بچے مر گئے- کتھارسس/سعد مکی شاہ

سانحے پہ کیا لکھا جائے۔۔۔؟
اس سے کیا ہوگا۔۔۔؟
دل ملول اور متأسف ہے۔۔۔؟
یقین کیجیے۔۔۔ دھیان بھٹکاتا رہا ہوں۔۔۔؟
کیا ان ماں باپ کے درد کو میں بعینہٖ اسی شدت سے محسوس کر پا رہا ہوں۔۔۔؟

نہیں۔۔۔ بالکل نہیں۔۔۔ شاید ایک آدھ فیصد۔۔۔

وجہ۔۔۔؟

سانحات تو اب ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔۔۔ روزانہ دو، چار، آٹھ، دس، بیس، پچاس، سو سانحے تو معمول بن چکے ہیں۔۔۔

ریاست کے کارپردازان کی اہلیت پر سوال اٹھاؤں؟
ناممکن ہے۔۔۔

یعنی جو چیز ہے ہی نہیں، وجود ہی نہیں رکھتی، اس پر سوال اٹھایا بھی کیسے جا سکتا ہے۔۔۔؟

روئیں، چیخیں، چلائیں، گریہ و ماتم کریں۔۔۔ مگر سوچ لیجیے کہ یہ سب کچھ اپنے تئیں کر سکتے ہیں۔۔۔

ہارڈ اسٹیٹ میں سننے والا کوئی نہیں ہے۔۔۔

مرنے مارنے پہ آ جائیں۔۔۔؟
جناب۔۔۔ بے موت مارے جائیں گے۔۔۔

بددعائیں دیں۔۔۔
اور کر ہی کیا سکتے ہیں۔۔۔؟

مگر میں نے دنیا بھر میں کبھی کسی حکمران، اشرافیہ، ظالم کو بددعا لگتے دیکھی، سنی، پڑھی نہیں ہے۔۔۔

زیادہ سے زیادہ کینسر، ایڈز سے کوئی مر گیا ہوگا، کسی نے خودکشی کی ہوگی، کوئی بم دھماکے اور پھانسی میں مر گیا ہوگا۔۔۔

تو بھیا۔۔۔ کینسر، ایڈز، کوڑھ اور مزید گندی بیماریوں سے روزانہ سینکڑوں غریب عوام مر رہے ہیں، خودکشیاں کر رہے ہیں، بم دھماکوں میں مر رہے ہیں، بے گناہ بھی پھانسیاں چڑھ رہے ہیں۔۔۔

حکومت، ریاست، بیوروکریسی، اسٹیبلشمنٹ اور سیاستدان بھی آپ کی سوچ سے زیادہ چالاک، مکار اور سفاک ہیں۔۔۔

یہ آپ کو نوچ کھسوٹ رہے ہیں، بھنبھوڑ رہے ہیں، لوٹ رہے ہیں، مار رہے ہیں اور یقین مانیے، آپ کچھ بھی نہیں کر سکتے۔۔۔

ایک چھوٹی سی پولیس ایف آئی آر کی مار ہیں آپ۔۔۔

مایوسی پھیلا رہا ہوں۔۔۔؟
ہرگز نہیں۔۔۔ میں ایسا نہیں سمجھتا۔۔۔

میں تو آپ کو اپنی ناقص فہم کے مطابق زمینی حقائق بتا رہا ہوں۔۔۔

اچھا، کیا ہم عوام مظلوم ہیں۔۔۔؟
بالکل بھی نہیں۔۔۔ ہم اپنے اپنے ظالموں کے ساتھی ہیں۔۔۔ سب کہتے ہیں ہمارا ظالم اچھا ہے اور تمہارا ظالم برا۔۔۔

سب جانتے ہیں کہ نظام ہائبرڈ ہے، تو سیاستدان، سیاستدان تو نہیں رہے، آمریت کا حصہ ہیں ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں۔۔۔

حقیقی مسئلہ جان لیجیے۔۔۔

ملاوٹ، ناخالصیت۔۔۔ اور بس۔۔۔

ہماری سیاست اور جمہوریت آمریت سے حاملہ ہوتی چلی آ رہی ہے، کبھی بذریعہ ریپ اور زیادہ تر رضامندی سے۔۔۔

نہ یہاں جمہوریت خالص ہے، نہ سیاست اور نہ ہی آمریت۔۔۔

یار، خالص آمریت، یقین کیجیے، ملاوٹ شدہ آپ کی پسندیدہ جمہوریت سے بہتر ہوتی ہے۔۔۔ ہمیں تو کبھی آمریت بھی خالص نہیں ملی۔۔۔

سیاستدان کیا آپ کے غم میں مرے جا رہے ہوتے ہیں، خوفِ خدا سے سیاست کو عبادت سمجھتے ہیں۔۔۔؟

بزنس، انویسٹمنٹ، سیکیورٹی، پروٹوکول، فیم ہے۔۔۔

مجھے خود میں انسانیت کی رمق ڈھونڈنی پڑ رہی ہے کہ ہمیں سانحات کا اس قدر عادی بنا دیا گیا ہے کہ اب تاسف، ملال، دکھ کی وہ کیفیت نہیں ہوتی جو انسانیت کا حقیقی تقاضا ہے۔۔۔

میں نے دو ایک مضامین اور ایک آدھ ویڈیو دیکھی بچوں کے سانحے کی۔۔۔ پھر اسکرولنگ ڈاؤن کے آپشن سے کھیلتا رہا۔۔۔

حقیقی دکھ مجھے شاید تب ہو جب یہ آگ میرے گھر تک پہنچے گی۔۔۔ اور آپ بیشک نہ مانیں۔۔۔ یہی ہماری بحیثیت قوم اجتماعی سوچ ہے۔۔۔

اب بھی سوچ رہا ہوں کہ میں یہ کیوں لکھ رہا ہوں۔۔۔؟

سانحات پر لکھ کر داد وصول کرنا ہماری عادت سی نہیں بن گئی؟ کیا خیال ہے۔۔۔؟

ہمیں لکھنے کو، بات کرنے کو روز نیا موضوع درکار ہوتا ہے۔۔۔ لکھنے کو کچھ نہ ملے تو ہم بوریت کا شکار ہو جاتے ہیں۔۔۔

میڈیا کی ٹی آر پی بڑھتی ہے۔۔۔ سوشل میڈیا پر گویا تحریری مقابلے ہو رہے ہیں۔۔۔

یہ میرا کتھارسس ہے، دل کی بھڑاس ہے۔ آپ مجھ سے اختلاف کر سکتے ہیں۔۔۔ میں تو اپنی ناقص سوچ، اپنے گریبان میں جھانک کر بیان کر رہا ہوں۔۔۔ آپ شاید ایسے نہ ہوں۔۔۔

مجھے لگتا ہے کہ ہم بحیثیت قوم ہی منافق ہیں، بے ایمان ہیں، خود غرض اور مفاد پرست ہیں، چڑھتے سورج کے پجاری ہیں، ظالم اور سفاک ہیں۔۔۔ تماش بین قوم ہیں۔۔۔

کہاں کا تقویٰ کہ، ہے ساری داؤ گھات کی بات
ولی وہ شخص ہے کہ جس کا نہ کوئی داؤ لگے

اپنا تبصرہ لکھیں