آج 26 اگست 2026ء کو جماعت اسلامی اپنے قیام کے پچاسی برس مکمل کررہی ہے۔ 26 اگست 1941ء کو لاہور میں صرف 75 افراد جمع ہوئے، 38 سالہ سید ابوالاعلیٰ مودودی کو اپنا امیر منتخب کیا، ایک عبوری دستور منظور کیا اور 74 روپے 14 آنے کے مختصر سرمائے سے ایک ایسی تحریک کی بنیاد رکھی جس کے فکری اثرات بعد میں برصغیر کی سرحدوں سے نکل کر عالم اسلام تک پھیل گئے۔ اس مختصر اجتماع کے پاس نہ حکومت تھی، نہ سرمایہ، نہ جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کی پشت پناہی اور نہ عوامی مقبولیت کا کوئی تیار شدہ میدان؛ البتہ اس کے پاس ایک واضح تصور، منظم لائحۂ عمل اور یہ عزم ضرور تھا کہ اسلام کو محض چند انفرادی عبادات تک محدود رکھنے کے بجائے انسانی زندگی کے اخلاقی، معاشرتی، معاشی اور سیاسی نظام کی بنیاد بنایا جائے۔ پچاسی برس بعد جماعت اسلامی آج بھی قائم، منظم اور سرگرم ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں، جہاں سیاسی جماعتیں اکثر اپنے بانی کے بعد بکھر جاتی، خاندانوں کی جاگیر بن جاتی یا اقتدار سے محرومی کے بعد قصۂ پارینہ بن جاتی ہیں، کسی غیر موروثی نظریاتی جماعت کا اتنی طویل مدت تک موجود رہنا بذات خود ایک قابل ذکر تاریخی واقعہ ہے۔
جماعت اسلامی کا سب سے بڑا کارنامہ اس کی انتخابی نشستیں، وزارتیں یا حکومتوں میں شرکت نہیں، بلکہ وہ فکری سرمایہ ہے جو مولانا مودودی اور ان کے رفقا نے جدید ذہن کے سامنے پیش کیا۔ مولانا مودودی نے اسلام کو خانقاہ، مسجد اور مدرسے کی محدود فضا سے نکال کر ریاست، معیشت، قانون، تعلیم، تہذیب، معاشرت اور بین الاقوامی تعلقات کے سوالات سے جوڑا۔ تفہیم القرآن، اسلامی ریاست، اسلامی قانون، سود، پردہ، تنقیحات، دینیات اور خلافت و ملوکیت جیسی تصانیف نے لاکھوں افراد کی ذہنی تشکیل کی۔ ان سے اختلاف کیا جاسکتا ہے، ان کے بعض نتائج پر تنقید بھی ہوسکتی ہے، مگر یہ انکار ممکن نہیں کہ بیسویں صدی میں اسلام کے اجتماعی تصور کو جس جامع، مربوط اور استدلالی زبان میں مولانا مودودی نے بیان کیا، جنوبی ایشیا میں اس کی دوسری مثال کم دکھائی دیتی ہے۔ جماعت نے اسی فکر کی بنیاد پر ایسا کارکن تیار کرنے کی کوشش کی جو عبادت، اخلاق، مطالعہ، دعوت، خدمت اور اجتماعی ذمہ داری کو ایک دوسرے سے جدا نہ سمجھے۔ یہی تربیتی نظام اس کی اصل قوت بھی بنا اور ایک حد کے بعد اس کے پھیلاؤ کی رکاوٹ بھی، کیونکہ ایک منتخب اور سخت منظم فکری جماعت کو وسیع، متنوع اور بے ترتیب عوامی معاشرے میں تبدیل کرنا ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔
قیام پاکستان سے پہلے مولانا مودودی مسلم لیگ کی سیاست، مذہب سے بے نیاز قوم پرستی اور محض جغرافیائی بنیاد پر قائم ہونے والی ریاست کے تصور کے ناقد تھے۔ اس تنقید کو بعض حلقوں نے پاکستان کی مخالفت کے سادہ عنوان میں سمیٹ دیا، حالانکہ ان کا اختلاف صرف مسلم لیگ سے نہیں تھا؛ وہ کانگریس اور جمعیت علمائے ہند کے متحدہ قومیت کے نظریے کو بھی قبول نہیں کرتے تھے۔ ان کا بنیادی سوال یہ تھا کہ مسلمانوں کے نام پر قائم ہونے والی ریاست کا نظریاتی، اخلاقی اور قانونی ڈھانچہ کیا ہوگا۔ قیام پاکستان کے بعد جماعت اسلامی نے نئی مملکت کے دستور میں اسلامی اصولوں کی شمولیت کے لیے بھرپور جدوجہد کی۔ قرارداد مقاصد، دستور سازی، اسلامی دفعات، سود سے پاک معیشت اور ریاست کی اخلاقی سمت کے مباحث میں جماعت اور مولانا مودودی کا اثر نمایاں رہا۔ اس جدوجہد نے پاکستانی سیاست کو یہ بنیادی سوال دیا کہ کیا یہ ملک صرف مسلمانوں کی اکثریت کا جغرافیائی وطن ہے یا اسے ان اخلاقی اور اجتماعی اصولوں کی بھی نمائندگی کرنی ہے جن کے نام پر اسے حاصل کیا گیا تھا۔ جماعت کے سیاسی حجم سے قطع نظر، پاکستان کے نظریاتی اور دستوری مباحث پر اس کے اثرات اس کی انتخابی قوت سے کہیں زیادہ وسیع رہے ہیں۔
آمریت اور جمہوریت کے باب میں جماعت اسلامی کی تاریخ سیدھی لکیر میں سفر نہیں کرتی۔ مولانا مودودی نے جنرل ایوب خان کی آمریت کی مخالفت کی اور 1965ء کے صدارتی انتخاب میں محترمہ فاطمہ جناح کا ساتھ دیا۔ یہ فیصلہ اس لحاظ سے اہم تھا کہ جماعت نے ایک فوجی آمر کے مقابلے میں دستوری اور جمہوری ضرورت کو ترجیح دی۔ لیکن 1977ء کی نظام مصطفیٰ تحریک، انتخابات میں دھاندلی کے خلاف احتجاج اور اس کے نتیجے میں جنرل ضیاء الحق کی فوجی مداخلت نے جماعت کو ایک مختلف مقام پر لاکھڑا کیا۔ جماعت کی قیادت نے ابتدا میں ضیاء حکومت سے تعاون کیا، اس کے بعض رہنما کابینہ میں شامل ہوئے اور افغان جہاد و اسلامائزیشن کی پالیسی میں ریاستی اداروں کے ساتھ فکری اور عملی ہم آہنگی اختیار کی۔ بعد میں جماعت حکومت سے الگ ہوگئی، مگر ابتدائی تعاون کا سیاسی بوجھ باقی رہا۔ افغان جہاد کو جماعت نے سوویت قبضے کے خلاف دینی اور قومی جدوجہد سمجھا، لیکن اس شراکت نے فوج، مذہبی جماعتوں اور جہادی تنظیموں کے درمیان ایسے تعلقات بھی پیدا کیے جن کے دور رس نتائج بعد کی دہائیوں میں سامنے آئے۔ یوں جماعت کبھی فوجی اقتدار کی مخالف، کبھی اس کی معاون اور کبھی اس سے الگ کھڑی نظر آتی ہے؛ یہی تضاد اس کی جمہوری شناخت کو آج تک پوری طرح واضح نہیں ہونے دیتا۔
1988ء میں جماعت اسلامی، پیپلز پارٹی کا راستہ روکنے کے لیے بنائے گئے اسلامی جمہوری اتحاد کا حصہ بنی۔ بعد کے عدالتی اور تاریخی مواد سے یہ بات سامنے آئی کہ آئی جے آئی کی تشکیل میں ریاستی خفیہ اداروں کے بعض افسران کا کردار تھا۔ جماعت کے ہر فیصلے، ہر امیدوار یا ہر انتخابی خرچ کے بارے میں براہ راست ثبوت یکساں نہیں، لیکن اسٹیبلشمنٹ کی سرپرستی سے قائم ہونے والے اتحاد میں اس کی شرکت سے انکار بھی ممکن نہیں۔ یہ جماعت کی سیاست کا ایک بنیادی تضاد تھا کہ ایک طرف وہ اسلامی، اخلاقی اور دستوری سیاست کی داعی تھی اور دوسری طرف پیپلز پارٹی کو روکنے کے لیے ایسے سیاسی بندوبست کا حصہ بن گئی جس میں غیر منتخب ادارے دخیل تھے۔ اس شرکت سے اسے وقتی نمائندگی اور سیاسی رسائی تو ملی، مگر اس کی آزاد شناخت کمزور ہوئی۔ اسی لیے جماعت اسلامی کو مستقل طور پر اسٹیبلشمنٹ کا مہرہ کہنا ناانصافی ہے، مگر یہ دعویٰ بھی تاریخ کا سامنا نہیں کرسکتا کہ جماعت نے کبھی اسٹیبلشمنٹ کے سیاسی منصوبوں سے فائدہ نہیں اٹھایا۔ زیادہ درست بات یہ ہے کہ بعض ادوار میں اس نے نظریاتی ہم آہنگی یا سیاسی مصلحت کے تحت اسٹیبلشمنٹ سے تعاون کیا اور بعض ادوار میں اسی قوت کے خلاف مزاحمت بھی کی۔
قاضی حسین احمد نے جماعت کو اس کے محدود تنظیمی دائرے سے نکال کر ایک عوامی تحریک بنانے کی سنجیدہ کوشش کی۔ ان کے دور میں جماعت کا لہجہ زیادہ عوامی، احتجاجی اور متحرک ہوا۔ نوجوانوں، پشتون علاقوں، متوسط شہری طبقے اور مذہبی حلقوں میں اس کی رسائی بڑھی، کشمیر اور افغانستان کے مسائل نمایاں ہوئے اور بدعنوان حکومتوں کے خلاف دھرنوں اور لانگ مارچ کی سیاست سامنے آئی۔ لیکن اس دور میں بھی جماعت اپنی مستقل انتخابی قوت قائم کرنے کے بجائے اتحادوں پر انحصار کرتی رہی۔ کبھی اسلامی جمہوری اتحاد، کبھی مختلف مذہبی اتحاد اور بعد میں متحدہ مجلس عمل اس کی سیاسی منزل بنتے رہے۔ 2002ء میں متحدہ مجلس عمل کو خیبر پختونخوا میں حکومت ملی اور قومی اسمبلی میں نمایاں نمائندگی حاصل ہوئی۔ یہ دینی جماعتوں کے لیے اپنے نظریات کو عملی حکمرانی میں تبدیل کرنے کا بڑا موقع تھا۔ بعض وزرا نے دیانت، سادگی اور بہتر نظم کی مثالیں قائم کیں، لیکن مجموعی حکومت تعلیم، صحت، روزگار، پولیس، انصاف اور مقامی ترقی میں ایسا مختلف نمونہ پیش نہ کرسکی جسے عوام ایک واضح اسلامی متبادل سمجھتے۔ پھر سترہویں آئینی ترمیم کے ذریعے جنرل مشرف کے اقتدار کو ملنے والے آئینی سہارے نے مذہبی اتحاد کی جمہوری ساکھ کو بھی نقصان پہنچایا، اگرچہ اس معاملے میں بنیادی مذاکراتی کردار جمعیت علمائے اسلام کی قیادت کا تھا۔
اس کے باوجود جماعت اسلامی کی تنظیمی ساخت پاکستانی سیاست میں ایک روشن استثنا ہے۔ یہ نہ کسی خاندان کی جاگیر بنی، نہ بانی کی اولاد کو قیادت کا پیدائشی حق دیا گیا اور نہ امیر کی تبدیلی پر جماعت کئی حصوں میں تقسیم ہوئی۔ مولانا مودودی کے بعد میاں طفیل محمد، قاضی حسین احمد، سید منور حسن، سراج الحق اور اب حافظ نعیم الرحمٰن قیادت کے منصب تک پہنچے۔ ان میں کسی نے جماعت کو اپنی ذاتی ملکیت نہیں بنایا۔ امیر محدود مدت کے لیے منتخب ہوتا ہے، دستور قیادت سے بالاتر حیثیت رکھتا ہے، کارکن کے لیے تربیت، مطالعہ، احتساب اور مالی نظم کا نظام موجود ہے اور ذمہ داری کے لیے دولت، جاگیردارانہ اثر یا خاندانی نسبت بنیادی شرط نہیں۔ پاکستان کی موروثی سیاست میں یہ کوئی معمولی خوبی نہیں۔ تاہم جماعت کو یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ اندرونی نظم اگر ضرورت سے زیادہ سخت ہوجائے تو وہ نئے سماجی طبقات، آزاد ذہن نوجوانوں، اہل علم اور اختلاف رکھنے والے لوگوں کے لیے کشادہ میدان کے بجائے ایک محدود حلقہ بن سکتا ہے۔ زندہ تحریک صرف نظم سے نہیں چلتی؛ اسے اپنے اندر سوال، اختلاف، تخلیق اور نئی قیادت کے ابھرنے کی گنجائش بھی پیدا کرنا پڑتی ہے۔
سماجی خدمت جماعت اسلامی کا وہ میدان ہے جہاں اس کے مخالفین بھی اس کی موجودگی سے انکار نہیں کرسکتے۔ الخدمت فاؤنڈیشن، ہسپتالوں، تعلیمی اداروں، صاف پانی کے منصوبوں، یتیم بچوں کی کفالت، قدرتی آفات میں امداد اور غزہ سمیت مختلف انسانی بحرانوں میں اس کے رضاکاروں نے قابل قدر کردار ادا کیا ہے۔ زلزلہ ہو، سیلاب ہو، وبا ہو یا بے گھر خاندانوں کی مدد کا مرحلہ، جماعت اور الخدمت کے کارکن اکثر سرکاری اداروں سے پہلے میدان میں پہنچتے ہیں۔ یہ خدمت جماعت کو ان لوگوں میں بھی احترام دلاتی ہے جو اس کی سیاست یا فکر سے اتفاق نہیں کرتے۔ لیکن یہی مقام ایک بڑے سوال کو بھی جنم دیتا ہے کہ جس جماعت کے پاس منظم کارکن، دیانت دار قیادت، فلاحی ادارے، علمی لٹریچر اور ملک گیر تنظیم موجود ہو، وہ عام انتخابات میں فیصلہ کن عوامی قوت کیوں نہیں بن پاتی؟ 2024ء کے انتخابات میں تقریباً تیرہ لاکھ چالیس ہزار ووٹ حاصل کرنے کے باوجود جماعت قومی اسمبلی میں مؤثر پارلیمانی قوت نہ بن سکی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خدمت کی مقبولیت اور سیاسی اعتماد ایک ہی چیز نہیں؛ لوگ جماعت کے امدادی کام کو سراہتے ہیں، مگر اقتدار اس کے سپرد کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے۔
اس انتخابی کمزوری کے کئی اسباب ہیں۔ جماعت آج تک پوری طرح طے نہیں کرسکی کہ وہ بنیادی طور پر تربیتی و دعوتی تحریک ہے یا اقتدار حاصل کرنے والی عوامی سیاسی جماعت۔ اس کا تنظیمی ڈھانچہ صالح اور باخبر کارکن بنانے کے لیے موزوں ہے، مگر کروڑوں مختلف الخیال انسانوں کو ایک وسیع سیاسی اتحاد میں جمع کرنے کے لیے بعض اوقات سخت اور محدود ثابت ہوتا ہے۔ اس کا علمی لٹریچر گہرا ہے، مگر اس کی زبان اور اصطلاحات ہمیشہ عام ووٹر تک نہیں پہنچتیں۔ عوام حاکمیت، انقلاب اور نظام کی بحث کے ساتھ بجلی کے بل، روزگار، علاج، تھانہ، پٹوار، تعلیم، مہنگائی اور مقامی سڑک کا قابل عمل حل بھی چاہتے ہیں۔ بار بار کے انتخابی اتحادوں نے بھی جماعت کی شناخت دھندلا دی۔ ووٹر یہ سمجھنے سے قاصر رہا کہ جماعت مسلم لیگ کی ساتھی ہے، مذہبی اتحاد کا حصہ ہے، تحریک انصاف کی حلیف ہے یا سب سے الگ قومی متبادل۔ بعض کارکنوں میں اخلاقی برتری کا احساس بھی دعوت اور معاشرے کے درمیان فاصلہ پیدا کرتا ہے۔ لوگ اصلاح کی بات سننا چاہتے ہیں، مگر وہ مسلسل اپنے کردار اور ایمان کا امتحان دینے کے لیے کسی سیاسی جماعت کے پاس نہیں آتے۔
جماعت کو یہ حقیقت بھی سمجھنا ہوگی کہ آج کا نوجوان صرف نظم، تقریر اور ماضی کے کارناموں سے متاثر نہیں ہوتا۔ وہ روزگار، ٹیکنالوجی، آزادی اظہار، تخلیقی صلاحیت، بہتر ماحول، معیاری تعلیم، سیاسی شفافیت اور شخصی وقار کے بارے میں واضح جواب چاہتا ہے۔ خواتین جماعت کی تنظیمی سرگرمیوں میں بڑی تعداد میں موجود ہیں، لیکن قومی فیصلہ سازی، عوامی قیادت اور سیاسی نمائندگی میں ان کی موجودگی ابھی اس تناسب سے نمایاں نہیں۔ اسی طرح مذہبی ووٹ مختلف مسالک اور جماعتوں میں تقسیم ہوچکا ہے۔ جماعت اسلامی کی نسبتاً غیر مسلکی شناخت اس کی ایک بڑی فکری خوبی ہے، مگر یہ خوبی خود بخود انتخابی کامیابی کی ضمانت نہیں بنتی۔ اگر جماعت اپنے آپ کو صرف مذہبی ووٹ کی امیدوار سمجھے گی تو اس کا دائرہ محدود رہے گا؛ اگر وہ دیانت، اہلیت، عدل، معاشی تحفظ اور شہری حقوق کی بنیاد پر پوری قوم کو مخاطب کرے گی تو اس کے لیے نئے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمٰن کی قیادت جماعت کے لیے اسی نئے امکان کی علامت ہے۔ کراچی کی سیاست نے انہیں بجلی، پانی، مردم شماری، بلدیاتی اختیار، شہری حقوق اور متوسط طبقے کی معاشی مشکلات سے براہ راست واسطہ دیا ہے۔ ان کی زبان جماعت کی روایتی مذہبی اصطلاحات کے ساتھ جدید شہری مسائل کو بھی جگہ دیتی ہے۔ بجلی کی قیمتوں، آئی پی پیز، تنخواہ دار طبقے، انتخابی مداخلت اور فلسطین کے سوال پر ان کی سرگرمی نے جماعت کو نئی توجہ دی ہے۔ موجودہ دور میں اسٹیبلشمنٹ اور انتخابی بندوبست کے بارے میں ان کا مؤقف جماعت کے بعض سابق ادوار کے مقابلے میں زیادہ واضح دکھائی دیتا ہے۔ لیکن دھرنا، احتجاج اور مؤثر تقریر کسی جماعت کو قومی متبادل بنانے کے لیے کافی نہیں۔ اسے ایک قابل عمل معاشی منصوبہ، زرعی اصلاحات، صوبائی خودمختاری، جدید تعلیم، بلدیاتی نظام، نوجوانوں کے روزگار، خواتین کی قیادت اور سویلین بالادستی کے بارے میں ایسا پروگرام دینا ہوگا جو نعروں سے نکل کر اعداد، وسائل، مدت اور نتائج کی زبان میں قوم کے سامنے آئے۔
پچاسی برس بعد جماعت اسلامی کے سامنے اصل سوال بقا کا نہیں، معنویت کا ہے۔ اس کی کامیابی یہ ہے کہ وہ زندہ، منظم، غیر موروثی اور فکری طور پر مؤثر ہے؛ اس کی ناکامی یہ ہے کہ وہ اپنے غیر معمولی علمی، اخلاقی اور تنظیمی سرمائے کو وسیع عوامی اعتماد اور فیصلہ کن انتخابی طاقت میں تبدیل نہیں کرسکی۔ یوم تاسیس صرف ماضی کے کارنامے گنوانے کا دن نہیں، اپنے سفر کا بے لاگ احتساب کرنے کا موقع بھی ہے۔ جماعت کو خود سے پوچھنا ہوگا کہ اتنی طویل جدوجہد کے باوجود عوام کی بڑی اکثریت اقتدار اس کے سپرد کرنے پر کیوں آمادہ نہیں۔ کیا ساری خرابی عوام کے فہم میں ہے، یا جماعت کے پیغام، زبان، ترجیحات، رویے اور سیاسی حکمت عملی میں بھی کوئی کمی ہے؟ جو تحریک دوسروں کے احتساب کا علم اٹھاتی ہے، اسے کبھی اپنی صفوں میں بھی عدالت قائم کرنی چاہیے۔ اگر جماعت اپنی فکری گہرائی کو عوامی زبان، تنظیمی دیانت کو قابل عمل حکمرانی، دینی دعوت کو وسیع انسانی ہمدردی، اور سیاسی مزاحمت کو بلاامتیاز آئینی و سویلین بالادستی کے اصول سے جوڑ لے تو اس کے امکانات ابھی ختم نہیں ہوئے۔ پچاسی برس پہلے 75 افراد اور 74 روپے 14 آنے سے شروع ہونے والی تحریک آج بھی سفر میں ہے، مگر تاریخ کا رخ صرف روشن ماضی سے نہیں بدلتا؛ اس کے لیے حال کا درست ادراک، اپنی غلطیوں کے اعتراف کی اخلاقی جرأت اور مستقبل کے لیے ایک واضح، کشادہ اور قابل عمل راستہ درکار ہوتا ہے۔


