سندھ کی ستمبر کی راتوں میں ایک عجیب سی سرشاری ہوتی ہے۔ بڈو ہندی کے یہ دن جب ڈھلنے لگتے ہیں اور شام کی سنہری روشنی آہستہ آہستہ رات کی نیلگوں چادر میں سمٹنے لگتی ہے تو سندھ کی ہواؤں میں جیسے کسی بھولی بسری صدی کی خوشبو اتر آتی ہے۔ ٹھنڈی ہوا کے نرم جھونکے اگر بتی کی مہک اپنے دامن میں لیے پھرتے ہیں، کہیں دور تمبورے کے مدھم اور رس بھرے سُر ابھرتے ہیں، جھنْج کی ہلکی سی جھنکار ان میں گھلتی ہے اور راماپیر کے بھجن رات کی خاموشی کو چیرتے ہوئے دور تک پھیل جاتے ہیں، تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وقت نے اچانک اپنی رفتار تھام لی ہو اور سندھ اپنی بہت قدیم روح کے ساتھ پھر سے ہم کلام ہو گیا ہو۔
یہ محض کسی مذہبی رسم یا سالانہ میلے کا موسم نہیں۔ یہ یادوں کے جاگنے کا موسم ہے، عقیدت کے پھول کھلنے کا موسم ہے، اور اس تہذیبی روح کے لوٹ آنے کا موسم ہے جس نے صدیوں سے سندھ کے ریگزاروں، بستیوں، دریائی کناروں اور انسانی دلوں میں اپنے چراغ روشن رکھے ہیں۔ ان راتوں میں سندھ صرف راماپیر کو یاد نہیں کرتا، وہ اپنے آپ کو بھی یاد کرتا ہے؛ اپنے ان قدیم رشتوں کو، جو سرحدوں سے پہلے کے ہیں، ان راستوں کو جو نقشوں سے پہلے وجود رکھتے تھے، اور ان گیتوں کو جو کتابوں میں محفوظ ہونے سے کہیں پہلے لوگوں کے سینوں میں سانس لیتے تھے۔
راماپیر، جنہیں بابا رام دیو، رام دیو پیر، رام شاہ پیر، رام سا پیر اور کئی دوسرے ناموں سے محبت اور عقیدت کے ساتھ پکارا جاتا ہے، سندھ اور راجستھان کی لوک روایت میں محض ایک مقدس نام نہیں بلکہ ایک ایسی روحانی علامت ہیں جس کے گرد محبت، مساوات، سخاوت اور انسان دوستی کی بے شمار داستانیں صدیوں سے گردش کرتی آئی ہیں۔ راجستھان میں پوکھرن کے قریب رام دیورا ان کا سب سے معروف دھام ہے، جہاں ہر سال بھادوی میلے کے دنوں میں عقیدت مندوں کا ایک سمندر امڈ آتا ہے۔ مگر راماپیر کی داستان کسی ایک مقام کی چار دیواری میں مقید نہیں۔ وہ صحرا کی اس ہوا کی طرح ہیں جو ریت کے ٹیلوں کے درمیان سے گزرتی ہوئی سرحدوں کا لحاظ نہیں کرتی، اور جس کا سفر کسی نقشے کا محتاج نہیں ہوتا۔
سندھ میں راماپیر کی عقیدت کا رنگ اپنی ایک منفرد مٹھاس رکھتا ہے۔ کہیں مندر کے آنگن میں دھجا لہرا رہی ہوتی ہے، کہیں دیے کی ننھی سی لو اندھیرے سے مکالمہ کر رہی ہوتی ہے، کہیں اگر بتی کا دھواں ہوا میں کسی ان دیکھے نقش کی مانند تیر رہا ہوتا ہے اور کہیں تمبورے کے تاروں سے نکلنے والا کوئی قدیم سُر دل کے کسی ایسے گوشے کو چھو لیتا ہے جہاں برسوں سے کوئی آواز نہیں پہنچی۔ رات کے جاگے میں بھجن، ست سنگ اور لوک دھنیں صرف سماعت کو نہیں بھرتیں، دل کے اندر ایک خاموش چراغ بھی روشن کرتی ہیں۔
ان گیتوں میں جو کچھ کہا جاتا ہے، شاید اس سے زیادہ وہ کچھ موجود ہوتا ہے جو کہا نہیں جاتا۔ ان میں بزرگوں کی دعائیں ہیں، ماؤں کی لوریوں کی بازگشت ہے، دادیوں اور نانیوں کی سنائی ہوئی داستانیں ہیں، دور دراز سفر کرنے والے قافلوں کی یادیں ہیں اور اپنی مٹی سے وابستہ رہنے کی وہ خاموش تڑپ ہے جسے الفاظ میں بیان کرنا آسان نہیں۔ لوک روایت کی یہی تو خوبصورتی ہے کہ وہ تاریخ کو کتابوں میں نہیں، دلوں میں محفوظ رکھتی ہے۔
