مکالمہ کا پہلا عشرہ/ اسلم اعوان

ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارم ’’مکالمہ‘‘ کو ایک بھرپور اور کامیاب صحافتی سفر کے دس سال مکمل کرنے پر دلی مبارک باد پیش کرنا محض رسمی تقاضا نہیں بلکہ اس عہد میں ایک اہم ڈیجیٹل صحافتی پیش رفت کے اعتراف کا موقع بھی ہے۔

’’مکالمہ‘‘ نے ایسے وقت میں اپنے سفر کا آغاز کیا جب ڈیجیٹل صحافت کے معیارات، اقدار اور روایات کی تشکیل کا عمل ابھی ابتدائی مراحل میں تھا اور اس میدان کی سمت و منزل پوری طرح واضح نہیں تھی۔ اس کے باوجود ’’مکالمہ‘‘ نے غیر جانب داری، معیاری معلومات، فکری آزادی اور تعصبات سے پاک صحافتی رویّوں کو اپنی شناخت بنایا اور ایک ایسا معتبر ڈیجیٹل فورم فراہم کیا جہاں مختلف الخیال آرا کو جگہ ملی اور اس دور پر اشوب میں سنجیدہ مکالمے کی روایت پروان چڑھی۔

گزشتہ ایک دہائی کے دوران ’’مکالمہ‘‘ نے سماجی بیداری کے فروغ، جدید سائنسی و علمی مباحث کی ترویج، سیاسی شعور کی بالیدگی اور بدلتی ہوئی عالمی سماجی صورت حال کو سمجھنے میں قابل قدر کردار ادا کیا۔ اس پلیٹ فارم نے محض خبروں اور معلومات کی ترسیل تک خود کو محدود نہیں رکھا، بلکہ سوال اٹھانے، اختلافِ رائے کو برداشت کرنے اور دلیل و مکالمے کے ذریعے فکری افق کو وسعت دینے کی ایک صحت مند روایت کو پروان چڑھایا۔

اس قابلِ تحسین سفر کی کامیابی میں ’’مکالمہ‘‘ کی اساسی ٹیم کا کردار بھی ناقابل فراموش ہے۔ موسیو، احمد رضوان مجاہد خٹک، عاصمہ مغل ،محمود فیاض، معاذ بن محمود، اویس قرنی، حافظ صفوان، زرقا آپا، آمنہ احسن، سعدیہ بٹ، روبینہ شاہین اور سورگباشی ستیہ پال آنند جی اس فکری و صحافتی کاوش کے ان معماروں میں شامل ہیں جن کی محنت، وابستگی اور تخلیقی کاوشوں نے ’’مکالمہ‘‘ کو ایک معتبر ڈیجیٹل پلیٹ فارم بنانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔

دس سالہ سفر کی تکمیل پر ’’مکالمہ‘‘ کی پوری ٹیم کو مبارک باد اور خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے یہ امید بھی کی جانی چاہیے کہ آنے والا عشرہ اس پلیٹ فارم کے لیے مزید وسعت، فکری پختگی، صحافتی معیار اور گلوںل معاشرے میں مثبت و بامعنی مکالمے کے فروغ کا عشرہ ثابت ہوگا۔

مکالمہ کا پہلا عشرہ مبارک اور مکالمے کی یہ روایت مزید کئی عشروں تک جاری و ساری رہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں