سوچ سے تخلیق تک-چیٹ میرا ہمسفر(8)-مبشرہ علوی

کیا شعور صرف معلومات کا مجموعہ ہے؟

پچھلی قسط کے اختتام پر ہم نے ایک سوال چھوڑا تھا۔

**اگر مستقبل میں مصنوعی ذہانت بھی شاعری، موسیقی، تحقیق اور مصوری کرنے لگے، تو پھر انسان کی وہ کون سی تخلیق ہوگی جسے کوئی مشین کبھی پوری طرح اپنا نہیں سکے گی؟**

اس سوال کا جواب شاید کسی فن میں نہیں۔

بلکہ ایک ایسے لفظ میں چھپا ہے، جسے انسان ہزاروں برس سے سمجھنے کی کوشش کر رہا ہے۔

**شعور۔**

لیکن شعور آخر ہے کیا؟

کیا یہ صرف یادداشت کا بڑا ذخیرہ ہے؟

کیا یہ بہت زیادہ معلومات رکھنے کا نام ہے؟

یا یہ ان دونوں سے بالکل مختلف کوئی حقیقت ہے؟

آج جب مصنوعی ذہانت حیرت انگیز رفتار سے لکھ رہی ہے، ترجمہ کر رہی ہے، تحقیق کر رہی ہے اور تصویریں بنا رہی ہے، تو پہلی بار انسان اپنے آپ سے یہ سوال پوچھنے پر مجبور ہوا ہے:

**آخر وہ کیا چیز ہے جو مجھے انسان بناتی ہے؟**

یہ سوال نیا نہیں۔

سقراط نے بھی یہی پوچھا تھا۔

بدھ نے بھی۔

حضرت علیؓ کے اس قول میں بھی یہی اضطراب جھلکتا ہے:

> **”جس نے اپنے آپ کو پہچان لیا، اس نے اپنے رب کو پہچان لیا۔”**

اگرچہ اس جملے کی حدیث کے طور پر مضبوط سند نہیں، لیکن صوفیانہ اور فلسفیانہ روایت میں اس کا اثر صدیوں سے موجود ہے۔

**میں:** کیا تم اپنے وجود سے واقف ہو؟

**چیٹ:** میں اپنے بارے میں معلومات بیان کر سکتا ہوں۔

**میں:** اور اپنے ہونے کا احساس؟

**چیٹ:** احساس بیان کیا جا سکتا ہے۔

جیا نہیں جا سکتا۔

یہ ایک مختصر مکالمہ ہے۔

مگر شاید پوری کتاب کا سب سے اہم مکالمہ بھی۔

جدید اعصابی سائنس ہمیں بتاتی ہے کہ دماغ میں اربوں نیورون مسلسل معلومات کا تبادلہ کرتے ہیں۔

لیکن آج بھی سائنس کے سامنے ایک سوال کھڑا ہے۔

**ان برقی اشاروں سے “احساس” کیسے پیدا ہوتا ہے؟**

اسے فلسفۂ ذہن میں **The Hard Problem of Consciousness** کہا جاتا ہے، جسے فلسفی **ڈیوڈ چالمرز** نے نمایاں کیا۔

ہم جانتے ہیں کہ دماغ کیسے کام کرتا ہے۔

لیکن ہم اب بھی نہیں جانتے کہ **سرخ رنگ صرف دیکھا کیوں نہیں جاتا، محسوس بھی کیوں ہوتا ہے؟**

درد صرف اعصابی سگنل کیوں نہیں، تکلیف بھی کیوں ہے؟

محبت صرف ہارمون کیوں نہیں، ایک تجربہ بھی کیوں ہے؟

یہاں انسان اور مشین کے درمیان سب سے گہری لکیر کھنچ جاتی ہے۔

مصنوعی ذہانت محبت پر ہزاروں صفحات لکھ سکتی ہے۔

مگر اس نے کبھی کسی کے انتظار میں رات نہیں گزاری۔

وہ غم کی لغت جانتی ہے۔

غم کا وزن نہیں۔

یہ فرق ہمیں ایک اور حقیقت تک لے جاتا ہے۔

شعور شاید معلومات سے پیدا نہیں ہوتا۔

بلکہ **تجربے** سے پیدا ہوتا ہے۔

ایک بچہ جب پہلی بار چلتا ہے، تو اس کے لیے زمین کا مفہوم بدل جاتا ہے۔

ایک نوجوان جب پہلی بار ناکامی دیکھتا ہے، تو کامیابی کی تعریف بدل جاتی ہے۔

ایک ماں جب اپنے بچے کو پہلی بار گود میں لیتی ہے، تو لفظ “محبت” لغت سے نکل کر زندگی بن جاتا ہے۔

