سوال باقی ہے(1)- علی عبداللہ

چاندنی رات ہے، اور میں رات کے اس پہر چاند کے بالکل سامنے ہوں۔ اسے دیکھ رہا ہوں اور زندگی کے ان نشیب و فراز کے بارے میں سوچ رہا ہوں جن کے لیے جانے کیوں چاندنی راتوں کا یہ خاموش پہر مجھے ہمیشہ سے موزوں لگتا ہے۔ شاید دن کے شور میں آدمی اپنے بارے میں اتنا نہیں سوچ پاتا جتنا رات کی خاموشی میں سوچ و فکر کے نئے ابواب سے آشنائی ملتی ہےـ

کچھ دیر پہلے رائنر ماریا رلکے کے فرانتس زاور کوپس کے نام خطوط پڑھے ہیں ـ رلکے کو پڑھتے ہوئے ایک بات بار بار محسوس ہوتی ہے کہ وہ ہمیں زندگی کے بارے میں کوئی آسان جواب نہیں دیتا۔ وہ شاید جواب دینے سے زیادہ ہمیں اپنے سوالوں کے قریب لے جاتا ہے۔ وہ شاعری کے بارے میں لکھتا ہے، مگر بات آہستہ آہستہ شاعری سے نکل کر انسان کی ذات، تنہائی، محبت اور تعلقات تک پہنچ جاتی ہے۔

ایک خط پڑھتے ہوئے میں دیر تک محبت کے بارے میں سوچتا رہا۔ ہم محبت کو عموماً کسی دوسرے انسان کی آمد سے جوڑتے ہیں۔ جیسے زندگی میں کوئی آئے گا اور اس کے آنے سے کچھ ادھورا پورا ہو جائے گا۔ اسی لیے محبت میں ہم دوسرے سے بہت کچھ چاہتے ہیں۔ اس کی موجودگی، اس کی توجہ، اس کی تسلی، اس کا یقین۔ کبھی کبھی تو شاید اس کی پوری زندگی۔

رلکے اس خیال کو ایک مختلف سمت میں لے جاتا ہے۔ اس کے نزدیک محبت کرنے سے پہلے انسان کو اپنی تنہائی کے ساتھ رہنا سیکھنا چاہیے۔ یہ بات سادہ تو ہے، مگر جتنا سوچتا ہوں اتنی ہی مشکل لگتی ہے۔ کیا ہم واقعی تنہائی سے ڈرتے ہیں؟ یا اس شخص سے جو تنہائی میں ہمارے سامنے آتا ہے؟

دن بھر آدمی بہت سے لوگوں کے درمیان رہتا ہے۔ کام، گفتگو، فون، ملاقاتیں، ذمہ داریاں۔ اپنے لیے وقت کم ہی بچتا ہے۔ پھر رات آتی ہے، سب کچھ خاموش ہو جاتا ہے اور آدمی اپنے ساتھ رہ جاتا ہے- اس لمحے معلوم ہوتا ہے کہ ہماری بے چینی کا ایک حصہ دنیا کی کمی نہیں، اپنے آپ سے دوری بھی ہے۔ ہم بعض اوقات کسی انسان کو اس کی حقیقت میں نہیں دیکھتے، بلکہ اس تصور میں دیکھتے ہیں جو ہم نے اس کے بارے میں بنا رکھا ہوتا ہے۔ ہمیں اس کی اپنی شخصیت سے زیادہ وہ صورت پسند ہوتی ہے جو ہماری خواہشوں کے مطابق ہو۔ پھر جب وہ شخص ہماری توقع کے مطابق نہیں رہتا تو تعلق مشکل ہونے لگتا ہے۔
کیا یہ محبت تھی؟ یا اپنی خواہش کا ایک خوب صورت نام؟ اس سوال کا جواب میرے پاس بھی نہیں۔

رلکے بھی اسی لیے محبت کو آسان تجربہ نہیں سمجھتا۔ وہ اسے ایک ایسا فن سمجھتا ہے جسے انسان کو سیکھنا پڑتا ہے۔ دوسرے انسان کے قریب رہتے ہوئے اس کی الگ دنیا کو تسلیم کرنا، اس کی خاموشیوں کو بھی جگہ دینا، اور یہ ماننا کہ وہ مکمل طور پر ہمارے لیے قابلِ فہم نہیں ہو سکتا-

ہم تعلقات میں مکمل قربت چاہتے ہیں۔ دوسرے کے بارے میں سب کچھ جاننا چاہتے ہیں۔ اس کے دل میں کیا ہے، اس کے ذہن میں کیا چل رہا ہے، وہ ہمارے بارے میں کیا سوچتا ہے۔ شاید محبت کے نام پر ہم کبھی کبھی دوسرے انسان کے اس حصے تک بھی پہنچنا چاہتے ہیں جہاں اس کا اپنا حق ہے۔ مگر کیا کسی انسان سے محبت کرنے کے لیے اسے مکمل طور پر جان لینا ضروری ہے؟ شاید نہیں۔ کسی سے محبت کرنے کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ اس کے اندر کچھ ایسا رہنے دیا جائے جو صرف اس کا ہے۔

یہاں مجھے رلکے کی تنہائی کی طرف واپسی سمجھ میں آنے لگتی ہے۔ دو انسان قریب آ سکتے ہیں، ایک دوسرے کے ساتھ زندگی گزار سکتے ہیں، ایک دوسرے کے دکھ بانٹ سکتے ہیں، مگر اس کے باوجود دونوں کے اندر ایک ایسی جگہ موجود رہتی ہے جہاں آدمی کو خود ہی جانا ہوتا ہے۔ یہ جگہ شاید محبت سے ختم نہیں ہوتی- اور اسے ختم ہونا بھی نہیں چاہیے۔

رلکے تنہائی سے گھبرانے کے بجائے اسے زندگی کا حصہ سمجھنے کی بات کرتا ہے۔ وہ ہمیں یہ وعدہ نہیں دیتا کہ ہر اندھیرا کبھی نہ کبھی آسانی سے روشن ہو جائے گا۔ وہ صرف اتنا کہتا ہے کہ ہر نامعلوم چیز سے فوراً فرار ضروری نہیں۔ یہ بات مجھے زندگی کے کئی مرحلوں کے بارے میں سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ کچھ واقعات ایسے ہوتے ہیں جن کا مطلب اس وقت سمجھ نہیں آتا جب وہ ہمارے ساتھ پیش آ رہے ہوتے ہیں۔ کسی رشتے کا ختم ہونا، کسی امید کا ٹوٹ جانا، کسی راستے کا اچانک بند ہو جانا۔ ہم فوراً جاننا چاہتے ہیں کہ ایسا کیوں ہوا۔ شاید اس لیے کہ بے معنی دکھ برداشت کرنا زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ مگر ممکن ہے ہر تجربہ اسی وقت اپنے معنی ظاہر نہ کرے۔ کچھ چیزیں وقت مانگتی ہیں۔ اور کچھ کبھی پوری طرح واضح نہیں ہوتیں۔

رلکے کی فکر میں یہ نامعلوم پن مجھے بہت فطری لگتا ہے۔ وہ زندگی کو ایک ایسا مسئلہ نہیں سمجھتا جسے حل کرکے آدمی فارغ ہو جائے۔ شاید اسی لیے اس کے ہاں سوال کی بھی ایک اپنی حیثیت ہے۔ ہمیں ہر سوال کا جواب فوراً کیوں چاہیے؟ شاید اس لیے کہ جواب ہمیں تحفظ کا احساس دیتا ہے۔ مگر زندگی ہمیں یہ سہولت نہیں دیتی۔

چاند اب بھی سامنے ہے۔ اس کی روشنی صحن میں پھیلی ہوئی ہے۔ میں کچھ دیر اسے دیکھتا ہوں اور سوچتا ہوں کہ انسان بھی شاید کچھ چیزوں کو صرف دیکھ سکتا ہے، سمجھ نہیں سکتا۔ جیسے رات۔ جیسے وقت۔ جیسے کسی دوسرے انسان کا دل۔ رلکے کی باتوں نے آج مجھے محبت سے زیادہ اپنے بارے میں سوچنے پر مجبور کیا ہے۔ ہم دوسروں سے کیا چاہتے ہیں؟ ہم ان کے قریب کیوں جاتے ہیں؟ کیا اس لیے کہ ہمیں ان کی ذات عزیز ہے، یا اس لیے کہ ان کی موجودگی میں اپنی تنہائی کچھ کم محسوس ہوتی ہے؟ اور اگر کسی تعلق میں دوسرے انسان کی آزادی ہمیں بے چین کرنے لگے تو پھر ہماری محبت میں کتنا حصہ محبت کا ہے اور کتنا خوف کا؟

میں ان سوالوں کے جواب تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہوں، مگر آج رات ان کا جواب ملنا ضروری بھی نہیں۔ چاند اب بھی سامنے ہے اور رات بھی ویسی ہی ہے۔ فرق بس اتنا ہے کہ کچھ دیر پہلے میں تنہائی کے بارے میں پڑھ رہا تھا، اور اب اپنی تنہائی میں بیٹھا ہوں۔

شاید یہی رلکے کی تحریر کا ایک عجیب اثر ہے۔ وہ کتاب سے نکل کر ہمارے اپنے تجربات میں داخل ہو جاتی ہے۔ پھر آدمی یہ نہیں سوچتا کہ رلکے نے کیا کہا تھا؛ وہ یہ سوچنے لگتا ہے کہ اس کی بات میرے ساتھ کہاں ملتی ہے، اور کہاں مجھے اس سے اختلاف ہے۔ شاید محبت میں قربت اور فاصلے کا کوئی ایسا تناسب ہے جسے کوئی کتاب متعین نہیں کر سکتی۔ ہر تعلق کو اپنا جواب خود تلاش کرنا پڑتا ہے۔ اور انسان کو کبھی کبھی دوسرے کے ساتھ رہتے ہوئے بھی اپنے لیے تھوڑی سی جگہ بچا کر رکھنی چاہیے۔

میں چاند کی طرف دوبارہ دیکھتا ہوں۔ اس بار کوئی نتیجہ اخذ کرنے کی کوشش نہیں کرتا۔ رات کافی ہو چکی ہے۔ کچھ سوال ابھی باقی ہیں۔

انہیں باقی رہنے دیتا ہوں۔

اپنا تبصرہ لکھیں