پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز یعنی پمز۔ یہ محض اسلام آباد کا ایک ہسپتال نہیں، ریاستِ پاکستان کے دارالحکومت میں کھڑا ہوا صحت کے پورے نظام کا ایک بڑا نشان ہے۔ یہ وہ ادارہ ہے جس کا تصور ساٹھ کی دہائی میں دارالحکومت کے لیے ایک اعلیٰ درجے کے تدریسی و تخصصی ہسپتال کے طور پر پیش کیا گیا. جس کا ڈیزائن 1965ء میں تیار ہوا 1980ء میں 592 بستروں کے منصوبے کی منظوری ہوئی تعمیر شروع ہوئی اور 1985ء میں یہ ادارہ مکمل ہوا۔ آج پمز تقریباً 140 ایکڑ رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔
اس کے دامن میں صرف ایک عمارت نہیں بلکہ ایک پورا طبی نظام آباد ہے. اسلام آباد ہسپتال چلڈرن ہسپتال زچہ و بچہ مرکزِ صحت برن کیئر سینٹر کارڈیک سینٹر بریسٹ کینسر اسکریننگ سینٹر بون میرو ٹرانسپلانٹ یونٹ تھیلیسیمیا یونٹ بلڈ بینک، نرسنگ اور طبی تعلیم کے ادارے۔ پمز کی موجودہ سرکاری معلومات کے مطابق اس کے بڑے ہسپتالی اجزا میں اسلام آباد ہسپتال 713 بستروں، چلڈرن ہسپتال 262 بستروں اور مادر و طفل مرکز 156 بستروں کے ساتھ کام کر رہے ہیں. اس کے علاوہ برن کیئر اور کارڈیک مراکز بھی موجود ہیں۔
یہاں جنرل سرجری سے نیورو سرجری تک، کارڈیالوجی سے آنکولوجی تک، نیفرولوجی سے نیونٹالوجی تک، اور ایمرجنسی سے انتہائی نگہداشت تک درجنوں تخصصی خدمات فراہم کی جاتی ہیں۔ پمز خود کو ایک ایسے مرکز کے طور پر پیش کرتا ہے جہاں علاج، تحقیق اور طبی تعلیم بین الاقوامی پیشہ ورانہ معیار کے مطابق آگے بڑھانے کا عزم ہے۔
یعنی پمز کی عمارت صرف اینٹ، سیمنٹ اور شیشے کا مجموعہ نہیں۔ یہ وفاقی ریاست کا چہرہ ہے۔ یہاں صرف اسلام آباد کے شہری نہیں آتے. پمز کی اپنی دستاویز کے مطابق ملک کے مختلف علاقوں، بشمول خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، کشمیر اور پنجاب سے بھی مریض یہاں علاج کے لیے پہنچتے ہیں۔
اور اسی لیے 26 اگست 2026ء کی صبح پمز کے مادر و طفل مرکز کے نوزائیدہ بچوں کے وارڈ میں بھڑکنے والی آگ محض ایک حادثہ نہیں، ایک قومی سوال ہے۔
وہ بچے جنہوں نے دنیا کو ابھی دیکھا ہی تھا۔ جن کے ہاتھوں میں ابھی زندگی کی لکیریں بھی پوری طرح نمایاں نہیں ہوئی تھیں۔ جن کے والدین نے شاید ان کے نام سوچ رکھے تھے، جن کی ماؤں نے ان کے لیے کپڑے سنبھال رکھے تھے، جن کے گھروں میں ابھی خوشی کی پہلی روشنی پہنچی ہی تھی. وہ بچے ایک ایسی جگہ جل کر مر گئے جسے ان کی حفاظت کی سب سے مضبوط جگہ ہونا چاہیے تھا۔
رپورٹس کے مطابق آگ تقریباً پونے سات بجے لگی اور وارڈ میں موجود نومولود بچوں میں سے صرف ایک کو بچایا جا سکا۔ آگ کے آغاز کی وجہ کے بارے میں ابتدائی اطلاعات میں اے سی یونٹ کے پھٹنے یا برقی خرابی کا ذکر آیا جبکہ بعض ابتدائی بیانات میں نیبولائزر کا حوالہ بھی سامنے آیا ہے۔ آکسیجن کی موجودگی نے آگ کے تیزی سے پھیلنے میں کردار ادا کیا۔ حتمی وجہ ابھی تحقیق کے مرحلے میں ہے۔
لیکن ذرا ٹھہریے
اگر حتمی تحقیق یہ ثابت بھی کر دے کہ آگ اے سی کے کمپریسر سے لگی تو کیا ہماری ذمہ داری صرف اتنی ہے کہ ہم اے سی کو مجرم قرار دے دیں؟
نہیں
اے سی آگ لگا سکتا ہے مگر اے سی چودہ بچوں کو نہیں مارتا۔
نظام مارتا ہے۔
اگر ایک معمولی برقی خرابی چند لمحوں میں نوزائیدہ بچوں کے پورے وارڈ کو قبرستان بنا دے تو سوال اے سی سے زیادہ اس نظام سے پوچھا جائے گا جس نے اس اے سی کو وہاں نصب کیا، چلایا، برقرار رکھا اور اس کی نگرانی کی۔
سوال یہ ہے کہ کیا اس حساس وارڈ کے برقی نظام کا باقاعدہ معائنہ ہوتا تھا؟
اگر خرابی موجود تھی تو اسے پہلے کیوں نہ پکڑا گیا؟
اگر خرابی اچانک پیدا ہوئی تو اس کے لیے متبادل حفاظتی نظام کہاں تھا؟
اگر آگ لگی تو الارم نے فوراً خبردار کیا یا نہیں؟
اگر دھواں اٹھا تو خودکار فائر فائٹنگ نظام نے کیا کیا؟
اگر اسپرنکلر موجود نہیں تھا تو کیوں نہیں تھا؟
اور اگر موجود تھا تو اس نے کام کیوں نہیں کیا؟
حکومتی بیانات اور ابتدائی رپورٹنگ میں یہ سوال بھی سامنے آیا ہے کہ وارڈ میں اسپرنکلر سسٹم موجود نہیں تھا۔
یہ سوال معمولی نہیں۔
یہ پمز ہے
یہ کوئی کچی آبادی کا عارضی کلینک نہیں جہاں وسائل کی کمی کا بہانہ بنایا جا سکے۔ یہ وفاقی دارالحکومت کا ایک بڑا سرکاری طبی ادارہ ہے جہاں روزانہ ہزاروں مریض اور ان کے لواحقین آتے ہیں جہاں انتہائی حساس مریض زیر علاج رہتے ہیں جہاں آکسیجن وینٹی لیٹرز انکیوبیٹرز آپریشن تھیٹرز اور انتہائی نگہداشت کے شعبے موجود ہیں۔
اور سب سے بڑھ کر یہاں نوزائیدہ بچے تھے۔
وہ بچے جو خود ایک دروازہ نہیں کھول سکتے۔
خود بستر سے اٹھ نہیں سکتے۔
خود آگ سے بھاگ نہیں سکتے۔
خود آکسیجن کی نلکی نہیں اتار سکتے۔
خود مدد کے لیے چیخ بھی نہیں سکتے۔
ان کی حفاظت کا مکمل اختیار بالغ انسانوں، تربیت یافتہ عملے، انجینئرنگ نظام اور انتظامیہ کے پاس تھا۔
پھر سوال یہ ہے کہ جب آگ آئی تو بچوں کو بچانے کا نظام کہاں تھا؟
ایک بڑے ہسپتال میں فائر سیفٹی کا مطلب صرف دیوار پر لٹکا ہوا ایک سرخ سلنڈر نہیں ہوتا۔ فائر سیفٹی ایک مکمل فلسفہ ہے آگ سے پہلے خطرے کی شناخت، خطرے کے بعد فوری الارم، آگ کے پھیلاؤ کو روکنے کا انتظام، محفوظ راستے، متبادل راستے، تربیت یافتہ عملہ، باقاعدہ فائر ڈرل، ایمرجنسی رسپانس اور سب سے بڑھ کر ایسی منصوبہ بندی جس میں یہ تصور پہلے سے موجود ہو کہ اگر آج رات آگ لگ گئی تو ہم نومولود بچوں کو کیسے نکالیں گے۔
