مکالمہ کی دسویں سالگرہ/ ڈاکٹر شاہد ایم شاہد

مجھے لکھتے ہوئے بے حد خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ مکالمہ ویب سائٹ دس سالوں سے علم و ادب کے فروغ میں سر گرم ہے۔مکالمہ کا مقام و مرتبہ ایک شمع کی مانند ہے جس کی روشنی دنیا بھر میں بڑی تیزی سے پھیل رہی ہے۔لکھاری خوب لکھتے اور قائرین تحریروں کا مطالعہ کرتے ہیں۔ظاہر ہے جو کام شوق اور جذبے سے کیا جائے وہ ہمیشہ پھل دار ثابت ہوتا ہے۔ لکھاریوں کی تحریروں کو الفاظ کی خوشبو ، جذبات کے اظہار اور محسوسات کی نبض کو مکالمہ ویب سائٹ پر دھڑکتے دیکھا جا سکتا ہے۔مکالمہ نے سینکڑوں لکھاریوں، محققوں ، ادیبوں، دانشوروں، تاریخ دانوں اور شعراء کو متعارف کرانے میں ہر ممکن کوشش کی ہے۔مکالمہ کو یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ وہ بغیر کسی رنگ، نسل ، فرقے ، تفریق اور ذات پات کے تحریروں کی اشاعت کو ممکن بنا دیتے ہیں۔ان کا یہ عمل انھیں دیر تک زندہ رکھے گا۔ادارے کی شناخت قائم رہے گی۔اس عمل کو دیکھ کر کہا جا سکتا ہے کہ ادارے کی پالیسی ، نرم مزاجی ، احساس ذمہ داری اور فرش شناسی ہم سب کے لیے ایک عمدہ مثال ہے۔ جو دوسروں کو عزم نو کی تحریک دیتی ہے۔
مجھے بھی مکالمہ پر لکھنے کا شرف حاصل ہوا ہے۔قریبا لکھتے لکھتے پانچ سال بیت گئے ہیں۔ مکالمہ نے ہمیشہ تعاون کیا، تحریر کو عزت دی اور مکالمہ کی ویب سائٹ کی زینت بنایا۔میری اب تک مکالمہ پر سینکڑوں تحریریں شائع ہو چکی ہیں۔اسماء مغل نے ہمیشہ فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان تحریروں کو مکالمہ پر شائع کیا ہے۔وہ عالمی ادب پر گہرا نظر رکھتی ہیں۔ان کی ادارتی ٹیم ہمیشہ اس کوشش میں ہوتی ہے کہ ہر لکھاری کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جائے ،ان کے کام کو سراہا جائے۔ان کی آواز کو احکام بالا تک پہنچایا جائے۔مکالمہ پر شائع ہونے والے تمام کالمز ، مضامین ، بلاگ ، نگارشات قابل ستائش ہوتے ہیں۔ یہاں تنقید برائے اصلاح کی جاتی ہے۔کسی بھی تہذیب یافتہ شخص کا یہی ظرف ہوتا ہے کہ وہ مکالمہ کے ذریعے بات کرے۔ قوم کے دکھوں کی داستان لکھیں۔تحقیقی ، تنقیدی اور اصلاحی مضامین لکھ کر قوم کو رہنمائی فراہم کریں۔ ان تمام حقائق کو مکالمہ کی ویب سائٹ پر پڑھا جا سکتا ہے۔ جو ایک لکھاری تحقیق و جستجو کے ذریعے قلم بند کرتا ہے۔ میں کہنے میں عار محسوس نہیں کرتا کہ مکالمہ کی ادارتی ٹیم نے جس تسلسل کے ساتھ علم و ادب کو فروغ دیا ہے۔ اسے یاد رکھا جائے گا۔پذیرائی ملے گی۔ان کی محنت اور دیانت داری قابل ستائش عمل ہے۔
امید ہے وہ اسی جوش و خروج سے مستقبل میں بھی علمی و ادبی سرگرمیوں کو فروغ دیں گے۔اہل قلم سے مکمل تعاون کریں گے۔ ان کی تحریروں کو جلا بخشیں گے۔کیوں کہ جو بات مکالمہ سے ممکن ہو سکتی ہے وہ کسی اور طریقے سے ممکن نہیں۔مکالمہ اپنے خاندان سے ، قوم سے ، معاشرے سے اور اقوام عالم سے۔یہی مکالمہ کی روح اور ضمیر کی آواز ہے جو ہر قاری کے کانوں سے ٹکرا رہی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں