ایمان کا معیار / علی عباس کاظمی

مسلمان کے گھر میں پیدا ہونا ایک نعمت ہو سکتی ہے، مگر مسلمان بن کر جینا ایک مسلسل امتحان ہے۔ پیدائش انسان کے اختیار میں نہیں، لیکن کردار، عمل، نیت اور انتخاب اس کے اپنے ہاتھ میں ہوتے ہیں۔ ہم میں سے اکثر لوگ اپنی مذہبی شناخت کو اپنی آخری منزل سمجھ بیٹھتے ہیں، حالاں کہ وہ تو سفر کا نقطۂ آغاز ہے۔ نام کے ساتھ مسلمان لکھ دینا آسان ہے، مگر اپنے رویے، معاملات اور فیصلوں میں اسلام کو جگہ دینا ایک بالکل مختلف مرحلہ ہے۔ ہم نے شاید مذہب کو اپنی شناخت کا حصہ تو بنا لیا، لیکن کیا اسے اپنی زندگی کا معیار بھی بنایا ہے؟ہم اکثر اپنے مسلمان ہونے کا ثبوت اپنے خاندان، نام، لباس، عبادات یا مذہبی وابستگی سے دیتے ہیں۔ یہ چیزیں اپنی جگہ اہم ہو سکتی ہیں، لیکن دین کا اصل اثر انسان کے اخلاق اور معاملات میں دکھائی دیتا ہے۔ اگر زبان پر ذکر ہو مگر گفتگو میں جھوٹ، ہاتھ میں تسبیح ہو مگر لین دین میں خیانت، عبادت گاہ میں عاجزی ہو مگر گھر میں تکبر، تو ہمیں رک کر سوچنا چاہیے کہ ہمارے مذہبی شعور نے ہماری شخصیت کو کتنا بدلا ہے۔ عبادت اگر انسان کو اپنے نفس کا محاسبہ نہ سکھائے، طاقت ملنے پر انصاف نہ دے، کمزور کے ساتھ رحم نہ پیدا کرے اور حق کے معاملے میں اپنے مفاد سے اوپر اٹھنے کی ہمت نہ دے تو پھر مسئلہ عبادت کی ظاہری صورت سے زیادہ اس کے اثرات کا ہے۔

دین کا تقاضا صرف یہ نہیں کہ انسان کچھ مخصوص اعمال ادا کرے بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ اپنے اندر موجود تعصب، غرور، خود غرضی اور ناانصافی کا سامنا کرے۔ قرآن جن قوموں اور افراد کے واقعات بیان کرتا ہے، ان میں ایک مشترک سبق یہ بھی ہے کہ انسان کبھی کبھی حقیقت کو پہچان لینے کے باوجود اپنے مفاد کی خاطر اسے قبول نہیں کرتا۔ مسئلہ لاعلمی سے زیادہ ضد کا بن جاتا ہے۔ ہم بھی بعض اوقات حق کو اسی وقت تک پسند کرتے ہیں جب تک وہ ہماری خواہش کے مطابق ہو۔ جب کوئی دینی اصول ہمارے مفاد، عادت یا سماجی حیثیت کو چیلنج کرتا ہے تو ہم اصول پر نظر ثانی کرنے کے بجائے اصول کی تشریح اپنے حق میں کرنے لگتے ہیں۔یہ وہ مرحلہ ہے جہاں اصل آزمائش شروع ہوتی ہے کہ جہاں مذہب انسان کی اصلاح کرنے کے بجائے انسان اپنی خواہش کے مطابق مذہب کو استعمال کرنے لگتا ہے۔برصغیر کے مسلمانوں کی سماجی زندگی میں مذہب، ثقافت، خاندان اور صدیوں پرانے رسم و رواج اس قدر گھل مل گئے ہیں کہ بعض اوقات یہ پہچاننا مشکل ہو جاتا ہے کہ ہمارے کسی عمل کی بنیاد دین ہے، روایت ہے یا محض معاشرتی دباؤ۔ شادی بیاہ، خاندانی تعلقات، ذات برادری، وراثت، عورت کے مقام، غریب کے ساتھ برتاؤ اور سماجی مرتبے کے پیمانے پر غور کریں تو کئی ایسے رویے مل جائیں گے جنہیں ہم مذہب کا حصہ سمجھتے ہیں، حالاں کہ ان کی بنیاد زیادہ تر معاشرتی روایت ہوتی ہے۔ مسئلہ کسی دوسری تہذیب یا مذہب کی تحقیر کا نہیں، بلکہ اپنے اندر یہ صلاحیت پیدا کرنے کا ہے کہ ہم ہر روایت کو دین کا نام دینے سے پہلے اس کی اخلاقی بنیاد اور دینی حیثیت پر غور کر سکیں۔

ہماری ایک بڑی کمزوری یہ بھی ہے کہ ہم برتری کے ایسے پیمانے قبول کر چکے ہیں جو انسانوں کو انسانوں سے اونچا نیچا بناتے ہیں۔ دولت، خاندان، ذات، عہدہ، علاقہ، زبان اور سماجی حیثیت اکثر ہماری نگاہ میں انسان کی قدر متعین کرنے لگتے ہیں۔ جس کے پاس زیادہ وسائل ہیں اسے زیادہ عزت، جس کا خاندان معروف ہے اسے زیادہ وقار اور جس کے پاس اختیار ہے اسے زیادہ اہمیت ملتی ہے۔ لیکن اسلامی تصور انسان کی قدر کو ان ظاہری پیمانوں سے آزاد کرتا ہے۔ تقویٰ، کردار، انصاف اور صالح عمل کو اہمیت دینا دراصل انسان کو اس مصنوعی درجہ بندی سے نکالنے کی کوشش ہے جس میں ہم نے معاشرے کو قید کر رکھا ہے۔ہم دین سے وہ احکام قبول کرنے کے لیے زیادہ تیار ہوتے ہیں جو ہماری ظاہری شناخت کو مضبوط کرتے ہیں، لیکن ان تعلیمات سے گریز کرتے ہیں جو ہمارے مفادات کو چیلنج کرتی ہیں۔ نماز پڑھنا نسبتاً آسان ہے، مگر کسی کا حق واپس کرنا مشکل ہے۔ روزہ رکھنا ایک مقررہ مدت کا عمل ہے، مگر غصے پر قابو پانا روزمرہ کا امتحان ہے۔ صدقہ دینا آسان ہو سکتا ہے، مگر اپنے اختیار سے کسی کمزور کا حق نہ مارنا زیادہ بڑا اخلاقی امتحان ہے۔ زبان سے انصاف کی تعریف کرنا آسان ہے، مگر اپنے قریبی شخص کے خلاف حق بات مان لینا اصل آزمائش ہے۔ شاید اسی فرق نے ہمارے مذہبی شعور اور عملی زندگی کے درمیان ایک گہری خلیج پیدا کر دی ہے۔نئی نسل کو بھی ہم اکثر مذہب سمجھانے کے بجائے مذہبی شناخت منتقل کرنے پر اکتفا کرتے ہیں۔ ہم اسے بتاتے ہیں کہ وہ مسلمان ہے، لیکن ہمیشہ یہ نہیں بتاتے کہ مسلمان ہونے کا اخلاقی مطلب کیا ہے۔ ہم اسے عبادت کے طریقے سکھاتے ہیں مگر کبھی یہ گفتگو نہیں کرتے کہ سچ بولنے، وعدہ پورا کرنے، اختلاف برداشت کرنے، کمزور کی عزت کرنے اور اپنی غلطی تسلیم کرنے کا تعلق ایمان سے کیا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نوجوان کے ذہن میں مذہب کبھی کبھی چند ظاہری علامات کا مجموعہ بن جاتا ہے، جبکہ دین تو انسان کے پورے کردار سے وابستہ ایک فکری اور اخلاقی ذمہ داری بھی ہے۔

اصل اصلاح شاید اسی دن شروع ہوگی جب ہم دوسروں کے اسلام کا حساب رکھنے سے پہلے اپنے کردار کا حساب لینا شروع کریں گے۔ ہم نے مذہب کو اکثر ایک ایسی شناخت بنا لیا ہے جس پر فخر تو کیا جا سکتا ہے مگر جس کے تقاضوں سے بچا بھی جا سکتا ہے۔ حالاں کہ دین انسان کو دوسروں پر حکم چلانے سے پہلے اپنے نفس کے سامنے کھڑا کرتا ہے۔ اگر ہمارے گھر میں محبت نہیں، کاروبار میں دیانت نہیں، معاشرے میں انصاف نہیں، اختلاف میں برداشت نہیں اور اختیار میں ذمہ داری نہیں تو ہمیں اپنی مذہبی شناخت کے ساتھ اپنے عملی کردار کا فاصلہ بھی دیکھنا ہوگا۔انسان کی اصل عظمت اس بات میں نہیں کہ وہ کس گھر میں پیدا ہوا، کس برادری سے تعلق رکھتا ہے یا اسے کون سی شناخت وراثت میں ملی۔ عظمت اس میں ہے کہ وہ اپنی ملی ہوئی شناخت کو شعوری زندگی، صالح عمل اور بہتر کردار میں کیسے تبدیل کرتا ہے۔ مسلمان پیدا ہونا اتفاق ہو سکتا ہے، مگر مسلمان بن کر جینا شعوری انتخاب ہے۔ شاید ہمارے معاشرے کو آج کسی نئے مذہبی دعوے سے زیادہ ایک نئے محاسبے کی ضرورت ہے۔ ہم اپنے نام، نسب اور شناخت سے آگے بڑھ کر اپنے عمل کو دیکھیں اور خود سے پوچھیں کہ اگر ہمارے عقیدے کا فیصلہ ہمارے دعووں سے نہیں بلکہ ہمارے کردار سے ہونا ہو تو ہم اپنے لیے کیا جواب لکھیں گے؟شناخت وراثت میں مل سکتی ہے، مگر کردار خود بنانا پڑتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں