اخبار سے الگورتھم تک: مزاحمت اور ریاستی کنٹرول کا بدلتا منظرنامہ (1)- سائرہ رباب

سوشل میڈیا تحریکیں: جب سنسرشپ بدلی تو مزاحمت نے بھی اپنا راستہ بدل لیا

پرانی سنسرشپ میں خبر کو روک دینا ہی کافی ہوتا تھا۔۔ روایتی سنسرشپ نسبتاً سیدھی تھی۔ اخبار بند کردیا، پریس ضبط کرلیا، کتاب پر پابندی لگادی، صحافی گرفتار کردیا، جلسہ روک دیا یا سرکاری ٹی وی پر خبر دکھائی ہی نہ گئی۔ اس حکمت عملی کا مقصد صرف معلومات چھپانا نہیں تھا۔ اصل فائدہ یہ تھا کہ لوگ ایک دوسرے سے بھی بے خبر رہتے تھے۔ ہر فرد خود کو اس اپنی تکلیف میں تنہا تصور کرتا تھا۔
حالاں کہ ہزاروں لوگ ایک ہی حکومت سے ناراض اور غصہ ہوتے تھے مگر ہر شخص یہ سمجھتا تھا کہ شاید صرف میں ایسا سوچتا ہوں۔ ایک مزدور کو معلوم نہیں کہ دوسرے شہر کے مزدور بھی وہی شکایت رکھتے ہیں، ایک طالب علم نہیں جانتا کہ ہزاروں دوسرے نوجوان بھی اسی خوف یا غصے میں ہیں۔ اس طرح انفرادی ناراضگی موجود رہتی ہے لیکن اجتماعی طاقت نہیں بنتی۔
مصر میں خالد سعید کی پولیس تشدد سے موت کے بعد بننے والے “ہم سب خالد سعید ہیں” فیس بک صفحے نے اسی دیوار کو توڑا۔ لوگ اب خبرنامے یا اخبار کی طرح صرف خبر نہیں پڑھ/سن رہے تھے۔ وہ ایک دوسرے کے تجربات، تبصرے اور تجاویز بھی دیکھ رہے تھے۔ ان پر منکشف ہونے لگا تھا کہ جو وہ محسوس کر رہے ہیں، وہ انفرادی احساس نہیں تھا، اجتمائی تھا۔ ایک شخص کے ساتھ ہونے والا ظلم آہستہ آہستہ ایک مشترک سوال بن گیا: اگر اس کے ساتھ ہوسکتا ہے تو ہمارے ساتھ بھی ہوسکتا ہے۔ یا پھر ہمارے زخم اور درد تو سانجھے ہیں۔۔

فیسبک کیوں سب سے زیادہ طاقتور پلیٹ فارم بن گیا؟

ٹویٹر اور انٹرنیٹ زیادہ تر صحافی ، پڑھے لکھے لوگ، سیاسی کارکن زیادہ استمال کرتے تھے ۔۔یہاں فیس بک کی اصل طاقت صرف سیاسی کارکن نہیں تھے۔ اس کی طاقت یہ تھی کہ وہاں عام لوگ پہلے سے موجود تھے۔۔۔ خاندان، دوست، طلبہ، ملازم، دکاندار، خواتین اور وہ لوگ بھی جن کا کسی سیاسی جماعت سے کوئی باقاعدہ تعلق نہیں تھا۔ کسی خالص سیاسی ویب سائٹ کو بند کرنا آسان تھا، مگر فیس بک بند کرنے کا مطلب معاشرے کے روزمرہ رابطے کو متاثر کرنا تھا۔
اسی مقام پر عام شہری کی سیاسی حیثیت بھی بدلنے لگی۔ وہ صرف ووٹر یا سپورٹر یا صرف پیروی کرنے والا (passive listener) نہیں رہا۔ وہ تصویر بنا سکتا تھا، ویڈیو ریکارڈ کرسکتا تھا، خبر آگے پہنچا سکتا تھا، راۓ دے سکتا تھا اور اپنے خاندان یا دوستوں کو کسی مسئلے سے جوڑ سکتا تھا۔ جو کام پہلے صرف سیاسی کارکن کرتا تھا ، اب عام فرد بھی کرنے لگا تھا ، یہ ایک نیے دور کا آغاز تھا۔
تیونس میں بھی صرف فیس بک نے کام نہیں کیا۔ شہری صحافت کے نیٹ ورک، آزاد بلاگر اور عالمی متبادل ذرائع وہ خبریں سامنے لارہے تھے جنہیں سرکاری میڈیا دبا دیتا تھا۔ مصر میں بھی پہلے سے موجود کارکنوں کے حلقے نئے ڈیجیٹل رابطوں کے ذریعے عام لوگوں سے ملنے لگے۔ یوں پرانے کارکن، نئے ڈیجیٹل رابطے اور عام لوگ ایک دوسرے سے جڑ کر بہت بڑی اجتماعی رسائی پیدا کرنے لگے۔

نئی سنسرشپ: خبر نہیں، توجہ کنٹرول کرو:

شروع کے احتجاجوں میں حکومتیں بری طرح ناکام ہوئیں لوگوں نے ہر سینسر شپ کو بآسانی بائی پاس کیا۔۔لیکن ریاستیں بھی بہت جلد سیکھ گئیں۔ عرب بہار کے ابتدائی برسوں کے بعد حکومتوں نے سمجھ لیا کہ انٹرنیٹ کے دور میں ہر خبر کو مکمل طور پر غائب کرنا ممکن بھی نہیں اور ہمیشہ ضروری بھی نہیں۔

یہاں سنسرشپ نے شکل بدل لی۔

پرانا طریقہ تھا: خبر لوگوں تک نہ پہنچنے دو۔
نیا طریقہ ایجاد ہوا: خبر پہنچنے دو، مگر اتنا شور پیدا کردو کہ کسی کو یقین نہ رہے کہ سچ کیا ہے۔
ایک واقعے کی دس کہانیاں، اصل ویڈیو کے ساتھ جعلی ویڈیوز، مظاہرین کو غیر ملکی ایجنٹ کہنا، معتبر صحافیوں پر ذاتی حملے، اصل مسئلے کے مقابلے میں کوئی نیا جذباتی موضوع کھڑا کردینا۔ آخر میں عام آدمی خود کہنے لگتا ہے: “پتا نہیں سچ کیا ہے، سب جھوٹ بول رہے ہیں۔” یہاں کچھ بدلنے والا نہیں ، سب چھوڑو “, ” سب ایک جیسے ہیں-”
یہ بھی سنسرشپ ہے، مگر یہاں خاموش نہیں کرایا جاتا، شور اور ہنگامہ کی سنسرشپ لوگوں سے وہ اعتماد اور یقین چھین لیتی ہے۔ جو انھیں اجتمائی عمل کی طرف لے کر جاتی ہے۔
یہاں ہربرٹ سائمن کا نظریہ بہت اہم ہوجاتا ہے۔ معلومات جتنی زیادہ ہوں، انسانی توجہ اتنی ہی قیمتی ہوجاتی ہے۔ آج مسئلہ صرف معلومات کی کمی نہیں بلکہ معلومات کی بھرمار ہے۔۔ اور اصل طاقت انفارمیشن نہیں، “توجہ” ہے۔ اب جنگ توجہ حاصل کرنے کی ہے۔

موبائل کھولیں تو ایک طرف سنجیدہ رپورٹ ہے، دوسری طرف جذباتی ویڈیو، تیسری طرف سازشی دعویٰ، چوتھی طرف تفریح اور پانچویں طرف غصہ پیدا کرنے والی پوسٹ۔
انسان سب کچھ نہیں دیکھ سکتا۔ اسے انتخاب کرنا پڑتا ہے۔اسی لیے

الگورتھم بھی سیاسی اہمیت اختیار کرگئے۔

ایسے مواد کو زیادہ توجہ مل سکتی ہے جو خوف، غصہ، سنسنی یا تنازع پیدا کرے۔ یوں طاقت صرف یہ طے کرنے میں نہیں رہتی کہ لوگ کیا جانیں گے، بلکہ یہ بھی اہم ہوجاتا ہے کہ وہ کس چیز پر توجہ دیں گے، کس پر یقین کریں گے اور کس مسئلے کے لیے حرکت میں آئیں گے۔

چین نے سنسرشپ کو ایک مکمل نظام میں بدل دیا
چین اس نئی سیاست کی اہم مثال ہے۔ وہاں صرف کچھ بیرونی ویب سائٹس بند کرنا سنسرشپ نہیں۔ ایک بہت بڑا مقامی انٹرنیٹ نظام موجود ہے، جس کے ساتھ منتخب سنسرشپ، نگرانی (surveillance)، عوامی ردعمل کا جائزہ (feedback) اور توجہ دوسری طرف منتقل کرنے کے طریقے (distractor) بھی کام کرتے ہیں۔

“حکومت پر تنقید کرنے دو” کی حکمت عملی

چین کی حکومت نے نیی حکمت عملی اپنائی کہ لوگوں کو حکومت پر تنقید کرنے دو اور غصہ نکالنے دو کیوں کہ حکومت پر ہر تنقید ایک ہی درجے کا خطرہ نہیں سمجھی جاتی۔ لوگ انفرادی طور پر شکایت کریں، غصہ ظاہر کریں یا حکومت کو برا کہیں، یہ ایک چیز ہے۔ اصل خطرہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب یہی لوگ ایک دوسرے کو ڈھونڈ کر مشترک عمل (collective action, مزاحمت)کی طرف بڑھنے لگیں۔
ایک ناراض شہری کی شکایت ہے۔
ہزار الگ الگ ناراض شہریوں کی ہزار شکایتیں ہیں۔۔ ان سے حکومت کو کوئی خطرہ نہیں۔
لیکن وہی ہزار افراد اگر ایک دوسرے سے رابطہ قائم کرکے وقت، جگہ اور مشترک مطالبہ طے کرلیں تو وہ سیاسی قوت بن جاتے ہیں۔

اپوزیشن کے حکومت پر حملے: سوچی سمجھی اسٹریٹجی

چین کی مشہور “50 Cent Party” سے متعلق تحقیق نے یہ دکھایا کہ اپوزیشن جو حکومت پر طرح طرح کے الزام اور حملے کرتی رہی۔
مقصد ہمیشہ مخالف کو بحث میں شکست دینا نہیں تھا۔ کبھی زیادہ مؤثر طریقہ یہ ہوتا ہے کہ حساس سیاسی گفتگو سے لوگوں کی توجہ ہی دوسری طرف لے جائی جائے۔ کسی قومی کامیابی، جذباتی موضوع یا دوسری بحث کو اتنا نمایاں کردیا جائے کہ اصل مسئلہ پیچھے چلا جائے۔

“انتظار کرو اور دیکھو” حکمت عملی

کبھی فوری کریک ڈاؤن کے بجائے انتظار کی پالیسی (wait and watch) بھی فائدہ مند ہوسکتی ہے۔ حکومت دیکھتی ہے کہ شاید ابتدائی جوش خود کم ہوجائے، آپسی اختلافات بڑھ جائیں، میڈیا دوسری خبر پر چلا جائے اور تحریک اپنی توانائی کھو دے۔ جیسے ہم نے دیکھا کہ جنتر منتر احتجاج کو ایک مہینہ بلکل چھوڑ دیا گیا۔۔ لوگ مستقل مزاجی سے جمے رہیں تو حکومت ناکام ہو جاتی ہے۔

ٹرولنگ اور ہراسمنٹ

روس جیسے حالات میں ٹرولنگ، ہراسانی اور جھوٹی معلومات کے دوسرے طریقے زیادہ نمایاں رہے۔ ٹرول کا مقصد ضروری نہیں کہ وہ آپ کو اپنی بات پر قائل کرے۔ کبھی اس کی کامیابی صرف یہ ہوتی ہے کہ آپ سارا دن اس سے لڑتے رہیں اور جس اصل مسئلے کے لیے آئے تھے وہ پس منظر میں چلا جائے۔
یہ توجہ کی جنگ (attention warfare) ہے۔

