ریاضیات / ڈاکٹر جواد ریاض

معاشرتی عدم برداشت اور ہماری ذمہ داری

انسان کو رنگ، نسل، ذبان، معاشرت، معاشیات الغرض ہر اعتبار سے ایک دوسرے سے مختلف پیدا کیا گیا۔ یہاں تک کہ دنیا میں موجود تقریبا 8 بلین انسانوں میں سےکسی کے ہاتھ کی لکیریں اورآنکھوں کا رنگ ایک دوسرے سے نہیں ملتا۔ بالکل اسی طرح ہم تمام انسانوں کی آرا بھی ایک دوسرے سے متنوع ہیں اور اسی تنوع کو برقرار رکھنے اور اختلاف رائے کو عزت دینے میں معاشرے کا حسن ہے۔ مگر بیگاڑ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب معاشرہ سیاست، مذہب، مسلک ، زبان و نسل ، ذات و برادری یا محض روزمرہ زندگی کے معمولی معاملات میں اختلاف رائے کو برداشت کرنے کی صلاحیت کھو دیتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ عدم برداشت آخر ہے کیا، اس کی بنیادی وجہ کیا ہے اور اسے روکنے کا راستہ کیا ہے؟

عدم برداشت دراصل اس رویے کا نام ہے جس میں انسان اپنے نظریے، عقیدے، طرزِ زندگی یا رائے کو درست سمجھنے کے ساتھ ساتھ دوسروں کو مختلف ہونے یا اختلاف رائے رکھنے کے حق کو تسلیم کرنے سے انکار کر دے۔ اختلافِ رائے بذاتِ خود مسئلہ نہیں؛ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب اختلاف، نفرت میں اور نفرت، تصادم میں بدل جائے۔ کسی کی سیاسی رائےپسند نہ آنے پر اسے غدار کہنا، مذہبی اختلاف پر دوسرے کی نیت پر حملہ کرنا، کسی کے لباس، زبان یا طرزِ زندگی کو اس کی کردار کشی کا ذریعہ بنانا، یہ
سب عدم برداشت کی مختلف شکلیں ہیں۔

اس کی بنیادی وجہ اپنی شناخت، عقیدے یا سیاسی وابستگی اور اپنی رائے کو تنقید سے بالاتر سمجھنا ہے۔ اس طرح جب انسان تنقیدی سوچ، مکالمے اور دلیل کی جگہ جذبات، تعصب اور گروہی وابستگی کو معیار بنا لیتا ہے تو ’’ہم‘‘ اور ’’وہ‘‘ کی تقسیم پیدا ہوتی ہے۔ اور یہی تقسیم معاشرے میں عدم استحکام اور تصادم کی صورتحال پیدا کرتی ہے۔ ماہرِ نفسیات گورڈن آلپورٹ نے تعصب کے مطالعے میں واضح کیا کہ انسان اکثر دوسرے گروہ کے بارے میں پہلے سے قائم تصورات کی بنیاد پر فیصلے کرتا ہے۔ ان کے مشہور تصور Contact Hypothesis کے مطابق مختلف گروہوں کے لوگوں کے درمیان مثبت اور بامقصد رابطہ تعصب کو کم کر سکتا ہے؛ بعد کی تحقیق نے بھی گورڈن آلپورٹ کے اسی تصور کو ابھارا ہے۔
ایک اور مفکر جان اسٹورٹ مل کے نزدیک معاشرے کی ترقی کے لیے مختلف آرا کا موجود رہنا ضروری ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اب عدم برداشت صرف اخلاقی مسئلہ نہیں رہا بلکہ معاشرتی اور قومی ترقی کا مسئلہ بھی ہے۔ اور اسکی علمی جہتیں بھی ہیں۔جس معاشرے میں سوال پوچھنا بدتمیزی، اختلاف غداری اور تنقید تصادم سمجھا جائے وہاں تحقیق اور تخلیقی سوچ کیسے پروان چڑھ سکتی ہے؟ پاکستان میں یہ مسئلہ کئی سطحوں پر نظر آتا ہے۔ سیاسی اختلاف اب اکثر ذاتی عناد بن جاتا ہے۔ مذہبی اختلاف میں کسی کو بھی کافر بنا دیا جاتا ہے۔ رنگ، نسل، زبان کے اختلاف نے قومی وحدت کو پنپنے نہیں دیا۔ گزشتہ کجھ دہائیوں میں معاشی تفاوت نے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی ہے۔ سوشل میڈیا کے بے ضابطہ اور غیر محتاط استعمال نے صورتحال کو مزید پیچیدہ کردیا ہے۔ ایک نامکمل ویڈیو، جھوٹی خبر یا اشتعال انگیز پوسٹ چند لمحوں میں ہزاروں ذہنوں کو متاثر کرسکتی ہے۔ مذہبی معاملات میں تو اس کے نتائج کہیں زیادہ خطرناک ہیں۔ کسی پر توہینِ مذہب کا الزام لگنا، عدالت کے فیصلے کا انتظار کرنے کے بجائے ہجوم کا خود سزا دینے پر آمادہ ہوجانا، اس امر کی خطرناک مثال ہے۔ اور جب قانون کی جگہ جذبات لے لیں تو معاشرہ کس طرف جاسکتا ہے کسی ذی شعور کے لیے اسکا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ Pew Research Center نے 2023 کے اعداد و شمار کی بنیاد پر پاکستان میں مذہبی تصادم کو خاصا خطرناک قرار دیا ہے۔

حالیہ برسوں کے واقعات بتاتے ہیں کہ معمولی تنازعات بھی جان لیوا ثابت ہوئے ہیں۔ انسانی حقوق کی رپورٹس کے مطابق سوشل میڈیا پوسٹس اور توہینِ مذہب کے الزامات کے بعد ہجوم کے مشتعل ہونے کے متعدد واقعات اس امر کے گواہ ہیں ۔ یہ صرف اقلیتوں کا مسئلہ نہیں؛ ہجوم کے ہاتھوں قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا پورے معاشرے کے لیے خطرہ ہے۔ کیونکہ ایسی صورتحال کسی بھی شخص کے خلاف استعمال ہوسکتی ہے۔ پچھلے دنوں سرحد یونیورسٹی میں بھی مخالفین نے قانون کو ہاتھ میں لینے کی کوشش کی۔ اور یقننا یہ صورتحال معاشرے کی بقا کے حوالے سے تشویش ناک ہے۔

عدم برداشت سے معاشرے میں خوف، گھٹن، ذہنی دباؤ اور باہمی بداعتمادی پیدا ہوتی ہے۔ لوگ اپنی رائے کا اظہار کرنے سے کترانے لگتے ہیں، سوال اٹھانے سے گھبراتے ہیں اور اختلاف کو خطرہ سمجھنے لگتے ہیں۔ ایسے ماحول میں ایک دانا سے کسی نے پوچھا، ’’آپ بےوقوفوں سے بحث کیسے کرتے ہیں؟‘‘ انہوں نے جواب دیا، ’’میں ان سے بحث ہی نہیں کرتا۔‘‘ پوچھنے والے نے کہا، ’’لیکن آپ کو تو ان سے بحث کرکے اپنی بات منوانی چاہیے۔‘‘ دانا نے فوراً کہا، ’’جی، آپ درست فرما رہے ہیں۔‘‘ یوں جب مکالمہ دلیل کی بجائے تصادم کی نذر ہو جائے تو علمی بحث کا دائرہ سکڑنے لگتا ہے اور تحقیق، سوال اور تخلیق کرنے والے دانستا خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔

سیاسی عدم برداشت جمہوری اداروں کو کمزور کرتی ہے۔ مذہبی عدم برداشت سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچاتی ہے، جبکہ طبقاتی اور لسانی تعصب قومی وحدت کو متاثر کرتا ہے۔ یوں رفتہ رفتہ معاشرہ افہام و تفہیم کی روح کھو دیتا ہے؛ لوگ سمجھنے اور سننے کے بجائے ایک دوسرے کو زیر کرنے کی کوشش کرنے لگتے ہیں۔ اختلافِ رائے، جو کسی زندہ اور باشعور معاشرے کی علامت ہونا چاہیے، باہمی کشمکش کا سبب بن جاتا ہے۔

یہاں اسلام کا نقطۂ نظر بھی ہمارے لیے انتہائی اہم ہے۔ اسلام انسانوں کے باہمی تنوع کو ختم کرنے کے بجائے اسے ایک حقیقت کے طور پر تسلیم کرتا ہے:
’’اے لوگو! بے شک ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں قوموں اور قبیلوں میں بنایا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔‘‘(الحجرات: 13)
یعنی اللہ نے انسانوں کو مختلف قوموں اور قبیلوں میں بنایا تاکہ وہ ایک دوسرے کو پہچانیں، نہ کہ ایک دوسرے کو حقیر سمجھیں۔ اسی طرح قرآن کا اصول ہے: ’’دین میں کوئی جبر نہیں‘‘ (البقرہ: 256)۔ اسلام اختلاف کی صورت میں بھی انصاف سے دستبردار ہونے کی اجازت نہیں دیتا۔

مذہبی عدم برداشت اس وسیع مسئلے کی ایک نہایت حساس شکل ہے۔ اسلام انسان کو اختلاف کے باوجود اخلاقی حدود قائم رکھنے کی تعلیم دیتا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ فرماتا ہے: ’’اور ان لوگوں کو برا نہ کہو جنہیں وہ اللہ کے سوا پکارتے ہیں، ورنہ وہ جہالت کے باعث زیادتی کرتے ہوئے اللہ کو برا کہنے لگیں گے۔‘‘ (الانعام: 108)

یہ آیت صرف ایک مذہبی تعلیم نہیں بلکہ سماجی رویے کا ایک غیر معمولی اصول بھی پیش کرتی ہے: اپنے عقیدے پر مضبوط رہتے ہوئے بھی دوسروں کی تحقیر سے گریز کیا جائے۔ اسلام کا مقصد معاشرتی تنوع کو ختم کرنا نہیں بلکہ اسکی موجود گی میں اخلاق، عدل اور انسانی وقار کو برقرار رکھنا ہے۔

اسلامی تاریخ بھی ہمیں افہام و تفہیم اور برداشت کی مثالیں دیتی ہے۔ ریاستِ مدینہ میں مختلف مذہبی گروہوں کے ساتھ معاہداتی تعلقات قائم کیے گئے۔ نبی کریم ﷺ نے اختلاف رکھنے والوں کے ساتھ بھی اخلاق، عدل اور انسانی وقار کا مظاہرہ کیا۔ اس لیے مذہب کے نام پر گالی یا تضحیک دراصل اسلامی اخلاق کے بنیادی اصولوں سے متصادم رویے ہیں۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ گھر اور تعلیمی اداروں میں اختلافِ رائے کو جرم سمجھنے کے بجائے سیکھنے کا ذریعہ بنایا جائے۔ تعلیمی اداروں میں سکھایا جائے کہ کسی سے اختلاف کرنا اور کسی کی تذلیل کرنا دو مختلف چیزیں ہیں۔ دوسرا، سوشل میڈیا پر تنقیدی سوچ اور معلومات کی تصدیق کو عام کرنا ہوگا۔ تیسرا، ریاست کو واضح طور پر یہ پیغام دینا ہوگا کہ معاملہ خواہ کتنا ہی سنگین کیوں نہ ہو، سزا دینے کا اختیار صرف قانون کو ہے، ہجوم کو نہیں۔ چوتھا، مختلف مذہبی، سیاسی اور سماجی گروہوں کے درمیان حقیقی افہام و تفہیم اور مشترکہ سرگرمیوں کو فروغ دینا ہو گا ۔ سب سے بڑھ کر یہ سمجھنا ہوگا کہ اختلاف رائے انسانی بنیادی حق ہے نا کہ تصادم کی بنیاد۔ تصادم اکثر ہمیں انسان نہیں رہنے دیتا، ہجوم بنا دیتا ہے اور معاشروں کی بقا کی ضمانت ہجوم نہیں انسان ہوا کرتے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں