جب خواب مہنگا پڑ جائے/ سعید الرحمن غرشین

جون کا مہینہ تھا- موسم بہت سہانا تھا۔ دل میں بے چینی سی تھی اور ایک خواہش بھی۔ خواہش یہ تھی کہ تیرے نام بال بنواٶں، تنگ اور چست سفید کپڑوں پر سبز واسکٹ سجاٶں، کالی عینک لگاٶں، کلائی میں الفجر گھڑی باندھوں اور چمک دار کلاسیک جوتے پہن کر کوئٹہ میں اپنے دوست نایاب کے ساتھ دو دن خوب سیر سپاٹے کروں اور اس منحوس بوریت کا جنازہ نکالوں۔
میں رات کو پلنگ پر دراز ہو کر اپنے دو دن کی سیر و سیاحت کا نقشہ کچھ یوں کھینچ لیا۔ پہلے دن عصر کو جناح ٹاٶن میں فٹ بال کھیلیں گے اور رات کو سمسور ہوٹل کے کھلے میدان میں پاکستان اور انڈیا کا کرکٹ میچ دیکھیں گے۔
دوسرے دن دوپہر کا کھانا ساتھ لے کر بولان تنگی پر جائیں گے۔ وہاں بہتے ٹھنڈے پانی میں ننگے پاٶں مسکرائیں گے چلنا، اور جی بھر کے نہائیں گے۔وٹ فن اٹ وڈ بی ٹو وزٹ ٹو بولان!
خوشی کے مارے میری نیند اڑ کر صبح ہوئی۔
میں نے دوپہر کو رخت سفر باندھا۔ وین میں سوار ہوکر خانوزئی اور کچلاک سے ہوتا ہوا ٹھیک شام کے 5:00 بجے کوئٹہ شہر کے قریب جبل نور پر اترا ۔ میں نے اپنے لمبے بالوں، کالی عینک، چمک دار جوتوں، سفید کپڑوں اور سبز واسکٹ کی نوک پلک درست کرکے اسفنی روڈ پر لوکل بس کی راہ تکتا رہا تھا۔ جہاں میں بس کا منتظر تھا، وہاں آدمی پر آدمی اتر تے رہے تھے۔ خیر، پانچ منٹ کے بعد لوکل بس نے ”تر لر ڑت، فف فاف“ جیسے تیز ہارن بجاتے ہوئے آ پہنچی۔ چلتے چلتے بس سے دو سواری اترے، لگ بھگ بیس سوار ی چڑھ گئے۔ ان سواریوں میں سے ایک میں بھی تھا۔ دیکھتا ہوں کہ بس میں تل دھرنے کی جگہ نہ تھی۔ منشی نے ”ایلوم، مچ مو نہ مچ مو نہ“ کہتے ہوئے سواریوں سے کرایہ لیتے اور آگے دھکیل دیتے تھے۔ مجھ سے بھی کرایہ لے کر آگے دھکیل دیا۔ آدھ منٹ میں سب ایک دوسرے کے ساتھ چمٹ گئے۔ میں بھی گلی میں کھڑے سواریوں کے ساتھ چمٹ کر اوپر سے پائپ پر ہاتھ رکھنے کا سہارا لیا۔ رفتہ رفتہ گرمی کی شدت سے میرا بدن پسینے سے شرابور ہو کر کلیجہ منہ کو آیا۔ شان کریمی تھا کہ بس جلد ٹیکسی اسٹینڈ پر پہنچ گئی، ورنہ جان چلی جاتی۔
میں بھی لوکل بس سے اترا۔ فٹ پاتھ پر لیاقت بازار کی جانب ناز خرامی سے چہل قدمی کرتے ہوئے بازار کی رونق، بلند و بالا عمارات، لمبے سرسبز درخت، لوگوں کا ہجوم، رنگ بہ رنگے پھلوں اور لذیذ کھانوں کی خوشبو سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔ جاتے جاتے جناح روڈ پر واقع شالیمار ہوٹل نے اپنی خوشبو کے جادو میرے سر پر چڑھالی۔ میں نے اپنی تھکان مٹانے کی خاطر ادب سے ہوٹل میں قدم رکھا۔ ایک آرام دہ صوفے میں بیٹھ کر، ٹانگ پر ٹانگ رکھی اور کافی کا آرڈر دیا۔ میں اپنے با ادب لہجے اور دبنگ جوانی کی وجہ سے تمام ہوٹل کی توجہ کا مرکز بنا۔ ملازم نے بڑی خوش اسلوبی سے کافی پیش کرتے ہوۓ کہا: “سر یہ ہے آپ کی کافی” ۔ میں نے بھی انھیں ”تھنک یو سو مچ“ کہا۔ مزے مزے سے کافی پی لی۔ تھوڑی دیر بعد جب میں بل دینے کاونٹر کے پاس گیا تو پتہ چلا کہ لوکل بس میں میری جیب کٹ چکی ہے۔ بٹوہ غائب ہے، جیب خرچ اور شناختی کارڈ کا کوئی اتہ پتہ نہیں ہے۔ میں کاونٹر کے سامنے چکرا کر رہ گیا۔ کاونٹر مین نے رعب دار آواز میں کہا: ” پیسہ دو، ورنہ…۔“ میں نے خاموشی سے منت و سماجت کی: معاف فرمائیں۔ مجھے جیب کتروں نے لوٹ لیا ہے۔ کاونٹر مین طیش میں آکر کہا: ”چالاکی مت کر ، مفت خور، یہاں تمھاری دال نہیں گیلے گی، اور پیچھے سے دو، تین لاتیں مار کر مجھے ہوٹل سے فٹ بال کی طرح باہر نکال دیا۔ لوگ میرا تماشا دیکھتے تھے اور ہنس رہے تھے۔ جس پر مجھے بے تحاشا شرمندگی ہوئی۔ چاہا کہ زمین پھٹ جائے، اور میں زمین میں دب جاٶں۔
میں چکراتے سر، اداس دل اور روئی صورت فٹ پاتھ پر جاتے ہوئے اپنی قسمت کو رو رہا تھا۔ پھر اپنے آپ کو تسلی دیتے ہوئے بے اختیار کہہ ڈالا: ”وہی ہوتا ہے، جو منظور خدا ہوتا ہے“۔ یوں لگا جیسے میری چھاتی سے ایک بھاری پھتر ہٹ گیا ہو۔ جاتے جاتے شام کی اذان ہوئی۔ میں نورانی مسجد گیا اور نماز پڑھی۔ دربار الہی میں آٹھ آٹھ آنسو بہہ کر خیر مانگی۔ مسجد سے نکلتے وقت میرے چمک دار کلاسیک جوتے بھی کسی نے چرا لیے تھے۔ اس بار میں شرافت کے جامے سے باہر ہو کر ننگے پاٶں سڑک پر آ کر، انسانیت، عدالت، انتظاميہ – سب کو کوس رہا تھا۔ درین اثنا پولیس کی گشت گاڑی آ رکی۔ ایک پولیس اہلکار میری طرف آتے ہی غضب سے بولا: “زبان کو لگام دو اور شناختی کارڈ نکال دو”۔ پر میرے پاس شناختی کارڈ نہیں تھا۔ جس پر ایک قد آور اور لال آنکھوں والے پولیس اہلکار نے مجھے کندھے سے پکڑتے ہو ئے گرج دار آواز میں بولا: “چل پیارے، تمھیں جلد لگ پتہ جائے گا۔ میں نے مزاحمت کی، لیکن انھوں نے مزاحمت کا خوب مزہ چکایا۔ میرا سبز واسکٹ اور کالی عینک دونوں اسی دھکم پیل کی نذر ہوئے۔ پولیس نے آن ہی آن میں مجھے سیدھا سٹی تھانہ لے گیا۔ وہاں ایک موٹے بدصورت سنتری نے دوران تلاشی میں مجھے الفجر گھڑی سے محروم کرتے ہوئے کہا: “خدا جب دیتا ہے تو چپر پھاڑ کر دیتا ہے”۔ اور حوالات کا دروازہ کھولتے ہی ایک لاجواب جھٹکا دیا، میں حوالات میں جا گر پڑا اور تالہ لگا کر چلا گیا۔ چند لمحوں کے بعد میں تاریک حوالات کے ناپاک فرش پر دراز ہو کر انتہائی دکھ سے سوچ رہا تھا کہ خدا کرے کسی کو میری اس بری حالت کا علم نہ ہو اور پولیس والے مجھے ناحق کسی خطرناک کیس میں شامل تفتیش نہ کریں۔
ان خدشات پر میں نے آنسوں کا سیلاب بہایا۔
رات کو آدھی روٹی کے ساتھ دال کھا کر تفتیش پر بلا لیا گیا۔ دوران تفتیش، میں نے سچ مچ اپنی سفری داستان بتائی۔
تفتیشی آفیسر نے سگریٹ کا دھواں اڑاتے ہوئے بولا: “کل میں نایاب کے پیچھے بندے بھیج کر لاٶں گا۔ شاید نایاب کی ضمانت پر تمھیں رہائی مل جائے گی ۔ جاٶ، آج رات حوالات میں مچھر کے ساتھ کھیلو، اندھیرے میں مچھر کے ساتھ کھیلنے کا اور مزہ ہوگا۔”
درین اثنا، آفیسر نے ٹی وی کی سوئچ آن کی، جس پر پاکستان اور انڈیا کا میچ جوش و خروش سے جاری تھا کہ سنتری نے پھر مجھے تاریک اور بدبودار حوالات میں قید کر دیا۔
حوالات میں اوڑھنے بچھونے کو کچھ نہ تھا۔ ایک طرف انڈیا اور پاکستان کا میچ تھا اور دوسری طرف میں تھا اور مچھروں کا یلغار تھا۔ میں نے خدا خدا کر کے رات کاٹی۔ اچھا ہوا کل نایاب کی ضمانت پر رہائی مل گئی۔ پھر نایاب کے ہمراہ قریبی چپل ہاٶس تک سڑک پر ننگے پاٶں چلتے چلتے، دھوپ کی تپش سے پاٶں میں چھالے پڑگئے۔ آخر نایاب کی عنایت سے واپس گھر پہنچ کر سکھ کا سانس لیا، اور دل ہی دل میں کہا کہ پھر خدا کبھی مجھے کوئٹہ نہ لائے۔ شہر کی مصنوعی رونق گاؤں کی قدرتی سادگی پر قربان ہو۔

اپنا تبصرہ لکھیں