راماپیر کی عقیدت کے ساتھ سندھ کی میگھواڑ برادری کا تعلق بھی نہایت گہرا اور جذباتی ہے۔ بہت سے خاندانوں کے لیے راماپیر محض ایک مذہبی عقیدت کا نام نہیں، بلکہ ان کے آباؤ اجداد کی یاد، ان کے اجتماعی حافظے اور ان کی ثقافتی شناخت کا ایک روشن حوالہ ہیں۔ نسل در نسل سنائی جانے والی داستانوں میں بعض تفصیلات ایک دوسرے سے مختلف ضرور ملتی ہیں، مگر ان سب کے دل میں ایک ہی جذبہ دھڑکتا ہے: راماپیر ایک ایسے روحانی وجود کے طور پر یاد کیے جاتے ہیں جس سے محبت، امید، بھروسے اور انسانیت کا احساس وابستہ ہے۔
راماپیر کی روایت میں دالی بائی کا نام بھی بڑی محبت سے لیا جاتا ہے۔ انہیں راماپیر کی روحانی بہن کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ ان کی داستان میں عقیدت کے ساتھ انسانی محبت کا ایک ایسا نرم اور روشن پہلو دکھائی دیتا ہے جو لوک روایت کو محض مذہبی قصہ نہیں رہنے دیتا بلکہ اسے انسانی رشتوں کی ایک خوبصورت داستان بنا دیتا ہے۔ شاید اسی لیے لوک دیومالائی روایت میں سب سے زیادہ دیر تک وہی کردار زندہ رہتے ہیں جنہیں محبت نے اپنے دل میں جگہ دی ہو۔
راماپیر سے وابستہ داستانوں میں ہر جی بھاٹی، رتنا ریکا، لکی بنجارا، رانی روپندی اور کئی دوسرے کرداروں کے نام بھی آتے ہیں۔ ان قصوں میں سفر بھی ہے، آزمائش بھی، عقیدت بھی، سخاوت بھی اور انسان کے دل میں بسنے والی اس امید کا چراغ بھی جو مشکل ترین وقت میں بھی بجھنے نہیں دیتا۔ پانچ مسلمان پیروں کے راماپیر کو رام شاہ پیر کے طور پر تسلیم کرنے کی روایت بھی اسی وسیع لوک دنیا کی ایک دلکش علامت ہے۔ یہ وہ دنیا ہے جہاں روحانیت نے مذہب کی ظاہری سرحدوں سے آگے بڑھ کر انسان کے دل کو اپنا مسکن بنایا۔
شاید یہی وجہ ہے کہ راماپیر کے میلوں میں عقیدت کے ساتھ ایک وسیع تر انسانی قربت بھی محسوس ہوتی ہے۔ مختلف عقائد رکھنے والے لوگ ایک ہی فضا میں بیٹھتے ہیں، ایک ہی راگ سنتے ہیں، ایک ہی رات کے سکون میں شریک ہوتے ہیں اور بعض اوقات ایک دوسرے کی خوشی کا حصہ بن جاتے ہیں۔ سندھ کی مٹی نے ہمیشہ مذہبی شناخت سے پہلے انسان کو دیکھا ہے، اور اس کی لوک روایت میں یہ وصف آج بھی اپنی پوری شیرینی کے ساتھ موجود ہے۔
قدیم زمانے میں راجستھان، سندھ اور چولستان کے درمیان جو بے کراں صحرائی وسعت پھیلی ہوئی تھی، وہ آج کے سیاسی نقشوں میں مختلف خطوں میں تقسیم دکھائی دیتی ہے، مگر کبھی یہ سب ایک ہی انسانی اور تہذیبی منظرنامے کا حصہ تھے۔ انہی ریتلے راستوں پر چرواہے چلتے تھے، قافلے گزرتے تھے، تاجر سفر کرتے تھے، خاندان ایک دوسرے سے ملنے جاتے تھے اور ان کے ساتھ صرف سامان نہیں بلکہ داستانیں، لوک گیت، رسمیں، عقیدے اور خواب بھی سفر کرتے تھے۔ سرحدیں بعد میں بنیں، مگر دلوں کے راستے بہت پہلے سے موجود تھے۔
سندھ کے سکھر ڈویژن اور اس کے گرد و نواح میں راماپیر کی روایت اسی قدیم تہذیبی رشتے کی ایک روشن کڑی محسوس ہوتی ہے۔ روہڑی، کندھرا، گمبٹ، کوٹ ڈیجی، اوباڑو اور کئی دوسرے علاقوں میں راماپیر سے منسوب مندر، تھان اور سالانہ اجتماعات آج بھی مقامی زندگی کا حصہ ہیں۔ کہیں ایک قدیم مندر کے آنگن میں عقیدت مند جمع ہوتے ہیں، کہیں کسی چھوٹے سے تھان پر دھجا چڑھتی ہے، کہیں رات بھر جاگا ہوتا ہے اور کہیں دور دراز سے آنے والے یاتری اپنے ساتھ برسوں پرانی مرادیں اور دعائیں لیے پہنچتے ہیں۔
ان یاتریوں کے سفر میں بھی ایک عجیب روحانی حسن ہے۔ کوئی پیدل چلتا ہے، کوئی قافلے کے ساتھ آتا ہے، کوئی اپنے بچوں کو ساتھ لاتا ہے اور کوئی اپنے بزرگوں کی روایت کو نبھانے کے لیے اس سفر کا حصہ بنتا ہے۔ کسی کے ہاتھ میں رنگ برنگی دھجا ہے، کسی کے پاس نذرانہ، کسی کے لبوں پر بھجن اور کسی کے دل میں ایسی دعا جسے شاید وہ دنیا کے سامنے کبھی بیان نہ کر سکے۔ یہی تو عقیدت کی اصل زبان ہے، خاموش مگر بے حد گہری۔
کندھرا کے قریب جان اللہ شاہ ماری سے وابستہ راماپیر کا اجتماع بھی اسی زندہ روایت کی ایک خوبصورت تصویر پیش کرتا ہے۔ وہاں عقیدت مند جمع ہوتے ہیں، ست سنگ اور بھجن کی محفلیں سجتی ہیں، دیے روشن ہوتے ہیں اور رات کی خاموشی دیر تک انسانی آوازوں، دعاؤں اور سازوں سے آباد رہتی ہے۔ ایسی محفلوں میں مقامی مسلمان بھی شریک ہوتے ہیں، اور یہی منظر سندھ کے اس قدیم مزاج کی یاد دلاتا ہے جس میں پڑوسی کا دکھ اپنا دکھ اور اس کی خوشی اپنی خوشی سمجھی جاتی تھی۔
گمبٹ، کوٹ ڈیجی، کندھرا، روہڑی، پنو عاقل، اوباڑو، کامو شہید، کندھ کوٹ، بخشاپور اور سندھ کے دوسرے کئی علاقوں میں راماپیر کے نام سے جڑی ہوئی روایات کسی نہ کسی شکل میں آج بھی سانس لے رہی ہیں۔ کہیں مندر ہے، کہیں تھان، کہیں سالانہ میلہ، کہیں جاگا اور کہیں صرف کسی گھر کے اندر ایک چھوٹا سا چراغ، جس کے سامنے بیٹھ کر ایک خاندان اپنے بزرگوں کو یاد کرتا ہے۔ بظاہر یہ سب چھوٹی چھوٹی چیزیں ہیں، مگر تہذیب ہمیشہ انہی چھوٹی چیزوں کے سہارے زندہ رہتی ہے۔
راماپیر کا میلہ اسی لیے محض ایک میلہ نہیں؛ یہ ایک زندہ یادداشت خانہ ہے۔ یہاں تاریخ کتابوں کے صفحات میں نہیں بلکہ لوگوں کی آوازوں میں محفوظ ہے۔ بزرگ بچوں کو وہ قصے سناتے ہیں جو انہیں اپنے بزرگوں سے ملے تھے، مائیں بھجن کی وہ لے اگلی نسل تک پہنچاتی ہیں جو کبھی ان کی اپنی ماؤں نے انہیں سکھائی تھی، نوجوان تمبورے اور جھنْج کے سُر سنبھالتے ہیں، اور خاندان اپنی پرانی رسموں کو نئے زمانے کے ہاتھوں میں دے کر مطمئن ہو جاتے ہیں کہ روایت ابھی زندہ ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ثقافت محض ماضی کی یاد نہیں رہتی بلکہ حال کی زندگی بن جاتی ہے۔ ایک بچہ جب پہلی بار اپنے بزرگ کے ساتھ میلے میں آتا ہے، ایک نوجوان جب پہلی بار تمبورا ہاتھ میں لیتا ہے، ایک ماں جب اپنی بیٹی کو بھجن کی پہلی سطر سکھاتی ہے، تو دراصل ایک پوری تہذیبی زنجیر کی اگلی کڑی وجود میں آ رہی ہوتی ہے۔ یوں صدیوں کا سفر ایک لمحے میں نسل در نسل منتقل ہو جاتا ہے۔
اور پھر وہ موسیقی، جو اس پوری روایت کی روح ہے۔ تمبورے کے تاروں سے پھوٹتا ہوا نرم سُر، جھنْج کی مدھم جھنکار، بھجن کی سادہ مگر دل نشیں لے، اگر بتی کی مہک اور رات کی ٹھنڈی ہوا جب ایک دوسرے میں گھلتے ہیں تو فضا میں ایک ایسی کیفیت پیدا ہوتی ہے جسے صرف سنا نہیں جا سکتا، محسوس کرنا پڑتا ہے۔ اس لمحے موسیقی عبادت بھی بن جاتی ہے، دعا بھی، یاد بھی اور محبت بھی۔ انسان کچھ دیر کے لیے اپنے روزمرہ کے دکھوں، الجھنوں اور شور سے باہر نکل کر اپنے اندر کے کسی پرسکون مقام تک پہنچ جاتا ہے۔
سندھ کی لوک موسیقی کا سب سے بڑا کمال شاید یہی ہے کہ وہ دلوں کے درمیان فاصلے کم کر دیتی ہے۔ راگ کی باریکیاں سمجھنے والا ہو یا محض سُر کی مٹھاس سے لطف اندوز ہونے والا، تمبورے کی ایک سادہ سی تان دونوں کو ایک ہی کیفیت میں لے آتی ہے۔ بھجن کے ہر لفظ سے واقف ہونا ضروری نہیں؛ کبھی کبھی صرف ساتھ بیٹھ کر سننا ہی انسان کو اس روحانی فضا کا حصہ بنا دیتا ہے۔ یہی سندھ کی موسیقی کا جادو ہے، وہ انسان کو پہلے انسان سمجھتی ہے، پھر کچھ اور۔
جب راماپیر کی دھجائیں رات کی ہوا میں لہراتی ہیں تو یوں لگتا ہے جیسے ان کے ساتھ تاریخ کے کتنے ہی اوراق بھی ہوا میں بلند ہو گئے ہوں۔ ان دھجاؤں میں ان مسافروں کی یادیں ہیں جو صدیوں پہلے انہی راستوں سے گزرے تھے، ان عورتوں کی دعائیں ہیں جو اپنے بچوں کے لیے مرادیں مانگتی تھیں، ان بزرگوں کی آوازیں ہیں جو رات بھر داستانیں سناتے تھے، اور ان یاتریوں کے قدموں کی چاپ ہے جنہوں نے ریت، دھوپ اور فاصلے کی پروا کیے بغیر اپنے مقدس سفر کو جاری رکھا۔
آج جب دنیا تیز رفتاری سے بدل رہی ہے، جب نئی ٹیکنالوجی، نئی سرحدیں اور زندگی کے نئے انداز انسان کو اس کے ماضی سے دور لے جا رہے ہیں، راماپیر کی یہ راتیں ہمیں ایک نہایت نرم مگر گہری بات یاد دلاتی ہیں: کسی معاشرے کی اصل دولت صرف اس کی بلند عمارتیں، کشادہ سڑکیں اور جدید شہر نہیں ہوتے۔ اس کی اصل دولت اس کی یادداشت، اس کی زبان، اس کے گیت، اس کی داستانیں اور وہ انسانی رشتے ہوتے ہیں جنہیں وقت آسانی سے مٹا نہیں سکتا۔
جو قوم اپنی لوک داستانوں کو بھلا دیتی ہے، وہ صرف چند قصے نہیں کھوتی؛ وہ اپنی روح کے ایک حصے سے محروم ہو جاتی ہے۔ اور جو معاشرہ اپنی روایات کو محبت کے ساتھ اگلی نسل تک منتقل کرتا رہتا ہے، وہ اپنے ماضی کو دفن نہیں کرتا بلکہ اسے مستقبل کے لیے چراغ بنا دیتا ہے۔
ستمبر کی کسی ایسی ہی ٹھنڈی رات کا تصور کیجیے۔ سندھ کے کسی خاموش گاؤں میں ایک ننھا سا دیا جل رہا ہے۔ قریب ہی اگر بتی کی خوشبو ہوا میں گھل رہی ہے۔ دھجا رات کی ہوا میں آہستہ آہستہ لہرا رہی ہے۔ کچھ فاصلے پر لوگ خاموش بیٹھے ہیں اور تمبورے کا ایک نرم سُر تاریکی کو چیرتا ہوا دور نکل رہا ہے۔ کہیں سے بھجن کی آواز آتی ہے، پھر جھنْج کی ہلکی سی جھنکار اس میں شامل ہو جاتی ہے۔ اس لمحے شاید محسوس ہو کہ وقت واقعی رک گیا ہے، ماضی اور حال ایک دوسرے سے مل گئے ہیں اور سندھ اپنی ہی قدیم آواز میں خود سے گفتگو کر رہا ہے۔
شاید راماپیر کی روایت کا سب سے دل آویز پہلو یہی ہے کہ یہ صرف گزرے ہوئے زمانے کی یاد نہیں، آج بھی ایک زندہ حقیقت ہے۔ یہ ان خاندانوں کے دلوں میں زندہ ہے جو ہر سال اپنی دھجائیں لے کر نکلتے ہیں، ان عورتوں کے سروں میں زندہ ہے جو بھجن گاتی ہیں، ان سازندوں کی انگلیوں میں زندہ ہے جو تمبورا چھیڑتے ہیں، ان یاتریوں کے قدموں میں زندہ ہے جو دور دراز سے چل کر اپنے پیر کے آستانے تک پہنچتے ہیں، اور ان دلوں میں زندہ ہے جو مختلف عقیدوں کے باوجود ایک ہی محفل میں بیٹھ کر ایک دوسرے کی خوشی میں شریک ہوتے ہیں۔
اور جب رات مزید گہری ہو جاتی ہے، جب بستیوں کی آوازیں مدھم پڑ جاتی ہیں، جب دیے اب بھی خاموشی سے جل رہے ہوتے ہیں اور تمبورے کے سُر تاریکی میں اپنا راستہ بناتے ہوئے دور تک جاتے ہیں، تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے سندھ نے اپنے اندر چھپا کوئی بہت قدیم دروازہ آہستہ سے کھول دیا ہو۔ اس دروازے کے پار مٹی کی خوشبو ہے، صحراؤں کے خاموش راستے ہیں، سندھ کے دریا کی روانی ہے، نسلوں کی محفوظ یادیں ہیں اور سب سے بڑھ کر وہ محبت ہے جو انسان کو انسان سے، حال کو ماضی سے اور ماضی کو مستقبل سے جوڑتی ہے۔
راماپیر کی یہ راتیں، دراصل سندھ کی اپنی راتیں ہیں؛ وہ راتیں جن میں سندھ اپنی قدیم روح کو یاد کرتا ہے، اپنے لوک ورثے کو محبت سے دوبارہ گاتا ہے، اپنی بکھری ہوئی یادوں کو سمیٹتا ہے اور خاموشی سے خود کو پھر اپنے ہی وجود کے پاس لے آتا ہے۔
پاکستان کے قیام کے ساتھ ایک نئی ریاست نے جنم لیا، مگر اسے صرف ایک نیا پرچم، نیا آئینی و انتظامی ڈھانچہ اور نئی سرحدیں ہی ورثے میں نہیں ملیں۔ اسے ایک ایسا معاشرہ بھی ورثے میں ملا جو صدیوں سے مذہب، ذات، طبقے اور سماجی حیثیت کی مختلف سطحوں میں بٹا ہوا تھا۔ چنانچہ نئے پاکستان کے سامنے سب سے بنیادی سوالوں میں ایک یہ بھی تھا کہ اس نئی ریاست میں شہریت کا مفہوم کیا ہوگا اور مختلف مذاہب، برادریوں اور سماجی طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگ اپنے آپ کو اس ریاست میں کس مقام پر دیکھیں گے۔
قائداعظم محمد علی جناح نے 11 اگست 1947ء کو دستور ساز اسمبلی سے اپنے تاریخی خطاب میں اس سوال کا ایک واضح اور اصولی جواب دیا۔ انہوں نے مذہبی آزادی، جان و مال کے تحفظ اور شہریوں کی مساوات پر زور دیتے ہوئے ایک ایسے پاکستان کا تصور پیش کیا جہاں ریاست اپنے شہریوں کے ساتھ ان کے مذہب کی بنیاد پر امتیاز نہ کرے۔ یہ خطاب پاکستان کے شہری تصور اور اقلیتوں کے حقوق کی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل بن گیا۔
لیکن کسی اصول کا اعلان اور اسے معاشرے میں عملی حقیقت بنانا دو الگ مرحلے ہیں۔ مساوات کا وعدہ اپنی جگہ اہم تھا، مگر نئی ریاست کو ان تاریخی محرومیوں کا بھی سامنا تھا جو صدیوں کے سماجی ڈھانچوں میں گہری جڑیں پکڑ چکی تھیں۔
برصغیر میں ”شیڈولڈ کاسٹس“ کی اصطلاح بھی اسی تاریخی پس منظر میں سامنے آئی۔ برطانوی ہندوستان میں Government of India Act 1935ء کے تحت ان برادریوں کی شناخت اور ان کے لیے مخصوص تحفظات کی قانونی بنیاد قائم ہوئی جنہیں ذات پات کے نظام میں طویل عرصے تک سماجی محرومی، چھوت چھات اور امتیازی سلوک کا سامنا رہا تھا۔ بعد ازاں Government of India (Scheduled Castes) Order 1936ء کے ذریعے ان برادریوں کی باقاعدہ درجہ بندی اور شناخت کی گئی۔
یہاں ایک اہم تاریخی نکتہ سمجھنا ضروری ہے کہ پاکستان میں 1948ء کا شیڈولڈ کاسٹس کوٹہ کسی نئی قانون سازی کے ذریعے اچانک وجود میں نہیں آیا تھا۔ اس کی بنیاد برطانوی ہندوستان کے اس انتظامی اور قانونی ورثے میں موجود تھی جس میں تاریخی طور پر محروم طبقات کی سرکاری اداروں میں نمائندگی کے مسئلے کو پہلے ہی تسلیم کیا جا چکا تھا۔
پاکستان کے قیام کے صرف ایک سال بعد، 19 اکتوبر 1948ء کو Establishment Division کے O.M. No. 56/2/48-Ests.(ME) کے ذریعے ایک اہم انتظامی فیصلہ کیا گیا۔ All-Pakistan Superior Services اور Central Services کی Classes I، II اور III میں براہِ راست بھرتی کے ذریعے پُر کی جانے والی چھ فیصد خالی آسامیوں کو شیڈولڈ کاسٹس کے امیدواروں کے لیے مخصوص کیا گیا۔
یہ فیصلہ محض ایک انتظامی حکم نہیں تھا۔ اس کے پس منظر میں یہ حقیقت تسلیم کی گئی تھی کہ جو برادریاں طویل عرصے تک سماجی اور معاشی محرومی کا شکار رہی ہوں، انہیں محض یہ کہہ دینا کہ سب کے لیے ”میرٹ“ یکساں ہے، عملی مساوات پیدا کرنے کے لیے کافی نہیں۔
مگر کسی پالیسی کی اصل کامیابی اس بات سے نہیں ناپی جاتی کہ نوٹیفکیشن میں کیا لکھا گیا تھا۔ اصل امتحان یہ ہے کہ اس نوٹیفکیشن کا اثر عملی زندگی میں کہاں اور کتنا دکھائی دیا۔
یہی سوال چند برس بعد خود حکومت کے ریکارڈ میں بھی ابھرتا ہے۔ 30 اکتوبر 1957ء کو Establishment Division کے O.M. No. 5/5/57-R میں نشاندہی کی گئی کہ شیڈولڈ کاسٹس کے لیے مخصوص چھ فیصد آسامیاں پوری طرح پُر نہیں ہو رہی تھیں، جس کی ایک بڑی وجہ مطلوبہ قابلیت رکھنے والے امیدواروں کی عدم دستیابی بتائی گئی۔ حکومت نے اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے ہدایت کی کہ شیڈولڈ کاسٹس کی آبادی والے علاقوں میں سرکاری ملازمتوں کی خالی آسامیوں کی مناسب تشہیر کی جائے تاکہ ان برادریوں کو سرکاری ملازمتوں میں ان کی جائز نمائندگی حاصل ہو سکے۔
یہ حکم اپنے اندر آج کے لیے بھی ایک گہرا سبق رکھتا ہے:
صرف کوٹہ مقرر کرنا کافی نہیں، کوٹے تک رسائی کا راستہ بھی ہموار کرنا پڑتا ہے۔ اگر کسی تاریخی طور پر محروم برادری کے نوجوان کے لیے معیاری تعلیم تک رسائی محدود ہو، اسے سرکاری ملازمتوں کے مواقع اور طریقۂ کار کی مناسب معلومات نہ ملیں، یا بھرتی کے عمل میں اس کے مخصوص حصے کا شفاف حساب ہی نہ رکھا جائے، تو سرکاری نوٹیفکیشن میں لکھا ہوا کوٹہ اس کی زندگی میں آخر کیا تبدیلی لا سکتا ہے؟
وقت کے ساتھ ملک کا آئینی اور سیاسی نظام تبدیل ہوا، ریاستی ترجیحات بدلیں اور سرکاری پالیسیوں کے رخ بھی تبدیل ہوتے رہے۔ بالآخر 24 ستمبر 1996ء کو Establishment Division کے O.M. No. F.4/15/94-R.II کے ذریعے 1948ء میں مقرر کیا گیا شیڈولڈ کاسٹس کا چھ فیصد مخصوص کوٹہ واپس لے لیا گیا۔ اس کے بعد شیڈولڈ کاسٹس کے امیدوار اپنے صوبے کے دیگر امیدواروں کے ساتھ مقابلے کے عمومی نظام کا حصہ بن گئے۔
یہاں تاریخی دیانت داری کا تقاضا ہے کہ ایک بات واضح رکھی جائے۔ 1996ء کے سرکاری حکم میں کوٹہ واپس لینے کی تفصیلی وجہ بیان نہیں کی گئی۔ اس لیے اس فیصلے کو کسی مخصوص سیاسی ارادے یا کسی ایک شخصیت کے فیصلے سے منسوب کرنا مزید سرکاری ریکارڈ کے بغیر درست نہیں ہوگا۔ دستاویزی طور پر البتہ یہ بات واضح ہے کہ 1948ء میں مقرر کیا گیا چھ فیصد کوٹہ 1996ء میں باضابطہ طور پر واپس لے لیا گیا۔
لیکن کہانی یہاں ختم نہیں ہوئی۔
20 مئی 2009ء کو وفاقی کابینہ نے وفاقی سرکاری ملازمتوں میں اقلیتوں کے لیے پانچ فیصد کوٹہ مقرر کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلے کو عملی شکل دینے کے لیے 26 مئی 2009ء کو Establishment Division کا O.M. No. 4/15/94-R-2 جاری ہوا، جس کے تحت وفاقی حکومت کی براہِ راست بھرتی والی ملازمتوں میں پانچ فیصد آسامیاں غیر مسلم اقلیتوں کے لیے مخصوص کر دی گئیں۔ اس میں CSS سمیت وفاقی سرکاری ملازمتیں شامل تھیں، جبکہ اقلیتی امیدواروں کا اوپن میرٹ پر مقابلہ کرنے کا حق بھی برقرار رکھا گیا۔
2009ء کی پالیسی میں ایک اور اہم اصول بھی شامل تھا۔ اگر کسی بھرتی میں اقلیتی کوٹے کے لیے موزوں امیدوار دستیاب نہ ہو تو ان آسامیوں کو ختم نہیں کیا جانا تھا بلکہ carry forward کیا جانا تھا، تاکہ آئندہ انہیں اقلیتی امیدواروں سے پُر کیا جا سکے۔
یوں پاکستان کی تاریخ میں ایک دلچسپ مگر غور طلب تسلسل سامنے آتا ہے۔ آزادی کے بعد شیڈولڈ کاسٹس کے لیے چھ فیصد مخصوص کوٹہ، 1996ء میں اس کا خاتمہ، اور پھر 2009ء میں تمام غیر مسلم اقلیتوں کے لیے پانچ فیصد وفاقی روزگار کوٹہ۔
کاغذات دیکھیے تو پالیسی موجود ہے۔ نوٹیفکیشن موجود ہیں۔ سرکاری احکامات موجود ہیں۔ بھرتی کے ضوابط میں کوٹے کا ذکر موجود ہے۔
مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ کوٹہ واقعی سرکاری دفاتر تک پہنچا؟
یہ سوال کسی ایک حکومت، کسی ایک محکمے یا کسی ایک سیاسی دور کے خلاف فردِ جرم نہیں۔ یہ ریاستی نظام سے ایک سادہ مگر بنیادی سوال ہے۔ اگر پانچ فیصد کوٹہ اپنی روح اور مقصد کے مطابق نافذ ہو رہا ہے تو وفاقی حکومت کا ہر ادارہ اپنے اعداد و شمار کے ذریعے اس کی گواہی کیوں نہیں دے سکتا؟
کتنی آسامیاں منظور ہوئیں؟ کتنی خالی ہوئیں؟ ان میں سے پانچ فیصد کتنی مخصوص کی گئیں؟ کتنے اقلیتی امیدوار مقرر ہوئے؟ کتنی آسامیاں خالی رہ گئیں؟ کتنی carry forward ہوئیں؟ اور آج وفاقی حکومت کی ہر وزارت، ڈویژن اور ادارے میں اقلیتی ملازمین کی مجموعی تعداد کتنی ہے؟
یہ ایسے سوالات نہیں جن کے جواب ناممکن ہوں۔ ایک جدید سرکاری نظام میں یہ اعداد و شمار باقاعدگی سے مرتب اور محفوظ ہونے چاہئیں۔ اصل تشویش اس وقت پیدا ہوتی ہے جب پالیسی تو موجود ہو، مگر اس کے عملی نتائج کے جامع، شفاف اور عوام کے سامنے قابلِ رسائی اعداد و شمار دکھائی نہ دیں۔ اور یہاں معاملہ محض اعداد و شمار کا نہیں۔ ان اعداد کے پیچھے انسان ہیں، خاندان ہیں، نوجوانوں کے خواب ہیں اور ان کی محنت سے حاصل کی گئی ڈگریاں ہیں۔
