گزشتہ دنوں جب مکالمہ کی ایڈمن اسماء مغل کا پیغام آیا کہ ”اپنے سفر کا حال بتائیں، کوئی تجویز دیں یا بتائیں کہ مکالمہ نے آپ کو کیا مثبت پیغام دیا“ تو مجھے اچانک چند سال پہلے کی ایک شام یاد آ گئی۔ فیس بک کے کسی گروپ میں میں نے ایک سنجیدہ موضوع پر رائے لکھی تھی۔ چند منٹ میں ہی جوابات کی بوچھاڑ شروع ہو گئی—گالیوں سے لے کر ذاتی حملوں تک۔ بحث ختم ہونے سے پہلے ہی موضوع غائب ہو گیا تھا۔ اسی رات میں نے سوچا کہ کیا اردو میں کوئی ایسا پلیٹ فارم بھی ہے جہاں اختلاف رائے ہو مگر احترام باقی رہے؟
اس تلاش نے مجھے مکالمہ تک پہنچایا۔
آج کل سوشل میڈیا کے بیشتر فورمز اور گروپس بحث کے نام پر شور مچاتے ہیں۔ ٹوئٹر پر ایک جملہ لکھیں تو فوراً دو کیمپ بن جاتے ہیں۔ فیس بک گروپس میں اکثر سیاسی یا مذہبی جذبات کی آندھی چلتی ہے اور یوٹیوب کے کمنٹس سیکشن تو اکثر تہذیب کے نام پر تہذیب کا ہی مذاق اڑاتے نظر آتے ہیں۔ ان جگہوں پر مکالمہ کم، مقابلہ زیادہ ہوتا ہے۔ لوگ سننے کے لیے نہیں، جواب دینے اور ہرانے کے لیے آتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ سوچ بکھر جاتی ہے اور صرف شور باقی رہ جاتا ہے۔
مکالمہ اس شور سے بالکل مختلف ہے۔ یہاں بنیادی پالیسی ہی یہ ہے کہ ”مباحثہ نہیں، مکالمہ“۔ مختلف مکاتبِ فکر کی آرا کو ایک غیر جانبدار پلیٹ فارم پر جگہ دی جاتی ہے مگر تہذیب کی حد میں رہ کر۔ یہاں تحریریں جذباتی نعرے نہیں بلکہ دلائل پر مبنی ہوتی ہیں۔ ایک موضوع پر کئی زاویے سامنے آتے ہیں مگر ذاتی حملہ یا توہین کی گنجائش نہیں چھوڑی جاتی۔ یہی وہ فرق ہے جو اسے عام فورمز سے الگ کرتا ہے۔
میرا اپنا سفر مکالمہ کے ساتھ بہت مثبت رہا۔ یہاں مجھے ایسے مضامین پڑھنے کا موقع ملا جنہوں نے میری سوچ کو چیلنج کیا بغیر مجھے مجرم ٹھہرائے۔ کئی بار میری رائے سے اختلاف ہوا مگر جواب ہمیشہ دلائل کے ساتھ آیا۔ ایک مرتبہ میں نے تعلیم کے موضوع پر کچھ لکھا تو اسماء مغل اور دیگر قارئین کی طرف سے ایسی آرا ملیں جنہوں نے میری اپنی رائے کو مزید پختہ کیا۔ یہ تجربہ مجھے فیس بک یا ٹوئٹر پر کبھی نہیں ہوا۔
مکالمہ نے مجھے یہ مثبت پیغام دیا کہ اردو میں بھی سنجیدہ، باوقار اور فکری گفتگو ممکن ہے۔ یہ پلیٹ فارم ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اختلاف رائے سوچ کی علامت ہے، دشمنی کی نہیں۔ جب معاشرہ جذباتی نعرے بازی میں اترتا جا رہا ہے تو مکالمہ جیسے مقامات درحقیقت ایک ضرورت بن چکے ہیں۔ یہاں لکھنے والا صرف اپنی بات نہیں کہتا بلکہ دوسروں کی بات سننے کا بھی عادی ہو جاتا ہے۔
کچھ تجاویز ضرور ہیں: مزید نوجوان لکھاریوں کو موقع دیا جائے، ویڈیو مکالموں کی تعداد بڑھائی جائے اور کچھ موضوعات پر باقاعدہ سیریز چلائی جائیں تاکہ قارئین مسلسل سوچتے رہیں۔ مگر مجموعی طور پر مکالمہ کامیاب رہا ہے کیونکہ اس نے شور کو سوچ میں بدل دیا ہے۔
آج جب اسماء مغل جیسے افراد اس پلیٹ فارم کو سنبھالے ہوئے ہیں تو امید ہے کہ مکالمہ مزید پھلے پھولے گا۔ کیونکہ ایک معاشرہ جو سننا سیکھ جائے، وہ کبھی نہیں بکھرتا۔