احتجاج کے مقام پر صرف منفی اور انتشاری واقعات کو کوریج دینا

جیسے امریکا کی اکو پائی (occupy) تحریک جسکا بنیادی سلوگن “ہم 99 فیصد ہیں” اور سب دولت ایک فیصد کے پاس ہے ، اس کی طبقاتی ڈیمانڈ کہیں پس پشت چلی گیی، اور میڈیا پر انتشاری پہلووں یا واقعات پر فوکس کیا گیا ۔ ایسے لوگوں کو نمائندہ بنا کر انٹرویو لئے گئے جن کا تحریک سے کوئی خاص تعلق ہی نہیں تھا۔

عوام اور حکومت ۔۔چوہے بلی کا کھیل

مگر یہ کھیل ہمیشہ یک طرفہ نہیں رہتا
ریاست کوئی نیا طریقہ بناتی ہے تو لوگ بھی اس سے نکلنے کے نئے راستے تلاش کرتے ہیں۔
ایک پلیٹ فارم بند ہوا تو دوسرا استعمال ہوا۔ خبر حذف ہوئی تو سکرین شاٹ بن گیا۔ ایک لفظ روکا گیا تو نئی علامت یا اشارہ بن گیا۔ وی پی این (VPN) اور دوسرے ذرائع استعمال ہوئے۔ معتبر شخص نے خبر حاصل کی اور اسے اپنے نیٹ ورک کے ذریعے آگے پہنچادیا۔. اس سے فرق نہیں پڑتا کہ زیادہ کے مقابلے میں صرف چند لوگ ہی ایسا کر سکیں، مگر وہ مطلوبہ امپیکٹ قائم کر لیتے ہیں۔
چین میں “کلب ہاؤس” کا مختصر دور اسی مسلسل بلی اور چوہے کے کھیل کی مثال تھا۔ کچھ عرصے کے لیے چینی صارفین کو ایک نسبتاً کھلی جگہ ملی جہاں حساس سیاسی موضوعات پر گفتگو ہوئی۔ بعد میں رسائی محدود کردی گئی، مگر یہ دکھائی دیا کہ کنٹرول کبھی مکمل اور مستقل نہیں ہوتا۔۔ چوہے بلی کا کھیل مسلسل چلتا رہتا ہے۔

کیا کمرشل پلیٹ فارم جیسے انسٹا ، فیس بک پہلے سے طےشدہ ہوتے ہیں:

یہی تعلق تجارتی پلیٹ فارموں کے ساتھ بھی ہے۔ کمپنی کوئی سہولت ایک مقصد کے لیے بناتی ہے، مگر صارف اس کا نیا استعمال نکال لیتے ہیں۔ ہیش ٹیگ بھی پہلے سے تیار سیاسی آلہ نہیں تھا۔ لوگوں نے اسے اپنے طور پر استعمال کرنا شروع کیا، پھر وہ باقاعدہ فیچر بن گیا۔ اسی طرح منشن کرنا اور ٹیگ کرنا بھی ۔ یعنی کارپوریشن پلیٹ فارم کی مالک ہوسکتی ہے، مگر انسانی تخلیقی صلاحیت کو مکمل طور پر اپنے قبضے میں نہیں لے سکتی۔
الگورتھم نے راستہ تنگ کیا تو پیغام نے شکل بدل لی

الگورتھم کو کیسے شکست دی جائے:

اسی لیے آج ایک تحریک صرف تقریر یا طویل مضمون پر انحصار نہیں کرتی۔ ایک مشکل خیال پہلے مضمون میں سمجھایا جاسکتا ہے، پھر اسی سے مختصر ویڈیو، معلوماتی خاکہ، تصویر، ذاتی کہانی (story telling)، وی لاگ یا میم بنایا جاسکتا ہے۔
ایک ہی پیغام مختلف شکلوں میں مختلف لوگوں تک پہنچتا ہے۔
یہ صرف تشہیر کا طریقہ نہیں، جدید سیاسی رابطہ ہے۔

معتبر سورس اور انفلوئنسرز کی اہمیت:

معلومات کی بھرمار میں معتبر واسطے بھی اہم ہوجاتے ہیں۔ مقامی صحافی، ڈاکٹر، استاد، محقق، کارکن یا موقع پر موجود ایسا شخص جس پر کمیونٹی پہلے سے اعتماد کرتی ہو، خبر کو اعتبار دے سکتا ہے۔
عام آدمی ہر ویڈیو خود تحقیق کرکے درست یا غلط ثابت نہیں کرسکتا۔ وہ اعتماد کے نیٹ ورک (trusted source) استعمال کرتا ہے۔
اسی لیے قریبی تعلقات اور دور کے تعلقات دونوں اہم ہو جاتے ہیں۔ خاندان اور دوست اعتماد پیدا کرتے ہیں، جبکہ دوسرے حلقوں سے رابطے معلومات کو نئی جگہوں تک لے جاتے ہیں۔۔ کچھ احتجاجوں میں جوانوں نے مل کر اپنے پلیٹ فارم بناۓ جہاں خبروں ، تصویروں اور ویڈیوز کی تحقیق کر کے لوگوں تک پہنچایا جاتا تھا۔

پولیس کا تشدد کبھی خوف کے بجائے اتحاد کیوں پیدا کرتا ہے؟

ریاستی جبر کا مقصد عام طور پر خوف پیدا کرنا ہوتا ہے، مگر ہر بار نتیجہ ایک جیسا نہیں نکلتا۔
کبھی پولیس تشدد کی ایک تصویر یا ویڈیو بکھرے ہوئے لوگوں کو مشترک احساس میں جوڑ دیتی ہے۔ ایک شخص کہتا ہے یہ طالب علم کے ساتھ ہوا، دوسرا کہتا ہے یہی میرے بھائی کے ساتھ بھی ہوا تھا، تیسرا سوچتا ہے کہ یہ میرے ساتھ بھی ہوسکتا ہے۔
یوں الگ الگ شکایتیں ایک بڑی کہانی میں جڑ جاتی ہیں۔ اوریہی اجتماعی قوت کو سمیٹنے کی طاقت (coalescing power) ہے۔

نگرانی (surveillance) کب ناکام ہوتی ہے:

ریاست چند کارکنوں کی نگرانی کرسکتی ہے، چند اکاؤنٹس بند کرسکتی ہے اور کچھ فون ٹریک کرسکتی ہے، جیسے ترکی میں فون رجسٹرڈ تھے۔ مگر اگر معلومات ہزاروں خاندانوں، دوستوں، شہروں اور مختلف پلیٹ فارموں میں گردش کرنے لگے تو نگرانی کی بھی حدود سامنے آتی ہیں۔۔ جیسے لاکھوں لوگ نکل آ یں تو نگرانی ناکام اور نا ممکن ہو جاتی ہے۔
اور شاید سوشل میڈیا کی سب سے اہم سیاسی تبدیلی یہی تھی کہ اس نے انسان کو صرف زیادہ معلومات نہیں دیں۔اس نے عام لوگوں کو ایک دوسرے کو دیکھنے، سمجھنے اور پہچاننے کی صلاحیت دی۔

لیکن یہاں اگلا سوال زیادہ مشکل ہے۔

لوگ سنسرشپ توڑ گئے، ایک دوسرے کو ڈھونڈ لیا، خبر سرکاری میڈیا سے نکل کر شہری صحافت تک پہنچ گئی۔ مگر کیا یہی عام لوگ واقعی تنظیم بھی کرسکتے ہیں؟ کیا برسوں کی تربیت کے بغیر خوراک، دوا، احتجاج اور فیصلہ سازی چلائی جاسکتی ہے؟ اور اگر کوئی ایک مرکزی لیڈر نہ ہو تو تحریک چلائے گا کون؟
یہیں سے نئی سیاست کا دوسرا باب شروع ہوتا ہے۔
جاری ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں