باب المندب کا نیا محاذ / محمد فاروق نتکانی

یمن کی سرزمین پھر بول اٹھی ہے اور جب یمن بولتا ہے تو صرف صنعا کے ایوانوں میں شور نہیں ہوتا بحرِ احمر کی لہریں بھی بے چین ہو جاتی ہیں

حوثیوں نے اس ہفتے بحیرۂ احمر کے ساحل پر جس برق رفتاری سے پیش قدمی کی ہے وہ محض چند میل زمین کا قبضہ نہیں یہ ایک ایسے سیاسی اور عسکری بیانیے کا انہدام ہے جسے کئی ماہ سے سعودی عرب، یمنی حکومت اور اس کے حلیف بڑی محنت سے تعمیر کر رہے تھے۔

فتح حوثیوں کی ہوئی ہے مگر شکست صرف یمنی فوج کی نہیں ہوئی شکست ایک خوش فہمی کی ہوئی ہے یہ خوش فہمی کہ یمن کا منتشر اقتدار اب متحد ہو چکا ہے۔ یہ خوش فہمی کہ فوج ایک کمان کے نیچے آ گئی ہے۔ یہ خوش فہمی کہ سعودی فضائی طاقت اور یمنی زمینی قوت مل کر حوثیوں کا حساب چکا سکتی ہیں۔ اور سب سے بڑھ کر یہ خوش فہمی کہ یمن کا مسئلہ کسی ایک فوجی مہم سے حل کیا جا سکتا ہے۔

حوثیوں نے شاید ابھی جنگ نہیں جیتی مگر انہوں نے یہ ضرور ثابت کر دیا ہے کہ جنگ اب بھی ان کے ہاتھ میں ہے بحیرۂ احمر کا ساحل ان کے لیے محض ریت بندرگاہ اور سمندر نہیں یہ ایک دباؤ کا آلہ ہے۔ ایک ایسا جغرافیہ جس کے ایک سرے پر باب المندب ہے اور دوسرے سرے پر عالمی تجارت کی شہ رگ۔

دنیا نے 2023ء کے بعد سے دیکھ لیا ہے کہ چند میزائل کس طرح ایک سمندری راستے کو عالمی منڈی کی خبر بنا سکتے ہیں۔ جہاز راستہ بدلتے ہیں انشورنس مہنگی ہوتی ہے سفر طویل ہوتا ہے تیل کی قیمتیں حرکت کرتی ہیں اور واشنگٹن لندن اور تل ابیب کے جنگی طیارے یمن کے آسمان پر نمودار ہو جاتے ہیں۔

یہی تو جدید جنگ ہے کبھی توپیں شہر فتح کرتی تھیں اب ایک میزائل بحری جہاز کو راستہ بدلنے پر مجبور کر دیتا ہے۔
کبھی بندرگاہ پر قبضہ فوجی کامیابی تھا اب بندرگاہ کے قریب چند میزائل عالمی تجارت کے لیے سوالیہ نشان بن جاتے ہیں۔ حوثیوں نے اس حقیقت کو سمجھ لیا ہے۔

ان کے لیے باب المندب پر مکمل قبضہ ضروری نہیں اگر خوف اتنا پیدا کر دیا جائے کہ جہاز خود راستہ بدل لیں تو سمندر پر قبضہ کیے بغیر بھی سمندری راستہ آپ کے اختیار میں آ جاتا ہے۔ عبدالقادر المرتضیٰ کا یہ کہنا اسی حکمتِ عملی کی طرف اشارہ ہے کہ انہیں باب المندب پر براہِ راست قبضے کی ضرورت نہیں سعودی جہازوں کی ناکہ بندی پہلے ہی عملاً ہو چکی ہے۔ یہ جملہ بظاہر ایک فوجی بیان ہے مگر اس کے اندر ایک سیاسی فلسفہ چھپا ہے کہ “طاقت ہمیشہ قبضے کا نام نہیں کبھی کبھی طاقت دوسرے کو استعمال سے روک دینے کا نام بھی ہے”

اور اب حوثیوں کی تازہ پیش قدمی نے اس طاقت کو مزید خطرناک بنا دیا ہے۔ ساحل ان کے قریب ہے۔ جزیرے ان کی پہنچ میں ہیں۔ سمندری راستہ سامنے ہے۔ اور دشمن کے جہاز اب صرف فاصلے پر موجود ہدف نہیں رہے وہ ایک ایسے جغرافیے کے سامنے ہیں جہاں کم فاصلے کے ہتھیار بھی خطرہ بن سکتے ہیں۔

یہاں سے جنگ کا مسئلہ محض یمن کا مسئلہ نہیں رہتا۔ یہ ریاض کا مسئلہ ہے۔ یہ واشنگٹن کا مسئلہ ہے۔ یہ عالمی تجارت کا مسئلہ ہے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ اس سوال کا مسئلہ ہے کہ کیا طاقتور ریاستیں ایک کمزور مگر مسلح غیر ریاستی قوت کو ہمیشہ کے لیے نظرانداز کر سکتی ہیں؟

یمن میں ایک عجیب تماشا جاری ہے۔ ایک طرف حکومت ہے جس کے پاس ریاست کا نام ہے مگر مکمل اختیار نہیں دوسری طرف حوثی ہیں جن کے پاس مکمل ریاست نہیں مگر فیصلہ کن جغرافیہ ہے۔ ایک کے پاس پرچم ہے دوسرے کے پاس بندرگاہ۔ ایک کے پاس سفارتی شناخت ہے دوسرے کے پاس میزائل۔ ایک کے پاس بین الاقوامی حمایت ہے دوسرے کے پاس جنگ کی رفتار۔ اور تاریخ میں کئی بار ایسا ہوا ہے کہ جس کے پاس رفتار ہو وہ اس وقت تک طاقتور رہتا ہے جب تک مخالف اپنے کاغذات ترتیب دیتا رہتا ہے۔

کئی ماہ سے کہا جا رہا تھا کہ یمنی حکومت سنبھل گئی ہے۔ فوجی کمان متحد ہو رہی ہے۔ مختلف دھڑے ایک صف میں آ رہے ہیں۔ جنوبی علیحدگی پسندوں کے خلاف کارروائی کے بعد ریاض کو بھی شاید یقین ہو گیا تھا کہ اب صنعا کی طرف دیکھا جا سکتا ہے۔ مگر یمن نے پھر وہی سبق پڑھا دیا کہ یمن میں اتحاد کا اعلان اور یمن میں اتحاد کا وجود دو مختلف چیزیں ہیں۔

جس اتحاد کو چند بیانات سے قائم سمجھ لیا گیا تھا شکست کی پہلی خبر آتے ہی اس کی دراڑیں پھر نمایاں ہو گئیں۔ اب الزام تراشی ہے۔ یہ ناکامی کس کی تھی؟ کس نے محاذ چھوڑا؟ کس نے کمک نہیں بھیجی؟ کس نے غلط اندازہ لگایا؟ کس نے دشمن کو کم سمجھا؟ جنگ کے بعد یہ سوال ہمیشہ پیدا ہوتے ہیں۔ لیکن شکست کا سب سے بڑا سوال یہ نہیں ہوتا کہ غلطی کس نے کی۔ اصل سوال یہ ہوتا ہے کہ کیا ہم نے دشمن کو سمجھا بھی تھا؟

حوثیوں کو شکست دینے کی خواہش ایک بات ہے حوثیوں کی جنگی منطق کو سمجھنا دوسری۔ یہ گروہ روایتی ریاستی فوج کی طرح جنگ نہیں لڑتا۔ اس کی طاقت کا ایک حصہ اس کی کمزوری میں چھپا ہے۔ اس کے پاس وہ سب کچھ نہیں جو ایک ریاستی فوج کے پاس ہونا چاہیے مگر اسی لیے اسے وہ سب کچھ بچانے کی ضرورت بھی نہیں جو ایک ریاست کو بچانا پڑتا ہے۔ ریاست کو شہر بچانا ہوتا ہے حوثی محاذ بچاتے ہیں۔ ریاست کو معیشت چلانی ہوتی ہے حوثی دشمن کی معیشت روکنے کی کوشش کرتے ہیں ریاست کو عالمی رائے عامہ کا خیال رکھنا ہوتا ہے حوثی عالمی رائے عامہ کو اپنے حق میں دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ یہ فرق معمولی نہیں۔

یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب کے سامنے اب ایک دشوار سوال کھڑا ہے:

جنگ کی جائے یا سمجھوتہ؟

جنگ کی جائے تو قیمت ہے۔
نہ کی جائے تو بھی قیمت ہے۔

اگر ریاض دوبارہ پوری قوت کے ساتھ مداخلت کرتا ہے تو حوثی سعودی سرزمین اور سعودی مفادات کو نشانہ بنانے کی صلاحیت بڑھا سکتے ہیں۔ اگر ریاض پیچھے ہٹتا ہے تو حوثیوں کو یہ پیغام مل سکتا ہے کہ دباؤ حملوں اور وقت کے استعمال سے مزید رعایتیں حاصل کی جا سکتی ہیں یہی حوثیوں کی اصل قوت ہے۔ وہ صرف میزائل نہیں چلاتے وہ وقت بھی چلاتے ہیں۔ اور سیاست میں وقت کبھی کبھی میزائل سے زیادہ خطرناک ہتھیار ہوتا ہے۔ آج وہ تنخواہوں کی بات کریں گے۔ کل تیل کی آمدنی کی۔ پرسوں بندرگاہوں کی آزادی کی۔ پھر پروازوں کی۔ پھر سیاسی شناخت کی۔ اور اگر ہر رعایت کے بعد نئی رعایت کا دروازہ کھلتا رہا تو سوال یہ نہیں رہے گا کہ یمن میں جنگ کون جیتا۔ سوال یہ ہوگا کہ یمن میں ریاست کہاں ختم ہوئی اور سمجھوتا کہاں سے شروع ہوا؟ سعودی عرب کے لیے اصل خطرہ یہی ہے۔

مداخلت کا خطرہ اپنی جگہ مگر عدمِ مداخلت بھی کوئی غیر جانب دار فیصلہ نہیں۔ کبھی کبھی میدان چھوڑ دینا بھی ایک فیصلہ ہوتا ہے اور اس فیصلے کی قیمت بعد میں زیادہ ادا کرنا پڑتی ہے۔ حوثیوں کی حالیہ کامیابی کو اسی لیے نہ تو ایک معمولی جھڑپ سمجھنا چاہیے اور نہ اسے فوراً جنگ کا آخری فیصلہ قرار دینا چاہیے۔ یہ فیصلہ کن فتح نہیں۔ لیکن یہ ایک فیصلہ کن تنبیہ ضرور ہے۔ تنبیہ یمنی حکومت کے لیے کہ صرف اتحاد کا اعلان کافی نہیں۔ تنبیہ سعودی عرب کے لیے کہ یمن کو صرف سرحدی مسئلہ سمجھنا خطرناک ہے۔ تنبیہ عالمی تجارت کے لیے کہ باب المندب اب صرف نقشے پر ایک آبی گزرگاہ نہیں۔ اور تنبیہ دنیا کے لیے کہ کمزور ریاستیں جب طویل جنگ میں ٹوٹتی ہیں تو ان کے ملبے سے ہمیشہ کوئی نہ کوئی طاقتور غیر ریاستی قوت نکل آتی ہے۔ بحیرۂ احمر آج صرف پانی نہیں یہ طاقت کا آئینہ ہے۔ اس آئینے میں یمن کی کمزوری بھی نظر آ رہی ہے سعودی پالیسی کی آزمائش بھی ایران کے علاقائی اثر و رسوخ کا سایہ بھی اور عالمی تجارت کی بے بسی بھی۔

حوثیوں نے ساحل پر قبضہ کیا ہے مگر اصل سوال ساحل کا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ اب ریاض کیا کرے گا؟ اگر جنگ کرتا ہے تو کس کے ساتھ؟ اگر مذاکرات کرتا ہے تو کن شرائط پر؟ اگر انتظار کرتا ہے تو کب تک؟ اور اگر آج کا حوثی کل اس سے بھی زیادہ طاقتور ہو گیا تو پھر؟ یمن کی جنگ کا المیہ یہی ہے کہ یہاں کوئی آخری معرکہ نہیں ہوتا۔ ہر فتح اگلی جنگ کا مقدمہ بن جاتی ہے۔ ہر شکست اگلی سودے بازی کی بنیاد۔ ہر معاہدہ اگلے مطالبے کا دروازہ۔

اور شاید اسی لیے باب المندب کے ساحل پر آج سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ حوثی کتنی دور تک پہنچ گئے۔ سوال یہ ہے وہ اب کتنی دور تک پہنچنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے؟

اپنا تبصرہ لکھیں