ہم واقعی بچوں کے موبائل استعمال کے بارے میں فکر مند ہیں تو پہلی تبدیلی بچے میں نہیں، ہمیں اپنے اندر لانی ہوگی۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ موبائل پھینک دیا جائے یا بچوں کو ٹیکنالوجی سے بالکل دور کردیا جائے۔ آج کی دنیا میں یہ ممکن بھی نہیں اور ضروری بھی نہیں۔ موبائل تعلیم کا ذریعہ بھی ہے، معلومات کا وسیلہ بھی اور رابطے کا ایک اہم ذریعہ بھی۔
اصل سوال موبائل کا نہیں، موبائل کے ساتھ ہمارے تعلق کا ہے۔
گھر میں کچھ جگہیں سکرین سے آزاد کی جا سکتی ہیں۔ کھانے کی میز، سونے سے پہلے کا وقت اور گھر والوں کے ساتھ بیٹھنے کے چند لمحے صرف ایک دوسرے کے لیے رکھے جا سکتے ہیں۔ بچے کو موبائل دینے کے بجائے کبھی اس کے ساتھ بیٹھا جا سکتا ہے۔ اس کی بات سنی جا سکتی ہے۔ کوئی چھوٹی سی کہانی سنائی جا سکتی ہے۔ کوئی کتاب کھولی جا سکتی ہے۔
شاید ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ بچے کو ہر وقت مصروف رکھنے کی ضرورت نہیں۔ کبھی کبھی اسے ہمارے ساتھ صرف بیٹھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
ہم نے بچوں کے ہاتھ میں موبائل تو دے دیا، مگر شاید اس دوران ہم نے اپنے ہاتھ سے ایک اور چیز چھوڑ دی: اپنا وقت۔
اور بچے کو آخرکار موبائل سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے، وہ یہی وقت ہے۔
بچے کے ہاتھ سے موبائل چھیننا شاید آسان ہو، مگر اس کے بدلے اپنے ہاتھ سے موبائل رکھ دینا کہیں زیادہ مشکل ہے۔
فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے۔
اور شاید ابھی بھی دیر نہیں ہوئی۔