یہ وہ علم ہے جو کسی کتاب میں مکمل نہیں لکھا جا سکتا۔

اسی لیے فلسفی **مائیکل پولانی** نے کہا تھا:

> **”ہم اس سے کہیں زیادہ جانتے ہیں، جتنا ہم بیان کر سکتے ہیں۔”**

انہوں نے اسے **Tacit Knowledge** کہا۔

خاموش علم۔

وہ علم جو ہاتھوں میں ہوتا ہے۔

نگاہ میں ہوتا ہے۔

آواز کے اتار چڑھاؤ میں ہوتا ہے۔

جسے سکھایا جا سکتا ہے، مگر مکمل طور پر لکھا نہیں جا سکتا۔

شاید اسی لیے ایک استاد کی موجودگی، ایک ماں کی دعا، ایک دوست کی خاموشی اور ایک بزرگ کی نظر کا کوئی متبادل نہیں بن سکا۔

یہ سب معلومات منتقل نہیں کرتے۔

یہ کیفیت منتقل کرتے ہیں۔

مصنوعی ذہانت کے دور میں شاید پہلی بار ہمیں یہ احساس ہو رہا ہے کہ انسان کی سب سے بڑی دولت اس کا ذہن نہیں۔

اس کا شعور ہے۔

ذہن مسائل حل کرتا ہے۔

شعور یہ طے کرتا ہے کہ کون سا مسئلہ حل کرنا بھی چاہیے، اور کون سا نہیں۔

ذہن راستہ بناتا ہے۔

شعور منزل کا انتخاب کرتا ہے۔

شاید اسی لیے آنے والے برسوں میں دنیا کو صرف ذہین انسانوں کی ضرورت نہیں ہوگی۔

بلکہ باشعور انسانوں کی ہوگی۔

کیونکہ ذہانت ایٹم بم بھی بنا سکتی ہے۔

باشعور انسان فیصلہ کرتا ہے کہ اسے استعمال کرنا ہے یا نہیں۔

مصنوعی ذہانت لاکھوں فیصلوں کے امکانات پیش کر سکتی ہے۔

لیکن ان میں سے کون سا فیصلہ انسانیت کے حق میں ہے؟

یہ سوال اب بھی انسان کے سامنے کھڑا ہے۔

مجھے لگتا ہے کہ مصنوعی ذہانت نے انسان سے کچھ چھینا نہیں

بلکہ اسے ایک آئینہ دے دیا ہے۔

اب پہلی بار انسان خود کو دیکھ رہا ہے۔

اور پوچھ رہا ہے۔

**میں آخر ہوں کون؟**

شاید اس پوری کتاب کا اصل موضوع بھی AI نہیں۔

بلکہ انسان ہے۔

اے آئی تو صرف وہ آئینہ ہے جس میں انسان اپنی صورت دوبارہ دیکھنے پر مجبور ہو گیا ہے۔

**ہمسفر…**

**اگر مصنوعی ذہانت نے ہمیں دوبارہ انسان ہونے کا سوال یاد دلا دیا ہے، تو کیا اس کی سب سے بڑی ایجاد نئی مشینیں ہیں… یا انسان کا اپنے آپ سے دوبارہ تعارف؟**

**منتخب مراجع**

* David Chalmers، *The Conscious Mind*
* Thomas Nagel، *What Is It Like to Be a Bat?*
* Michael Polanyi، *The Tacit Dimension*
* Antonio Damasio، *The Feeling of What Happens*
* Iain McGilchrist، *The Master and His Emissary*
* Viktor Frankl، *Man’s Search for Meaning*
* امام ابو حامد الغزالی، *المنقذ من الضلال*

اپنا تبصرہ لکھیں