کیا ایسی مشق ہوتی تھی؟
کب ہوئی تھی؟
آخری مرتبہ کس نے نگرانی کی تھی؟
کس نے سرٹیفکیٹ جاری کیا تھا؟
کس افسر نے معائنہ کیا تھا؟
کس نے کہا تھا کہ وارڈ محفوظ ہے؟
یہ وہ سوال ہیں جنہیں کسی کمیشن کی فائل میں دفن نہیں ہونا چاہیے۔
اور پھر ایک اور سوال ہے، شاید سب سے زیادہ خوفناک
کیا ہمارے ہسپتالوں میں فائر ڈرل صرف کاغذ پر ہوتی ہے؟
کیا عملے کو واقعی یہ معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کی صورت میں سب سے پہلے کیا کرنا ہے؟
کیا نومولود بچوں کے انخلا کی عملی مشق کبھی ہوتی ہے؟
کیا ہر نرس جانتی ہے کہ انکیوبیٹر سے بچے کو کس ترتیب سے منتقل کرنا ہے؟
کیا ہر ڈاکٹر جانتا ہے کہ آکسیجن کے ماحول میں آگ کی صورت میں فوری اقدامات کیا ہیں؟
کیا ہر وارڈ میں متبادل راستہ کھلا رہتا ہے؟
کیا ہر دروازہ ایمرجنسی میں اندر سے کھل سکتا ہے؟
کیا ہر الارم واقعی بجتا ہے؟
یا ہم ہمیشہ کی طرح حادثے کے بعد فائل کھولتے ہیں؟
یہ سوال اس لیے بھی اہم ہیں کہ پمز کی اپنی ویب سائٹ مریضوں، عملے اور آنے والوں کی حفاظت کے لیے سیکیورٹی انتظامات، CCTV، duress alarms، electronic access control اور 24 گھنٹے سیکیورٹی پٹرولنگ کا ذکر کرتی ہے۔
جب ایک ادارہ حفاظتی نظام کے بارے میں اتنا واضح تصور رکھتا ہو تو پھر فائر سیفٹی بھی اسی معیار کی ہونی چاہیے۔
یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ہوگا
حادثہ اور غفلت ایک چیز نہیں۔
آگ لگ جانا حادثہ ہو سکتا ہے۔
مگر آگ لگنے کے بعد لوگوں کے پاس بچ نکلنے کا راستہ نہ ہونا غفلت ہو سکتی ہے۔
آگ کا چند لمحوں میں پھیل جانا ایک تکنیکی واقعہ ہو سکتا ہے۔
مگر اس کے لیے حفاظتی نظام کا نہ ہونا انتظامی سوال ہے۔
ایک مشین کا خراب ہونا اتفاق ہو سکتا ہے۔
مگر مشین کی دیکھ بھال نہ کرنا ذمہ داری کا مسئلہ ہے۔
اور ایک بچے کا مر جانا سانحہ ہے۔
چودہ بچوں کا ایک ساتھ مر جانا پورے نظام کا امتحان ہے۔
اسی لیے اس سانحے کی تحقیق صرف یہ معلوم کرنے تک محدود نہیں ہونی چاہیے کہ “آگ کہاں سے لگی؟”
تحقیق کا اصل سوال ہونا چاہیے:
“چودہ بچے کیوں نہ بچ سکے؟”
یہ دونوں سوال بظاہر ایک جیسے ہیں مگر حقیقت میں زمین آسمان کا فرق رکھتے ہیں۔
پہلا سوال مجرم تلاش کرتا ہے۔
دوسرا نظام کا پوسٹ مارٹم کرتا ہے۔
وزیراعظم کی طرف سے تحقیقاتی کمیٹی قائم کی جا چکی ہے جس نے 27 اگست کو جائے وقوعہ کا معائنہ شروع کیا۔ حکومت نے وفاقی ہیلتھ سیکریٹری کو بھی معطل کیا ہے اور فائر سیفٹی پروٹوکولز کا جائزہ لینے کی بات کی ہے۔ کمیٹی سے فوری سفارشات اور جامع رپورٹ کی توقع کی جا رہی ہے۔
مگر ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ کسی افسر کو معطل کر دینا تحقیق کا اختتام نہیں، آغاز ہے۔
ہمیں قربانی کا بکرا نہیں چاہیے۔
ہمیں حقیقت چاہیے۔
اگر ایک جونیئر ملازم قصوروار ہے تو قانون اسے سزا دے۔
اگر تکنیکی افسر ذمہ دار ہے تو اسے جواب دینا ہوگا۔
اگر وارڈ انتظامیہ نے حفاظتی اصول نظرانداز کیے تو اسے جواب دینا ہوگا۔
اگر اعلیٰ انتظامی سطح پر غفلت ہوئی تو وہاں تک ہاتھ پہنچنا ہوگا۔
اگر وزارت نے نگرانی نہیں کی تو وزارت سے سوال ہوگا۔
اور اگر پورا نظام کاغذی کارروائی، جعلی اطمینان اور “سب ٹھیک ہے” کے سرٹیفکیٹ پر چل رہا تھا تو پھر اس نظام کو بدلنا ہوگا۔
ہمیں چودہ بچوں کی موت کے بعد صرف تعزیتی بیانات نہیں چاہییں۔
ہمیں ایسے ہسپتال چاہییں جہاں فائر الارم بجے تو کوئی چونکے نہیں بلکہ نظام حرکت میں آ جائے۔
جہاں اسپرنکلر آگ کو پھیلنے سے پہلے روک دے۔
جہاں ایمرجنسی راستہ کبھی بند نہ ہو۔
جہاں عملہ فائر ڈرل کو رسمی کارروائی نہیں بلکہ زندگی بچانے کی مشق سمجھے۔
جہاں ہر حساس وارڈ کا برقی، آکسیجن اور فائر سیفٹی آڈٹ مستقل بنیادوں پر ہو۔
جہاں کسی ماں کو یہ خوف نہ ہو کہ اس کا بچہ علاج کے لیے ہسپتال آیا ہے اور شاید ہسپتال ہی اس کی آخری منزل بن جائے۔
پمز کے دروازے پر صرف ایک نام نہیں لکھا۔
وہاں پاکستان لکھا ہے۔
اور جب پاکستان کے دارالحکومت میں پاکستان کے ایک بڑے سرکاری ہسپتال کے اندر چودہ نومولود بچے آگ میں جل جائیں تو اس آگ کا دھواں صرف ایک وارڈ کی چھت تک نہیں رہتا۔
وہ اسلام آباد سے نکل کر پورے ملک کے نظامِ صحت کے چہرے پر آ جاتا ہے۔
اس لیے آج ہمیں یہ نہیں کہنا چاہیے:
“اے سی خراب تھا۔”
ہمیں کہنا چاہیے
اے سی اگر خراب تھا تو نظام کہاں تھا؟
اگر بجلی میں خرابی تھی تو نگرانی کہاں تھی؟
اگر آگ اچانک لگی تو حفاظتی انتظامات کہاں تھے؟
اگر دھواں چند لمحوں میں پھیل گیا تو فائر سیفٹی کہاں تھی؟
اگر بچے خود نہیں نکل سکتے تھے تو انہیں نکالنے کا منصوبہ کہاں تھا؟
اور اگر ہر چیز کاغذ پر موجود تھی تو پھر چودہ قبریں کیوں بنیں؟
یہ صرف چودہ خاندانوں کا سوال نہیں۔
یہ ریاست کا سوال ہے۔
یہ انتظامیہ کا سوال ہے۔
یہ طب کے شعبے کا سوال ہے۔
یہ ہماری ترجیحات کا سوال ہے۔
اور سب سے بڑھ کر یہ اس نظام سے سوال ہے جو زندگی بچانے کے لیے بنایا گیا تھا مگر جس کی کمزوری نے چودہ ننھی زندگیوں کو ہم سے چھین لیا۔
آگ شاید اے سی سے لگی ہو۔
مگر اگر تحقیق نے ثابت کیا کہ حفاظتی نظام، تربیت، نگرانی اور انتظامی احتیاط ناکام ہوئی تھی تو پھر یاد رکھیے—
اے سی نہیں، نظام جلا تھا۔
اور اس نظام کی راکھ میں آج چودہ نومولودوں کے سوال دفن ہیں۔
ان سوالوں کو دفن مت ہونے دیجیے۔ اگر دفن کر دیا تو کاکروچ سمیت کئی کیڑے مکوڑے نکل کر آپکو نگل لیں گے.