آج اقلیتی برادریوں کے نوجوان اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ انجینئرنگ، طب، قانون، آئی ٹی، تدریس، انتظامیہ، تحقیق اور زندگی کے دوسرے شعبوں میں وہ اپنی قابلیت منوا رہے ہیں۔ بہت سے نوجوان ایسے ہیں جو کسی بھی کھلے مقابلے میں اپنی صلاحیت کے بل پر کامیابی حاصل کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔
لیکن جب ریاست خود کسی تاریخی محرومی کو تسلیم کرتے ہوئے ایک مخصوص کوٹہ مقرر کرتی ہے تو اس کوٹے سے عملی فائدہ اٹھانا بھی ان کا جائز حق بن جاتا ہے۔ کوٹہ کسی پر احسان نہیں۔ یہ مفت ملازمت کا نام بھی نہیں۔
کوٹہ دراصل ریاست کا اعتراف ہے کہ تاریخی عدم مساوات کو ختم کرنے کے لیے بعض اوقات سب کو ایک ہی لکیر پر کھڑا کرنا کافی نہیں ہوتا؛ پہلے ان لوگوں کو وہاں تک پہنچنے کا منصفانہ موقع دینا پڑتا ہے جنہیں تاریخ نے پیچھے چھوڑ دیا۔
اب وقت آ گیا ہے کہ پارلیمنٹ اس معاملے کو محض ایک انتظامی مسئلہ سمجھنے کے بجائے قومی نمائندگی اور شہری مساوات کے سوال کے طور پر دیکھے۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ کی متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کو چاہیے کہ وفاقی وزارتوں، ڈویژنوں، ماتحت محکموں، خودمختار اداروں، کارپوریشنوں اور دیگر متعلقہ اداروں سے 2009ء سے آج تک اقلیتی کوٹے پر عمل درآمد کے مکمل اعداد و شمار طلب کریں۔
سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ: ”پانچ فیصد کوٹہ موجود ہے یا نہیں؟“
اصل سوال یہ ہونا چاہیے: ”پانچ فیصد کوٹے کے تحت حقیقت میں کتنے لوگ مقرر ہوئے؟“
اگر کسی ادارے میں سو آسامیاں بھرتی کے لیے نکلتی ہیں تو ان میں سے پانچ فیصد کا حساب کہاں ہے؟ اگر یہ آسامیاں مناسب امیدوار نہ ملنے کی وجہ سے خالی رہیں تو کیا وہ اگلی بھرتی کے لیے منتقل ہوئیں؟ اگر ہوئیں تو کب اور کہاں؟ اور اگر کوٹہ نافذ ہو رہا ہے تو اس کے اعداد و شمار عوام کے سامنے رکھنے میں آخر ہچکچاہٹ کیوں؟
یہ سوال کسی مذہبی کشمکش کو ہوا دینے کے لیے نہیں بلکہ ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کو مضبوط کرنے کے لیے ہیں۔ قائداعظم کا 11 اگست کا پیغام ہمیں مساوات کا اصول دیتا ہے۔ آئین اقلیتوں کے حقوق اور ریاستی اداروں میں ان کی مناسب نمائندگی کی ذمہ داری کو تسلیم کرتا ہے۔ 1948ء کا چھ فیصد اور 2009ء کا پانچ فیصد کوٹہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ ریاست نے مختلف ادوار میں خصوصی نمائندگی کی ضرورت کو تسلیم کیا۔
لیکن آج سوال یہ ہے کہ ان وعدوں کا عملی حاصل کیا ہے؟
کیونکہ سرکاری نوٹیفکیشن انصاف نہیں ہوتا۔ انصاف اس وقت جنم لیتا ہے جب نوٹیفکیشن کسی اہل انسان کی زندگی میں ایک حقیقی موقع بن کر اترتا ہے۔
کاغذ پر لکھا ہوا کوٹہ نمائندگی نہیں۔ حقیقی نمائندگی وہ ہے جو سرکاری دفتر کی فائل میں، تقرری کے حکم میں اور آخرکار اس کرسی پر دکھائی دے جہاں ایک اہل اقلیتی شہری اپنی قابلیت کے ساتھ ریاست اور ملک کی خدمت کر رہا ہو۔
اب وقت آ گیا ہے کہ پارلیمنٹ، حکومت اور ہر متعلقہ سرکاری ادارہ ایک ہی سوال کا جواب دے: کوٹہ کاغذوں میں کتنا ہے، اور حقیقت میں کتنا؟ اور اس سوال کا جواب تقریروں سے نہیں، اعداد و شمار سے دینا چاہیے۔


